OnLy PTM

OnLy PTM اس پیج کا مقصد صرف اور صرف پی ٹی ایم کو سپورٹ کرنا ہے

23/06/2026
23/06/2026

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور رہنما صبغت اللہ شاہ کے خلاف قائم جھوٹے مقدمے میں سنائی گئی عمر قید کی سزا پر مبنی نام نہاد عدالتی فیصلہ ریاست اور عدلیہ کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) اس بے بنیاد مقدمے اور غیر قانونی سزا کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
پی ٹی ایم، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 24 جون بروز بدھ اعلان کردہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔
یہ تلخ حقیقت اب پوری شدت کے ساتھ سامنے آ چکی ہے کہ پاکستان کا نظامِ انصاف ایک نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کا اہم جزو ہے، جسے تاریخی طور پر محکوم اقوام کی سیاسی مزاحمت کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
بلوچستان میں جاری قومی مزاحمت اور ریاستی جبر کے پس منظر کو نظر انداز کرتے ہوئے، جھوٹے اور حقائق کے منافی مقدمات کے ذریعے سیاسی کارکنوں کو عمر قید جیسی سزائیں دینا اس بات کی واضح مثال ہے کہ قانون کو طاقتور طبقات اور ریاستی اداروں کے مفادات کے تابع کر دیا گیا ہے۔ اسے محکوم اقوام کو قابو میں رکھنے اور استحصالی منصوبوں کے تحفظ کے لیے ایک ہتھیار بنا لیا گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کا اندراج اور ان کی سماعت جس ماحول میں کی گئی، وہاں نہ منصفانہ ٹرائل کی گنجائش تھی، نہ آزادانہ قانونی دفاع کی، نہ غیر جانبدار عدالتی عمل کی۔ فیس لیس ٹرائل اور انصاف کے تقاضوں کے برعکس کارروائیاں پاکستان کے عدالتی نظام کی حقیقت کو عیاں کرتی ہیں۔
ایک طرف راج مچی ریلی کے تناظر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف جھوٹے مقدمات میں عمر قید کی سزائیں سنائی جا رہی ہیں، جبکہ اسی ریلی میں ریاستی اہلکاروں کے ہاتھوں قتل کیے گئے تین بلوچ نوجوانوں کے لیے تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب ہزاروں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتلوں اور فوجی آپریشنز کا حساب کون دے گا، جنہوں نے دہائیوں سے پشتون اور بلوچ علاقوں کو جنگ اور خوف کی فضا میں دھکیل رکھا ہے؟ وہ کون سی عدالت ہے جہاں ریاستی جبر کے خلاف انصاف ملتا ہے؟
پاکستانی ریاست کے نوآبادیاتی ڈھانچے میں عدلیہ، انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے اکثر ایک ہی سیاسی حکمتِ عملی کے تحت کام کرتے ہیں، جس کا مقصد محکوم علاقوں میں جاری قومی مزاحمت کو محض "سکیورٹی مسئلہ" بنا کر پیش کرنا ہے۔ بلوچ اور پشتون علاقوں میں جاری جبر، عسکریت اور سیاسی کارکنوں کو مجرم قرار دینا اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
لہٰذا راج مچی سے متعلق اس جھوٹے کیس کا فیصلہ صرف چند افراد کے خلاف نہیں بلکہ محکوم اقوام کی آواز، ان کے جائز قومی حقوق اور ریاستی جبر کے خلاف اٹھنے والی مزاحمت کو دبانے کی ایک واضح کوشش ہے۔
تاہم تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جیلیں، سزائیں اور ریاستی طاقت کبھی بھی آزادی کی جدوجہد اور قومی مزاحمت کو ختم نہیں کر سکیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے 24 جون بروز بدھ کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کرتی ہے اور اس عدالتی ناانصافی کے خلاف اپنی یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
ہم اس غیر منصفانہ فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور بلوچ عوام سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے تمام سیاسی قیدیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔
مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات
پشتون تحفظ موومنٹ۔

03/02/2026

د پښتون ژغورنې غورځنګ مرکزي غړی او فعال ننګیالی ملک مجید له زندان څخه خوشې شو
مبارکی وایم ٹولو ملگرو تا

21/01/2026

❤🙏 💪✌️

Address

Peshawar
ZOP5686

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when OnLy PTM posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to OnLy PTM:

Shortcuts

Share

Category