11/07/2026
طاقتور کے سامنے خاموش، غریب پر طاقت کا مظاہرہ!
یہ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی منافقت ہے کہ غصہ بھی وہاں نکالا جاتا ہے جہاں مزاحمت کم ہو، اور خاموشی بھی وہاں اختیار کی جاتی ہے جہاں طاقت زیادہ ہو۔
ہسپتال میں ڈاکٹر یا عملے سے معمولی تاخیر ہو جائے تو چند لوگ توڑ پھوڑ، گالم گلوچ اور ہنگامہ آرائی شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن جب کسی تھانے میں کسی غریب کے ساتھ ناانصافی کی شکایت ہو، کسی پولیس اہلکار کے رویے پر سوال اٹھے یا کسی بااثر شخصیت کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہو، تو یہی لوگ انتہائی محتاط اور خاموش دکھائی دیتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات احتجاج بھی وہاں نہیں ہوتا جہاں اصل مسئلہ پیدا ہوا ہو، بلکہ سڑکیں بند کر کے عام، غریب اور شریف شہریوں کو اذیت دی جاتی ہے۔ ایمبولینسیں پھنس جاتی ہیں، مریض، طلبہ، مزدور اور روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے لوگ گھنٹوں خوار ہوتے ہیں، جبکہ جن سے جواب مانگا جانا چاہیے، ان تک احتجاج کی آواز مؤثر انداز میں پہنچ ہی نہیں پاتی۔
طاقتور کے سامنے خاموشی اور کمزور پر غصہ نکالنا بہادری نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی کردار کی کمزوری ہے۔ جس دن ہم اصل ذمہ دار سے سوال کرنا سیکھ جائیں گے اور بے گناہ عوام کو تکلیف پہنچانا چھوڑ دیں گے، اسی دن انصاف کی طرف پہلا قدم اٹھے گا۔