23/04/2026
نوشہرہ کرائم راونڈ اپ شیرازخان سے
رسالپور تھانہ حدود سٹریٹ کرائم میں پہلے پوزیش۔ اکوڑہ سرکل دوسرے جبکہ تیسرے نمبر پر پبی سرکل۔
مختلف علاقوں میں چورچکاری، رہزنی اور دیگر جرائم کا ریشو اور موت کے سوداگروں کا راج .
نوشہرہ کے اکثریتی علاقوں میں سٹریٹ کرائم ایک بار پھر تاریخ کے بلند ترین سطح پر رسالپور
پبی نظام پور کےواقعات
سب سے پہلے رسالپور اگر حالات واقعات اسباب اور عوامل کو دییکھا جائے تو اس وقت رسالپور پولیس سٹریٹ کرائم کی وجہ سے پہلے نمبر پر ہے بدامنی کی انتہا ہوگئی ہے اس وقت مختلف علاقوں
میں منشیات فروشی کے مکروہ دھندے سرعام چل رہے ہیں۔یقینآ یہ ایک المیہ ہی ہے کہ
سب سے بڑے ڈرگ فروش جن کا شمار نامی گرامی اور بدنام زمانہ منشیات فروشوں میں ہوتے ہیں دو تین مہینوں سے
پولیس کے گرفت میں نہیں آئے کیوں؟
کیا یہ غفلت ہے یا لاپرواہی؟
ماہانہ بھتہ یا کچھ اور؟
منشیات فروشی کے مستخکم اڈوں کے ساتھ ساتھ
علاقہ بھر میں
چور چکاری کی وارداتیں عام جبکہ کارکردگی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں؟
رشکئی جہاں ایک طرف نوجوان نسل موت کے سوداگروں کے رحم وکرم پر ہے
دوسرے طرف درجن بھر قماربازی کے منظم آڈے اور حصوصآ میدانوں کھیتوں یا قبرستانوں میں قمار بازی کی سجتی ہوئی مخفلیں اس سچائی کی نشاندہی کے لئے کافی ہے کہ امن و امان کی فراہمی میں مقامی پولیس ناکام جبکہ
عوام عدم تخفظ کا شکار اور سب سے
بڑھ کر جرائم پیشہ بے خوف و حطر
قوم کے محافظ پولیس ہے جن کا فرض اولین عوام کو تخفظ کا نہ صرف احساس دلانا بلکہ
نوجوان نسل اور سکول و کالج کے طلباء کو موت کے سوداگروں سے بچانا کا ہے لیکن رسالپور پولیس کے حدود میں تو سب الٹا چل رہا ہے یہاں پر سب سیدھا کرنا ڈی پی او نوشہرہ
ڈی آئی جی مردان
اور آئی جی کے پی کے پولیس کا فرض ہے
علاقوں میں رونما ہونے والے وارداتوں سے کچھ کی تفصییل تاکہ منظر اور پس منظر دونوں واضح ہو واقعات شاہد ہے کہ
رسالپور پولیس کے حدود میں چور چکاری رہزنی اور سنیچینگ کی وارداتوں کا سلسلہ
تھانہ رسالپور کے حدود رشکئی کلنجر روڈ نزد بائی پاس کے قریب چوری کی ایک واردات گھر کے سامنے سے ستر سی سی موٹر سائیکل نا معلوم چور لے اڑے.
گزشتہ روز رشکئی
خان محمد بابا کورونہ نامعلوم چور فدا نامی شحص کے گھر سے واشینگ مشین ڈائر اور ہاتھ گاذی چوری کر گئے ۔
اسی محلہ سے شاہ نواز خان نامی شحص کے گھر اور زاہد کے گھر سے گزشتہ دنوں چوری ہوئی علاقہ میں پولیس گشت نہ ہونے کہ وجہ سے سٹریٹ کرآئم کا لگاتار سلسلہ جاری ہے
نامعلوم چوروں نے گزشتہ روز خانہ بدوش چرواہے کی ریوڑ سے جانور چوری کر گئے.
زنڈو کلپانی پل پر چار مسلح موٹر سائکل سوار رہزنوں نے محمد وقاص نامی نوجوان کو اسلحہ کی نوک پر ہزاروں روپے کی نقدی اور قیمتی موبائل فون لوث کر فرار..
تھانہ رسالپور پولیس کے حدود رشکئی بازار میں خریداری کے لئے سائیکل پر آنے والے قاری عرفان کا سائیکل چوری.
تھانہ زسالپور پولیس کے حدود میں قوم کے محافظ پھی غیر مخفوظ نامعلوم چوروں نے کوتر پان کے رہائشی پولیس اہکار کے گھر پر جھاڑو پھیر دی اسلحہ سمیت نقدی اور لاکھوں کا سونا چوری۔
رسالپور پولیس کے حدود رشکئی
ایک اور واردات۔نامعلوم مسلح سینچروں نے
ساجد نامی شخص سے
i phon17 pro
دو قیمتی موباٸل
جن کی قیمت لاکھوں روپے بتائی جا رہی ہے لوٹ کر فرار
گزشتہ روز رشکئی میں تین خواتین پر مشتمل ایک منظم گروہ نےسمیع رحمان کے گھر کو اس وقت نشانہ بنایا جب اہلخانہ علاج کی غرض سے ڈاکٹر کے پاس گئے ہوئے تھے اور گھر کو تالہ لگا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق ملزمان نے گھر کے مین گیٹ کا تالہ توڑ کر اندر داخل ہوکر قیمتی سامان کی تلاش شروع کردی اور اس دوران تقریباً 2 تولے طلائی زیورات اور 60 ہزار روپے نقدی چرا لی۔
اسی دوران گھر کا مالک اچانک واپس پہنچ گیا۔ گھر کا ٹوٹا ہوا تالہ دیکھ کر جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا تو مبینہ طور پر تینوں خواتین نے اس پر حملہ کردیا۔ مزاحمت کے دوران سمیع الرحمن نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک خاتون کو موقع پر پکڑ لیا جبکہ دو ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔گرفتار خاتون کو فوری طور پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا، واقعے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب متاثرہ شہری نے ڈی ایس پی سرکل رسالپور پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مبینہ طور پر خواتین ڈکیت گروہ کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔متاثرہ شخص سمیع اللہ کا مزید کہنا ہے کہ رسالپور پولیس نے انصاف فراہم کرنے کے بجائے الٹا اس پر تشدد کیا، جس سے وہ شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہوا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔سمیع اللہ نے آئی جی پی خیبرپختونخوا اور ڈی آئی جی مردان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔علاقہ مکینوں نے بھی واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شہری ہی غیر محفوظ ہوں اور انصاف کے طلبگاروں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عوام کا اعتماد مجروح ہوگا۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ چوری کی بڑھتی وارداتوں اور پولیس کے مبینہ ناروا سلوک کا فوری تدارک کیا جائے۔اگر دیکھا جائے تو بادی النظر میں
عوام خوف وہراس میں مبتلا جبکہ رسالپور پولیس سٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی
پولیس کی غفلت و لاپرواہی کا نتیجہ عوام چور چکاروں ،رہزنوں اور موت کے سوداگروں کے رحم وکرم پر
جن واقعات کا یہا ذکر ہوا یہ واقعات آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اگر تمام واقعات سے قارئن کو اگاہ رکھنا مقصود ہوں تو تحریر بڑھتی ہی جائیگی ۔
اگر اکوڑہ سرکل کی بات ہو تو اس وقت
اکوڑہ سرکل سٹریٹ کرائم کے لحاظ پر دوسرے نمبر پر
نظام پور پولیس جو اکوڑہ پولیس سرکل کا علاقہ ہے میں سونے کی چمک نے یقینآ کچھ پولیس اہلکاروں کو اندھا کر رکھا ہے
انکشافات ہوئے نامزدگیاں ہوئی مرتکب جرم قرار ہوئے
نوشہرہ میں سونا نکالنے کا غیر قانونی کاروبار جاری، ملبے تلے مزدور جاں بحق، پولیس پر مبینہ بھتہ خوری کے الزامات۔
خیبر پختونخوا کے اہم ضلع نوشہرہ میں دریاؤں سے بھاری مشینری کے ذریعے سونا نکالنے کا کام تیزی سے جاری ہے، جہاں ایک افسوسناک حادثے میں ایک مزدور جاں بحق جبکہ دیگر کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق اکوڑہ خٹک سرکل کے علاقے نظام پور میں ایکسیویٹر کے ذریعے دریائی ریت سے سونا نکالنے کے دوران اچانک مٹی کا تودہ گر گیا، جس کے نتیجے میں کئی مزدور دب گئے۔ حادثے میں ظہور ولد شیر افضل جاں بحق ہوگیا جس کی لاش فوری طور پر نکال لی گئی جبکہ دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔
واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد مقامی افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس بلا جواز انہیں ہراساں کر رہی ہے اور مبینہ طور پر غیر قانونی رقوم کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے، جس سے علاقے میں اشتعال پایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے دریاؤں سے اس قسم کی کان کنی پر پابندی عائد ہے، اس کے باوجود مذکورہ علاقے میں ہیوی مشینری کے ذریعے یہ کام جاری ہے، جس پر پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
دوسری جانب مقامی مشران کا کہنا ہے کہ یہ ان کی ذاتی (بدری) زمین ہے اور اس پر کام کرنے سے روکنا ناانصافی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جہانگیرہ، اکوڑہ خٹک اور نظام پور میں مبینہ کرپشن اور لوٹ مار کے الزامات پر بعض سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں کی جا چکی ہیں، تاہم حالیہ صورتحال نے ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
گزشتہ روز دروازگئی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا، جہاں پولیس اور مقامی افراد کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔ تینوں اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج اس واقعے کے بعد لواحقین اور علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
احتجاجاً علاقہ کے لوگوں نے 13 گھنٹوں سے مسلسل سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل بند کر رکھا ہے اور انصاف کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
عوام کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اپنے فرائض دیانتداری سے انجام دے تو ایسے واقعات سے بچا جا سکتا ہے، لیکن بدانتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال نے حالات کو یہاں تک پہنچا دیا ہے۔
حکام بالا سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری نوٹس لیں، پولیس نظام میں اصلاحات کریں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے سٹریٹ کرائم
پر پبی سرکل تیسرے نمبر پر
جبکہ اچھی کارکردگی پر تھانہ مصری بانڈہ سب سے آگے نوشہرہ کینٹ دوسرے نمبر پر تیسرے نمبر پر جلوزئی پولیس کی
اس امر سے انکار نہیں کیا کا سکتا کہ رسالپور پولیس کے موجودہ تعینات عملہ کہ غفلت ولاپرواہی کا نیجہ براہ راست عوام کق بھگتنا پڑھ رہا ہیں جو نہ صرف قابل افسوس بلکہ یہ وہ سیاح دور ہے جو تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ گیا ہے۔