19/02/2026
آج میں ایک نہایت اہم مسئلے پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جہاں ایک شخص سے جلسے میں کچھ نامناسب الفاظ نکل گئے تھے۔ لوگوں نے یہ سمجھا کہ اس نے نعوذباللہ اسلام اور حضور پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے، اور اسی بنیاد پر ہجوم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور بے دردی سے قتل کر دیا۔
اب ذرا یہاں رک کر ایک بات پر غور کریں۔
روزہ کیا دین کا حصہ نہیں؟ کیا یہ عبادت نہیں؟
آج کل رمضان جیسے بابرکت مہینے میں روزے اور عبادت کا مذاق بنایا جا رہا ہے۔ مختلف گروپس میں فنی اور مذاقیہ وائس میسجز شیئر کیے جا رہے ہیں، جن میں کہا جاتا ہے کہ
“شیطان کو لے جایا جا رہا ہے، آپ چپ جائیے”
اور اس طرح کی باتیں کی جاتی ہیں۔ کیا یہ دین کا مذاق نہیں؟ کیا یہ عبادت اور اس بابرکت مہینے کی بے حرمتی نہیں؟
اسی طرح شادی کو دیکھ لیں۔
شادی سنت ہے، اور سنت پر عمل کرنا عبادت ہے۔
جب اس عبادت میں ڈھول، ناچ گانا اور غیر مناسب رسومات شامل کی جاتی ہیں تو کیا یہ عبادت کی توہین نہیں؟ کیا یہ بھی دین کا مذاق نہیں؟
اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم دین کے کچھ معاملات پر تو انتہائی ردِعمل دکھاتے ہیں، لیکن جہاں دین ہماری اپنی خواہشات کے خلاف آتا ہے وہاں ہم اسے مذاق بنا لیتے ہیں۔
براہِ کرم اس رویّے پر غور کریں، خاص طور پر اس بابرکت مہینے رمضان میں۔ دین کا احترام کریں، دین کو مذاق نہ بنائیں، اور خود بھی اس سے باز آئیں اور دوسروں کو بھی روکیں۔۔