26/08/2026
2013 سے پاکستان کے کھیلوں میں ادارہ جاتی کشمکش جاری ہے، سب سے زیادہ نقصان کھلاڑی کا ہوا: محمد اسلام ناطق
پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے ایگزیکٹو ممبر محمد اسلام ناطق نے کہا ہے کہ پاکستان کے کھیلوں میں ادارہ جاتی کشمکش کا سلسلہ 2013 سے جاری ہے اور یہ مسئلہ صرف ویٹ لفٹنگ تک محدود نہیں رہا۔
ان کے مطابق پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA)، پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) اور مختلف قومی کھیلوں کی فیڈریشنز کے درمیان اختیارات اور انتظامی معاملات پر اختلافات نے کھیلوں کے نظام کو متاثر کیا ہے۔
محمد اسلام ناطق کا کہنا ہے کہ مختلف ادوار میں بعض کھیلوں میں متوازی یا متبادل انتظامی ڈھانچے سامنے آتے رہے، جبکہ بین الاقوامی کھیلوں کے ادارے اپنی تسلیم شدہ فیڈریشنز کے ذریعے معاملات کو دیکھتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ادارہ جاتی کشمکش کا سب سے بڑا نقصان کھلاڑیوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جو برسوں کی محنت کے بعد بین الاقوامی سطح تک پہنچتے ہیں لیکن انہیں کھیلوں سے متعلق تنازعات، انتظامی رکاوٹوں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق طلحہ طالب جیسے اولمپین بھی اس صورتحال سے متاثر ہوئے، جنہیں کھیلوں میں مزید سہولیات اور مستقل سپورٹ کی ضرورت تھی۔
محمد اسلام ناطق نے کہا کہ 2013 سے اب تک کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے کھیلوں میں ادارہ جاتی اختلافات کا ایک مسلسل سلسلہ نظر آتا ہے، جس کا براہِ راست اثر کھلاڑیوں کی تیاری، کیریئر اور پاکستان کی بین الاقوامی کھیلوں میں کارکردگی پر پڑتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت، پاکستان اسپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور قومی کھیلوں کی فیڈریشنز کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کو واضح کیا جائے تاکہ ادارہ جاتی تنازعات کے بجائے کھلاڑیوں کی تربیت اور کارکردگی کو ترجیح دی جا سکے۔