19/01/2026
آج وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کی زیرِ صدارت باجوڑ قومی امن جرگہ کے مشران کے ساتھ موجودہ بدامنی کی صورتحال پر ایک طویل اور اہم جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے میں حالیہ ٹارگٹڈ آپریشن کے بعد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ضلع باجوڑ میں امن و امان کے قیام سے متعلق مختلف امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
جرگے میں باجوڑ امن جرگہ کے مشران نے وزیرِ اعلیٰ کے سامنے ضلع باجوڑ کی ری ہیبیلیٹیشن سے متعلق تفصیلی مطالبات پیش کیے۔ ان مطالبات میں متاثرہ علاقوں کے لیے ترقیاتی اسکیموں کی فل فنڈنگ، باجوڑ کے لیے ایک خصوصی انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ پیکج، اور ضلع کے تمام سرکاری اسکولوں کے لیے منظور شدہ فنڈز کی مکمل اور بروقت ریلیز شامل تھی۔
جرگہ مشران نے دہشت گردی اور آپریشن سے متاثرہ گھروں کے مکمل سروے اور معاوضے کی رقم ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ باجوڑ کے لیے سیف سٹی پراجیکٹ میں خار بازار، پاٹک بازار اور لغڑی بازار کو شامل کرنے کی درخواست کی گئی۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ ان تمام امور پر فوری کام شروع کیا جائے۔ پولیس کوٹہ بڑھانے اور بھرتی کے لیے عمر کی حد 25 سال سے بڑھا کر 30 سال کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ باجوڑ میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام کے حوالے سے کیے گئے وعدے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت جاری کی گئی، جبکہ شہداء پیکج دس دن کے اندر ریلیز کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے غیر فعال باجوڑ نرسنگ کالج کو مکمل طور پر فعال کرنے، جرگہ ممبران کی سیکیورٹی یقینی بنانے، اور دیر موٹروے کو باجوڑ تک توسیع دینے کے مطالبے پر بھی یقین دہانی کرائی۔ ترقیاتی کاموں کے فنڈز کی فوری ریلیز، چارمنگ میں دو ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، اور چارمنگ و شریف خانہ جنرل شاہ کے دیگر متاثرین کی فوری رجسٹریشن کی بھی ہدایات جاری کی گئیں۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے باجوڑ امن جرگہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پچھلے آپریشنز کے دوران جرگہ نے اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کر کے باجوڑ کو بڑے نقصان سے بچایا۔
جرگہ کے شرکاء نے وزیرِ اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ امن و امان کے قیام کے لیے وہ صوبائی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔