Pabbi News

Pabbi News یہ تحصیل پبی کے تمام نیوز اور سرگرمیاں کو کور کرنے کے لئے بنایا گیا پیچ ہے

13/07/2026
11/07/2026

طاقتور کے سامنے خاموش، غریب پر طاقت کا مظاہرہ!

یہ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی منافقت ہے کہ غصہ بھی وہاں نکالا جاتا ہے جہاں مزاحمت کم ہو، اور خاموشی بھی وہاں اختیار کی جاتی ہے جہاں طاقت زیادہ ہو۔

ہسپتال میں ڈاکٹر یا عملے سے معمولی تاخیر ہو جائے تو چند لوگ توڑ پھوڑ، گالم گلوچ اور ہنگامہ آرائی شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن جب کسی تھانے میں کسی غریب کے ساتھ ناانصافی کی شکایت ہو، کسی پولیس اہلکار کے رویے پر سوال اٹھے یا کسی بااثر شخصیت کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہو، تو یہی لوگ انتہائی محتاط اور خاموش دکھائی دیتے ہیں۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات احتجاج بھی وہاں نہیں ہوتا جہاں اصل مسئلہ پیدا ہوا ہو، بلکہ سڑکیں بند کر کے عام، غریب اور شریف شہریوں کو اذیت دی جاتی ہے۔ ایمبولینسیں پھنس جاتی ہیں، مریض، طلبہ، مزدور اور روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے لوگ گھنٹوں خوار ہوتے ہیں، جبکہ جن سے جواب مانگا جانا چاہیے، ان تک احتجاج کی آواز مؤثر انداز میں پہنچ ہی نہیں پاتی۔

طاقتور کے سامنے خاموشی اور کمزور پر غصہ نکالنا بہادری نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی کردار کی کمزوری ہے۔ جس دن ہم اصل ذمہ دار سے سوال کرنا سیکھ جائیں گے اور بے گناہ عوام کو تکلیف پہنچانا چھوڑ دیں گے، اسی دن انصاف کی طرف پہلا قدم اٹھے گا۔

10/07/2026

صحافی خاموش کیوں ہو رہے ہیں؟

پبی اور نوشہرہ میں مقامی صحافت کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں، بلکہ صحافی کی خبر پر آنے والا منفی ردِعمل بنتا جا رہا ہے۔ جب کوئی صحافی پولیس، واپڈا، سرکاری محکموں، بلدیاتی مسائل یا کسی بااثر شخصیت سے متعلق حقائق پر مبنی خبر شائع کرتا ہے تو اس پر سنجیدہ بحث کے بجائے اکثر گالی گلوچ، کردار کشی، دھمکیوں اور ذاتی حملوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بہت سے لوگ خبر کو مکمل پڑھے اور سمجھے بغیر ہی تبصروں میں فیصلے سنا دیتے ہیں۔

دوسری طرف، اگر خبر کسی عوامی نمائندے، سرکاری اہلکار یا بااثر شخصیت کے مفادات کے خلاف ہو تو صحافی کو مختلف انداز سے دباؤ، ناراضگی یا تعلقات خراب ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات خبر کی تردید دلیل سے کرنے کے بجائے صحافی ہی کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جس سے آزادانہ صحافت مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

جب ایک ہی خبر پر عوام کی جانب سے گالیاں، سرکاری اہلکاروں کی ناراضگی، عوامی نمائندوں کا دباؤ اور بااثر حلقوں کی مخالفت ایک ساتھ سامنے آئے تو بہت سے صحافی مجبوراً اپنی ترجیحات بدل لیتے ہیں۔ نتیجتاً وہ عوامی مفاد کے حساس معاملات پر رپورٹنگ کرنے کے بجائے غیر متنازع موضوعات، جیسے اعلانِ وفات، گمشدہ اشیاء، مبارکباد کے پیغامات، کاروباری تشہیر اور دیگر معمول کے اعلانات تک خود کو محدود کر لیتے ہیں، تاکہ غیر ضروری تنازعات سے بچ سکیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر صحافی بھی خاموش ہو جائیں تو عوامی مسائل، بدانتظامی، اختیارات کے غلط استعمال، کرپشن اور ناانصافی پر آواز کون اٹھائے گا؟ صحافت کا اصل مقصد صرف خبریں شائع کرنا نہیں بلکہ عوام کو باخبر رکھنا، حقائق سامنے لانا اور ذمہ دار اداروں سے جواب طلب کرنا بھی ہے۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ خبر سے اختلاف ہو تو اس کا جواب دلیل اور ثبوت سے دیا جائے، نہ کہ گالی، دھمکی یا کردار کشی سے۔ اسی طرح عوامی نمائندوں اور سرکاری اداروں کو بھی تنقید کو دشمنی کے بجائے احتساب اور اصلاح کا موقع سمجھنا چاہیے۔

آزاد اور ذمہ دار صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر سچ بولنے والوں کو مسلسل دبایا جاتا رہا تو مقامی صحافت رفتہ رفتہ صرف اعلانات اور تشہیری مواد تک محدود ہو جائے گی، اور اس کا سب سے بڑا نقصان خود عوام کو اٹھانا پڑے گا۔

09/07/2026

پبی میں چند روز قبل والد کے مبینہ قتل کے واقعے کے بعد پولیس کارروائی کے دوران دو نوجوانوں کی ہلاکت نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس واقعے کے مختلف پہلو عوامی بحث کا موضوع بن چکے ہیں، خصوصاً یہ سوال کہ آیا ملزمان کو مہلک طاقت استعمال کیے بغیر، مناسب حکمت عملی، صبر اور پیشہ ورانہ انداز اپناتے ہوئے زندہ گرفتار کیا جا سکتا تھا یا نہیں۔ کیونکہ یہ لڑکے کوئی عادی مجرم، منشیات فروش یا اجرتی نہیں تھے بلکہ ایک گھریلو واقعہ میں قتل کے مجرم بن گئے تھے۔

چونکہ واقعے کی مکمل تفصیلات اور تمام شواہد ابھی عوام کے سامنے نہیں آئے، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم ایک ذمہ دار اور پیشہ ور پولیس فورس سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ جہاں ممکن ہو، مہلک طاقت کے استعمال سے گریز کرتے ہوئے ملزمان کو زندہ گرفتار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

اس تناظر میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ پولیس محکمہ اس واقعے کی شفاف، غیرجانبدار اور جامع داخلی تحقیقات کرے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کارروائی کے دوران طے شدہ قواعد و ضوابط (Standard Operating Procedures) پر کس حد تک عمل کیا گیا، مہلک طاقت کا استعمال ناگزیر تھا یا نہیں، اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کیا اصلاحات درکار ہیں۔

شفاف تحقیقات نہ صرف عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہیں بلکہ اگر کسی سطح پر پیشہ ورانہ کوتاہی ہوئی ہو تو اس کی نشاندہی اور اصلاح بھی ممکن بناتی ہیں۔

06/07/2026

لوڈشیڈنگ کے بارے میں صاحبزادہ حمزہ خان کا پیغام

01/07/2026

پبی پولیس کی ناقص تفتیش اور مبینہ طور پر غیر قانونی ریمانڈ کے دوران تشدد جیسے الزامات نے ایک سنگین سوال کو جنم دیا ہے کہ کہیں ایک معصوم، سادہ لوح اور بے سہارا نوجوان کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے مستقبل کا عادی مجرم تو نہیں بنایا جا رہا۔

صفیان اگرچہ میرا بھانجا ہے، تاہم میں نے شروع سے ہی پولیس کی تفتیش میں کسی قسم کی مداخلت مناسب نہیں سمجھی تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ لیکن مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات، دستیاب حقائق اور معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد مجھے یہ تاثر ملا ہے کہ اصل ملزمان تک پہنچنے میں ناکامی کو چھپانے کے لیے اس خاندانی مگر بے سہارا نوجوان کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، تاکہ کیس کی ظاہری کامیابی دکھائی جا سکے۔

اس کیس کے حوالے سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا تفتیشی عمل پر سیاسی اثر و رسوخ موجود ہے؟ مقامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ متعلقہ ایس ایچ او کی تبدیلی بھی حکمران جماعت کے بعض بااثر افراد اور منتخب نمائندوں کی خواہش پر عمل میں آئی، جس کے باعث تفتیش کی شفافیت پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔

یہ معاملہ صرف پبی تک محدود نہیں بلکہ ضلع نوشہرہ کے متعدد تھانوں کی کارکردگی بھی عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ پولیس عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق تحقیقات کو یقینی بنائے۔

افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا سے وابستہ بعض صحافی، جو عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، اس نوعیت کے حساس معاملات پر مؤثر آواز بلند کرتے نظر نہیں آتے۔ اگرچہ پاکستان میں حقیقی صحافت کرنا آسان نہیں، لیکن یہ اتنا مشکل بھی نہیں کہ عوامی مفاد کے معاملات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔ صحافت کا بنیادی مقصد طاقتور کا ساتھ دینا نہیں بلکہ حقائق کو عوام کے سامنے لانا اور مظلوم کی آواز بننا ہے۔

01/07/2026

صوبائی حکومتی پارٹی کے ممبران اسمبلی اور دوسرے درجے کے کارکنانوں و کونسلرز وغیرہ سے صوبائی محکموں یعنی ہسپتالز اور پولیس وغیرہ کنٹرول نہیں ہو رہا ہے لیکن وفاقی محکمے یعنی واپڈا کے ایک نئے فیڈر کا کریڈٹ لینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کررہا ہے،، تو پھر ہمت کریں یہ بھی قبول کریں کہ بجلی اور گیس کا ظالمانہ لوڈشیڈنگ بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ ائے شرمیدلو!

29/06/2026

تحصیل پبی کے ایک پیج سے ایک پارٹی (یا اس کے ایم پی اے۔ و ایم این اے) کے حق میں سوشل میڈیا بیان شیئر ہوا ہے جس میں بجلی کے ایک فیڈر پر کریڈیٹ لینے کی کوشش کی گئی ہے، اگر چہ وفاقی حکومت کے نمائندے کے بارے میں تاثر بن گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی اکثریتی منصوبے محب بانڈہ یا امانکوٹ کے گرد ہی گھومتی ہے لیکن اصلیت یہ ہے کہ گیس و بجلی وغیرہ وفاقی حکومت کے زمرے میں اتے ہے لہذا ان محکموں کے تمام اچھے کاموں کےلئے داد دینے اور ہر بُری کارکردگی کےلئے تنقید کے مستحق وفاقی حکومت ہی ہوگی، ایسا نہیں ہو سکتا کہ لوڈشیڈنگ کےلئے تنقید وفاقی حکومت پر کی جائے جبکہ فیڈر بنانے کےلئے ایم این اے یا ایم پی اے کو کریڈیٹ دی جائے، اس سادہ لوح عوام کو کتنا بے وقوف بناؤ گے۔

Address

Taizai 1
Pabbi
24210

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pabbi News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pabbi News:

Shortcuts

Share