11/09/2026
ایک گولی، ایک سوال
یہ صرف ایک گولی نہیں، ایک سوال ہے۔
یہ وہی خاموش گولی ہے جس کے خلاف میں روزانہ سوشل میڈیا پر آواز بلند کرتا ہوں۔ پرسوں ایک گولی میرے گھر آ کر گری۔ شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر یہ گولیاں کہاں سے آتی ہیں اور کس کے نشانے پر جا کر رکتی ہیں؟
یقیناً یہ گولی راولپنڈی یا پشاور سے نہیں آئی، بلکہ ہمارے ہی آس پاس کسی مقام سے ہونے والی ہوائی فائرنگ کا نتیجہ ہے۔
ہوائی فائرنگ کرنے والے ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیں:
آج اگر ایک گولی میرے گھر کی چھت پر آ کر گری ہے تو ضروری نہیں کہ کل وہ کسی اور کے گھر نہ گرے۔ ایک بے مقصد فائر کی گئی گولی کسی ماں کا بیٹا، کسی بہن کا بھائی، کسی بچے کا باپ یا کسی گھر کا سہارا چھین سکتی ہے۔
خوشی کے چند لمحوں کو گولیوں کی آواز سے یادگار بنانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ ہوائی فائرنگ خوشی کا اظہار نہیں، کسی کی زندگی کے لیے خطرہ ہے۔
آئیں عہد کریں کہ نہ خود ہوائی فائرنگ کریں گے اور نہ کسی کو کرنے دیں گے۔
ہوائی فائرنگ سے نفرت کریں، کیونکہ زندگی انتہائی قیمتی ہے۔