10/05/2025
وہ ایک سادہ سی ماں تھی، جس کی گود میں دو بیٹے کھیلا کرتے تھے۔ ایک کو راج کہا کرتی، دوسرے کو ریاض۔ ان کے درمیان کبھی فرق نہ کیا۔ راج اور ریاض بچپن میں ایک ہی پتنگ اڑاتے، ایک ہی دوپٹہ اوڑھ کر شیر و شکر ہو جاتے۔ لیکن پھر ایک دن زمین کا بٹوارا ہوا، سرحد کھینچی گئی، اور راج ہندوستان چلا گیا، ریاض پاکستان میں رہ گیا۔
وقت گزرتا گیا۔ دونوں جوان ہوئے۔ ایک فوجی بنا بھارت میں، دوسرا سپاہی پاکستان میں۔ اور قسمت نے کچھ یوں کروٹ لی کہ دونوں کو ایک دن جنگ کے میدان میں آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔
ماں کی آنکھیں اُس دن نم تھیں جب اُس نے دونوں طرف کی فوجی وردیوں میں اپنے بیٹوں کی تصاویر دیکھیں۔ وہ دعا کرتی رہی کہ ان کا آمنا سامنا نہ ہو۔ لیکن جنگ کو خون عزیز ہوتا ہے، رشتہ نہیں۔
جب گولیوں کی بوچھاڑ میں ایک جوان دوسرے کے سامنے آیا، دونوں چند لمحوں کو ٹھٹکے۔ آنکھوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا، لیکن وردی اور فرض نے لب سی لیے۔
کہتے ہیں کہ دونوں نے گولی نہیں چلائی۔ دشمنوں نے ان پر گولیاں برسائیں، اور وہ دونوں ماں کی یاد میں وہیں گر گئے — ایک مٹی پر، ایک لہو میں، دونوں قربان۔
خبر جب ماں کو ملی تو وہ چیخ اٹھی:
"میری کوکھ نے دونوں کو جنم دیا تھا، دونوں کو کھو دیا… جنگ نے میرے بیٹوں کا نام تو بدل دیا، لیکن ان کا خون ایک ہی نکلا۔"
---
پیغام:
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں، دلوں میں بھی زخم چھوڑتی ہیں۔ دشمنی کے بیج سیاستدان بوتے ہیں، لیکن اس کی فصل مائیں کاٹتی ہیں۔