23/05/2026
جب آپ لوگ میڈیکل اسٹور پر جاتے ہیں تو کیا آپ کو واقعی معلوم ہوتا ہے کہ دوا کی اصل قیمت کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ میڈیکل اسٹور والا آپ سے دوگنی قیمت وصول کر رہا ہو، یا اپنی مرضی کا کوئی تھرڈ کلاس برانڈ دے رہا ہو جسے کھانا یا نہ کھانا ایک جیسا ہو؟
کوشش کریں کہ دوائیں ہمیشہD-Watson یا Shaheen Chemist جیسےقابلِ اعتماد میڈیکل اسٹورز سے لیں تاکہ فراڈ کے امکانات کم ہوں۔ کچھ آن لائن میڈیکل اسٹورز بھی ہیں جیسے DVAGO، Vitamin House، Medspotpk اور Dawailo۔ ان کے بارے میں Reddit پر بھی اچھے ریویوز دیکھنے کو ملے ہیں۔
یہ نسبتاً آسان اور محفوظ طریقہ ہے کیونکہ ان کی قیمتیں فکس ہوتی ہیں، ناجائز منافع خوری کم ہوتی ہے، اور زیادہ تر رجسٹرڈ ملٹی نیشنل برانڈز دستیاب ہوتے ہیں۔ ان کے پاس عموماً کوالیفائیڈ فارماسسٹ بھی موجود ہوتا ہے۔ جبکہ اکثر مقامی میڈیکل اسٹورز پر غیر رجسٹرڈ یا لوکل برانڈز کی دوائیں رکھی جاتی ہیں جو وہ بہت کم قیمت پر خریدتے ہیں اور پھر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کسی دوا پر 150 روپے قیمت لکھی ہو تو بعض اوقات وہی دوا 60 روپے میں خرید کر 300 روپے میں بیچ دی جاتی ہے، خاص طور پر اگر سامنے کوئی سادہ یا غیر تعلیم یافتہ شخص ہو۔ دوسری طرف ملٹی نیشنل برانڈز میں میڈیکل اسٹور والوں کا منافع نسبتاً کم ہوتا ہے، اسی لیے وہ اکثر کہتے ہیں:
“سر، فارمولا تو ایک ہی ہے” یا “یہ والی تو ڈاکٹر کی لکھی ہوئی دوا سے بھی زیادہ اچھا کام کرتی ہے۔”
ایک اور طریقہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ Pharmapedia Pakistan ایپ استعمال کریں، جس میں تقریباً ہر دوا کی قیمت اور تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ DRAP کا بارکوڈ
اسکینر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ دوا کی تصدیق کی جا سکے۔
تحریر; ڈاکٹر محمد احتشام خان بابر.