20/03/2026
پہلی تاریخ کا بڑاچاند :
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ پہلی کی چاند بڑی تھی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دوسری دن یا تاریخ کی تھی. لہزا حکومت کا اعلان درست نہیں تھا:
پہلی بات یہ ہے کہ حکومت کا اعلان حقیقتاً غلط بھی ہو تب بھی شریعت کا یہی حکم ہے کہ لوگوں کا روزہ تب ہوگا جب حکمران اعلان کرے, (شامی 320/4)ااگر حکمران غلط کرہا ہے تو اس کی وبال ان پر ہے.
دوسری بات یہ کہ یہی بات نبی صلی الله عليه وسلم اورصحابہ رض کے دور میں بھی لوگ کیا کرتا تھا. لیکن نبی صلی الله عليه وسلم اورصحابہ رض ایسا کہنے سے لوگوں کو منع فرمایاکرتےتھےکہ "بڑا اور چھوتا چھوڑ دو اگر پہلے بار دیکھا ہے تو بس پہلے کا ہے"حتی کہ ایک دفعہ نبی صلی الله عليه وسلم پہلے کی چاند کو بڑا کہنے کو بدترین دور اور قیامت کی نشانی قرار دی چنانچہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا قیامت کی قریبی نشانیوں میں سے ایک چاند پھل جانا ہے اور وہ یہ کہ پہلے تاریخ کے چاند کو یہ کہا جائے گا کہ یہ دوسری تاریخ کا چاند ہے کیونکہ بڑا ہے(المعجم الصغیر 115/2).
ایک اور روایت ہے حضرت ابو بختر فرماتے ہیں ہم کوفے سے عمرے کے لیے گیے, ہم طائف اور مکہ کے درمیان, بطن نخلہ کے مقام پر تھے کہ چاند نظر ایا, لوگ چاند دیکھنے کے لیے جمع ہوے, بعض نے کہا یہ تیسرے دن کاہے, کسی نے کہا دوسرے دن کا ہے. پھر ھم ابن عباس رض سے ملے اور انہیں چاند بڑا ہونے اور لوگوں کی راے کا زکر کیا, ابن عباس نے پوچھا(بڑا چھوٹا, چھوڑو) تم لوگوں نے کس رات کو دیکھا تھا ؟تو لوگوں نے کہا فلاں رات کو, تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ علیہ السلام نے رمضان کا انحصار پہلے دیکھنے پر کیا ہے. لہزا جس رات اپ لوگوں نے پہلی بار دیکھی ہے اسی سے شمار کرو(مشکواہ, باب رویہ الھلال, حدیث 1884).
تیسری بات یہ ہے کہ بڑا ہونے کی اصل وجہ طبعی قوانین ہوتے ہیں مثلاً افقی زاویہ 10درجے سے زیادہ سورج سے دور ہونا, افقی بلندی ,غروب کے وقت چاند کا افق پر 8درجے سے زیادہ بلندی پر ہونا, عمر 20گھنٹے سے زیادہ ہونا, اس طرح موسم وغیرہ کی بنیاد پر بعض چاند بہت بڑا ہوتاہے.
چوتھی بات یہ ہے کہ بعض اوقات چاند ہوتا ہے لیکن زاوے, یا عمر کی کمی وغیرہ کے وجہ سے نظر نہیں اسکتا ظاہر ہے کہ ایندہ رات کوبڑا ہی ہوگا.
پانچویں بات یہ ہے کہ شریعت نے پہلی تاریخ شرط اور علت روزے کے لیےنہیں قرار دیا ہے بلکہ انسانی انکھ سے نظر انا قرار دیا ہے, اس وجہ سے کلینڈر یا نیومون سے اغاز شرعاً درست نہیں ہے. اس لیے حدیث میں ہے کہ فان غم یا غموا یعنی اگر گرد غبار یا بادل کی وجہ سے چاند نظر نہ اے تو پھر پہلے مہینے کی 30دن پورہ کرو, اس کا مطلب یہ ہے کہ چاند تو ہوگی مگر غم کی وجہ سے نظر نہیں ایگی. ظاہر ہے اگلے دن دوسرے کا ہوگا اور بڑا نظر ائی گی لیکن شرعاً پہلی کی شمار ہوگی کیونکہ گرد غبار یابادل کے وجہ سے نظر نہیں ایا تھا. اور حساب اور شرعی حکم تب ٹھر تاہے جب نظر اے.
لہزا چھوٹا بڑا ہونے کی وجہ سے شرعی حکم پر اثر نہیں پڑتا, نہ شرعاً ایسا کہنا اور اس پر کمیٹی کی شرعی حثیت کم کرنا یا مشکوک کرنا درست ہے.
حفیظ صاحب کی مزید وضاحت :
جب سورج کی روشنی چاند سے ٹکرا کر ہماری آنکھوں پر پڑتی ہے تو ہمیں چاند نظر آتا ہے ، رمضان کے آغاز کیلیے چاند کو آنکھ سے دیکھنا ضروری ہے ، اس کیلیے ہمیں جتنی روشنی چاہیے اس کیلیے چاند ، سورج اور زمین کے بیچ کم ز کم ساڑھے دس ڈگری کا زاویہ ہونا چاہیے ،
اب چونکہ چاند کا مدار بالکل گول نہیں بلکہ بیضوی ہے اسلیے اس زاویے کا مطلب 17سے لے کر چوبیس گھنٹے تک کا چاند ہے ، پہلے سے چودھویں دن تک چاند کی عمر ہر روز چوبیس گھنٹے بڑھتی جاتی ہے (چودھویں دن پر ابن انشا نظمیں بھی لکھتے ہیں ).
اب اگر پہلے دن چاند 16 گھنٹے کا ہو تو ہمیں آنکھ سے نظر نہیں آے گا لیکن یہی چاند اگلے روز 16+24یعنی 40گھنٹے کا ہوگا اور اتنا بڑا ہوگا کہ ہمیں لگے گا کہ ہم نے ایک روزہ کھا لیا ہے ، یہ درست نہیں ہے ، پہلی کے چاند کا باریک ہونا بالکل ضروری نہیں ہے ، پہلی کا چاند 17گھنٹے کا بھی ہو سکتا ہے اور 40 گھنٹے کا بھی ، دونوں کے سائز میں بہت فرق ہے پر دونوں پہلی کے چاند ہی کہلاایئں گے۔