24/09/2026
تنظیمی حق تلفی کے خلاف دو ٹوک مؤقف وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کے نام پیغام
پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع نوشہرہ کی تنظیم وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ صاحب کے حالیہ دورۂ خیبر پختونخوا کے دوران صوبائی اور ضلعی تنظیموں کو مسلسل نظر انداز کیے جانے پر اپنا دوٹوک اور واضح مؤقف پیش کرتی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ صاحب گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں متعدد پروگراموں میں شریک ہوئے، مگر ان پروگراموں میں مسلم لیگ (ن) کی آئینی صوبائی و ضلعی تنظیموں اور باقاعدہ تنظیمی عہدیداران کی مؤثر نمائندگی نظر نہ آنا ایک سنجیدہ تنظیمی سوال ہے۔
ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر مسلم لیگ (ن) میں باقاعدہ صوبائی اور ضلعی تنظیمیں موجود ہیں تو انہیں بائی پاس کرکے پروگرام منعقد کرنے کا اختیار آخر کس اصول اور کس تنظیمی ضابطے کے تحت استعمال کیا جا رہا ہے؟
اسی طرح سوشل میڈیا کے ان کارکنان کو مسلسل نظر انداز کرنا بھی قابلِ تشویش ہے جو دن رات مسلم لیگ (ن)، قائد میاں نواز شریف اور پارٹی کے بیانیے کے دفاع میں سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ صوبائی سوشل میڈیا ہیڈ میاں عالمگیر شاہ، یوتھ میڈیا ٹیم کی صدر افشاں حسین اور ان کی تنظیمی ٹیموں کو اعتماد میں لیے بغیر سوشل میڈیا سے متعلق فیصلے کرنا حقیقی کارکنان کے ساتھ ناانصافی ہے۔
سرٹیفکیٹس کی تقسیم کے معاملے میں بھی کارکنان کے واضح تحفظات ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پارٹی کے لیے حقیقی خدمات انجام دینے والوں کا ریکارڈ سامنے رکھا جائے اور سرٹیفکیٹس یا کسی بھی اعزاز کے لیے واضح، شفاف اور تنظیمی معیار مقرر کیا جائے۔ محض ذاتی سفارش، تعلق یا مخصوص افراد کی تشہیر کو بنیاد بنا کر حقیقی کارکنان کو نظر انداز کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے کارکنان خاموش ضرور رہ سکتے ہیں، مگر بے آواز اور بے اختیار نہیں ہیں۔ کارکنان نے مشکل حالات میں پارٹی کے لیے کام کیا ہے، مخالفین کے دباؤ کا سامنا کیا ہے اور سوشل میڈیا پر پارٹی کا دفاع کیا ہے۔ ان کارکنان کو نظر انداز کرکے چند مخصوص افراد کو تنظیم کے اوپر ترجیح دینا تنظیمی کارکنان کے حوصلے کو متاثر کرتا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ صاحب!
آپ وفاقی وزیر ہیں، مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما ہیں اور خیبر پختونخوا میں پارٹی کے کارکنان آپ کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن احترام کا تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ پارٹی کی آئینی تنظیم کا احترام کریں۔
ہم پختون روایات کے مطابق مہمان کا احترام کرنا جانتے ہیں۔ آپ کے حالیہ دورے کے دوران بھی کارکنان نے اسی روایت کو ملحوظِ خاطر رکھا، لیکن اس خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
ہم واضح الفاظ میں کہنا چاہتے ہیں:
تنظیم کو بائی پاس کرکے تنظیمی سرگرمیاں چلانا، منتخب و آئینی عہدیداران کو نظر انداز کرنا اور مخصوص افراد کو فوقیت دینا کسی صورت تنظیم کو مضبوط نہیں کرتا۔
ہم عطاء اللہ تارڑ صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کا کوئی بھی پروگرام صوبائی اور متعلقہ ضلعی تنظیم کو اعتماد میں لیے بغیر منعقد نہ کیا جائے۔
اگر تنظیمی حق تلفی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو کارکنان اپنے آئینی، جمہوری اور پُرامن احتجاج کے حق کو استعمال کریں گے اور اپنے تحفظات بھرپور انداز میں ریکارڈ کرائیں گے۔
ہم کسی تصادم کے خواہاں نہیں، لیکن تنظیم کی عزت، کارکنان کے حقوق اور پارٹی کے آئینی نظم پر سمجھوتہ بھی نہیں کریں گے۔
عطاء اللہ تارڑ صاحب، خیبر پختونخوا میں ضرور آئیں، کارکنان سے ملیں، پارٹی کو مضبوط کریں اور اپنی وزارت کے ذریعے صوبے کی خدمت کریں، لیکن تنظیم کو نظر انداز کرکے نہیں بلکہ تنظیم کو ساتھ لے کر۔
ہمارا ایک ہی واضح نعرہ ہے:
“تنظیم کو عزت دو — کارکنان کو ان کا حق دو”
منجانب:
مشیت الرحمان
جنرل سیکرٹری
پاکستان مسلم لیگ (ن)، ضلع نوشہرہ