Dr Ihtesham Khan Babar

Dr Ihtesham Khan Babar میڈیکل معلومات، زندگی کے اسباق، اور صحت و روزمرہ موضوعات پر سوچنے پر مجبور کرنے والی تحریریں۔
🩺 𝐑𝐞𝐬𝐢𝐝𝐞𝐧𝐭 𝐒𝐮𝐫𝐠𝐞𝐨𝐧

جب آپ لوگ میڈیکل اسٹور پر جاتے ہیں تو کیا آپ کو واقعی معلوم ہوتا ہے کہ دوا کی اصل قیمت کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میڈی...
23/05/2026

جب آپ لوگ میڈیکل اسٹور پر جاتے ہیں تو کیا آپ کو واقعی معلوم ہوتا ہے کہ دوا کی اصل قیمت کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میڈیکل اسٹور والا آپ سے دوگنی قیمت وصول کر رہا ہو، یا اپنی مرضی کا کوئی تھرڈ کلاس برانڈ دے رہا ہو جسے کھانا یا نہ کھانا ایک جیسا ہو؟
کوشش کریں کہ دوائیں ہمیشہD-Watson یا Shaheen Chemist جیسےقابلِ اعتماد میڈیکل اسٹورز سے لیں تاکہ فراڈ کے امکانات کم ہوں۔ کچھ آن لائن میڈیکل اسٹورز بھی ہیں جیسے DVAGO، Vitamin House، Medspotpk اور Dawailo۔ ان کے بارے میں Reddit پر بھی اچھے ریویوز دیکھنے کو ملے ہیں۔
یہ نسبتاً آسان اور محفوظ طریقہ ہے کیونکہ ان کی قیمتیں فکس ہوتی ہیں، ناجائز منافع خوری کم ہوتی ہے، اور زیادہ تر رجسٹرڈ ملٹی نیشنل برانڈز دستیاب ہوتے ہیں۔ ان کے پاس عموماً کوالیفائیڈ فارماسسٹ بھی موجود ہوتا ہے۔ جبکہ اکثر مقامی میڈیکل اسٹورز پر غیر رجسٹرڈ یا لوکل برانڈز کی دوائیں رکھی جاتی ہیں جو وہ بہت کم قیمت پر خریدتے ہیں اور پھر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کسی دوا پر 150 روپے قیمت لکھی ہو تو بعض اوقات وہی دوا 60 روپے میں خرید کر 300 روپے میں بیچ دی جاتی ہے، خاص طور پر اگر سامنے کوئی سادہ یا غیر تعلیم یافتہ شخص ہو۔ دوسری طرف ملٹی نیشنل برانڈز میں میڈیکل اسٹور والوں کا منافع نسبتاً کم ہوتا ہے، اسی لیے وہ اکثر کہتے ہیں:
“سر، فارمولا تو ایک ہی ہے” یا “یہ والی تو ڈاکٹر کی لکھی ہوئی دوا سے بھی زیادہ اچھا کام کرتی ہے۔”
ایک اور طریقہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ Pharmapedia Pakistan ایپ استعمال کریں، جس میں تقریباً ہر دوا کی قیمت اور تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ DRAP کا بارکوڈ
اسکینر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ دوا کی تصدیق کی جا سکے۔

تحریر; ڈاکٹر محمد احتشام خان بابر.

تشدد کے سائے میں سسکتی ہوئی تعلیممیں نے میٹرک تک تعلیم اپنے گاؤں  میں حاصل کی۔ قرآن پاک بھی وہیں پڑھا۔ آج بھی جب اسکول ک...
12/05/2026

تشدد کے سائے میں سسکتی ہوئی تعلیم

میں نے میٹرک تک تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی۔ قرآن پاک بھی وہیں پڑھا۔ آج بھی جب اسکول کا زمانہ یاد آتا ہے تو بہت کچھ ایک ساتھ یاد آ جاتا ہے۔ مٹی والا گراؤنڈ، صبح کی اسمبلی، سردیوں میں دھند کے اندر اسکول جانا، ہاتھ میں بستہ، اور وہ اساتذہ جن میں کچھ واقعی استاد تھے کچھ اساتذہ صرف جلاد.

ہم نے بھی مار کھائی ہے۔ شاید ہمارے وقت میں ہر بچے نے کھائی ہوگی۔ اس وقت یہی سمجھا جاتا تھا کہ جس استاد کی مار زیادہ ہو، وہی اچھا استاد ہے۔ بچے اس سے ڈرتے ہوں، اُس کی کلاس میں خاموشی ہو، تو لوگ کہتے تھے بڑا رعب ہے استاد کا۔

کچھ منظر آج بھی ذہن میں ایسے ہیں جو شاید کبھی نہیں بھولیں گے۔ کچھ بچے ایسے تھے جنہیں استاد اتنا مارتے تھے کہ اُن کے ہاتھ کانپنے لگ جاتے تھے۔ کچھ بچے سبق بھول جاتے تھے صرف اس لیے کہ سامنے استاد اور ہاتھ میں چھڑی دیکھ کر ڈر جاتے تھے۔ اُس وقت ہمیں لگتا تھا یہ سب نارمل ہے، لیکن اب جب خود بڑا ہوا ہوں، لوگوں کو سمجھا ہوں، بچوں کی نفسیات پڑھی ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ ایک چھوٹے بچے کے دل پر یہ چیزیں کتنا اثر ڈالتی ہیں۔
اُس وقت بچے کی عزت، اُس کا خوف، اُس کی بے عزتی، کوئی چیز معنی نہیں رکھتی تھی ۔

لیکن سچ یہ بھی ہے کہ سارے استاد ایسے نہیں تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جن کے پاس بیٹھنے کو دل کرتا تھا۔ وہ کہانی سنا کر سمجھاتے تھے۔ ہنسی مذاق میں سبق یاد کروا دیتے تھے۔ اگر کوئی بچہ کمزور ہوتا تو اُسے الگ سے سمجھاتے تھے۔ اُن کی کلاس میں ڈر نہیں ہوتا تھا۔ عجیب بات ہے، آج بھی اُنہی اساتذہ کی باتیں زیادہ یاد ہیں۔ اُنہوں نے شاید کم پڑھایا ہوگا، لیکن انسان زیادہ بنایا۔

آج جب دنیا کی تعلیم کو دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم نے بچوں کو بہت دفعہ صرف خاموش کرنا سکھایا، سمجھنا نہیں سکھایا۔ مار وقتی طور پر بچے کو سیدھا کر دیتی ہے، لیکن اندر سے توڑ بھی دیتی ہے۔ وہ پھر سوال کرنے سے ڈرتا ہے، غلطی سے ڈرتا ہے، اپنی بات کہنے سے ڈرتا ہے۔ پھر ہم بڑے ہو کر کہتے ہیں
۔ہمارے بچوں میں کانفیڈنس نہیں، تخلیقی صلاحیت نہیں، اور آگے بڑھنے کا حوصلہ نہیں۔
لیکن آج ایک بات دل سے محسوس کرتا ہوں جس اُستادِ محترم محبت سکھائی، جینا سکھایا، اعتماد اور تعلیم دی، اللہ پاک اسے عزت اور خوشحالی والی زندگی عطا
فرمائے۔

صرف اُن چند اساتذہ کے لیے جو آج بھی بچوں پر تشدد کرتے ہیں
استاد کا مقام بہت بڑا اور مقدس ہے، لیکن اپنی ذاتی انا کی تسکین یا ذاتی رنجش بچوں پر نہیں نکالنی چاہیے۔ بچے ایک امانت ہوتے ہیں، اور یہی پھول جیسے بچے بعد میں استاد کے لیے زندگی میں فخر کا باعث بنتے ہیں اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بھی۔
بچوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں جیسا آپ اپنے
بچوں کے ساتھ کرتے ہیں۔




، ایک اچھی زندگی کیا ہوتی ہے؟ اس پر مختلف لوگ مختلف انداز میں بات کرتے ہیں، لیکن اگر ہم میڈیکل نقطۂ نظر سے دیکھیں تو سوا...
01/05/2026

، ایک اچھی زندگی کیا ہوتی ہے؟
اس پر مختلف لوگ مختلف انداز میں بات کرتے ہیں، لیکن اگر ہم میڈیکل نقطۂ نظر سے دیکھیں تو سوال یہ بنتا ہے کہ
خوشی کیا ہے؟ اور صحت مند، اچھی زندگی کسے کہتے ہیں؟
اس حوالے سے ایک بہت طویل تحقیق ہوئی ہے، شاید دنیا کی سب سے لمبی ریسرچ، جو 1938 میں شروع ہوئی۔ اس میں دو گروپس لیے گئے، جن میں اس وقت کے ٹین ایجرز شامل تھے—کچھ کی عمر دس، گیارہ اور بارہ سال تھی—اور یہ مختلف کالجز کے طلبہ تھے۔ ان پر باقاعدہ سٹڈی شروع کی گئی، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ تحقیق جاری رہی۔ آج اس کو تقریباً 80 سال ہو چکے ہیں۔
اس تحقیق کی خاص بات یہ ہے کہ جب پرانے ریسرچرز دنیا سے جاتے رہے تو نئے ریسرچرز ان کی جگہ آتے گئے، کیونکہ عام طور پر ایسی طویل سٹڈیز جاری نہیں رہ پاتیں۔ اس تحقیق میں تقریباً 723 افراد کو شامل کیا گیا، ان کی زندگی کے مختلف پہلو، ان کی کہانیاں، ان کے تجربات—ہزاروں صفحات پر مشتمل معلومات جمع کی گئیں۔ وقتاً فوقتاً ان کے انٹرویوز کیے گئے، اور اب ان کے دو ہزار سے زائد بچوں کو بھی کسی حد تک اس تحقیق میں شامل کیا گیا ہے۔
تو دوستو، اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کو خوشی شہرت اور دولت سے ملتی ہے، تو یہ سوچ صرف آپ کی نہیں، ہم میں سے اکثر لوگوں کی یہی سوچ ہے۔ اگر کسی سے پوچھا جائے کہ وہ زندگی میں کیا چاہتا ہے، تو تقریباً اسی فیصد لوگ دولت
اور پچاس فیصد لوگ شہرت کا ذکر کرتے ہیں۔
۔
Harvard Study of Adult Development—جو دنیا کی طویل ترین تحقیق میں شمار ہوتی ہے—یہ ثابت کرتی ہے کہ نہ دولت انسان کو مکمل خوشی دے سکتی ہے، نہ شہرت۔ اس تحقیق کے موجودہ ڈائریکٹر
Robert Waldinger
یہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے اپنے تعلقات کو محبت کے ساتھ قائم رکھا، وہ زیادہ عرصہ زندہ بھی رہے اور زیادہ خوش بھی رہے؛
جبکہ تنہائی میں رہنے والے لوگ اکثر جلدی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
وہ کہتے ہیں: تنہائی ایک خاموش مگر خطرناک بیماری ہے۔ یہ اتنی ہی نقصان دہ ہے جتنی تمباکو نوشی یا شراب نوشی۔
ایک صحت مند اور خوشحال زندگی کی بنیاد مضبوط، مخلص اور دیرپا تعلقات پر ہے
ہم جو کچھ کماتے ہیں، وہ سب وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے، لیکن جو رشتے ہم نبھاتے ہیں، جو محبت ہم بانٹتے ہیں، وہی ہماری زندگی کو معنی
دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی بات صرف ادب یا فلسفہ نہیں کہتا، بلکہ جدید سائنس بھی اسی سچ کو دہراتی ہے۔
۔زندگی ایک داستانِ رواں ہے… اس کی دلکشی زر و اسباب میں نہیں، بلکہ اُن کرداروں میں ہے جو اسے جینے کے قابل بناتے ہیں۔
تحقیق کا حوالہ:
Harvard Study of Adult Development
مصنفین (ابتدائی محققین): George Vaillant وغیرہ
موجودہ ڈائریکٹر: Robert Waldinger

تحریر: ڈاکٹر احتشام خان بابر ✍️











السلام علیکم دوستو، پروکریسٹنیشن مائنڈسیٹ کیا ہوتا ہے؟ آپ نے سوچا ہے کہ ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں اور ہم خو...
30/04/2026

السلام علیکم دوستو، پروکریسٹنیشن مائنڈسیٹ کیا ہوتا ہے؟ آپ نے سوچا ہے کہ ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں اور ہم خود بھی کہ کسی چیز کو جب تک بالکل آخری تاریخ نہ آ جائے ہم وہ کام نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر اگر کسی تھیسس کو مکمل کرنے کے لیے مجھے چار مہینے کا وقت لگے تو آخر کے چار دنوں میں میں وہ کام مکمل کروں گا، اس سے پہلے وہ کام میں نہیں کرتا۔ اس کو سستی نہیں بولتے، اس کو پروکریسٹنیشن یا ٹال مٹول بولتے ہیں۔
تو ہمارا دماغ جب پروکریسٹنیشن میں آ جاتا ہے اس کا اصل میکانزم کیا ہے؟ اور اس کو ہم نے کیسے روکنا ہے؟ تو اس کو سمجھنے کے لیے ہم ایک فرضی بات بولتے ہیں کہ ہمارے دماغ میں تین قسم کی
چیزیں چل رہی ہوتی ہیں۔ ایک کو ہم بولتے ہیں
1. Planner (Rational decision maker )

جو ہمارے مستقبل کی پلاننگ کرتا ہے کہ ہم نےفیوچر میں کیسے کرنا ہے اور کیا چیز کرنی ہے ، وہ آپ کو طریقہ بتاتا ہے کہ یہ کرو جو آپ کو فیوچر میں فائدہ دے گا۔
اور ایک چیز دوسرا ہوتا ہے جس کو ہم بولتے ہیں Instant Gratification Monkey
جو آپ کو بولتا ہے نہیں بھائی صاحب یہ کام ابھی نہیں کرو، یہ تو تم صبح میں بہت اچھے سے کر سکتے ہو، ابھی رات ہے ابھی سو جاؤ، ابھی آرام کر لو، ابھی تم فیس بک دیکھ لو، ابھی تم واٹس ایپ دیکھ لو۔ اس کو بولتے ہیں
Instant Gratification Monkey
جو آپ کو ٹال مٹول کرواتا ہے۔ پھر صبح کو بولتا ہے کہ شام کو کرو، شام کو بولتا ہے کہ یہ کام ابھی تم تھکے ہوئے ہو، تم آرام کرو، تم سو جاؤ، یہ کام تم نے اس وقت پہ کرنا ہے جب تمہارے پاس وقت زیادہ ہو، موٹیویشن زیادہ ہو، سمجھ زیادہ ہو۔
ھ
اور تیسری چیز ہوتی ہے ہمارے مائنڈ میں Monster۔ دوستو Panic Monster وہ چیز ہے جو آخر کے دنوں میں یعنی جب ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب پہنچ جاتی ہے تو اچانک سے آپ کے دماغ میں گھنٹی بجتی ہے کہ اٹھو، سب کام چھوڑو اور یہ والا کام کرو، یہ تو ضروری ہے۔ کہ تم چار مہینے سے نہیں کر رہے ہوتے ہو، یہ خوف دلاتا ہے اور اس خوف کے بعد تم وہ کام اچانک سے ایک دم اٹھ کر کرتے ہو، اس کو بولتے ہیں
Panic Monster۔
دوستو ایک بات یاد رکھیں کہ ہماری زندگی میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن میں ہمارے پاس Panic Monster
نہیں آتا۔ جیسے انسان کو نہیں پتا کہ زندگی کب ختم ہوگی، اس نے ان چیزوں کی پہلے سے تیاری نہیں کی ہوتی، اچانک سے اس کی موت آ جاتی ہے کیونکہ وہاں کوئی
Panic Monster
نہیں ہوتا جو اسے جگا سکے کہ جلدی سے یہ کام مکمل کرو۔ اسی طرح صحت کے بارے میں بھی کوئی
Panic Monster
نہیں ہوتا کہ کب آپ کی صحت خراب ہو جائے، آپ کو کچھ پتا نہیں ہوتا۔
تو بھئی دوستو پروکریسٹنیشن مائنڈسیٹ میں کیا کرنا ہے؟ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ
Now or Never
، ابھی یا کبھی نہیں۔ ابھی مجھے یہ کام کرنا ہے۔ اور کام کو ٹالنا نہیں ہے، تھوڑا سا کام کرنا ہے لیکن کرنا ضرور ہے۔ پورا چیپٹر نہیں پڑھ سکتے تو دو تین پیجز پڑھ لو، ابھی کے لیے کافی ہے کیونکہ پروکریسٹنیشن میں آغاز کرنا سب سے مشکل ہوتا ہے۔ تھینک یو دوستو، آپ اس پر عمل کر کے اپنی زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں اور اپنی فیوچر کی
پلاننگ وقت پر کر سکتے ہیں۔



آئیس (Methamphetamine): چند لمحوں کی خوشی، دماغ اور زندگی کی تباہیبطور ڈاکٹر میں یہ بات بہت سادہ انداز میں کہنا چاہتا ہو...
13/04/2026

آئیس (Methamphetamine):

چند لمحوں کی خوشی، دماغ اور زندگی کی تباہی

بطور ڈاکٹر میں یہ بات بہت سادہ انداز میں کہنا چاہتا ہوں کہ آئیس دماغ کے اُس نظام پر اثر کرتی ہے جو خوشی، حوصلہ، توانائی اور کامیابی کا احساس پیدا کرتا ہے۔
یہ دماغ میں ڈوپامین نامی خوشی کے کیمیکل کو ایک دم بہت زیادہ مقدار میں خارج کرواتی ہے۔ اسی وجہ سے نشہ لینے والا شخص خود کو غیر معمولی خوش، پُراعتماد، طاقتور اور انرجی سے بھرپور محسوس کرتا ہے۔ نیند کم ہو جاتی ہے، بھوک ختم ہو جاتی ہے، اور اسے لگتا ہے کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

عام حالات میں یہی کیمیکل تھوڑی مقدار میں اُس وقت نکلتا ہے جب انسان کوئی اچھی کارکردگی دکھائے، امتحان میں کامیاب ہو، اچھا کام کرے یا خوشی کا کوئی موقع ہو۔ مگر آئس اس قدرتی نظام کو زبردستی اور غیر فطری طریقے سے چلاتی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ بار بار آئس لینے سے دماغ آہستہ آہستہ اپنی قدرتی خوشی پیدا کرنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔ پھر جب نشہ نہیں ملتا تو وہی شخص شدید ٹینشن، ڈپریشن، غصہ، بے چینی، شک اور بے خوابی میں چلا جاتا ہے۔
کچھ مریض ایسی آوازیں سننے لگتے ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں، یا ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جو اصل میں نہیں ہوتیں۔ یہی حالت آگے چل کر ایک خطرناک نفسیاتی بیماری کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

پھر وہ اس تکلیف سے بچنے کے لیے دوبارہ آئس لیتا ہے، اور یوں ایک خطرناک چکر شروع ہو جاتا ہے:
جھوٹی خوشی → دماغی تھکن → دوبارہ نشہ → مزید تباہی

وقت کے ساتھ یہ نشہ انسان سے اس کی نیند، صحت، یادداشت، مزاج، خاندان، روزگار اور عزت سب کچھ چھین لیتا ہے۔
وہ ہر وقت غصے، شک اور بے سکونی میں رہنے لگتا ہے۔ بعض اوقات وہ اپنے ہی گھر والوں کو دشمن سمجھنے لگتا ہے، اور یہی چیز پورے معاشرے کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔

اپنے نوجوانوں پر نظر رکھیں۔
اگر کسی میں اچانک:
• نیند ختم ہونا
• وزن کم ہونا
• غیر معمولی خود اعتمادی
• ہر وقت غصہ
• شک کرنا
• عجیب آوازیں سننا
• خود سے باتیں کرنا

شروع ہو جائے، تو اسے صرف “بدتمیزی” یا “غلط صحبت” نہ سمجھیں، بلکہ فوراً ماہرِ نفسیات سے رابطہ کریں۔

آئیس وقتی خوشی دیتی ہے، مگر آخر میں خوشی
محسوس کرنے کی صلاحیت ہی چھین لیتی ہے














17/09/2024

کل دیکھا ایک آدمی اَٹا سفر کی دھُول میں،
گُم تھا اَپنے آپ میں جیسے خشبو پھول میں۔۔!


One important life lesson is to always strive for personal growth and self-improvement. 👤 It's essential to continuously...
07/08/2024

One important life lesson is to always strive for personal growth and self-improvement. 👤

It's essential to continuously learn, adapt, and evolve as a person. Embracing challenges, seeking new experiences, and being open to change can lead to personal development and a more fulfilling life. ✅

Remember, it's okay to make mistakes along the way as they are opportunities for learning and growth. By being resilient, staying positive, and being open-minded, you can navigate life's ups and downs with grace and wisdom.,👏🙌




بلوچستان کے چھوٹے سے گاؤں میاں غنڈی میں شعیب اور رشید دو ایسے بچے ہیں جو  سورج کی روشنی پر چلتےہیں۔۔۔۔سننے میں یہ انتہائ...
22/06/2024

بلوچستان کے چھوٹے سے گاؤں میاں غنڈی میں شعیب اور رشید دو ایسے بچے ہیں جو سورج کی روشنی پر چلتےہیں۔۔۔۔سننے میں یہ انتہائی عجیب ہے لیکن پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز بھی تسلیم کرچکی ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے.
دونوں بچے دن میں بالکل نارمل تھے، لیکن شام کے بعد وہ مفلوج ہو گئے اور صرف سانس لے سکتے تھے۔
وہ ہر روز سورج نکلنے کے بعد معمول پر آجاتے . اور شام کے بعد وہ مفلوج ہو جاتے ۔
پمز ہسپتال اسلام آباد میں ڈاکٹر جاوید اکرم کو رپورٹ کرنے کے بعد نمونہ تحقیق کے لیے امریکا اور یورپ بھیجا گیا۔
درحقیقت، یہ دنیا بھر میں ایک واحد کیس تھا۔

وسیع تحقیق کے بعد، انہوں نے دریافت کیا کہ اس کیس میں، دماغ کے اندر ایک مخصوص نیورو ٹرانسمیٹر جسے ڈوپامائن کہتے ہیں، براہ راست سورج کی روشنی پر منحصر ہے۔
چنانچہ جب سورج غروب ہوتا ہے .نتیجے کے طور پر، ان کی ڈوپامائن کی سطح سورج کی روشنی کے ساتھ کم ہوتی ہے. تو وہ بچے مفلوج ہو جاتے ہیں۔
یاد رکھیں کہ ڈوپامائن جسم کے تمام جسمانی افعال کے لیے ذمہ دار ہے، بشمول بات کرنا، کھانا، ہنسنا، رونا اور چلنا وغیرہ۔

اس کے بعد دونوں بچے دن اور رات میں ڈوپامائن کی گولیاں لینے سے بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم ، وہ رات کو تھوڑا سا زیادہ ڈوپامائن لیتے ہیں۔




29/05/2024

میرا ایمان ہے کہ کسی بھی ادارے کے قیام و استحکام اور فروغ کی اوّلین شرط اور حتمی ضمانت شفافیت ہے۔ شفافیت ہی کی کوکھ سے روزگار کے فروغ کے مواقع جنم لیتے ہیں۔ شفافیت اور مواقع، وہ عناصر نہیں جو سیاستدانوں اور آمروں کو ان کی عوامی زندگی میں درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شفافیت کے ذریعے روزگار کے پُرکشش مواقع کی تخلیق کبھی بدعنوان سیاستدانوں اور آمروں کی اولین ترجیح نہیں رہی۔ وہ ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے ملازمتوں کی فراہمی کے نعرے لگا کر نوجوان نسل کو سیاسی مقاصد کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ محض جھانسا دیتے اور خوش نما وعدے کرتے ہیں۔وہ جان بوجھ کر روزگار اور ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں کرتے تا کہ معاشرے میں غربت پھیلے اور وہ ”غربت مکاوٴ“ جیسے سستے اور جذباتی نعرے لگا کر اپنے مخفی مقاصد حاصل کر سکیں اور سیاسی دکان داری چلا سکیں۔مقام افسوس کہ گزشتہ ساڑھے چھے عشروں سے زائد عرصے سے پاکستان کا مقدر یہی ناخوشگوار صورت حال بنی رہی ہے۔
مجھے مسلمان اور پاکستانی ہونے پر فخر ہے

سچ کا سفر -صدرالدین ہاشوانی.


پاکستانی نوجوانوں میں سنگین  ہارٹ اٹیک کی شرح بڑھ رہی ہے پہلے یہ 45 سے 35سال تک کے  جوانوں میں تھی اچانک ہارٹ فیل اور مو...
02/05/2024

پاکستانی نوجوانوں میں سنگین ہارٹ اٹیک کی شرح بڑھ رہی ہے پہلے یہ 45 سے 35سال تک کے جوانوں میں تھی اچانک ہارٹ فیل اور موت اور اب یہ شرح 20سال تک کے نوجوانوں تک آگئی ہے روز مرہ ایسے بہت سے سانحے سننے کو ملتے ہیں فلاں نوجوان اچانک گرا اور فوت ہوگیا ۔اللہ پاک سب مائوں کے لعلوں کو اپنی امان میں رکھے خدارا اپنا لائف سٹائل صحت مندانہ رکھئے بچوں کو جوسز سافٹ ڈرنکس برائلر گوشت نوڈلز پیزوں برگرز وغیرہ سے دور رکھیں انہیں گوشت مچھلی انڈے بادام کاجو اخروٹ پستے جیسی چیزیں کھانے کی ترغیب دیں تاکہ انکی بنیاد مضبوط ہو سمارٹ فون کی دلدل سے باہر نکلیں کھانا کھا کر سونا اور ایک جگہ بیٹھے رہنا چھوڑیں چلیں پھریں لوگوں سی ملیں انکے دکھ بانٹیں صبح کی سیر کریں پیپسی کوک انرجی ڈرنکس سگریٹ وغیرہ سے دور رہیں.

اس کے علاوہ انڈور گیمز سے گریز کریں اور آؤٹ ڈور گیمز زیادہ کریں۔
ایسے کھیل ضرور کھیلنا چاہیے جو خاص طور پر آپ کے دل کی دھڑکن میں اضافہ کریں اس سے آپ کے دل کے پٹھے مضبوط ہوں گے اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کم ہوگی۔
سائیکل چلانا سوئمنگ پیدل سفر یا فٹ بال وغیرہ کو اپنے روزمرہ کے معمولات میں یا ہفتے میں کم از کم 4 بار ضرور اپنانا چاہیے۔

دل کے دورے کے علامات.

- سینے میں تیز درد یا دباو
- سانس لینے میں تکلیف
- تھکاوٹ یا کمزوری کا احساس
- پسینے کا اخراج
- با ئیں بازو یا کندھے یا جبڑے میں درد
- چکر یا بےہوشی کا احساس
- بے چینی
اگر کوئی شخص دل کا دورہ یا مائیوکارڈیل انفراکشن(MI) کا شکار ہو تو وہ خود یہ اقدامات کرسکتا ہے:

1. ڈسپرین: اگر کوئی ڈسپرین 300- 325 ملی گرام یا دل کو محفوظ رکھنے والی دوا دستیاب ہو تو، اس کو چبا کر نگل لیں۔ دو گھونٹ پانی پی لیں۔

2. آرام کرنا: لیٹ جائیں اور آرام کریں۔ چلنے پھرنے سے گریز کریں۔

3. ایمرجنسی کال کریں: اگر درد بڑھتا ہو یا دل کا دورہ کا شک کرتے ہیں، فوری میڈیکل مدد کے لئے ایمرجنسی نمبر پر کال کریں۔

یہ اقدامات ایک مریض خود کرسکتا ہے، لیکن ضروری ہے کہ وہ جلد سے جلد میڈیکل مدد حاصل کریں۔

ڈاکٹر احتشام خان بابر

Address

Peshawar
25124

Telephone

+923038164757

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Ihtesham Khan Babar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr Ihtesham Khan Babar:

Share