30/12/2025
جیت کا سہارا ہجوم ہوتا ہے،
شکست کا سہارا وفا
جیت انسان کی زندگی کا وہ لمحہ ہوتی ہے جس میں روشنی، شور اور ہجوم سب ایک ساتھ اُمڈ آتے ہیں۔ کامیابی کے بعد دنیا اچانک بہت مہربان ہو جاتی ہے، چہرے مسکراہٹوں سے بھر جاتے ہیں اور ہر ہاتھ گلے ملنے کو بڑھ جاتا ہے۔ اُس وقت تعریفیں بھی ملتی ہیں، دعوے بھی کیے جاتے ہیں اور تعلقات بھی مضبوط دکھائی دیتے ہیں، مگر اکثر یہ سب فتح کی چمک سے پیدا ہونے والا فریب ہوتا ہے۔ اصل امتحان اُس وقت شروع ہوتا ہے جب قسمت کا پہیہ پلٹتا ہے اور انسان ہار کے سائے میں کھڑا ہوتا ہے۔ شکست کے لمحے میں وہی دنیا خاموش ہو جاتی ہے جو کل تک ساتھ ہونے کے دعوے کر رہی تھی۔ ہجوم چھٹ جاتا ہے، آوازیں مدھم پڑ جاتی ہیں اور تعلقات کا وزن کم ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں جو شخص آگے بڑھ کر گلے لگاتا ہے، وہ محض تسلی نہیں دیتا بلکہ اپنے ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ہار کے بعد ملنے والا گلے کا لمس انسان کے ٹوٹے ہوئے حوصلے کو جوڑ دیتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ انسان صرف اپنی کامیابی سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ اس کی ناکامی میں ساتھ دینے والوں سے پہچانا جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں رشتوں کی حقیقت کھلتی ہے اور چہروں کے پیچھے چھپی نیتیں بے نقاب ہو جاتی ہیں۔ جیت میں ساتھ دینے والے اکثر فائدے کے مسافر ہوتے ہیں، مگر ہار میں ساتھ دینے والے وفا کے امین ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ انسان کی زندگی کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اس وقت ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جب دنیا منہ موڑ لیتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کامیابی انسان کو مشہور بناتی ہے، مگر ناکامی انسان کو باشعور کرتی ہے۔ ہار کے بعد ملنے والا ایک سچا گلے، سینکڑوں جیت کے جھوٹے دعووں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ وہ انسان کو خود سے جوڑ دیتا ہے اور سکھا دیتا ہے کہ اصل اپنائیت شور میں نہیں، خاموش ساتھ میں ہوتی ہے۔