25/08/2026
سزا نہیں اصلاح: ایس ایچ او کاشف خان کا انقلابی اقدام
(شبیر درانی)
کسی بھی مہذب معاشرے میں امن و امان قائم کرنے اور جرائم کے سدِباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، ہمارے ملک میں رائج روایتی نظامِ انصاف اور تھانہ کلچر کا پورا زور صرف "سزا" دینے پر رہا ہے، جبکہ جرم کی جڑ کو ختم کرنے یعنی "اصلاح" کے پہلو کو یکسر پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ ہم نے دہائیوں سے جیلوں کو مجرموں سے بھرنے کی پالیسی تو اپنائے رکھی، مگر یہ بھول گئے کہ محض ہتھکڑی اور اندھیری کوٹھڑی کسی انسان کی سوچ کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ اس فرسودہ اور ناکام مائنڈ سیٹ کے برعکس، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نوشہرہ سونیا شمروز خان کی خصوصی سرپرستی میں، تھانہ رسالپور کے ایس ایچ او، سب انسپکٹر کاشف خان نے ایک ایسا انقلابی اور تاریخی معرکہ سر انجام دیا ہے جو پاکستان کی جدید پولیسنگ کی تاریخ میں ایک سنہرا باب بن سکتا ہے۔
ایس ایچ او رسالپور کاشف خان نے روایتی تھانہ دار کی روایتی سوچ سے ہٹ کر، علاقے کے معزز مشران ، سماجی شخصیات اور سینئر صحافیوں اختر محمود، حیدر علی یوسفزئی اور محمد عتیق کے ہمراہ ایک ایسا مثالی جرگہ منعقد کیا، جس نے قانون کی اصل روح کو ازسرِ نو زندہ کر دیا ہے۔
اس معرکہ آرا جرگے کا سب سے تاریخی اور وژنری پہلو ایس ایچ او کاشف خان کا وہ جرات مندانہ اور مدلل مؤقف تھا، جس نے محکمہ پولیس کے روایتی مائنڈ سیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے انتہائی دیانتداری سے اس تلخ حقیقت کو اعلیٰ حکام کے سامنے رکھا کہ منشیات فروش جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ اسی کاروبار میں ملوث ہوجاتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف "سزا" اس ناسور کا مستقل حل نہیں ہے۔
کاشف خان نے ایک ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا سمیت پورا ملک آئس اور دیگر مہلک منشیات کی لپیٹ میں ہے، یہ انقلابی فلسفہ پیش کیا کہ: "منشیات کے عادی افراد مجرم نہیں، بلکہ بیمار ہیں؛ انہیں حوالات کی سختی دینے کے بجائے علاج اور نفسیاتی و طبی بحالی کے لیے ہسپتالوں میں داخل کرایا جانا چاہیے۔"
کاشف خان کا یہ وژن صرف ایک بیان نہیں، بلکہ ایک ایسا "کاؤنٹر نارکوٹکس اینڈ ری ہیبلیٹیشن ماڈل" ہے جس کی بازگشت آئی جی پی خیبر پختونخوا، ہوم ہاؤس اور پولیس کے تمام اعلیٰ افسران (احکامِ بالا) کے ایوانوں تک پہنچنی چاہیے۔ جرگے میں پولیس اور مشران کا مل کر منشیات کے عادی افراد کا ڈیٹا مرتب کرنے اور انہیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کا متفقہ فیصلہ ایک ایسا غیر معمولی اور شاہکار اقدام ہے، جس نے رسالپور تھانے کو صرف ایک قانونی ادارہ نہیں بلکہ ایک سماجی اصلاحی مرکز بنا دیا ہے۔
کاشف خان نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ ایک مخلص اور وژنری افسر اگر ٹھان لے، تو وہ اپنے محدود اختیارات کے باوجود پورے معاشرے کا قبلہ درست کر سکتا ہے۔
یہ تاریخی اقدام ملک کے دیگر تمام اضلاع کے ایس ایچ اوز اور پولیس افسران کے لیے ایک ایسی گائیڈ بک اور مشعلِ راہ ہے جس پر عمل کرنا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ ہر تھانے کے انچارج کو یہ سمجھنا ہوگا کہ قانون کا کام صرف لاٹھی چلانا، ایف آئی آر کاٹنا یا دہشت کی علامت بننا نہیں ہے۔ اگر دیگر ایس ایچ اوز بھی اپنے اپنے علاقوں میں روایتی چھاپہ مار کارروائیوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر, کاشف خان کی طرح کمیونٹی کو ساتھ ملا لیں، تو جرائم کی نرسریوں کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکتا ہے۔
جب منشیات کے شکار نوجوانوں کو مجرم کے بجائے مریض سمجھ کر ان کی اصلاح کی جائے گی، تو وہ معاشرے کے معزز اور کارآمد شہری بن کر ابھریں گے، جس سے جرائم کی سپلائی لائن خود بخود دم توڑ دے گی۔
محکمہ پولیس کے اعلیٰ ترین افسران کو چاہیے کہ وہ تھانہ رسالپور کے اس "کاشف خان ماڈل" کو سرکاری سطح پر تسلیم کریں، اسے دیگر اضلاع کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیں اور سب انسپکٹر کاشف خان کی اس غیر معمولی، بامقصد اور دوررس حکمتِ عملی کی بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔ انہوں نے سزا پر اصلاح کو فوقیت دے کر پولیسنگ کا جو انسانی اور جدید چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، وہی معاشرے کو منشیات سے پاک کرنے کا واحد اور حتمی راستہ ہے۔
اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کو بچانا ہے اور تھانہ کلچر کو حقیقی معنوں میں بدلنا ہے، تو ہمیں ہر تھانے میں ایک "کاشف خان" کی ضرورت ہے جو قانون کو سزا کا ہنٹیر بنانے کے بجائے اصلاح کا گلدستہ بنا سکے 💘✌👌۔
(