26/06/2022
جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کا چمٹنا کہا جاتا تھا اور ان بدروحوں کو نکالنے کے لئے چرچ لے جا کر سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھیں، اس وقت مسلمان عراق میں بیٹھے جدید کیمسٹری اور ادویات کی ترقی کی بنیاد رکھ رہے تھے۔
جہاں ابن سینا "القانون فی الطب" کو تحریر کررہا تھا جسے آگے جاکر ایک ہزار سال بعد اکیسویں صدی میں بھی پڑھا جانا تھا، وہیں جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے اگلے سات سو سال تک کیمسٹری کی بائیبل کا خطاب ملنا تھا، وہ اس وقت ایسا تیزاب (Salphuric acid) بنا رہا تھا، جس کی پیداوار کسی ملک کی صنعتی ترقی کی عکاسی کہلانی تھی، وہیں مسلمان سیاح دنیا گھوم رہے تھے، مسلمان ماہر فلکیات (Astrologist) مذکورہ علم کی تحقیق اور ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے تھے، کبھی اسپین کو صاف ترین شہر بنا رہے تھے، تو کبھی بغداد کو علم کا گہوارا بنا رہے تھے، تو کہیں نئے علاقے فتح ہورہے تھے،
اس ترقی کی وجہ ان کا اپنے نصاب یعنی قرآن و حدیث کی پیروی کرنا اور دینی علوم کے ساتھ تمام دنیاوی علوم کو ساتھ لے کر چلنا تھا، اور تمام تر ہنر مندوں کو اپنی تہذیب کو پروان چڑھانے کیلئے استعمال کرنا تھا.
پھر وقت بدل گیا اور منظر بھی۔ ہمارے "اقابرین" کوّے کے حلال و حرام ہونے پر مناظرے کرنے لگے، اور ہم نے اپنے نصاب میں وہ علوم شامل کردیے، جن میں نہ ہماری دینوی ترقی تھی نا آخرت کی کامیابی، جہاد اور مجاہدین ذاتی مفادات کے لیے استعمال ہونے لگے، کھیرے، ککڑی، کیلے، مسواک کا سائز ہمارے اہم مسائل میں شامل ہوگئے۔
آمین تیز، اونچی یا آھستہ کہنے پر کفر کے فتوے لگناشروع ھوگئے۔فرض کے بعد دعاجائز ھے یا ناجائزھے پر جھگڑے ھونے لگے۔
اور پھر ھلاکوخان چنگیزی فوج نے مسلمانوں کے سروں سے فٹ بال کھیلے اور کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کردئے۔علمی کتابیں دریاؤں میں اس قدر بہائیں کہ پانیوں کے رنگ تک تبدیل ہو گئے اور مسلمان ایک ھزار سال پیچھے چلے گئے۔
اور آج ہم اس حیرانگی کا شکار ہیں کہ "ہم دنیا کے مقابلے میں اس قدر پیچھے کیوں ہیں ۔" جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج ہم جہاں کھڑے ہیں خود اپنی ہی وجہ سے کھڑے ہیں۔
اللہ تعالی اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہم سب پر اپنی رحمتوں کا خاص نزول فرمائے۔