HunzaOnline

HunzaOnline Infotainment from Hunza ,Gilgit Baltistan

Our Mission is to engage,inform, entertain and enrich audiences by harnessing the power of creativity
HunzaOnline's Vision is: To be the most creative and reliable news source of Gilgit-Baltistan in the world.

03/03/2026

کرفیو اور ریلیکسیشن شیڈول:
2 مارچ
رات 12 بجے سے دوپہر 12 بجے تک کرفیو
دوپہر 12 بجے سے شام 4 بجے تک نرمی
شام 4 بجے سے رات 12 بجے تک کرفیو
3 مارچ
رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک نرمی
صبح 5 بجے سے شام 4 بجے تک کرفیو
شام 4 بجے سے رات 8 بجے تک نرمی
رات 8 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو
4 مارچ
صبح 5 بجے سے صبح 8 بجے تک نرمی
صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کرفیو
شام 4 بجے سے رات 8 بجے تک نرمی
رات 8 بجے سے رات 12 بجے تک کرفیو
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ اوقات کی پابندی کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

01/03/2026
تیسری عالمی جنگ دنیا کی دہلیز پر کھڑی ہےاقبال عیسیٰ خان 28 فروری 2026آج ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے دنیا کو ...
28/02/2026

تیسری عالمی جنگ دنیا کی دہلیز پر کھڑی ہے
اقبال عیسیٰ خان
28 فروری 2026

آج ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے دنیا کو ایک بار پھر ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسانیت ایک بار پھر عالمی جنگ کی دہلیز پر آن کھڑی ہوئی ہو۔ فضا میں بارود کی بو ہے، خبروں میں دھماکوں کی گونج ہے، اور دلوں میں ایک انجانا خوف سرایت کر چکا ہے۔ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کے یہ واقعات محض ایک علاقائی کشیدگی نہیں، بلکہ ایک ایسی چنگاری ہیں جو اگر شعلہ بن گئی تو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے وسیع حملوں کے جواب میں ایران کی جوابی کارروائی نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ چند ہی گھنٹوں میں آسمان میزائلوں کی لکیر سے بھر گیا، زمین گولوں کی گرج سے کانپ اٹھی، اور ہر طرف اضطراب پھیل گیا۔ انسان سوچنے پر مجبور ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی دنیا نے جنگ کا راستہ اختیار کیا، اس کا انجام صرف تباہی کی صورت میں نکلا۔ پہلی عالمی جنگ، جو ۱۹۱۴ سے ۱۹۱۸ تک جاری رہی، تقریباً ڈیڑھ کروڑ انسانوں کو نگل گئی۔ لاکھوں زخمی ہوئے، بستیاں اجڑ گئیں، اور ماؤں کی گودیں ہمیشہ کے لیے خالی ہو گئیں۔ زمین نے جوان لاشوں کو اپنے اندر سمو لیا اور فضا میں آہوں اور سسکیوں کی بازگشت رہ گئی۔
پھر دوسری عالمی جنگ آئی، ۱۹۳۹ سے ۱۹۴۵ تک پھیلی وہ قیامت جس نے چھ کروڑ سے زائد انسانوں کی جان لے لی۔ شہر راکھ بن گئے، خاندان بکھر گئے، اور ایٹمی ہتھیاروں نے لمحوں میں زندگی کو مٹا دیا۔ یورپ، ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقے کھنڈرات میں بدل گئے۔ زندہ بچ جانے والے لوگ اپنے پیاروں کی یادوں کے ساتھ عمر بھر کا درد لیے جیتے رہے۔ انسانیت نے اپنی ہی بنائی ہوئی آگ میں خود کو جلایا۔
لیکن افسوس کہ ان خونی اسباق کے باوجود دنیا نے جنگ کو ترک نہیں کیا۔ آج بھی کئی خطے خون میں نہا رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین برسوں سے آگ اور بارود کی لپیٹ میں ہے۔ افغانستان، عراق، شام اور یمن کے گلی کوچے بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ معصوم بچوں کی آنکھوں سے معصومیت چھن چکی ہے، گھروں کی جگہ ملبے کے ڈھیر ہیں، اور ہر طرف خوف کا سایہ ہے۔
اور اب ایران پر حالیہ حملوں نے عالمی جنگ کے خدشے کو اور گہرا کر دیا ہے۔ یہ محض دو یا تین ممالک کا تنازع نہیں، بلکہ ایسی آگ ہے جو بڑی طاقتوں کو آمنے سامنے لا سکتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو تیسری عالمی جنگ کا دروازہ کھل سکتا ہے، اور اس بار تباہی پہلے سے کہیں زیادہ بھیانک ہوگی۔ جدید ہتھیار، ایٹمی قوت اور عالمی اتحاد اس آگ کو پوری دنیا تک پھیلا سکتے ہیں۔
جنگ کبھی مسئلے کا حل نہیں رہی۔ اس کے دامن میں صرف خون ہے، آنسو ہیں اور ویرانی ہے۔ یہ بچوں کی مسکراہٹیں چھین لیتی ہے، ماؤں کے سہارے توڑ دیتی ہے، اور قوموں کے مستقبل کو اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔ ہر جنگ کے بعد امن کی بات ہوتی ہے، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ قبرستان پھیل چکے ہوتے ہیں اور خواب مٹی میں دفن ہو چکے ہوتے ہیں۔
آج انسانیت کو رک کر سوچنا ہوگا۔ اگر ہم نے عقل و دانش کا راستہ نہ اپنایا تو تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے۔ امن ہتھیاروں سے نہیں، بلکہ مکالمے، برداشت اور انصاف سے قائم ہوتا ہے۔ آئیے دعا کریں کہ یہ کشیدگی عالمی تباہی میں نہ بدلے، کہ دلوں میں نفرت کی جگہ سمجھ بوجھ پیدا ہو، اور بارود کی جگہ بات چیت کے دروازے کھلیں۔ کیونکہ جنگ کا حاصل کبھی فتح نہیں ہوتا ہے، صرف خونریزی اور تباہی ہوتی ہے۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

یہ نئی نسل ہے، پرانی کہانی نہیں سنے گےاقبال عیسیٰ خان 25 فروری 2026آج کا سیاستدان اگر اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ عوام کو پرا...
28/02/2026

یہ نئی نسل ہے، پرانی کہانی نہیں سنے گے

اقبال عیسیٰ خان
25 فروری 2026

آج کا سیاستدان اگر اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ عوام کو پرانی چالوں، کھوکھلے وعدوں اور جذباتی نعروں سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے تو وہ خود کو دھوکے میں رکھ رہا ہے۔ یہ وہ دنیا نہیں رہی جہاں بند کمروں میں کہی گئی باتیں دیواروں تک محدود رہتی تھیں۔ آج ہر لفظ کیمرے میں قید ہوتا ہے، ہر بیان سوشل میڈیا پر محفوظ رہتا ہے، اور ہر تضاد لمحوں میں بے نقاب ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کیوں کچھ سیاستدان اب بھی عوام کو کم عقل سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں؟
قیادت اعتماد سے بنتی ہے، ڈرامے سے نہیں۔ اعتماد سچائی سے پیدا ہوتا ہے، چالاکی سے نہیں۔ جب کوئی سیاستدان آج کچھ اور کل کچھ اور کہتا ہے تو وہ صرف ایک بیان نہیں بدلتا، وہ اپنا وقار کھو دیتا ہے۔ آج کا نوجوان یاد رکھتا ہے، اسکرین شاٹ لیتا ہے، ویڈیو محفوظ کرتا ہے اور وقت آنے پر سوال بھی کرتا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو دلیل مانگتی ہے، وضاحت چاہتی ہے اور منافقت کو برداشت نہیں کرتی۔
دنیا کی سیاست کا نقشہ بدل چکا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے طاقت کا توازن بدل دیا ہے۔ پہلے بیانیہ صرف طاقتور کے ہاتھ میں ہوتا تھا، آج ہر نوجوان کے ہاتھ میں موبائل فون ہے جو ایک مکمل میڈیا ہاؤس ہے۔ جب 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہو، خصوصاً جنریشن زی، تو ان کو نظر انداز کرنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ یہ نسل عالمی سیاست کو دیکھتی ہے، موازنہ کرتی ہے، سوال کرتی ہے۔ یہ صرف مقامی جلسے سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ عالمی رجحانات سے سیکھتی ہے۔
تعلیم اور ٹیکنالوجی نے ذہنوں کو بدل دیا ہے۔ لٹریسی ریٹ میں اضافہ، انٹرنیٹ تک رسائی، آن لائن کورسز، عالمی مکالمہ، یہ سب مل کر ایک باشعور معاشرہ تشکیل دے رہے ہیں۔ اب جذباتی کارڈ کھیلنا اتنا آسان نہیں رہا۔ قوم پرستی، مذہب یا علاقائیت کے نام پر وقتی جوش تو پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر مستقل احترام صرف کارکردگی سے ملتا ہے۔ اگر سیاستدان اپنے بیانیے کو اپڈیٹ نہیں کریں گے، اگر وہ تحقیق، ڈیٹا اور پالیسی کی زبان نہیں سیکھیں گے، تو وہ سنجیدہ قیادت کے بجائے طنز و مزاح کا موضوع بن جائیں گے۔
ہر شعبے میں اپڈیٹ رہنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر نئی تحقیق پڑھتا ہے، انجینئر نئی ٹیکنالوجی سیکھتا ہے، بزنس مین مارکیٹ ٹرینڈز دیکھتا ہے۔ تو پھر سیاستدان کیوں پرانے اسکرپٹ پر چل رہے ہیں؟ قیادت بھی ایک پروفیشن ہے، اور اس میں بھی مسلسل سیکھنا، خود احتسابی اور جدت اپنانا لازم ہے۔ اگر آپ اپنی سوچ کو اپڈیٹ نہیں کریں گے تو وقت آپ کو ریٹائر کر دے گا۔
دنیا بھر میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ جنریشن زی پرانے طرزِ سیاست کو چیلنج کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر طنز، میمز اور تنقید اب ایک طاقت بن چکے ہیں۔ جو سیاستدان نوجوانوں کے سوالوں کا جواب نہیں دے پاتے، وہ مذاق کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہی رجحان اب گلگت بلتستان اور چترال جیسے خطوں میں بھی واضح نظر آ رہا ہے۔ وہاں کا نوجوان بھی عالمی شعور رکھتا ہے، وہ بھی دیکھ رہا ہے کہ دنیا کہاں جا رہی ہے اور اس کا لیڈر کہاں کھڑا ہے۔
اگر کوئی سیاستدان آج بھی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کرے گا تو شاید چند لمحوں کے لیے کامیاب ہو جائے، مگر طویل مدت میں وہ خود ایک “جوکر” بن کر رہ جائے گا، لیڈر نہیں۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو وقت کی نبض پہ ہاتھ رکھے، جو اپنی غلطی تسلیم کرے، جو نوجوانوں کو دشمن نہیں بلکہ طاقت سمجھے۔ جو تنقید سے بھاگے نہیں بلکہ اسے سن کر اپنی حکمت عملی بہتر بنائے۔
یہ وقت ہے کہ سیاستدان اپنی فرسودہ ذہنیت کو تبدیل کریں۔ شفافیت کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھیں۔ نوجوانوں کو خاموش کرانے کے بجائے انہیں شامل کریں۔ کیونکہ اب کیمرے بند نہیں ہوں گے، ریکارڈنگ ڈیلیٹ نہیں ہوگی، اور شعور واپس اندھیرے میں نہیں جائے گا۔ دنیا بدل چکی ہے۔ اگر قیادت نے خود کو نہ بدلا تو تاریخ اسے بدل دے گی۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan
[email protected]

ھنزہ : رمضان المبارک میں کاروباری رجسٹریشن مفت، 30 رمضان تک کا موقعھنزہ : گلگت بلتستان محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے میو...
28/02/2026

ھنزہ : رمضان المبارک میں کاروباری رجسٹریشن مفت، 30 رمضان تک کا موقع

ھنزہ : گلگت بلتستان محکمہ لوکل گورنمنٹ کی جانب سے میونسپل کمیٹی ھنزہ کے دائرہ اختیار میں قائم تمام کاروباری حضرات کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یکم رمضان المبارک تا 30 رمضان المبارک تک چیف سکریٹری گلگت بلتستان کے احکامات پر سیکریٹری ایل جی اینڈ آرڈی جی بی / چیئرمین گلگت بلتستان لوکل کونسل بورڈ کے ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر / ایڈمنسٹریٹر بلدیہ اور چیف آفیسر بلدیہ ھنزہ مذکورہ عرصہ کے دوران تمام درج ذیل کاروبارات و پیشہ جات کی بالکل مفت رجسٹریشن / لائسنسنگ کی جائے گی۔
گلگت بلتستان لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2014 کے تحت جاری کردہ Gilgit Baltistan licencing of profession's and vocations Rules 2025 کے تحت رجسٹریشن لازمی قرار دیا گیا ہے ۔
لازمی رجسٹریشن کروانے والے کاروبارات میں عمومی کاروبار جیسے ، مرغی اور مچھلی فروش، دودھ، دہی، گھی، مکھن فروش، سبزی و فروٹ فروش، جنرل اسٹورز، نان شاپ، مٹھائی ساز و فروش، پکوڑے، چپس، مشروبات تیار کرنے والے، ہوٹل، ریسٹورنٹس، کیفے، قہوہ خانے، ہاسٹلز، ٹک شاپ، ٹائر شاپ، کار واش، سروس اسٹیشن، میڈیکل اسٹورز، ہومیوپیتھک میڈیکل اسٹورز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ صنعتی و تجارتی یونٹس جیسے فیکٹریاں، بیکریز، بلاک میکرز، ٹف ٹائلز فیکٹری، کریش پلانٹس، سریا ورکس، اسٹیل ورک، پائپ فیکٹریاں، سیمنٹ ڈیلرز، کھاد ڈیلرز، ماربل کٹنگ و پالش یونٹس، شیشہ سازی و پالش، چونا جلانے یا پیسنے کے یونٹس، اینٹ، سرخی و ٹائلز بنانے والے بھی رجسٹریشن کے لیے اہل ہیں۔
مقررہ مدت کے بعد بلا لائسنس کاروبار کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جرمانہ، کاروبار کی بندش، سیلنگ اور دیگر سزائیں نافذ العمل ہوں گی۔ تمام کاروباری حضرات کے لیے فعال بینک اکاؤنٹ اور QR کوڈ کی تنصیب لازمی ہوگی۔
متعلقہ دفتر میونسپل کمیٹی سے فوری رجوع کریں۔
شکریہ

وزیراعظم مفت سولر پینلز اسکیم کے تحت ضلع سکردو کے حصے میں آنےوالی کئی سولر پلیٹس کے ٹوٹے ہوئے اور استعمال شدہ ہونے کی خب...
27/02/2026

وزیراعظم مفت سولر پینلز اسکیم کے تحت ضلع سکردو کے حصے میں آنےوالی کئی سولر پلیٹس کے ٹوٹے ہوئے اور استعمال شدہ ہونے کی خبریں ۔زرائع

Travel Advisory GB
27/02/2026

Travel Advisory GB

ہنزہ میں کتا مار مہم کا  جلد آغاز کیا جا رہا ہے۔اس بارے میں آپ کیا کہنگے ؟
25/02/2026

ہنزہ میں کتا مار مہم کا جلد آغاز کیا جا رہا ہے۔
اس بارے میں آپ کیا کہنگے ؟

گلگت بلتستان میں قیادت کا بحران، نوجوان وژنری رہنما ہی حل ہیںاقبال عیسیٰ خان 21 فروری 2026گلگت بلتستان قدرتی وسائل، نوجو...
21/02/2026

گلگت بلتستان میں قیادت کا بحران، نوجوان وژنری رہنما ہی حل ہیں
اقبال عیسیٰ خان
21 فروری 2026

گلگت بلتستان قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، علم و ہنر سے مالامال کیا ہے، لیکن قیادت کے شدید بحران نے ترقی کی راہیں محدود کر دی ہیں۔ قیادت صرف عہدوں کا نام نہیں؛ یہ وژن، تدبیر، حوصلہ اور عملی طاقت ہے جو کسی قوم کو بلندیوں تک لے جا سکتی ہے۔
دنیا نے یہ ثابت کیا ہے کہ نوجوان وژنری قیادت سب سے بڑی طاقت ہے۔ جنوبی کوریا نے نوجوان قیادت کے ذریعے ٹیکنالوجی، صنعت اور تعلیم میں انقلاب برپا کیا۔ فن لینڈ نے نوجوان قیادت کے تحت تعلیم کے جدید ماڈل متعارف کرائے اور دنیا کے خوشحال معاشروں میں شامل ہوا۔ ایلون مسک اور سٹیو جابز جیسے نوجوان وژنری رہنما بتاتے ہیں کہ نیا وژن اور جذبہ دنیا بدل سکتا ہے۔ نائجیریا، جنوبی افریقہ اور برازیل کے نوجوان قیادت کے ماڈل بھی یہ سکھاتے ہیں کہ نوجوانوں کو موقع دیا جائے تو ترقی کی رفتار ناقابل یقین حد تک بڑھ جاتی ہے۔
ہمارے نوجوان، علم، ہنر اور حوصلے میں دنیا کے کسی بھی علاقے سے کم نہیں ہیں، لیکن گلگت بلتستان میں قیادت کے خلا نے ان صلاحیتوں کو مکمل پروان نہیں چڑھنے دیا۔ ہمیں ایسے رہنما چاہیے جو عملی اقدامات کریں، نوجوانوں کو مواقع فراہم کریں، اور علم، ہنر، معیشت اور ثقافت میں ایسے ماڈل لائیں جو معیار زندگی کو بلند کریں اور قیادت کی تربیت بھی دیں۔
قیادت کا بحران صرف سیاسی خلا نہیں، بلکہ سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی میں بھی رکاوٹ ہے۔ نوجوانوں کو سننا، ان کے خیالات کو عملی شکل دینا اور انہیں قیادت کے عہدوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں نوجوان قیادت نے اسٹارٹ اپس، کھیل، تحقیق اور ثقافت میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور یہ دکھایا ہے کہ نیا وژن کسی بھی معاشرے کو بدل سکتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم گلگت بلتستان میں نوجوان اور وژنری قیادت کو فروغ دیں، انہیں عملی مواقع فراہم کریں اور ایسا ماحول بنائیں جہاں علم، جذبہ، تدبیر اور وژن کے ساتھ قیادت پروان چڑھ سکے۔ حقیقی قیادت وہ ہے جو موجودہ مسائل حل کرے اور آنے والی نسلوں کے لیے روشن مستقبل کا راستہ کھولے۔ اگر ہم نے آج یہ خلا نہ بھرا، تو ترقی کے خواب دھندلے رہ جائیں گے، لیکن نوجوان وژنری قیادت کو موقع ملا تو گلگت بلتستان دنیا میں ترقی اور کامیابی کی مثال بن سکتا ہے۔
حقیقی قیادت علم، تدبیر، حوصلہ، اخلاق اور وژن کی طاقت سے جنم لیتی ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ وقت ہے کہ وہ خواب دیکھیں، منصوبہ بندی کریں اور عملی اقدامات کے ذریعے اپنے علاقے کو عالمی معیار کی ترقی کی راہ پر لے جائیں۔ یہی قیادت آج کے بحران کا جواب اور کل کے امکانات کی ضمانت ہے۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

امن کی وادی، غیرت کی سرزمین, ہنزہ اور غذراقبال عیسیٰ خان 20 فروری 2026گلگت بلتستان کی سرزمین بہادری، قربانی اور غیرت کی ...
20/02/2026

امن کی وادی، غیرت کی سرزمین, ہنزہ اور غذر
اقبال عیسیٰ خان
20 فروری 2026

گلگت بلتستان کی سرزمین بہادری، قربانی اور غیرت کی سرزمین ہے۔ اس دھرتی کے ہر ضلع نے اپنی اپنی جگہ تاریخ رقم کی ہے، مگر اگر حب الوطنی کی شدت، قومی شعور کی پختگی اور ریاست سے وفاداری کی عملی مثال تلاش کی جائے تو ہنزہ اور غذر کے عوام کا کردار نمایاں اور قابلِ فخر دکھائی دیتا ہے۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ تاریخ کے اوراق، شہداء کے لہو اور اجتماعی کردار کی گواہی ہے۔
آزادیٔ گلگت بلتستان کی جدوجہد سے لے کر آج تک، جن جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، ان میں ہنزہ اور غذر کے بیٹوں کی تعداد اور تسلسل غیر معمولی رہا ہے۔ سرحدوں کی حفاظت ہو، افواج میں خدمات ہوں یا اندرونی امن کے لیے قربانیاں ان علاقوں کے نوجوان ہمیشہ صفِ اوّل میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ شُہداء کے گھروں میں آنسو ضرور بہتے ہیں، مگر ان آنسوؤں میں فخر کی چمک بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ وہ فخر ہے جو کسی اشتہار یا تقریر سے نہیں، بلکہ قربانی سے حاصل ہوتا ہے۔
ہنزہ آج امن، خوشحالی اور اعلیٰ شرحِ خواندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں تعلیم کو صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب اور کردار کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔ شرحِ خواندگی کی بلندی، خواتین کی تعلیم میں نمایاں کردار، سماجی ہم آہنگی اور قانون کی پاسداری یہ سب وہ عوامل ہیں جنہوں نے ہنزہ کو ایک مہذب اور بااخلاق معاشرے کی مثال بنایا ہے۔ غذر بھی اسی روایت کا امین ہے؛ وہاں کے لوگوں میں سادگی، غیرت اور قومی وابستگی ایک فطری صفت کے طور پر موجود ہے۔
کسی بھی خطے کی اصل طاقت اس کے لوگوں کا شعور ہوتا ہے۔ ہنزہ اور غذر کے عوام نے ثابت کیا ہے کہ ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں آتی، بلکہ سوچ اور کردار سے آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی پاکستان کا نرم اور مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنا مقصود ہو تو ہنزہ کی وادیوں، اس کے پُرامن ماحول اور مہمان نواز لوگوں کی مثال دی جاتی ہے۔ سیاحت ہو، سفارتی وفود ہوں یا ترقیاتی اداروں کی رپورٹس “ہنزہ برانڈ” کو بطور ماڈل پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ دہائیوں کی اجتماعی محنت، نظم و ضبط اور برداشت کا ثمر ہے۔
مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں میں کچھ حلقوں کی طرف سے ہنزہ اور غذر کے خلاف حسد اور جلن پر مبنی بیانات نے وہاں کے عوام کو شدید دکھ پہنچایا ہے۔ جب کسی علاقے کی ترقی اور امن کو سراہنے کے بجائے اسے طنز اور تعصب کا نشانہ بنایا جائے تو یہ نہ صرف اس علاقے بلکہ پورے خطے کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حق ہے، مگر حسد کی آگ میں سچ کو جلانا دانشمندی نہیں۔
یہ بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کسی ضلع کی تعریف دوسرے کی توہین نہیں ہونی چاہیے۔ گلگت بلتستان کا ہر ضلع محترم ہے، ہر علاقے کے لوگ قابلِ عزت ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کوئی خطہ تعلیم، امن اور اخلاقی معیار میں نمایاں ہو تو اسے تسلیم کرنا چاہیے، نہ کہ اس سے جلنا چاہیے۔ ترقی کو مقابلہ نہیں بلکہ ماڈل سمجھنا چاہیے۔ اگر ہنزہ دہشت گردی سے پاک، نفرت سے پاک اور امتیازی سلوک سے بالاتر معاشرے کی مثال ہے تو اس ماڈل کو اپنانا ہم سب کے مفاد میں ہے۔
ہنزہ اور غذر کے خلاف بیانیہ دراصل اس مثبت شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے جو بڑی محنت سے بنی ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اندرونی تقسیم دشمن کو مضبوط کرتی ہے اور اتحاد ہمیں ناقابلِ تسخیر بناتا ہے۔ اگر ہنزہ ایک برانڈ ہے تو وہ پورے گلگت بلتستان کا برانڈ ہے، پورے پاکستان کا چہرہ ہے۔ اس برانڈ کو کمزور کرنا دراصل اپنی ہی اجتماعی شناخت کو نقصان پہنچانا ہے۔
ہنزہ اور غذر کے عوام کو چاہیے کہ وہ ان بیانات سے دل برداشتہ ہونے کے بجائے اپنے کردار، اپنی تعلیم، اپنی شائستگی اور اپنی حب الوطنی سے جواب دیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کردار کا جواب کردار سے دیا جاتا ہے، نفرت کا جواب نفرت سے نہیں بلکہ برداشت اور وقار سے دیا جاتا ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہنزہ اور غذر صرف جغرافیائی اکائیاں نہیں بلکہ ایک فکر، ایک روایت اور ایک ذمہ داری کا نام ہیں۔ شُہداء کے لہو کی لاج رکھنا، امن کو برقرار رکھنا، تعلیم کو فروغ دینا اور اخلاقیات کو زندہ رکھنا ہی ان علاقوں کی اصل پہچان ہے۔ اگر یہ اقدار قائم رہیں تو کوئی حسد، کوئی الزام اور کوئی منفی بیان اس روشن شناخت کو مدھم نہیں کر سکتا۔



Best Regards,
Iqbal Essa khan

[email protected]

ہنزہ نگر اور غزر کے عوام کو ریاست مخالف کہنے سے دل آزاری اور تکلیف ہوئی ھے اس کا مداوا اس بیان پر معافی مانگنے سے ہی ممک...
20/02/2026

ہنزہ نگر اور غزر کے عوام کو ریاست مخالف کہنے سے دل آزاری اور تکلیف ہوئی ھے اس کا مداوا اس بیان پر معافی مانگنے سے ہی ممکن ھے.ایمان شاہ

ن لیگ صدر جی بی حافظ حفیظ الرحمن صاحب نگر کے غیرت مند عوام سے معافی مانگیں ضلع نگر کا کوئی ایسا گاوں کا قبرستان نہیں جہا...
20/02/2026

ن لیگ صدر جی بی حافظ حفیظ الرحمن صاحب نگر کے غیرت مند عوام سے معافی مانگیں ضلع نگر کا کوئی ایسا گاوں کا قبرستان نہیں جہاں پہ پاکستان کا جھنڈا نہیں لہراتا ہو ایسا کوئی گھرانہ نہیں جہاں سے شہید نہ ہو اور ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں پاکستان زندہ باد کے نعرے نہیں لگتے ہو آپ نے یہ کیسے اتنی آسانی سےکہہ دیا لوگ اینٹی سٹیٹ ہیں اینٹی پاکستان ہیں ؟؟اپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ نگر کے لوگ پاکستان کے خلاف ہیں افسوس ان غزر ہنزہ، نگر کے قائدین پر جو وہاں موجود تھے جن لوگوں نے حافظ حفیظ الرحمن کی باتیں سنی اور خاموش رہے ایسے لوگ شہیدوں کی دھرتی ہنزہ،نگر ،غزر کی کیسے نمائندگی کر سکتے ہیں جو گنگے ، بہرے اندھے ہوے ہیں۔ذوالفقار علی مراد متوقع امیدوار پی پی حلقہ 5نگر
News Credit :Ijlal

Address

Northern Areas

Telephone

+923135401123

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HunzaOnline posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to HunzaOnline:

Share