PASSU TIMES اُردُو

PASSU TIMES  اُردُو اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاوُ اور سچی بات جان بوجھ کر ن Passu Times was the first ever local news on web.

The first time it was published in June 14, 1999 in Karachi, Pakistan. Passu Student’s Association was the organization come up with the new idea of online local news through Internet like blog, yahoo, MSN and moved to Passu Times. From 1999 to 2004 Passu-Times was successful because of it’s high viewership around the world and after five years Passu Times closed their online activities because of some technical reason. Today in a modern world Social Network and Media are playing vital role. The Importance of Social media has given us great ways to protect and build our digital reputations. Today we have the ease of searching conversations, the ability to set alerts to help us monitor our names, the constant availability of learning opportunities and more ways to communicate and interact with others. All of these tools, which were not available just a few years ago, now make it possible for us to be proactive in maintaining, building and protecting your personal brand and help spread word-of-mouth about our books. Developing a personal brand takes time, but the good news is that the tools are free and you already have the expertise in your field. Social media now allows you to share your knowledge and build a following. Once you “know” your readers you’ll have a lot more control over your career and will be able to promote not just your books but also your apps, conferences, videos, webinars, websites and more. Your personal brand will make you more valuable to your publisher and agent as well. Local News for Global Citizens , Passu-Times “The Right Way, The Right Time”

خبر غم | انتہائی غم اور دکھ کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ استادِ محترم واعظ وزیر فدا علی ایثارؔ صاحب لاہور میں وفات پا گئے...
08/09/2026

خبر غم | انتہائی غم اور دکھ کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ استادِ محترم واعظ وزیر فدا علی ایثارؔ صاحب لاہور میں وفات پا گئے ہیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مرحوم کا جسدِ خاکی بذریعہ ہوائی جہاز اسکردو منتقل کیا جائے گا، جہاں ان کی نمازِ جنازہ 8 ستمبر 2026ء کو شام 4:00 بجے شاہ کریم ہوسٹل گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی۔
فدا علی ایثارؔ صاحب ایک ممتاز ادیب، تعلیمی ماہر اور روحانی و سماجی شخصیت تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور غم زدہ خاندان کو اس عظیم صدمے پر صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا کرے، آمین۔

عوامی آگاہی پیغامپولیس کانسٹیبل (BPS-07) کی بھرتی کے لیے جن امیدواروں نے پہلے ہی آن لائن رجسٹریشن مکمل کرکے اپنی درخواست...
06/09/2026

عوامی آگاہی پیغام

پولیس کانسٹیبل (BPS-07) کی بھرتی کے لیے جن امیدواروں نے پہلے ہی آن لائن رجسٹریشن مکمل کرکے اپنی درخواست جمع کروا دی ہے، انہیں دوبارہ رجسٹریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

البتہ جن امیدواروں نے تاحال اپنی درخواست جمع نہیں کروائی، وہ مقررہ تاریخ کے اندر آن لائن رجسٹریشن مکمل کرکے اپنی درخواست جمع کروائیں تاکہ وہ بھرتی کے عمل میں شامل ہو سکیں.
Link Comment section ↘️

بلتستان | پھسو ٹائمز اردو | گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے (خپلو) سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ قانون دان غلام عباس منڈوق نے سپ...
06/09/2026

بلتستان | پھسو ٹائمز اردو | گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے (خپلو) سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ قانون دان غلام عباس منڈوق نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ کا لائسنس حاصل کر کے ایک اہم کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔ معروف منڈوق خاندان سے تعلق رکھنے والے غلام عباس گزشتہ کئی برسوں سے کوئٹہ میں مقیم ہیں اور بلوچستان کے عدالتی حلقوں میں متحرک ہیں۔ وہ کم عمری میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں پریکٹس کا اعزاز حاصل کرنے والے گلگت بلتستان کے چند وکلاء میں شامل ہو گئے ہیں۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران وہ نیب بلوچستان میں لاء آفیسر، مختلف لاء کالجز میں وزٹنگ لیکچرر اور متعدد سرکاری و نجی اداروں کے قانونی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس وقت وہ آئینی، فوجداری، سروس اور فیملی جیسے اہم قانونی امور پر پریکٹس کر رہے ہیں، اور ان کی یہ کامیابی خطے کے نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
#مبارکباد

حکومتِ گلگت بلتستانمحکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشنایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس علی آباداطلاع برائے تمام ہوٹل مالکان — ہوٹل لیوی ٹ...
03/09/2026

حکومتِ گلگت بلتستان
محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن
ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس علی آباد

اطلاع برائے تمام ہوٹل مالکان — ہوٹل لیوی ٹیکس

تمام ہوٹل مالکان کو بذریعہ ہذا اطلاع دی جاتی ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی جانب سے ہوٹل لیوی ٹیکس سے متعلق قانون سال 2020 میں منظور کیا جا چکا ہے، جبکہ مذکورہ قانون کی عملی تنفیذ کے لیے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے سال 2026 سے باقاعدہ کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

لہٰذا گلگت بلتستان میں قائم تمام ہوٹلوں کے مالکان/منتظمین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہوٹل سے متعلق مکمل معلومات اور مطلوبہ تفصیلات محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو فراہم کریں اور ٹیکس کے نفاذ و وصولی کے سلسلے میں محکمہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

ٹیکس کے نفاذ کا طریقہ کار

1. گلگت بلتستان کے مقامی باشندوں (Residents of Gilgit-Baltistan) سے متعلق مہمانوں کے لیے، قانون کے تحت قابلِ اطلاق استثنیٰ کی صورت میں، مذکورہ ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔

2. گلگت بلتستان سے باہر سے آنے والے مہمانوں (Non-Residents) کے لیے ہوٹل کے روم چارجز پر 5 فیصد ہوٹل لیوی ٹیکس کی وصولی کی جائے گی۔

3. تمام ہوٹل مالکان/منتظمین مذکورہ ٹیکس کی وصولی کا باقاعدہ حساب و ریکارڈ مرتب کریں گے اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق اس کی تفصیلات محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو فراہم کریں گے۔

4. تمام ہوٹل مالکان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہوٹل کی مکمل معلومات، متعلقہ ریکارڈ اور مطلوبہ فارم محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس سے حاصل کریں اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق ٹیکس کلیکشن کا عمل شروع کریں۔

اہم اطلاع

وہ تمام ہوٹل مالکان جن کے علم میں تاحال مذکورہ ہوٹل لیوی ٹیکس کے نفاذ سے متعلق اطلاع نہیں پہنچی، انہیں بذریعہ ہذا باقاعدہ مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس، علی آباد کا دورہ کریں اور وہاں سے ہوٹل لیوی ٹیکس سے متعلق ضروری معلومات، فارم اور دیگر مطلوبہ دستاویزات حاصل کریں۔

تمام ہوٹل مالکان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

بحکم:
ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ
گلگت بلتستان

مقام: ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس، علی آباد

گانچھے، چھوربٹ: پھسو ٹائمز اردو | پریس ریلیز | جرمنی میں تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا ا...
01/09/2026

گانچھے، چھوربٹ: پھسو ٹائمز اردو | پریس ریلیز | جرمنی میں تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد

چھوربٹ: Shyok Foundation Pakistan کے زیرِ اہتمام “Study and Work Life in Germany” کے عنوان سے ایک اہم آگاہی سیمینار گرلز ہائر سیکنڈری سکول سکسہ میں منعقد ہوا۔ سیمینار کا مقصد طلبہ و طالبات کو جرمنی میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے دستیاب مواقع کے حوالے سے آگاہی اور رہنمائی فراہم کرنا تھا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر چھوربٹ محترمہ صوفیہ نور صاحبہ نے کہا کہ طلبہ و طالبات ملک و معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں اور انہیں معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ ملکی و بین الاقوامی سطح پر دستیاب تعلیمی، تحقیقی اور پیشہ ورانہ مواقع سے آگاہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بالخصوص دورافتادہ علاقوں کے طلبہ و طالبات کے لیے اس نوعیت کے آگاہی پروگرامز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی سطح پر موجود مواقع، جدید تعلیمی نظام اور مستقبل کے کیریئر کے حوالے سے بروقت رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ دیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں، جدید علوم اور زبانوں پر عبور حاصل کریں اور مستقبل کے لیے واضح اہداف مقرر کرتے ہوئے دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کریں۔

اسسٹنٹ کمشنر نے Shyok Foundation Pakistan کی جانب سے سیمینار کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرامز نوجوان نسل میں شعور، اعتماد اور مستقبل کی بہتر منصوبہ بندی کے لیے مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

اس موقع پر مائننگ انجینئر محترم محمد اعظم، مقیم جرمنی نے بطور گیسٹ اسپیکر جرمنی کے تعلیمی نظام، اعلیٰ تعلیم، تحقیقی مواقع، طلبہ و طالبات کے لیے دستیاب سہولیات، تعلیمی اخراجات اور جرمنی میں تعلیم و پیشہ ورانہ زندگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی آگاہی فراہم کی۔

انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ جرمنی میں معیاری اعلیٰ تعلیم، جدید تحقیقی ماحول اور مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ و طالبات مناسب تعلیمی منصوبہ بندی، مطلوبہ اہلیت اور بروقت معلومات کے ذریعے مستقبل میں ان مواقع سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

سیمینار میں ایجوکیشن آفیسر (DDEO) حسن آباد، پرتوک و فرانو، مختلف سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام، طلبہ و طالبات، والدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

دورانِ سیمینار طلبہ و طالبات نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور جرمنی میں تعلیم، داخلہ، تحقیق، پیشہ ورانہ زندگی اور روزگار کے مواقع سے متعلق مختلف سوالات کیے، جن کے گیسٹ اسپیکر نے تفصیلی جوابات دے کر شرکاء کی رہنمائی کی۔

شرکاء نے سیمینار کو طلبہ و طالبات کے لیے نہایت مفید، معلوماتی اور مستقبل کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرنے والا قرار دیتے ہوئے Shyok Foundation Pakistan کی کاوش کو سراہا اور اس نوعیت کے مزید آگاہی پروگرامز کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔

جاری کردہ:
اسسٹنٹ کمشنر آفس چھوربٹ
ضلع گانچھے

دردمندانہ اپیل | میرا نام طارق وزیر ہے اور میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ میں اپنے دوستوں کے ہمراہ گاڑی نمبر BMG-115 پر گ...
01/09/2026

دردمندانہ اپیل | میرا نام طارق وزیر ہے اور میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہے۔ میں اپنے دوستوں کے ہمراہ گاڑی نمبر BMG-115 پر گلگت سے اسلام آباد جا رہا تھا۔ بابوسر ٹاپ پہنچنے پر تقریباً 10 مسلح افراد نے ہماری گاڑی روک کر ہمیں لوٹ لیا۔

مسلح افراد میرے سمیت ہمارے تمام قیمتی سامان اور ضروری دستاویزات، جن میں پاسپورٹ اور شناختی کارڈ (CNIC) بھی شامل ہیں، اپنے ساتھ لے گئے۔

میری 2 ستمبر کو بین الاقوامی پرواز ہے اور مجھے تعلیم کے سلسلے میں بیرونِ ملک روانہ ہونا ہے۔ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے مجھے شدید تشویش ہے کہ میری پرواز رہ سکتی ہے اور میری تعلیم کے حوالے سے سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

میں حکومتِ گلگت بلتستان، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ وفاقی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے اور مجھے ایمرجنسی/متبادل پاسپورٹ اور ضروری سفری دستاویزات کے حصول میں فوری معاونت فراہم کی جائے تاکہ میں اپنی تعلیم کے لیے بروقت بیرونِ ملک روانہ ہو سکوں۔

میڈیا سے بھی اپیل ہے کہ اس واقعے کو اجاگر کرے اور بابوسر ٹاپ پر شہریوں کی سکیورٹی کی صورتحال کی طرف متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرائے۔

یہ ایک انتہائی ہنگامی صورتحال ہے، براہِ کرم میری مدد کی جائے۔

طارق وزیر
گلگت بلتستان

تازہ ترین | پھسو ٹائمز اردو | ہنزہ پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بدفعلی کی کوشش اور اغوا کے مقدمے میں مطلوب...
26/08/2026

تازہ ترین | پھسو ٹائمز اردو | ہنزہ پولیس نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بدفعلی کی کوشش اور اغوا کے مقدمے میں مطلوب نامزد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ملزمان کے خلاف مقدمہ علت نمبر 39/2026 کے تحت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 342 (حبسِ بے جا)، 365 (اغوا)، 377 (بدفعلی) اور 34 (مشترکہ نیت) کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔

اس وقت کیس کی تفتیش مکمل میرٹ اور شفافیت کے ساتھ جاری ہے، جبکہ واقعے سے متعلق میڈیکل اور فرانزک شواہد جمع کرنے کا عمل بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے۔
پولیس تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں اور مضبوط شواہد کی روشنی میں ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

گلگت بلتستان پولیس بلا تفریق، قانون کی حکمرانی اور مظلوم کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر صلاحیتیں کارآمد لا رہی ہے۔
#𝗦𝗮𝘃𝗲𝗧𝗵𝗲𝗖𝗵𝗶𝗹𝗱𝗿𝗲𝗻

چھوربٹ ، بلتستان | پھسو ٹائمز اردو | پریس ریلیزچھوربٹ: فرانو سائٹ گندم کی ترسیل میں رکاوٹ، اسسٹنٹ کمشنر صوفیہ نور کا موق...
25/08/2026

چھوربٹ ، بلتستان | پھسو ٹائمز اردو | پریس ریلیز

چھوربٹ: فرانو سائٹ گندم کی ترسیل میں رکاوٹ، اسسٹنٹ کمشنر صوفیہ نور کا موقع پر پہنچ کر جائزہ، C&W کو سڑک کی فوری بہتری کی ہدایت

چھوربٹ: فرانو سائٹ گندم کی ترسیل کے دوران تھموس نالے میں گندم سے لدی گاڑی پھنس جانے کی اطلاع پر اسسٹنٹ کمشنر چھوربٹ محترمہ صوفیہ نور صاحبہ نے فوری طور پر جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا موقع پر جائزہ لیتے ہوئے گندم کی ترسیل کے عمل کی خود نگرانی کی۔

اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے محکمہ C&W گانچھے کے متعلقہ عملے کو موقع پر ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے تھموس نالے میں پھنسنے والی گندم سے لدی گاڑیوں کو فوری طور پر ریسکیو کرکے راستہ کلیئر کرنے کی ہدایت کی، تاکہ گندم کی ترسیل کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔

محترمہ صوفیہ نور صاحبہ نے محکمہ C&W گانچھے کے متعلقہ ذمہ داران کو سختی سے ہدایت کی کہ فرانو سائٹ تک جانے والی سڑک کو مزید بہتر، ہموار اور قابلِ آمدورفت بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور سڑک کی ضروری مرمت و بہتری کا کام مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گندم کی بروقت اور بلا تعطل ترسیل ایک اہم عوامی ضرورت ہے، اس لیے راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ متعلقہ عملہ سڑک اور نالہ گزرگاہوں کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے ضرورت کے مطابق مشینری اور دیگر دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔

اسسٹنٹ کمشنر نے مزید ہدایت کی کہ مقررہ مدت میں سڑک کی بہتری کے کام کی تکمیل اور گندم کی ترسیل کے عمل کو یقینی بنایا جائے، جبکہ کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر ضروری تاخیر کی صورت میں متعلقہ ذمہ داران سے جواب طلبی کی جائے گی۔

اس موقع پر گندم سے لدی گاڑیوں کو ریسکیو کرکے راستہ بحال کیا گیا، جس کے بعد فرانو سائٹ کی جانب گندم کی ترسیل کا عمل دوبارہ جاری کر دیا گیا۔

ہنزہ | پھسو ٹائمز اُردو | پ-ر | ناصر آباد، ہنزہ میں گولڈ مائننگ کے نام پر دریا کے کنارے موجود زمین اور عوامی ملکیت کے تح...
21/08/2026

ہنزہ | پھسو ٹائمز اُردو | پ-ر | ناصر آباد، ہنزہ میں گولڈ مائننگ کے نام پر دریا کے کنارے موجود زمین اور عوامی ملکیت کے تحفظ کے لیے ناصر آباد کے غیور عوام، بالخصوص بیدار مغز نوجوانوں، نے اپنی زمینوں کی حدبندی کرکے ایک واضح اور تاریخی پیغام دے دیا ہے کہ اپنی زمین اور قدرتی وسائل پر کسی کو من مانی کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ ناصر آباد کے عوام اور نوجوان مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنے اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لیے بروقت اور جرات مندانہ آواز بلند کی اور اپنی سرزمین و وسائل کی حفاظت کا عملی ثبوت دیا۔
ناصر آباد کے اس جرات مندانہ اقدام کے بعد اب ہنزہ کے تمام محروم اور شعور مند عوام کو ناصر آباد سے سبق سیکھتے ہوئے ایک ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ہنزہ کے تمام علاقوں کے عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی اپنی ملکیتی اور عوامی زمینوں کی حدبندی کریں، اپنے بنیادی حقوق کا دفاع کریں اور اپنے قدرتی وسائل پر کسی بھی غیر مقامی مداخلت کے خلاف قانونی، آئینی اور پُرامن طریقے سے متحد ہو جائیں۔ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہونی چاہیے کہ ہنزہ کی زمین، ہنزہ کے وسائل اور یہاں کے عوام کے حقوق کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہیں۔
ترقی اور مائننگ کے نام پر اگر مقامی آبادی کے حقوق، ملکیت، زمین اور مستقبل کو نظرانداز کیا جائے گا تو اس کے خلاف پُرامن آواز اٹھانا عوام کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ کسی بھی تفریحی یا معاشی منصوبے میں مقامی عوام کے مفادات، مالکانہ حقوق اور رائے کو یکسر نظرانداز کرکے زبردستی فیصلے مسلط کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔
ناصر آباد نے عملی جدوجہد کا راستہ دکھا دیا ہے اور اب ہنزہ کے غیور عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہوں نے اپنی زمین کا محافظ بن کر اپنے حقوق کا دفاع کرنا ہے یا خاموش تماشائی بن کر اپنے وسائل دوسروں کے ہاتھوں لٹتے دیکھنا ہے۔ ہنزہ کی زمین اور وسائل پر پہلا حق صرف اور صرف ہنزہ کے عوام کا ہے۔
زمین ہماری — حق ہمارا!
وسائل ہمارے — فیصلہ بھی ہمارا!
ہنزہ کے وسائل پر پہلا حق ہنزہ کے عوام کا!
ظہور کریم ایڈووکیٹ
سابق صدر پیپلز پارٹی ہنزہ
و امیدوار گلگت بلتستان اسمبلی

گوجال | پھسو ٹائمز اردو | نمائندہ خصوصی | چپورسن (ہنزہ) کے زلزلہ متاثرین نے حکام سے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں شدید اح...
17/08/2026

گوجال | پھسو ٹائمز اردو | نمائندہ خصوصی | چپورسن (ہنزہ) کے زلزلہ متاثرین نے حکام سے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں شدید احتجاج کا خبردار کر دیا ہے۔ نوجوان سیاسی و سماجی ایکٹوسٹ حیدر بدخشانی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر علاقے میں نقصانات کا جامع اور شفاف دوبارہ سروے شروع نہ کیا گیا، تو متاثرین اسسٹنٹ کمشنر گوجال کے دفتر کے باہر خیمہ زن ہو کر پرامن احتجاج کریں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر یہ احتجاجی خیمے قراقرم ہائی وے (KKH) تک منتقل کر دیے جائیں گے۔
ان کے مطابق جنوری 2026 میں چپورسن زلزلے سے ہونے والے نقصانات کا ایک مرتبہ سروے کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد سینکڑوں آفٹر شاکس اور 27 مارچ سمیت 13 اگست کو آنے والے شدید زلزلہ نما جھٹکوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مسلسل جھٹکوں کے باعث متعدد مکانات مزید متاثر ہو چکے ہیں اور متاثرین کے لیے اپنے انہی گھروں میں رہائش اختیار کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔
حیدر بدخشانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تمام صورتحال کے باوجود اب تک حکومت یا کسی نجی ادارے کی جانب سے نقصانات کا دوبارہ سروے نہیں کرایا گیا۔ اگرچہ ڈی سی ہنزہ کی جانب سے دوبارہ سروے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، لیکن اطلاعات کے مطابق اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
انھوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ چپورسن کے متاثرین کو نظرانداز کرنا بند کیا جائے اور مزید تاخیر کے بغیر چپورسن میں نقصانات کا جامع اور شفاف دوبارہ سروے فوراً کرایا جائے تاکہ حالیہ زلزلوں اور آفٹر شاکس سے ہونے والے تمام نقصانات ریکارڈ میں شامل کیے جا سکیں اور متاثرین کی بحالی کا عمل ممکن ہو سکے۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ فوری سروے، شفاف عمل اور فوری بحالی متاثرین کا بنیادی حق ہے۔

Address

Gilgit City
Passu

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PASSU TIMES اُردُو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to PASSU TIMES اُردُو:

Shortcuts

Share