14/06/2026
👈آپ نے ہمارے لیے کیا بنایا ہے؟
ایک بوڑھے باپ کو اس کی اولاد روز یہی طعنہ دیتی تھی
آپ نے ہمارے لیے کیا بنایا ہے؟
باپ خاموشی سے سنتا، دل پر پتھر رکھتا اور کچھ نہ کہتا۔
ہر صبح یہی سوال، یہی شکایت اور یہی ناشکری اس کے حصے میں آتی، مگر وہ صبر کا دامن نہ چھوڑتا۔
وقت گزرتا گیا، یہاں تک کہ اس کی زندگی کے آخری دن آ پہنچے۔
بسترِ مرگ پر لیٹے ہوئے اس نے اپنے بچوں کو ایک کاغذ تھمایا، جس پر لکھا تھا
اس گھر کے نیچے میری عمر بھر کی جمع پونجی دفن ہے۔
ایک بڑا خزانہ ہے، میرے بعد اسے نکال لینا۔
یہ پڑھتے ہی بچوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے بڑے اہتمام سے باپ کو دفن کیا اور اگلے ہی دن خزانے کی تلاش میں پورے گھر کو گرا دیا۔
دیواریں، چھت، آنگن، سب ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
گھنٹوں کی کھدائی کے بعد انہیں ایک چھوٹا سا صندوق ملا۔
بے چینی سے اسے کھولا تو اندر صرف ایک پرچی تھی، جس پر لکھا تھا
اگر تم واقعی اتنے ہی قابل ہو تو پہلے اس گھر کو دوبارہ بنا کر دکھاؤ، جسے میں نے اپنی جوانی، محنت، پسینے اور قربانیوں سے تعمیر کیا تھا۔
تمہارے سوال کا جواب خود مل جائے گا کہ میں نے تمہارے لیے کیا بنایا ہے۔
بچے خاموش کھڑے تھے۔
اب نہ خزانہ تھا، نہ گھر، نہ وہ باپ جس کی قدر کر لیتے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج بہت سے نوجوان یہ سوال تو کر لیتے ہیں کہ
والدین نے ہمارے لیے کیا چھوڑا ہے؟
مگر یہ نہیں سوچتے کہ والدین نے اپنی خواہشیں، اپنی جوانی، اپنی نیندیں اور اپنی زندگی کے بہترین سال ان کی خاطر قربان کر دیے۔
کچھ احسان ایسے ہوتے ہیں جو جائیداد کے کاغذات میں نہیں ملتے، وہ ماں باپ کی جھریوں، تھکے ہوئے ہاتھوں اور خاموش قربانیوں میں لکھے ہوتے ہیں۔😲😲💯💯