28/06/2026
کراچی ناظم آباد کے ایک تاجر کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اہلِ خانہ کے ساتھ سیر و تفریح کے لیے کوئٹہ جا رہے تھے اور راستہ بھٹک گئے۔ کیا راستہ بھٹک جانا اتنا بڑا جرم تھا کہ معصوم بیوی بچوں سمیت گولیوں سے بھون دیا جائے؟
یہ خبر سن کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ جب ہم اپنی بیٹیوں اور بچوں کا تصور کرتے ہیں تو روح تک لرز جاتی ہے، پھر جن خاندانوں پر یہ قیامت گزری ہوگی، ان کے دکھ اور کرب کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔
ہم حکومتِ پاکستان، متعلقہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے تمام ذمہ داران سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سفاک اور انسانیت سوز واقعے میں ملوث تمام دہشت گردوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی بے گناہ شہری اس درندگی کا شکار نہ ہو۔
جس طرح ملک کی اہم شخصیات پر حملوں کے بعد فوری کارروائیاں عمل میں لائی جاتی ہیں، اسی طرح ان معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں کے قاتلوں کو بھی جلد از جلد انجام تک پہنچایا جائے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور مظلوم خاندانوں کو انصاف فراہم کرے۔
اللہ تعالیٰ مقتول پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، زخمیوں کو مکمل شفا عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔