24/08/2026
اسلامیہ کالج پشاور کی مکمل تاریخ
1۔ یہ ادارہ بنانے کا خیال کیوں آیا؟
1901ء میں جب موجودہ خیبر پختونخوا اُس وقت North-West Frontier Province (NWFP) کے نام سے پنجاب سے الگ صوبہ بنا، تو پورے صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بہت کم تھے۔ پشاور میں ایڈورڈز کالج موجود تھا، مگر مسلمانوں کے لیے ایسا ادارہ نہیں تھا جو جدید مغربی تعلیم کے ساتھ اسلامی تہذیب و اقدار کو بھی سامنے رکھے۔
اسی ماحول میں سر صاحبزادہ عبد القیوم خان اور اس وقت کے صوبے کے چیف کمشنر سر جارج روس کیپل (Sir George Roos-Keppel) کے ذہن میں ایک بڑے تعلیمی ادارے کا تصور پیدا ہوا۔ 1909ء میں دونوں نے علی گڑھ کا دورہ کیا، جس سے اس منصوبے کو مزید تقویت ملی۔ �
ICP Educational Institute +1
یعنی یہ صرف ایک کالج بنانے کا خیال نہیں تھا؛ بنیادی مقصد یہ تھا کہ صوبہ سرحد کے مسلمان نوجوانوں کو اپنے علاقے میں اعلیٰ تعلیم کا ایسا مرکز ملے جو انہیں جدید تعلیم، کردار اور قیادت کے لیے تیار کرے۔
2۔ سب سے بڑا کردار کس کا تھا؟
سر صاحبزادہ عبد القیوم خان
اسلامیہ کالج کی بنیاد اور تحریک کا سب سے نمایاں نام سر صاحبزادہ عبد القیوم خان کا ہے۔ خود اسلامیہ کالج کی سرکاری تاریخ بھی انہیں بنیادی بانی قرار دیتی ہے اور انہیں ’’سر سید آف دی فرنٹیئر‘‘ کہا جاتا ہے۔ �
ICP Educational Institute
انہوں نے:
کالج کا تصور پیش کیا۔
لوگوں کو چندہ دینے کے لیے متحرک کیا۔
قبائلی عمائدین، خوانین اور اہلِ علاقہ سے رابطے کیے۔
زمین کے حصول میں کردار ادا کیا۔
حکومت سے تعاون حاصل کیا۔
مختلف علاقوں سے عطیات جمع کیے۔
تعلیمی ادارے کے انتظام اور قیام کے لیے عملی جدوجہد کی۔
12 اپریل 1911ء کو پشاور میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں صاحبزادہ عبد القیوم، غلام حیدر خان آف ٹانگی، حبیب اللہ خان، خوشحال خان، سیٹھی کریم بخش اور دوسرے نمایاں افراد شریک ہوئے۔ اسی سلسلے میں باقاعدہ چندہ مہم آگے بڑھی۔ �
Wikipedia +1
3۔ سر جارج روس کیپل کا کیا کردار تھا؟
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ روس کیپل صرف ایک سرکاری افسر تھے اور ان کا کوئی عملی کردار نہیں تھا۔
Sir George Roos-Keppel اس وقت صوبہ سرحد کے چیف کمشنر تھے۔ انہوں نے منصوبے کو سرکاری سطح پر سہولت فراہم کی اور صاحبزادہ عبد القیوم کے ساتھ مل کر جگہ کے انتخاب اور ادارے کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
1909ء میں علی گڑھ کے دورے کے بعد دونوں کا تعلیمی ادارے کا تصور مزید مضبوط ہوا۔ �
Dawn
لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ روس کیپل کے مقاصد میں برطانوی حکومت کے اپنے سیاسی اور انتظامی مفادات بھی شامل تھے۔ اس لیے اسلامیہ کالج کی تاریخ کو صرف ایک طرفہ ’’برطانوی سرپرستی‘‘ یا صرف ’’مسلم تحریک‘‘ کہنا مکمل تصویر نہیں دیتا۔
4۔ چندہ کہاں سے آیا؟
یہ منصوبہ صرف حکومت کے پیسے سے نہیں بنا تھا۔ مقامی مسلمانوں، خوانین، نوابوں اور دیگر مخیر حضرات نے بڑی رقمیں دیں۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق:
عبدالکریم خان نے 10,000 روپے دیے۔
سیٹھی کریم بخش نے 50,000 روپے دیے۔
نوابِ دیر نے 100,000 روپے دینے کا وعدہ کیا۔
ہشت نگر کے مختلف علاقوں سے بھی بڑی رقوم جمع ہوئیں۔
بعض تاریخی حوالوں کے مطابق ہشت نگر سے تقریباً 1,50,000 روپے جمع ہوئے۔
زمین کی خریداری میں بھی بڑی رقم استعمال ہوئی۔
نظامِ حیدرآباد کی طرف سے زمین کے لیے تقریباً 1,50,000 روپے کا عطیہ/مدد درج ہے۔
نوابِ امب کی طرف سے تعمیر کے لیے 1,00,000 روپے کی رقم دی گئی۔ �
Associated Press of Pakistan +1
یہی وجہ ہے کہ اسلامیہ کالج کو شروع ہی سے عوامی عطیات اور اوقاف/املاک کے تصور پر قائم ادارہ بھی کہا جاتا ہے۔
5۔ زمین کہاں سے ملی؟
کالج کے لیے زمین کے انتخاب میں بھی صاحبزادہ عبد القیوم اور روس کیپل کا کردار تھا۔
ابتدا میں وزیر باغ پر کالج بنانے کی تجویز سامنے آئی، لیکن روس کیپل نے اسے مسترد کر دیا کیونکہ وہ وزیر باغ کو تفریحی مقام کے طور پر محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔
بعد میں موجودہ مقام کا انتخاب کیا گیا، جو اُس وقت تہکال اور سفید ڈھیری کے علاقے میں خلیل قبیلے/اربابوں کی ملکیت تھا۔
تقریباً 916 کنال 17 مرلے زمین کے بارے میں تاریخی ریکارڈ موجود ہے، جبکہ مختلف بعد کے حوالوں میں کالج کی مجموعی زمین کو تقریباً 300 ایکڑ کے قریب بھی بیان کیا گیا ہے۔ �
Associated Press of Pakistan +1
6۔ بنیاد کا پتھر کس نے رکھا؟
یہ اسلامیہ کالج کی تاریخ کا انتہائی دلچسپ واقعہ ہے۔
بنیاد رکھنے کے لیے حاجی صاحب ترنگزئی کو مدعو کیا گیا۔
مسئلہ یہ تھا کہ حاجی صاحب برطانوی حکومت کی نظر میں مطلوب شخص تھے اور برطانوی علاقے میں ان کا داخلہ ممنوع تھا۔
صاحبزادہ عبد القیوم نے روس کیپل سے خصوصی اجازت حاصل کی کہ حاجی صاحب صرف بنیاد رکھنے کی تقریب کے لیے برطانوی علاقے میں آ سکیں۔
برطانوی اجازت کے بعد حاجی صاحب ترنگزئی آئے اور اسلامیہ کالج/دارالعلوم کی بنیاد کی تقریب میں بنیاد کا پتھر رکھا۔ اس کے بعد وہ واپس قبائلی علاقے کی طرف چلے گئے۔ �
Wikipedia +1
یہ واقعہ اس ادارے کی تاریخ میں مذہبی، قومی اور سیاسی پہلوؤں کی خوبصورت مثال ہے۔
7۔ مسجد پہلے کیوں بنائی گئی؟
مسلمانوں کی خواہش تھی کہ نئے کیمپس میں سب سے پہلے مسجد بنے۔
مسجد کی بنیاد 21 مارچ 1912ء کو رکھی گئی۔ اس موقع پر حاجی صاحب ترنگزئی اور علاقے کے دیگر مذہبی رہنما موجود تھے۔ �
Scribd
اس سے واضح ہوتا ہے کہ ادارے کا تصور صرف مغربی طرز کا کالج بنانے تک محدود نہیں تھا بلکہ اسے اسلامی ماحول کے ساتھ قائم کرنا بھی بنیادی مقصد تھا۔
8۔ اصل کالج کی تعمیر کب شروع ہوئی؟
کالج اور اسکول کی عمارتوں کی تعمیر 1912ء میں شروع ہوئی۔
تعمیر حیرت انگیز رفتار سے آگے بڑھی اور 1913ء میں مرکزی عمارت، اسکول اور ابتدائی ہاسٹلز تیار ہو گئے۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق تعمیراتی کام اکتوبر 1912ء میں شروع ہوا تھا۔ �
Pahar +1
9۔ کالج باقاعدہ کب شروع ہوا؟
اسلامیہ کالج نے اپنی تعلیمی سرگرمیاں 1 اکتوبر 1913ء کو شروع کیں۔ �
ICP Educational Institute
اس سے پہلے اسلامیہ کالجیٹ اسکول نے مارچ 1913ء میں کام شروع کر دیا تھا۔
ابتدائی طور پر اسکول میں تقریباً 25 طلبہ تھے، جو پہلی چھٹیوں کے بعد تقریباً 200 تک پہنچ گئے۔ �
ICP Educational Institute
یعنی پہلے اسکول کو بنیاد بنایا گیا، پھر کالج کو اس کے اوپر اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر آگے بڑھایا گیا۔
10۔ عمارت کا نقشہ کس نے بنایا؟
یہاں ایک اہم تاریخی اختلاف ہے جسے اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔
مضبوط تاریخی ریکارڈ کے مطابق
برطانوی دور کی ایک تفصیلی تاریخی تحقیق میں لکھا ہے کہ اسلامیہ کالج کے مقام، پلاننگ اور عمارت کے ڈیزائن کا کام:
Colonel W. J. D. Dundee
جو Public Works Department کے سیکریٹری تھے،
اور
Lieutenant Colonel G. P. Campbell
جو Peshawar کے Assistant Commanding Royal Engineer تھے،
نے کیا تھا۔
دونوں Military Engineering Service سے وابستہ تھے اور تعمیراتی کام کی نگرانی بھی کرتے رہے۔ بعد میں پہلی جنگِ عظیم کے باعث ان کی مصروفیات بڑھیں تو تعمیراتی نگرانی کا کچھ کام R. Sheridan وغیرہ کو منتقل ہوا۔ �
Scribd +1
لیکن دوسری روایت بھی موجود ہے
کئی معماری اور تاریخی حوالوں میں اسلامیہ کالج کے ڈیزائن کو معروف ہندوستانی معمار بھائی رام سنگھ (Bhai Ram Singh) سے منسوب کیا جاتا ہے۔
مثلاً ایک ماخذ اسے بھائی رام سنگھ کا معروف ڈیزائن قرار دیتا ہے، جبکہ 2019ء میں ماہرینِ تعمیرات سے متعلق ایک خبر میں بھی کہا گیا کہ ماہرین کا خیال ہے کہ تاریخی عمارت بھائی رام سنگھ نے ڈیزائن کی تھی۔ �
SikhNet +1
اس لیے محتاط تاریخی نتیجہ
یہ بات قطعی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ صرف ایک ہی شخص نے پورا نقشہ بنایا تھا۔
دستیاب شواہد میں:
Dundee اور Campbell کو منصوبہ بندی، سائٹ اور ڈیزائن سے براہِ راست جوڑا گیا ہے۔
Bhai Ram Singh کو عمارت کے architectural design سے منسوب کرنے کی ایک مضبوط دوسری روایت موجود ہے۔
لہٰذا اگر آپ اس موضوع پر مضمون یا ویڈیو بنائیں تو بہتر جملہ یہ ہوگا:
’’اسلامیہ کالج کی عمارت کے اصل معمار کے بارے میں تاریخی ماخذوں میں اختلاف ہے؛ بعض معتبر تاریخی ریکارڈ Colonel W.J.D. Dundee اور Lt. Colonel G.P. Campbell کو پلاننگ و ڈیزائن سے منسوب کرتے ہیں، جبکہ معماری کی متعدد روایات اسے معروف معمار بھائی رام سنگھ کا ڈیزائن قرار دیتی ہیں۔‘‘
11۔ عمارت کا ڈیزائن کیسا تھا؟
عمارت میں مغل، ہند-اسلامی اور برطانوی/کالونیئل طرزِ تعمیر کا امتزاج ہے۔
اس میں:
سرخ پکی اینٹیں
گنبد
چھتریاں/کپولے
محرابیں
مرکزی گھڑی والا ٹاور
ستون
کشادہ برآمدے
جالی دار/آرائشی کام
متناسب اور symmetrical پلان
نمایاں ہیں۔
تحقیقی مقالے کے مطابق اسے Mughal اور Curzonian architecture کا امتزاج بھی قرار دیا گیا ہے۔ �
Peshawar Open Journal System
Lok Virsa کے معماری ماخذ میں اسے Anglo-Mughal style قرار دیا گیا ہے اور Roos-Keppel Hall، کلاس رومز، دفاتر، برآمدوں اور مرکزی clock tower کا ذکر ہے۔ �
Lok Virsa
12۔ Roos-Keppel Hall کیا ہے؟
مرکزی عمارت کا بڑا تاریخی ہال Roos-Keppel Hall کہلاتا ہے۔
یہ نام سر جارج روس کیپل کے حوالے سے ہے۔
یہ عمارت کے مرکزی architectural composition کا اہم حصہ ہے اور آج بھی اسلامیہ کالج کی تاریخی شناخت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ �
Peshawar Open Journal System +1
13۔ کالج کی ابتدائی تعلیم کس انداز کی تھی؟
اسلامیہ کالج کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ:
جدید تعلیم + اسلامی اقدار + کردار سازی + قومی شعور
ایک ساتھ چلیں۔
اسی لیے اسے صرف دینی مدرسہ نہیں بنایا گیا تھا اور نہ ہی صرف مغربی طرز کا کالج۔
اسلامیہ کالج خود اپنی تاریخ میں اسے Aligarh Movement اور اسلامی تعلیمی روایت کے امتزاج سے پیدا ہونے والا ادارہ قرار دیتا ہے۔ �
ICP Educational Institute
14۔ یونیورسٹی آف پشاور سے تعلق
اسلامیہ کالج آگے چل کر صوبے کا ایک بڑا علمی مرکز بن گیا۔
1950ء میں University of Peshawar قائم ہوئی اور اسلامیہ کالج اس کے اہم constituent colleges میں شامل رہا۔ �
Wikipedia
بعد کے عشروں میں یہاں اعلیٰ تعلیم کے شعبے مسلسل بڑھتے گئے۔
15۔ کمپیوٹر سائنس کب آئی؟
اسلامیہ کالج میں Department of Computer Science 1987ء میں قائم ہوا، جب ادارہ University of Peshawar کا constituent college تھا۔
ابتدا میں BSc Computer Science شروع ہوا، پھر 2000ء میں BCS پروگرام شروع ہوا۔
2008ء میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی بننے کے بعد BCS اور BS Computer Science کے نئے پروگرام بھی شروع ہوئے۔ آج کمپیوٹر سائنس میں BS Computer Science، BS Software Engineering، BS Artificial Intelligence، MS/MPhil اور PhD سمیت متعدد پروگرام موجود ہیں۔ �
ICP Educational Institute
16۔ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کب بنا؟
یہ اس کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا مرحلہ ہے۔
2008ء میں صوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے ذریعے اسلامیہ کالج کو مکمل یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ �
ICP Educational Institute +1
اس کے بعد ادارے نے کالج سے یونیورسٹی کی طرف بڑی توسیع کی:
نئے شعبے
BS پروگرام
MS/MPhil
PhD
Law
Computer Science
جدید سائنسی شعبے
تحقیق
نئی لیبارٹریاں
نئے academic اور residential blocks
وغیرہ میں اضافہ ہوا۔
مثلاً Department of Shariah & Law بھی 2008ء میں یونیورسٹی بننے کے بعد قائم ہوا اور اسے KP کا ابتدائی پانچ سالہ LLB پروگرام شروع کرنے والے اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ �
ICP Educational Institute
17۔ 100 سال پورے ہونے پر کیا ہوا؟
2013ء میں اسلامیہ کالج نے اپنی صد سالہ (Centenary) تقریبات منائیں۔
تقریبات کا باقاعدہ آغاز 29 اپریل 2013ء کو گورنر ہاؤس پشاور میں ہوا۔
سال بھر:
علمی پروگرام
تحقیقی سرگرمیاں
ادبی تقریبات
کھیل
Alumni reunions
اساتذہ کے پروگرام
بانیان کو خراجِ تحسین
مختلف تقریبات
منعقد ہوئیں۔ �
ICP Educational Institute
18۔ قائداعظم کا اسلامیہ کالج سے تعلق
قائداعظم محمد علی جناح نے اسلامیہ کالج پشاور کے دورے کیے:
1936ء
1945ء
1948ء
کالج کی سرکاری تاریخ کے مطابق 1936ء میں انہیں Khyber Union کی lifetime honorary membership بھی دی گئی۔
بعد میں قائداعظم نے 1939ء میں اپنی وصیت میں اسلامیہ کالج/دارالعلوم کو اپنی جائیداد کے وارثوں میں شامل کیا۔ قائداعظم ٹرسٹ کی طرف سے بعد میں کالج کو مختلف اقساط میں رقم بھی ادا کی گئی۔ �
ICP Educational Institute +1
یہ اسلامیہ کالج کی تاریخ کا بہت اہم باب ہے۔
19۔ کالج نے کتنی ترقی کی؟
آج یہ صرف 1913ء والا پرانا کالج نہیں رہا بلکہ ایک مکمل یونیورسٹی بن چکا ہے۔
اس کی ترقی کو چار بڑے ادوار میں سمجھا جا سکتا ہے:
پہلا دور — 1913ء تا قیامِ پاکستان
بنیاد، کالج، اسکول، ہاسٹلز، اسلامی و جدید تعلیم کا نظام۔
دوسرا دور — 1947ء تا 1950ء
پاکستان کے قیام کے بعد ادارے کا کردار تبدیل ہوا اور اعلیٰ تعلیم کے نئے ڈھانچے کی طرف پیش رفت ہوئی۔
تیسرا دور — 1950ء تا 2008ء
University of Peshawar سے وابستگی کے دوران نئے مضامین، سائنس، سوشل سائنسز اور دیگر شعبے بڑھتے گئے۔
چوتھا دور — 2008ء تا آج
Islamia College University کے طور پر:
متعدد faculties
BS پروگرامز
MS/MPhil
PhD
Law
Computer Science
Artificial Intelligence
Software Engineering
جدید research laboratories
نئے academic/residential projects
وغیرہ میں توسیع ہوئی۔ کالج کی اپنی معلومات کے مطابق 2019ء تک یہ 22 سے زیادہ departments اور پانچ faculties میں تعلیم دے رہا تھا، جبکہ بعد کے سالوں میں پروگرامز مزید بڑھے ہیں۔ �
ICP Educational Institute +1
20۔ سب سے اہم بات: اسلامیہ کالج دراصل کن لوگوں کی مشترکہ کوشش تھا؟
اگر پوری تاریخ کو ایک جملے میں سمیٹیں تو یہ صرف ایک شخص کی بنائی ہوئی عمارت نہیں تھی۔
اس میں مختلف لوگوں کا الگ الگ کردار تھا:
شخصیت/گروہ
بنیادی کردار
سر صاحبزادہ عبد القیوم خان
بنیادی بانی، تصور، چندہ، انتظام اور تحریک
سر جارج روس کیپل
سرکاری تعاون، مقام کے انتخاب اور ادارے کے قیام میں اہم کردار
حاجی صاحب ترنگزئی
بنیاد کی مذہبی/علامتی تقریب
مقامی خوانین و عمائدین
چندہ اور زمین/وسائل میں تعاون
نظامِ حیدرآباد
مالی تعاون
نوابِ امب
تعمیر کے لیے بڑا مالی عطیہ
عبدالکریم خان، سیٹھی کریم بخش، نوابِ دیر وغیرہ
اہم مالی عطیات
Colonel W.J.D. Dundee
تاریخی ریکارڈ کے مطابق سائٹ/پلاننگ/ڈیزائن میں کردار
Lt. Colonel G.P. Campbell
پلاننگ، ڈیزائن اور تعمیراتی نگرانی
Bhai Ram Singh
متعدد معماری روایات میں عمارت کے ڈیزائن سے منسوب
بعد کے اساتذہ، منتظمین اور طلبہ
ادارے کو علمی مرکز بنانے میں مسلسل کردار
ایک بہت اہم تاریخی نکتہ
اسلامیہ کالج کو صرف ’’انگریزوں نے بنایا‘‘ کہنا غلط اور نامکمل ہے، اور یہ کہنا کہ ’’اس میں انگریز حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا‘‘ بھی غلط ہے۔
حقیقت زیادہ دلچسپ ہے:
تصور اور مسلم تعلیمی تحریک → صاحبزادہ عبد القیوم اور مقامی مسلم قیادت
سرکاری سرپرستی/انتظامی تعاون → روس کیپل اور برطانوی انتظامیہ
مالی بنیاد → مقامی مسلمانوں، خوانین، نوابوں اور مخیر حضرات کے عطیات
تعمیر و انجینئرنگ → برطانوی دور کا Public Works/Military Engineering نظام
فنِ تعمیر → مغل/ہند اسلامی اور برطانوی طرز کا امتزاج
اسی امتزاج نے اسلامیہ کالج کو وہ تاریخی شکل دی جو آج نظر آتی ہے۔ �