Urdu Desk

Urdu Desk Top Trends News Blog

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جا...
26/06/2022

جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھیں، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے۔

جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) مذکورہ علم کی تحقیق اور ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے،

اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کے ساتھ تمام دنیاوی علوم کو ساتھ لے کر چلنا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا.

پھر وقت بدل گیا اور منظر بھی۔ ہمارے "اقابرین" کوّے کے حلال و حرام ہونے پر مناظرے کرنے لگے، اور ہم نے اپنے نصاب میں وہ علوم شامل کردیے، جن میں نہ ہماری دینوی ترقی تھی نا آخرت کی کامیابی، جہاد اور مجاہدین ذاتی مفادات کے لیے استعمال ہونے لگے، کھیرے، ککڑی، کیلے، مسواک کا سائز ہمارے اہم مسائل میں شامل ہوگئے۔
آمین تیز، اونچی یا آھستہ کہنے پر کفر کے فتوے لگناشروع ھوگئے۔فرض کے بعد دعاجائز ھے یا ناجائزھے پر جھگڑے ھونے لگے۔
اور پھر ھلاکوخان چنگیزی فوج نے مسلمانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلے اور کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کردئے۔علمی کتابیں دریاؤں میں اس قدر بہائیں کہ پانیوں کے رنگ تک تبدیل ہو گئے اور مسلمان ایک ھزار سال پیچھے چلے گئے۔

اور آج ہم اس حیرانگی کا شکار ہیں کہ "ہم دنیا کے مقابلے میں اس قدر پیچھے کیوں ہیں ۔" جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج ہم جہاں کھڑے ہیں خود اپنی ہی وجہ سے کھڑے ہیں۔

اللہ تعالی اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہم سب پر اپنی رحمتوں کا خاص نزول فرمائے۔

18/06/2022

🥀 _*جنات کے بارے میں کچھ انفارمیشن*_ 🥀

*نوٹ:* صرف جنات کے وجود پر یقین رکھنے والے پڑھیں باقی احباب سکرول کر دیں کیونکہ قرآنی آیات کا انحراف کرنے والوں کی میری پوسٹ پر کوئی جگہ نہیں دوسرا بحث کی نا عادت ہے نا وقت

●پہلے تو مسلمان عامل حضرات سے دست بستہ گزارش ہے آپ جس بھی طریقے سے شریر جنات کو قابو کرتے ہیں کریں مگر خدارا انہیں جلا کر بھسم کرنے یا قید کرنے کی بجائے پہلے دین اسلام کی دعوت دیا کریں کیونکہ آپ کے جلانے یا قید کرنے کے عمل سے آپکے مریض کو وقتی شفا تو مل جائے گی مگر مریض کی نسلوں کو اسکا قصاص ادا کرنا پڑے گا جوق در جوق جنات کے ایسے جتھے بدلہ لینے آئیں گے کہ ساری عمر گل جائے گی انکے وار سے بچاتے
لیکن اگر آپ نے اسے مسلمان کر لیا تو نا صرف آپکے نامہ اعمال کے دائیں پلڑے کے بھاری ہونے کا سبب بنے گا بلکہ اپنی نسل کو سنوارنے کا باعث بھی ہوگا جو ظاہر ہے آپکے کھاتے میں ہی جائے گا

●دوسری چیز گھر میں اگر کوئی پرانا درخت ہو تو اسے کاٹنے کی بجائے گھر کی تراش خراش اس طرح کریں کے درخت کی گنجائش نکل آئے عموماً پرانے درختوں پر جنات بسیرا کر لیتے ہیں خود سوچیں آپ کو کوئی گھر سے بےگھر کرے تو آپ مکینوں کا کیا حال کریں گے

●پہاڑی علاقہ جات کے سفر کے دوران گانے بجانے اور فضول ہلڑ بونگ سے پرہیز کیا کریں نبیﷺ نے جنات کو حکم دیا تھا کہ وہ انسانی آبادی سے نکل کر جنگلات اور ویرانوں میں بسیرا کر لیں لہٰذا کسی کے گھر جاکر طوفانِ بدتمیزی بپا نہیں کیا کرتے ورنہ نتیجے کے زمہ دار آپ خود ہوتے ہیں چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو

●سفر کے دوران کسی بھی درخت کے سائے تلے خود اور بچوں کو قضائے حاجت کروانے سے احتیاط برتا کریں خود سوچیں آپ کے بچے کھیل رہے ہوں یا آپ استراحت فرما رہے ہوں اور کوئی آکر آپ پر فضلہ گرا دے تو آپ کے صبر کا پیمانہ کیا ہوگا ہاں اگر ناگزیر ہو تو تین مرتبہ یہ کہہ کر کہ اگر یہاں کوئی ہوائی مخلوق ہے تو سائیڈ پر ہو جائے پھر آپ بری الزمہ ہیں

●پہلے گھروں میں صحن کے ایک کونے میں بیت الخلاء ہوا کرتا تھا اب ہم غلاظت کے گھر کو اپنے ہر کمرے میں اٹیچ باتھ کے نام پر لے آئے ہیں جس طرح مکھیاں اور دوسرے غلاظت پسند کیڑے مکوڑے غلاظت پر گرتے ہیں اِسی طرح خبیث شیاطین غلاظت کے مقامات سے خاص دلچسپی اور مناسبت رکھتے ہیں اِس لیے رسول اللہﷺ نے اِن مقامات میں جانے کے وقت کے لیے دعا بتائی اور خود حضورﷺ کا معمول بھی تھا کہ بیت الخلاء جانے کے وقت دعا پڑھتے تھے
بیت الخلاء جاتے وقت سنت پر عمل کریں تو گندگی کے جن آپکو کچھ نہیں کہیں گے داخل ہوتے وقت بیت الخلا جانے کی دعا پڑھیں اور باہر نکلتے ہوئے باہر نکلنے کی دعا پڑھیں شریر جنات وہیں رہ جائیں گے
اور باتھ روم سنگر کے نام سے جو ممی ڈیڈی بچے شوخیاں مارتے ہیں یاد رکھیں رفع حاجت کے وقت ہم اگر ہنہہ بھی کرتے ہیں تو ہمارے نامہ اعمال کے فرشتے لعنت بھیجتے ہیں کہ اے بندے تجھے یہاں بھی سکون نہیں

●جو خواتین فیشن کے نام پر سر نہیں ڈھانپتیں یا تنگ اور اونچے پاجامے پہن کر پنڈلیاں دکھاتی ہیں ان کے لئے عرض ہے نامحرم متاثر ہوں یا نا ہوں جنات عورت کے بالوں اور ننگی پنڈلیوں پر عاشق ہوتے ہیں اب اختیار آپکے پاس ہے نامحرم کو متاثر کرنا ہے یا جن کو
●چلیں بالفرض آپ کسی جن کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہیں تو خدارا گھر میں داخل ہوتے وقت داخل ہونے کی دعا پڑھ لیا کریں تاکہ آپکا عاشق گھر سے باہر ہی رہ جائے اور آپکی اور گھر والوں کی پریشانی کا سبب نا بنے(امید ہے اب اس سوال کا جواب مل گیا ہوگا کہ جنات عورتوں پر ہی کیوں عاشق ہوتے ہیں)

●کچھ حضرات کو یہ وہم ہوتا ہے کہ ہم تو سب کچھ کرتے ہیں گانا بجانا شراب کباب سب چلتا ہے ہمیں جن کیوں کچھ نہیں کہتے تو جناب من عرض ہے وہ تو خوش ہوکر آپ کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہا ہوتا ہے کبھی دیکھا استاد بھی اس شاگرد کو سرزنش کرتا ہے جو نا صرف اسکا سبق ٹھیک طرح سے یاد کرتا ہے بلکہ اس پر عمل بھی کرتا ہو

●جنات کے شر انگیزیوں سے پناہ مانگتے وقت یہ دعا بھی کیا کریں کہ اے اللہ جنات کو بھی ہمارے شر سے بچا کیونکہ ہم نادانستگی میں مسلمان جنات کی ایذا کا سبب بھی بن جاتے ہیں
●ایک بہت اہم بات زہن نشین کر لیں جتنا انسان جنات سے ڈرتا ہے اس سے کہیں زیادہ جنات ایک مسلمان سے ڈرتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس سورت الناس ہے جو آگ کے لئے پانی کا کام کرتی ہے

●رات کو سوتے وقت چاروں قل اور آیت الکرسی پڑھ کر اپنا اور گھر کا حصار کر لیا کریں خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو
تحریر لکھنے میں کوئی غلطی کوتاہی ہو گئی ہو تو رب کے حضور معافی..
Please Like and Share This Page

18/06/2022

مریم نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا
حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا
دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا ؟

یقینا ہمارا جواب ہو گا "مریم "

اگر ہم کہیں کہ مریم نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے ریتیلے راستے پر چل کر طے کیا تب؟

تب ہمارا جواب ہوگا "حارث"

لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ مریم کی عمر 50 سال ہے جب کہ حارث کی عمر 25 سال تب؟

ہم دوبارہ کہیں گے کہ "مریم "

مگر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ حارث کا وزن 140 کلو ہے جب کہ مریم کا وزن 65 کلو تب؟

تب ہم کہیں گے "حارث"

جوں جوں ہم مریم اور حارث سے متعلق زیادہ جان لیں گے ان میں سے کون بہتر ہے ان سے متعلق ہماری رائے اور فیصلہ بھی بدل جائے گا.

ہم بہت سطحی چیزیں اور بہت جلدی میں رائے قائم کرتے ہیں جس سے ہم خود اور دوسروں کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے ہیں.

دنیا کی زندگی اللہ تعالیٰ نے امتحان کیلئے دی ھے اس لئے آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے ھر بات سوچنی اور کہنی ھے

14/06/2022

🥀 _*اگـر تُـم میـرے پـاس نـہ ہوتـے تـو*_ 🥀

کہتے ہیں ایک چینی بڑھیا کے گھر میں پانی کیلئے دو مٹکے تھے جنہیں وہ روزانہ ایک لکڑی پر باندھ کر اپنے کندھے پر رکھتی اور نہر سے پانی بھر کر گھر لاتی ان دو مٹکوں میں سے ایک تو ٹھیک تھا مگر دوسرا کچھ ٹوٹا ہوا ہر بار ایسا ہوتا کہ جب یہ بڑھیا نہر سے پانی لے کر گھر پہنچتی تو ٹوٹے ہوئے مٹکی کا آدھا پانی راستے میں ہی بہہ چکا ہوتا جبکہ دوسرا مٹکا پورا بھرا ہوا گھر پہنچتا ثابت مٹکا اپنی کارکردگی سے بالکل مطمئن تھا تو ٹوٹا ہوا بالکل ہی مایوس حتیٰ کہ وہ تو اپنی ذات سے بھی نفرت کرنے لگا تھا کہ آخر کیونکر وہ اپنے فرائض کو اس انداز میں پورا نہیں کر پاتا جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے
اور پھر مسلسل دو سالوں تک ناکامی کی تلخی اور کڑواہٹ لئے ٹوٹے ہوئے گھڑے نے ایک دن اس عورت سے کہا میں اپنی اس معذوری کی وجہ سے شرمندہ ہوں
کہ جو پانی تم اتنی مشقت سے بھر کر اتنی دور سے لاتی ہو اس میں سے کافی سارا صرف میرے ٹوٹا ہوا ہونے کی وجہ سے گھر پہنچتے پہنچتے راستے میں ہی گر جاتا ہے
گھڑے کی یہ بات سن کر بڑھیا ہنس دی اور کہا کیا تم نے ان سالوں میں یہ نہیں دیکھا کہ میں جسطرف سے تم کو اٹھا کر لاتی ہوں ادھر تو پھولوں کے پودے ہی پودے لگے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف کچھ بھی نہیں اگا ہوا
مجھے اس پانی کا پورا پتہ ہے جو تمہارے ٹوٹا ہوا ہونے کی وجہ سے گرتا ہے اور اسی لئے تو میں نے نہر سے لیکر اپنے گھر تک کے راستے میں پھولوں کے بیج بو دیئے تھے تاکہ میرے گھر آنے تک وہ روزانہ اس پانی سے سیراب ہوتے رہا کریں ان دو سالوں میں میں نے کئی بار ان پھولوں سے خوبصورت گلدستے بنا کر اپنے گھر کو سجایا اور مہکایا اگر تم میرے پاس نا ہوتے تو میں اس بہار کو دیکھ ہی نا پاتی جو تمہارے دم سے مجھے نظر آتی ہے
*یاد رکھیے:* کہ ہم سے ہر شخص میں کوئی نا کوئی خامی ہے لیکن ہماری یہی خامیاں معذوریاں اور ایسا ٹوٹا ہوا ہونا ایک دوسرے کیلئے عجیب اور پر تاثیر قسم کے تعلقات بناتا ہے ہم پر واجب ہے کہ ہم ایک دوسرے کو ان کی خامیوں کے ساتھ ہی قبول کریں ہمیں ایک دوسرے کی ان خوبیوں کو اجاگر کرنا ہے جو اپنی خامیوں اور معذوریوں کی خجالت کے بوجھ میں دب کر نہیں دکھا پاتے معذور بھی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اور اپنی معذوری کے ساتھ ہی اس معاشرے کیلئے مفید کردار ادا کر سکتے ہیں
جی ہاں ہم سب میں کوئی نا کوئی عیب ہے پھر کیوں نا ہم اپنے ان عیبوں کے ساتھ ایک دوسرے کی خامیوں اور خوبیوں کو ملا کر اپنی اپنی زندگیوں سے بھر پور لطف اٹھائیں ہمیں ایک دوسرے کو اس طرح قبول کرنا ہے کہ ہماری خوبیاں ہماری خامیوں پر پردہ ڈال رہی ہوں.

Please Like and Share This Page..

*سائیکل معیشت کی دشمن ہے۔*ایک ملٹی نیشنل بینک کے سی ای او نے معاشی ماہرین کو اس وقت سوچ میں ڈال دیا جب اس نے کہا کہ: سائ...
12/06/2022

*سائیکل معیشت کی دشمن ہے۔*

ایک ملٹی نیشنل بینک کے سی ای او نے معاشی ماہرین کو اس وقت سوچ میں ڈال دیا جب اس نے کہا کہ: سائیکل ملکی معیشت کیلئے تباہی کا باعث ہے -

اس لئے کہ سائیکل چلانے والا کار نہیں خریدتا، وہ کار خریدنے کے لئے قرض بھی نہیں لیتا۔

انشورنس نہیں کرواتا - پیٹرول بھی نہیں خریدتا۔ اپنی گاڑی سروس اور مرمت کے لئے نہیں بھیجتا۔ کار پارکنگ کی فیس ادا نہیں کرتا۔ وہ ٹال پلازوں پر ٹیکس بھی ادا نہیں کرتا۔

سائیکل چلانے کی وجہ سے صحت مند رہتا ہے موٹا نہیں ہوتا !! صحت مند رہنے کے باعث وہ دوائیں نہیں خریدتا۔‏

ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتا۔ حتیٰ کہ ملک کے جی ڈی پی میں کچھ بھی شامل نہیں کرتا۔

اس کے برعکس ہر نیا فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ اپنے ملازمین کے علاوہ کم از کم 30 طرح کے لوگوں کے لئے روزگار کا سبب بنتا ہے۔‏ جن میں ڈاکٹر ، امراض قلب کے ماہر، ماہرِ معدہ و جگر، ماہر ناک کان گلہ، دندان ساز، کینسر سپیشلسٹ، حکیم اور میڈیکل سٹور مالکان وغیرہ شامل ہیں۔

چنانچہ یہ بات ثابت ہوئی کہ سائیکل معیشت کی دشمن ہے اور مضبوط معیشت کے لئے صحت مند افراد سخت نقصان دہ ہیں۔‏

نوٹ:- پیدل چلنے والے معیشت کےلئے اور بھی خطرناک ھیں۔ کیونکہ وہ سائیکل بھی نہیں خریدتے۔

WhatsApp Group Invite

08/06/2022

ایک دن حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے گھر میں آئے
اور اپنی بیوی حضرت اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟
میں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی کمزور آواز سے یہ محسوس کیا کہ آپ بھو کے ہیں۔ اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے جو کی چند روٹیاں دوپٹے میں لپیٹ کر حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ آپ کی خدمت میں بھیج دیں۔
حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب بارگاہِ نبوت ﷺ میں پہنچے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مجمع میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ابو طلحہ نے تمہارے ہاتھ کھانا بھیجا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ” جی ہاں ” یہ سن کر آپ اپنے اصحاب کے ساتھ اٹھے اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان پر تشریف لائے۔ حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے دوڑ کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات کی خبردی،
انہوں نے بی بی اُمِ سلیم سے کہا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک جماعت کے ساتھ ہمارے گھر پر تشریف لا رہے ہیں۔ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مکان سے نکل کر نہایت ہی گرم جوشی کے ساتھ آپ کا استقبال کیا آپ نے تشریف لاکر حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہو لاؤ ۔
انہوں نے وہی چند روٹیاں پیش کر دیں جن کو حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ بارگاہ رسالت میں بھیجا تھا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے ان روٹیوں کا چورہ بنایا گیا اور حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس چورہ پر بطور سالن کے گھی ڈال دیا،
ان چند روٹیوں میں آپ ﷺ کے معجزانہ تصرف سے اس قدر برکت ہوئی کہ آپ دس دس آدمیوں کو مکان کے اندر بلا بلا کر کھلاتے رہے اور وہ لوگ خوب شکم سیر ہو کر کھاتے اور جاتے رہے یہاں تک کہ ستر یا اسی آدمیوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھا لیا۔
( بخاری جلد: ۱، صفحہ: ۵۰۵، علامات النبوة و بخاری، جلد: ۲، صفحہ: ۹۸۹ )
فِدَاکَ اَبِیْ وَاُمِّیْ وَرُوْحِیْ وَقَلْبِیْ یَاسَیِّدِیْ یَارَسُوْلَ اللّٰه ﷺ

•          *ماں کی خدمت* محمد عبداللہ نامی تیس سالہ نوجوان اپنی ماں کو لیڈی ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لئے لایا۔ لڑکے کی ماں...
06/06/2022

• *ماں کی خدمت*

محمد عبداللہ نامی تیس سالہ نوجوان اپنی ماں کو لیڈی ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لئے لایا۔ لڑکے کی ماں چیک اپ کے لئے بیٹھنے کی بجائے اٹھ اٹھ کر جاتی ادھر ادھر اور بھاگنا چاہتی تھی۔ وہ بار بار اپنی چادر اتار پھنکتی لیکن اس کا بیٹا پیار کے ساتھ اسے بہلاتا اور اس کی چادر درست کر دیتا۔ اس دوران اس نے اپنے بیٹے کے ہاتھ پر کاٹ بھی لیا اور اس کے چہرے پر مارا لیکن اس کا بیٹا مسکراتا رہا اور بہت پیار سے اپنی ماں کا دھیان رکھتا رہا اور ڈاکٹر کو مان کے مرض و تکلیف کی بابت بتاتا رہا۔
ڈاکٹر نے اس لڑکے سے پوچھا کہ یہ عورت کون ہے تو اس نے جواب دیا ، “میری ماں”۔ تب ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اس کی یہ حالت کب سے ہے؟ لڑکے نے جواب دیا کہ اس کی ماں کو اس کے بچپن میں اس کے باپ نے چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے ماں ذہنی توازن کھو بیٹھی۔ لڑکے نے مزید بتایا کہ پہلے میری نانی میری ماں کا خیال رکھتی تھی پر جب وہ دس سال کا تھا تو نانی فوت ہو گئیں تو تب سے وہ خود اپنی ماں کا خیال رکھتا ہے۔ اس نے بتایا کہ جب وہ سونا چاہتا ہوں تو اپنا پاؤں ماں کے پاؤں کے ساتھ باندھ لیتا ہے تا کہ ماں اپنے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا لے یا اکیلی گھر سے نہ نکل جائے۔
ڈاکٹر کے چیک اپ کے دوران لڑکے کی ماں نے بچوں کی سی ضد سے چپس مانگنے شروع کئے تو اس کے بیٹے نے اسے چپس کھلائے جس پر اس کی مان نے خوشی سے ہنسنا شروع کر دیا اور لڑکا اپنی ماں کو چپس کھاتا اور جوس پلاتا رہا پھر اپنی ماں کا منہ رومال سے صاف کیا۔
ڈاکٹر نے کہا، یہ آپ کی ماں ہے لیکن آپ کو نہیں جانتی؟ لڑکے نے جواب دیا ، بیشک وہ نہیں جانتی کہ میں اس کا بیٹا ہوں لیکن جس نے مجھے پیدا کیا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ میری ماں ہے۔
اسی دوران ماں نے کلینک میں لگے ٹی وی پر خانہ کعبہ کی تصاویر دیکھیں تو ماں نے بیٹے سے کہا، ارے تم مجھے مکہ کیوں نہیں لے گئے؟ بیٹے نے جواب دیا، جمعرات کو ماں، کیا میں نے آپ کو بتایا نہیں تھا کہ میں آپ کو جمعرات کو عمرے کے لئے لے جاؤں گا۔
ڈاکٹر نے اسے کہا کہ آپ اپنی ماں کو عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ لے جائیں گے تو آپ کی پریشانی بڑھ جائے گی۔ بیٹے نے کہا کہ جب بھی میری ماں عمرہ کے لئے جانے کا کہتی ہے تو میں اسے مکہ مکرمہ لے جاتا ہوں، چاہے وہ کتنی بار جانا چاہے، میں نہیں چاہتا کہ میری ماں کچھ چاہے اور میں اس کی خواہش استطاعت ہونے کے باوجود پوری نہ کروں۔
اس ماں بیٹے کے جانے کے بعد ڈاکٹر اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بہت رویا۔ ڈاکٹر نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے والدین کے حقوق کی بابت بہت کچھ سنا اور پڑھا لیکن اس لڑکے کی طرح ماں کی خدمت کرتے پہلے کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔ اس لڑکے کی ماں کو بالکل شعور نہیں کہ وہ اس کا بیٹا ہے لیکن اس کا بیٹا اس کو انتہائی پیار کے ساتھ سنبھالتا اور اس کا خیال رکھتا ہے اور صرف اللہ کریم کی رضا کے لئے اپنی ماں کی خدمت کے لئے پوری کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ وہ اسے مینٹل اسپتال داخل کرا سکتا تھا لیکن اس نے اپنی ماں کی خدمت اور اس کی دیکھ بھال خود کرنے کا انتخاب کیا تاکہ جنت کا دروازہ اس کی زندگی اور اس کے بعد انشااللہ کھلا رہ سکے۔
بے شک جنت ماں کے قدموں میں ہے۔
یہاں تک کہ اگر آپ اپنی ساری زندگی اپنے والدین کے لئے قربان کردیں تو، آپ نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا!
“اے ہمارے رب! مجھے اور میرے والدین کو اور (سب کو) اس دن معاف کر دینا جس دن حساب قائم ہوگا۔ ”
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
.................

_سب دوست ایک بار درودشریف پڑھ لیں_
_ایک بار درودشریف پڑھنے سے_
_ﷲ تعالیٰ دس مرتبہ رحمت نازل فرماتا ہے۔

Please Like and Share This Page..

🙂❤️خوبصورت کہانی (ایک حقیقی آدمی)💫 "میری بیوی میرے پاس سو رہی تھی۔  اور اچانک مجھے فیس بک کی اطلاع ملی، ایک خاتون نے مجھ...
05/06/2022

🙂❤️خوبصورت کہانی (ایک حقیقی آدمی)💫

"میری بیوی میرے پاس سو رہی تھی۔ اور اچانک مجھے فیس بک کی اطلاع ملی، ایک خاتون نے مجھ سے اسے شامل کرنے کو کہا۔ تو میں نے اسے شامل کیا۔ میں نے دوستی کی درخواست قبول کر لی اور ایک پیغام بھیجا کہ کیا ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟
اس نے جواب دیا: "میں نے سنا ہے کہ تم نے شادی کر لی ہے لیکن میں پھر بھی تم سے پیار کرتی ہوں۔"
وہ ماضی کی دوست تھی۔ تصویر میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ میں نے چیٹ بند کر کے اپنی بیوی کی طرف دیکھا، وہ اپنے تھکا دینے والے دن کے کام کے بعد اچھی طرح سو رہی تھی۔
اس کی طرف دیکھ کر، میں سوچ رہا تھا کہ وہ کیسے اتنا محفوظ محسوس کرتی ہے کہ وہ میرے ساتھ بالکل نئے گھر میں اتنی آرام سے سو سکتی ہے۔
وہ اپنے والدین کے گھر سے بہت دور ہے، جہاں اس نے 24 گھنٹے اپنے گھر والوں سے گھرے ہوئے گزارے۔ جب وہ پریشان یا غمگین ہوتی تو اس کی ماں وہاں موجود ہوتی تاکہ وہ اس کی گود میں رو سکے۔ اس کی بہن یا بھائی لطیفے سناتے اور اسے ہنساتے تھے۔ اس کے والد گھر آتے اور اسے اپنی پسند کی ہر چیز لے آتے۔ اور پھر بھی، اس نے مجھ پر اتنا بھروسہ کیا۔
یہ سارے خیالات ذہن میں آئے تو میں نے فون اٹھایا اور "BLOCK" دبا دیا۔
میں اس کی طرف متوجہ ہوا اور اس کے پاس ہی سو گیا۔
میں مرد ہوں، بچہ نہیں۔ میں نے اس کے وفادار رہنے کی قسم کھائی ہے اور ایسا ہی ہوگا۔ میں ہمیشہ ایک ایسا آدمی بننے کے لیے لڑوں گا جو اپنی بیوی کو دھوکہ نہیں دے گا اور خاندان کو الگ نہیں کرے گا.

https://urdudeskpk.blogspot.com/2022/06/blog-post_28.html

🖌۔والدیندُنیا کے سب سے بڑے اور ایماندار انویسٹر آپ کے والدین ہیں، یہ ایسے انویسٹر ہیں جو اپنے بچوں پر تین طرح کا سرمایہ ...
05/06/2022

🖌۔والدین
دُنیا کے سب سے بڑے اور ایماندار انویسٹر آپ کے والدین ہیں، یہ ایسے انویسٹر ہیں جو اپنے بچوں پر تین طرح کا سرمایہ خرچ کرتے ہیں !!!

1:مال و دولت
2:وقت (اپنی ساری عمر)
3:اپنی جوانی/عمر (خوبصورتی، حسن و جمال، اپنی طاقت)

اور یہ (والدین) ایسے انویسٹر (سرمایہ) کار ہیں کہ:

اپنا وقت ، عمر ، پیسہ اور اپنی سوچ و فکر سب قربان کرتے ہیں وہ بھی بنا کسی لالچ کے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جس پر وہ انویسٹ کر رہے ہیں کیا وہ اُنہیں آگے جاکر کوئی فائدہ پہنچا پائے گا کہ نہیں، بنا کسی فکر و فائدے کے وہ اپنے بچوں پر انویسٹ کیے جاتے ہیں ، کیے جاتے ہیں اور کیے ہی جاتے ہیں

مگر آخر جب وہ زندگی کی بھاگ دوڑ اور آپ کی خواہشات کے محلوں کو تعمیر کر کے اپنی عمر کی اُس منزل پر آ پہنچے ہیں جہاں پر وہ اپنی ساری مضبوطی آپ پر قربان کر کے خود کمزور پڑ جاتے ہیں۔ بس پھر وہی سے اُن کے دل میں ایک عاجزانہ سی خواہش جنم لیتی ہے اور وہ خواہش پتا ہے کیا ہے؟

کہ جس طرح ہم نے اپنے بچوں کے کمزور اور لڑکھڑاتے قدموں کو مضبوطی بخشی ، اُن کا ہاتھ تھام کر اُنہیں چلنا سکھایا ، اُنہیں پیار و محبت اور شفقت سے پالا بالکل اُسی طرح ہمارے بچے بھی ہمارا سہارا بنیں ،

والدین کی عاجزانہ خواہشات:
ہم چلنا بھول گئے ہیں ہمیں چلنا سکھائیں ،
ہم کھانا بھول گئے ہیں ہمیں کھانا کھلائیں ،
ہم جینا بھول گئے ہیں ہمیں جینا سکھائیں ،
ہم ہنسنا بھول گئے ہیں ہمیں ہنسنا سکھائیں ،

اگر خالص مُحبت سیکھنی ہے نا تو اپنے والدین سے سیکھیں ، ایک نگاہ اُن کی طرف اٹھا کر تو دیکھیں آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ آپ کو بناتے بناتے اُنہوں نے خود کو خاک کر لیا ہے اور بدلے میں آپ سے کوئی ڈیمانڈ نہیں ، اِسی کو کہتے ہیں سچی مُحبت کہ خود کو فنا کرکے اپنی محبوب چیز کو زندہ رکھنا اور زندگی سنوارنے کی ہر ممکن کوشش کرنا بنا کسی پرافٹ کے لالچ کے ...

خدارا اپنے والدین کی قدر و قیمت کو پہچانیں،🙏🏻

اُن کی قدر کریں، اُن سے محبت کریں، اُنہیں اپنا وقت کہ جس کی انہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے اُنہیں دیں، اُن کے بار بار سوال کرنے یا پوچھنے کی عادت سے اُکتائیں مت، یہ اُن کا حق ہے اور آپ کا فرض کہ وہ آپ کی زندگی اور ذات کے ہر پہلو سے باخبر رہیں اور آپ کو غلط راستے پر جانے سے روکیں، اپنے والدین کی روک ٹوک کو بُرا نہ جانیں بلکہ ایک نعمت سمجھیں کیوں کہ وہ آپ کو اُن کو ٹھوکروں اور بُرے تجربات سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں کہ جن سے وہ خود گزر چکے ہیں، لہٰذا جیسے وہ بچپن میں آپ کے دس بار سوال کرنے پر بنا کسی شکن کے مسکرا کر جواب دیتے تھے بالکل اُسی طرح آپ کا بھی یہ امتحان اور فرض ہے کہ بنا کسی شکن کے مسکرا کر اُن کے سو بار پوچھنے پر مسکرا کر جواب دیجیے۔

جب بھی دُعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں
سب سے پہلے اپنے والدین کے حق میں دُعا کریں ان شاء اللہ آپ کی سب جایز دعائیں اللہ تعالیٰ قبول کریگا۔

اگر آپ کے والدین حیات ہیں تب بھی اور اگر وفات پا چکے ہیں تب بھی اُن کے حق میں یہ دُعا ضرور کیا کریں۔
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾
[الإسراء: 24]

اپنے والدین کے ساتھ حکمِ الہٰی کے مطابق پیش آئیں:

ترجمہ:اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔

اور ان کے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ اور دعا کر کہ اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا۔
[الإسراء: 23، 24]

اللہ پاک ہمیں ہمارے والدین سے مُحبت کرنے والا اور فرمانبردار بنائے۔ (آمین)
نوٹ: یہ تحریر اپنے بچوں کو ضرور پڑھائیں خواہ آپ کے بچے خود والدین بن چکے ہوں گے

https://urdudeskpk.blogspot.com/2022/06/parents.html

https://urdudeskpk.blogspot.com/2022/06/blog-post_86.html
04/06/2022

https://urdudeskpk.blogspot.com/2022/06/blog-post_86.html

)مہنگائی انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر،درجہ دوم گھی کی قیمت20روپے فی کلو تک بڑھ گئی۔510والاگھی 530روپےفی کلو کا ہوگیا۔ مہنگائی میں دن بدن اضاف...

Address

Behind Govt Girls High School Muradabad
Muzaffargarh
03400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Desk posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Urdu Desk:

Share