The Pakistan Times

The Pakistan Times Now The Pakistan Times on World........! Islamic Republic of .............!
پاکستا?

ایک شخص کے ابا جی فوت ہوگئے ۔ وہ دھاڑیں مارمارکر رویا لیکن کفنانے دفنانے کے بعد ایک دم سنجیدہ ہو گئے کہ کفن5000 روپے کا ...
07/04/2023

ایک شخص کے ابا جی فوت ہوگئے ۔ وہ دھاڑیں مارمارکر رویا لیکن کفنانے دفنانے کے بعد ایک دم سنجیدہ ہو گئے کہ کفن5000 روپے کا آیا - گورکن نے 5500 روپے لیے ۔ مولوی صاحب نےجنازہ پڑھائی ، دعا کرائی اور مردہ بخشوائی کے 7000 روپے لیے ۔ قل خوانی پر 48000 روپے کا خرچ آیا - 5000 روپے مسجد میں دیے۔20000روپے کے کپڑے ان رشتہ دار خواتین کود یے جو دور دراز سے تعزیت کرنے آئے تھے ۔ 3000 روپے تمبو قنات والے لے گئے ۔
حافظ صاحب نے 6000 روپے لے کر تین دن قبر پر قرآن پڑھا۔- 5000 روپے اس پیر کے نذر کیے جوکہ پیر محل ( Peel mahal) سے تشریف لائے تھے۔
12000 روپے میں جمعرات کی دیگ پکی ۔ا ب چالیس دن تک مولوی صاحب کے گھر کھانا بھجوانا ہے ۔ اور پھر چالیسویں پر باقی کسر نکلے گی۔
ایک دوست اس کی تعزیت کرنے گیا تو وہ سرد آہ بھر کر بولا:
" زندگی تو موت کی امانت ہے لیکن اباجی اگر گندم کی فصل کے اٹھانےکے بعد فوت ہوتے تو ذرا اچھے طریقے سے رخصت کرتا، پتا نہیں اب
نجات ہوگی یا نہیں ...؟"
دوست نے کہا بھائی،،، نجات تو اعمال پر ہے باقی تو رسمیں ہیں۔
تو آدمی بولا : "ارے بھئ میں اپنی نجات کی بات کر رہا ہوں اس ظالم برادری کے ہاتھوں ...... ابا جی تو بخشے بخشائے تھے،،،،😥😥😥 منقول

بچپن میں ماسٹر کی طرف سے بھیجا گیا وفدتاریخ گواہ ہے اس وفد کے ساتھ کبھی مذاکرت کامیاب نہیں ہوئے
27/01/2023

بچپن میں ماسٹر کی طرف سے بھیجا گیا وفد
تاریخ گواہ ہے اس وفد کے ساتھ کبھی مذاکرت کامیاب نہیں ہوئے

مظفرگڑھ جعلی کرنسی چلانے والا جعلی آفیسر گرفتار ۔۔۔۔ مظفرگڑھ انٹیلیجنس آفیسر بن کر جعلی کرنسی چلانے والا با اثر شخص گرفت...
18/01/2023

مظفرگڑھ جعلی کرنسی چلانے والا جعلی آفیسر گرفتار ۔۔۔۔
مظفرگڑھ انٹیلیجنس آفیسر بن کر جعلی کرنسی چلانے والا با اثر شخص گرفتار ، سلطان کالونی کے قریب اسامہ خالد نامی شخص نے پٹرول پمپ سے اپنی قیمتی گاڑی فار چونر میں دس ہزار کا پٹرول ڈلوا کر پانچ پانچ ہزار کے جعلی نوٹ تھما دئیے پمپ مالک کی کال پر چوکی سلطان کالونی پولیس نے ملزم کو رنگے ہاتھ گرفتار کر لیا چار نمبر پلیٹیں بھی برآمد مظفرگڑھ کی اہم شخصیات کے رہائی کیلئے رابطے تفصیل کے مطابق مظفرگڑھ کے نواحی علاقے سلطان کالونی کے قریب بیکو کمپنی کے پٹرول پمپ پر گزشتہ روز ایک قیمتی گاڑی پر سوار شخص نے دس ہزار روپے کا تیل ڈلوایا اور سیلز مینیجر کو پانچ پانچ ہزار کے دو نوٹ تھما دئیے جسکو پمپ ملازم نے پہچان لیا تو فوراً پمپ مالک سعادتِ اعوان نے پولیس چوکی سلطان کالونی کو ٹیلیفون کر دیا جس پر چوکی انچارج عمران آصف نے ملزم کو گاڑی سمیت گرفتار کر لیا ، ذرائع کے مطابق ملزم کی گاڑی سے چار جعلی نمبر پلیٹیں بھی برآمد ہوئیں اور ملزم کے موبائل فون میں اعلی شخصیات کے ساتھ تصاویرں موجود تھیں ملزم خود کو خفیہ اداروں کا آفسر ظاہر کرتا ہے جبکہ ذرائع نے بتایا کہ ملزمان کی رہائی کیلئے مظفرگڑھ کی اہم سیاسی شخصیات سمیت متعدد افراد متحرک ہو چکے ہیں ملزم کی شناخت پریڈ میں ظاہر ہوتا ہے کہ موصوف مظفرگڑھ کے محلہ بلوچ نگر کا رہائشی اور نام اسامہ خالد ہے

یادگارتصویر کو زوم کیا جاۓ تو خاتون کے گلے میں لٹکا ہیرا بخوبی نظر آۓ گا۔254 قیراط کا یہ ہیرا ٕ مشہور زمانہ کوہٕ نور ہیر...
17/01/2023

یادگار
تصویر کو زوم کیا جاۓ تو خاتون کے گلے میں لٹکا ہیرا بخوبی نظر آۓ گا۔
254 قیراط کا یہ ہیرا ٕ مشہور زمانہ کوہٕ نور ہیرے سے دگنی جسامت اور وزن رکھتا ہے۔
یہ معزز خاتون مہر باٸ ٹاٹا ہیں۔ٹاٹا Tisco کے بانی سر جمشید ٹاٹا کی بہو اور سر دراب ٹاٹا کی بیوی۔
1924 کی عالمی کساد بازاری کے دوران ٹاٹا کمپنی بھی دیگر کی طرح دیوالیہ ہوگٸ تھی۔
کمپنی کے ملازمین بے روز گاری کے خطرے میں گھر چکے تھے۔
ایسے میں مہرباٸ نے اپنا یہ ہیرا امپیریل بینک میں ایک کروڑ کے عوض گروی رکھا اور کمپنی کے ساتھ ملاز مین کو بے روز گار ہونے سے بھی بچا لیا۔
کچھ ہی عرصے بعد مہر باٸ خون کے سرطان میں مبتلا ہو کر دنیا سے رخصت ہوگٸیں۔
اپنی محبوب بیوی کی یاد میں سر دراب ٹاٹا نے یہی ہیرا بیچ کر بلڈ کینسر ریسرچ فاٶنڈیشن قاٸم کردی۔
فاٶنڈیشن کے زیرٕ انتظام بلڈ کینسر پر ریسرچ کے ساتھ بلڈ کینسر کے مریضوں کا بلا معاوضہ علاج ٕ آج بھی جاری ہے۔
ہمیں تاریخ میں یہ تو پڑھایا جاتا ہے کہ تاج محل محبت کی یادگار ہے ٕ مگر محبت کی ایسی یادگاروں کا ذکر تاریخ کے کسی صفحے پر نہیں ملتا۔
اسحاق حیدری

ماشاءاللّٰہ اس بھائی نے 1100 میں سے 3824 نمبر لیکر فرسٹ پوزیشن لیکر پہلے حیران اور پھر عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔۔۔
11/12/2022

ماشاءاللّٰہ اس بھائی نے 1100 میں سے 3824 نمبر لیکر فرسٹ پوزیشن لیکر پہلے حیران اور پھر عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔۔۔

ڈاکٹر نے کہا آپ میں خون کی کمی ہےانار کھاؤ ،انار لے کر آۓتو دیکھا انہیں مجھ سے زیادہ خون کی ضرورت تھی 🥴🥴🥴🤣🤣🤣🤣🤣
18/10/2022

ڈاکٹر نے کہا
آپ میں خون کی کمی ہےانار کھاؤ
،انار لے کر آۓتو دیکھا
انہیں مجھ سے زیادہ خون کی ضرورت تھی 🥴🥴🥴🤣🤣🤣🤣🤣

آصف علی زرداری صاحب اس وقت 1.8 بیلین ڈالرز کے مالک ہیںمیں اگر ماہانہ 10 لاکھ تمام اخراجات کے علاوہ صرف بینک میں جمع کرو ...
10/10/2022

آصف علی زرداری صاحب اس وقت 1.8 بیلین ڈالرز کے مالک ہیں
میں اگر ماہانہ 10 لاکھ تمام اخراجات کے علاوہ صرف بینک میں جمع کرو تو مجھے اتنی دولت اکٹھی کرنے میں 34 ہزار 7 سو 44 سال لگے لگ جائیں
سوال یہ ہے
یہ لوگ آخر کس صلاحیت کی بنیاد پر اتنی وسیع تر دولت کے مالک بنے ہیں؟
کیا کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں؟

🙄🙄🙄🙄🙄 6  ارب ڈالرز کا جنازہ! 🙄🙄🙄🙄🙄🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀ملکہ الزبتھ کا 8 تاریخ کو انتقال ہوگیا تھا۔ لیکن تدفین ابھی تک نہیں ہوئ...
18/09/2022

🙄🙄🙄🙄🙄 6 ارب ڈالرز کا جنازہ! 🙄🙄🙄🙄🙄
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀

ملکہ الزبتھ کا 8 تاریخ کو انتقال ہوگیا تھا۔ لیکن تدفین ابھی تک نہیں ہوئی۔ آخری مراسم جاری ہیں۔ 19 تاریخ کو موت کے 11 دن بعد تابوت قبر میں اتارا جائے گا - - -

موت سے تدفین تک عجیب و غریب رسوم و رواج - -. ویسٹ منسٹر ہال میں چار روزہ دیدار - - -
وہاں سے بکنگھم پیلس روانگی - - -
وہاں سے ویلنگٹن آرچ آمد - - -
پھر سینٹ جارج چیپل تک سفر - - -
وہاں دعائیہ تقریب - - -
پھر شاہی والٹ میں اتارنے کے بعد تدفین - - -

مخصوص تابوت، جس پر سنہری چھڑی، گلوب پر نصب صلیب، ہر قدم عجیب شاہی پروٹوکول، چیونٹی کی رفتار سے چلتی مخصوص گاڑیاں، حکومتی زعماء کی شرکت، اس دوران نئے بادشاہ کی تاج پوشی۔۔۔۔۔ الخ - - -

اس سب پر کتنا خرچہ آیا ہوگا؟ امریکی چینل اسکائی نیوز کے مطابق صرف 6 ارب ڈالرز۔ (پاکستانی کرنسی میں 1331 ارب روپے) دنیا بھر سے جو لوگ جنازے میں شرکت کیلئے آئے، ان کے اخراجات اپنی جگہ۔ یہ معاملہ ابھی ختم بھی نہیں ہوا۔ رسوم کی بجا آوری کا سلسلہ مزید چلتا رہے گا۔ جس پر اٹھنے والے اخراجات الگ ہوں گے - - -

لیکن اس سب کا آنجہانی ملکہ کی روح کو کوئی فائدہ؟ کچھ بھی نہیں، بلکہ کسی بھی انسان کو تو کیا، کسی ذی روح کو بھی کوئی فائدہ نہیں۔ سراسر عقل کے خلاف فضولیات، بے جا اسراف، سرمائے کا ضیاع۔ وہ بھی اک ایسے وقت میں جب برطانوی معیشت سخت مشکلات کا شکار۔

مگر اس کے باوجود مجال ہے کسی لبرل، سیکولر یا ملحد نے ان فضولیات پر ایک حرف بھی زبان پر لایا ہو کہ جی بڑا پیسہ ضائع کر دیا۔ اس سے کئی واٹر کولر لگوائے جا سکتے تھے، کسی غریب کی بچی کی شادی ہو سکتی تھی۔ مگر قربانی کے چند ہزار روپے مسلمان اپنی مرضی سے خرچ کریں تو انہیں اوپر نیچے آگ لگ جاتی ہے۔

اس کے مقابلے میں ایک مسلم بادشاہ (نام نہاد ہی سہی) کا بھی حال ہی میں (13 مئی) انتقال ہوا۔ امارات کے حکمراں شیخ خلیفہ بن زید النہیان کا۔ لیکن اسلامی تعلیمات کی برکت کہ جنازہ سادگی کا نمونہ۔ صبح انتقال اور مغرب کے بعد تدفین۔ نہ دیدار عام کیلئے چار دن انتظار، نہ ہی لمبا چوڑا شاہی پروٹوکول۔

چند افراد نے عام سے تختے پر میت اٹھائی اور قبرستان پہنچا دیا۔ میت بھی عام سے کفن میں لپٹا ہوا، جس پر نہ سونے سے مرصع چادر اور نہ ہی طلائی تابوت۔

🎀🙄🙄🎀🙄🙄🎀🙄🙄🎀🙄🙄🎀🙄🙄🎀

انگلینڈ کے خلاف سیریز اور ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیےقومی اسکواڈ کا اعلان
15/09/2022

انگلینڈ کے خلاف سیریز اور ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیےقومی اسکواڈ کا اعلان

《 بوسنیا کی المناک داستان  》حکم ہوا تمام مردوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔ فوجی شہر کے کونے کونے میں پھیل گئے۔ ماؤں کی گو...
20/08/2022

《 بوسنیا کی المناک داستان 》

حکم ہوا تمام مردوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔ فوجی شہر کے کونے کونے میں پھیل گئے۔ ماؤں کی گود سے دودھ پیتے بچے چھین لیے گئے۔ بسوں پر سوار شہر چھوڑ کر جانے والے مردوں اور لڑکوں کو زبردستی نیچے اتار لیا گیا۔ لاٹھی ہانکتے کھانستے بزرگوں کو بھی نہ چھوڑا گیا۔ سب مردوں کو اکٹھا کر کے شہر سے باہر ایک میدان کی جانب ہانکا جانے لگا۔

ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے۔ عورتیں چلا رہی تھیں۔ گڑگڑا رہی تھیں۔ اِدھر اعلانات ہو رہے تھے:
"گھبرائیں نہیں کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا. جو شہر سے باہر جانا چاہے گا اسے بحفاظت جانے دیا جائے گا۔"

زاروقطار روتی خواتین اقوامِ متحدہ کے اُن فوجیوں کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں جن کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ شہر محفوظ ہاتھوں میں ہے لیکن وہ سب تماشائی بنے کھڑے تھے۔

شہر سے باہر ایک وسیع و عریض میدان میں ہر طرف انسانوں کے سر نظر آتے تھے۔ گھٹنوں کے بل سر جھکائے زمین پر ہاتھ ٹکائے انسان. جو اس وقت بھیڑوں کا بہت بڑا ریوڑ معلوم ہوتے تھے۔ دس ہزار سے زائد انسانوں سے میدان بھر چکا تھا۔

ایک طرف سے آواز آئی فائر۔

سینکڑوں بندوقوں سے آوازیں بہ یک وقت گونجیں لیکن اس کے مقابلے میں انسانی چیخوں کی آواز اتنی بلند تھی کہ ہزاروں کی تعداد میں برسنے والی گولیوں کی تڑتڑاہٹ بھی دب کر رہ گئی۔ ایک قیامت تھی جو برپا تھی۔ ماؤں کی گودیں اجڑ رہی تھیں۔ بیویاں آنکھوں کے سامنے اپنے سروں کے تاج تڑپتے دیکھ رہی تھیں۔ بیوہ ہو رہی تھیں۔ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھیں۔ سینکڑوں ایکڑ پر محیط میدان میں خون، جسموں کے چیتھڑے اور نیم مردہ کراہتے انسانوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ شیطان کا خونی رقص جاری تھا اور انسانیت دم توڑ رہی تھی۔

ان سسکتے وجودوں کا ایک ہی قصور تھا کہ یہ کلمہ گو مسلمان تھے۔

اس روز اسی سالہ بوڑھوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بیٹوں اور معصوم پوتوں کی لاشوں کو تڑپتے دیکھا۔ بے شمار ایسے تھے جن کی روح شدتِ غم سے ہی پرواز کر گئیں۔

شیطان کا یہ خونی رقص تھما تو ہزاروں لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے مشینیں منگوائی گئیں۔ بڑے بڑے گڑھے کھود کر پانچ پانچ سو، ہزار ہزار لاشوں کو ایک ہی گڑھے میں پھینک کر مٹی سے بھر دیا گیا۔ یہ بھی نہ دیکھا گیا کہ لاشوں کے اس ڈھیر میں کچھ نیم مردہ سسکتے اور کچھ فائرنگ کی زد سے بچ جانے والے زندہ انسان بھی تھے۔

لاشیں اتنی تھیں کہ مشینیں کم پڑ گئیں۔ بے شمار لاشوں کو یوں ہی کھلا چھوڑ دیا گیا اور پھر رُخ کیا گیا غم سے نڈھال ان مسلمان عورتوں کی جانب جو میدان کے چہار جانب ایک دوسرے کے قدموں سے لپٹی رو رہی تھیں۔

انسانیت کا وہ ننگا رقص شروع ہوا کہ درندے بھی دیکھ لیتے تو شرم سے پانی پانی ہو جاتے۔ شدتِ غم سے بے ہوش ہو جانے والی عورتوں کا بھی ریپ کیا گیا۔ خون اور جنس کی بھوک مٹانے کے بعد بھی چین نہ آیا۔ اگلے کئی ہفتوں تک پورے شہر پر موت کا پہرہ طاری رہا۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اقوامِ متحدہ کے پناہ گزیں کیمپوں سے بھی نکال نکال کر ہزاروں لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ محض دو دن میں پچاس ہزار نہتے مسلمان زندہ وجود سے مردہ لاش بنا دیے گئے۔

یہ تاریخ کی بدترین نسل کشی تھی۔ ظلم و بربریت کی یہ کہانی سینکڑوں ہزاروں سال پرانی نہیں، نہ ہی اس کا تعلق وحشی قبائل یا دورِ جاہلیت سے ہے۔ یہ 1995 کی بات ہے جب دنیا اپنے آپ کو خودساختہ مہذب مقام پر فائز کیے بیٹھی تھی۔ یہ مقام کوئی پس ماندہ افریقی ملک نہیں بلکہ یورپ کا جدید قصبہ سربرینیکا تھا۔ یہ واقعہ اقوامِ متحدہ کی نام نہاد امن فورسز کے عین سامنے بلکہ ان کی پشت پناہی میں پیش آیا۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مبالغہ آرائی ہے تو ایک بار سربرینیکا واقعے پر اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا بیان پڑھ لیجیے جس نے کہا تھا کہ یہ قتلِ عام اقوامِ متحدہ کے چہرے پر بدنما داغ کی طرح ہمیشہ رہے گا

نوے کی دہائی میں یوگوسلاویہ ٹوٹنے کے بعد بوسنیا کے مسلمانوں نے ریفرنڈم کے ذریعے سے اپنے الگ وطن کے قیام کا اعلان کیا۔ بوسنیا ہرزیگوینا کے نام سے قائم اس ریاست میں مسلمان اکثریت میں تھے جو ترکوں کے دورِ عثمانی میں مسلمان ہوئے تھے اور صدیوں سے یہاں آباد تھے۔ لیکن یہاں مقیم سرب الگ ریاست سے خوش نہ تھے۔ انہوں نے سربیا کی افواج کی مدد سے بغاوت کی۔ اس دوران میں بوسنیا کے شہر سربرینیکا کے اردگرد سرب افواج نے محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ کئی سال تک جاری رہا۔

اقوامِ متحدہ کی امن افواج کی تعیناتی کے ساتھ ہی باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ اب یہ علاقہ محفوظ ہے۔ لیکن یہ اعلان محض ایک جھانسا ثابت ہوا۔ کچھ ہی روز بعد سرب افواج نے جنرل ملادچ کی سربراہی میں شہر پر قبضہ کر لیا اور مسلمانوں کی نسل کشی کا وہ انسانیت سوز سلسلہ شروع کیا جس پر تاریخ آج بھی شرمندہ ہے۔ اس دوران نیٹو افواج نے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی۔ کیونکہ معاملہ مسلمانوں کا تھا۔

جولائی 1995 سے جولائی 2020 تک پچیس سال گذر گئے۔ آج بھی مہذب دنیا اس داغ کو دھونے میں ناکام ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا واحد واقعہ ہے جس میں مرنے والوں کی تدفین پچیس سال سے جاری ہے۔ آج بھی سربرینیکا کے گردونواح سے کسی نہ کسی انسان کی بوسیدہ ہڈیاں ملتی ہیں تو انہیں اہلِ علاقہ دفناتے نظر آتے ہیں۔

جگہ جگہ قطار اندر قطار کھڑے پتھر اس بات کی علامت ہیں کہ یہاں وہ لوگ دفن ہیں جن کی اور کوئی شناخت نہیں ماسوائے اس کے کہ وہ مسلمان تھے۔

گو کہ بعد میں دنیا نے سرب افواج کی جانب سے بوسنیائی مسلمانوں کی اس نسل کشی میں اقوامِ متحدہ کی غفلت اور نیٹو کے مجرمانہ کردار کو تسلیم کر لیا۔ کیس بھی چلے معافیاں بھی مانگی گئیں۔ مگر ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا

اب تو یہ واقعہ آہستہ آہستہ یادوں سے بھی محو ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کو جنگِ عظیم، سرد جنگ اور یہودیوں پر ہٹلر کے جرائم تو یاد ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا قتلِ عام یاد نہیں۔

غیروں سے کیا گلہ ہم میں سے کتنوں کو معلوم ہے کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا بھی تھا؟
پچاس ہزار مردوں اور بچوں کا قتل اتنی آسانی سے بھلا دیا جائے؟ یہ وہ خون آلود تاریخ ہے جسے ہمیں بار بار دنیا کو دکھانا ہو گا۔
جس طرح نائن الیون اور دیگر واقعات کو ایک گردان بنا کر رٹایا جاتا ہے۔ بعینہ ہمیں بھی یاد دلاتے رہنا ہو گا۔ نام نہاد مہذب معاشروں کو ان کا اصل چہرہ دکھاتے رہنا ہو گا۔

اس واقعے میں ہمارے لیے ایک اور بہت بڑا سبق یہ بھی ہے کہ کبھی اپنے تحفظ کے لیے اغیار پر بھروسہ نہ کرو اور اپنی جنگیں اپنے ہی زورِ بازو سے لڑی جاتی ہیں۔
اردو سنہری الفاظ ✍️

17/08/2022

Address

Muzaffargarh
34200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Pakistan Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to The Pakistan Times:

Share