KP Forum

KP Forum We aim to bring you news, knowledge, & analyses on security, politics, & all that matters to KP 📍

09/09/2026

7 ستمبر 2026

‼️ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ یہ وزیرستان میں پاک آرمی کے جوانوں کے مابین پانی پر لڑائی ہو گئی

حقیقت میں والی بال کھیلتے ہوئے دو ٹیموں کے درمیاں جھگڑے کی ہے

کھیل کے میدان میں پیش آنے والے اس عام اور معمولی واقعے کو غلط رنگ دے کر اب پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہ

09/09/2026

چھوٹے صوبوں کی ضرورت - ایک اٹل حقیقت‼️

گزشتہ کئی روز سے چھوٹے صوبوں کی تشکیل پر جاری بحث کے نتیجے میں مختلف سیاسی جماعتوں، اداروں اور پاکستان کے عوام کا موقف سامنے آ چکا ہے۔

پاکستان کے عوام اور استحصالی سیاسی عناصر آپس میں صف آرا ہو چکے ہیں۔ اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم یہ سیاسی عناصر عوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی سیاسی راجدھانیوں کے تحفظ میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔

یہ عناصر آئین کے آرٹیکل 2A کے تحت عوامی رائے کی بالادستی کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اپنی موروثی سیاست کو زیادہ مقدم سمجھتے ہیں۔

دہائیوں پر محیط گورننس کے مسائل، کرپشن اور ان عناصر کے ہاتھوں عوام کا استحصال، انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت کو مزید واضح کرتا ہے؛ کیونکہ یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان مسائل سے نجات کا واحد حل چھوٹے صوبوں کی تشکیل ہے، جس سے موروثی سیاسی قیادت کے بجائے نئی قیادت ابھرے گی جو عوام کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے لیے متحرک ہوگی۔

اس سلسلے میں براہِ راست عوامی رائے کے حصول کے لیے ریفرنڈم کا انعقاد واحد حل ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے سامنے آنے والی عوامی رائے کا احترام پاکستان کے تمام مکتبہ ہائے فکر پر لازم ہوگا، کیونکہ اس ملک کا آئین اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے بعد عوامی رائے کے احترام پر زور دیتا ہے۔

اگر کوئی سیاسی عناصر اس عوامی رائے کو نظر انداز کریں گے تو یہ ان کی ذاتی ترجیحات کی عکاسی کرے گا اور ان کو سخت عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چھوٹے صوبوں کا تصور عوام میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ اس مثبت عوامی رد عمل کے بعد اس تصور کو ایک مخصوص بیانیے کے تحت لاحاصل بحث مباحثے کی نظر کرنا عوامی رائے کی توہین ہے، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے اور ملک کے انتظامی ڈھانچے میں فوری بہتری لانے کے لیے اس تصور کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے۔

چھوٹے صوبوں کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں کی اکثریت عوامی رائے سے اتفاق کرتی ہے۔ حکومتی جماعت کے سرکردہ زعماء کئی دفعہ نئے صوبوں کے حق میں رائے دے چکے ہیں اور دیگر جماعتوں کے متعدد اراکین بھی نئے صوبوں کی تشکیل کے حق میں ہیں۔لہذا یہ تاثر پیدا کرنا کہ سیاست دانوں کی اکثریت نئے صوبے بنانے کی مخالف ہے قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل پر جاری بحث کے دوران صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی اصطلاحات کے استعمال کے دوران جان بوجھ کر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں یہ واضح ہے کہ نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر استوار ہوں گے جن کی تعداد اور حجم کی بنیاد انتظامی امور میں آسانی، عوامی آسائش اور رسائی اور جغرافیائی عوامل پر ہوگی۔

اب وقت آگیا ہے کہ ملک کو درپیش سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے وہ تمام اقدامات اٹھائے جائیں جو لسانیت صوبائیت اور سیاسی مفادات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔


08/09/2026

‼️ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا قیام - خیبر پختونخواہ کے نوجوانوں کی رائے

جو نئے صوبے بن رہے ہیں، اس کا ہمارے عوام کو ہی فائدہ ہو گا۔ کیونکہ اس سے کرپشن میں کمی آئے گی، طالب علم

دوسرا، ہمارے فنڈز مختلف ڈسٹرکٹس تک پہنچ جائیں گے، طالب علم

تیسرا، نوکری نہیں مل رہی، تو جب صوبے بنیں گے اس سے مختلف ادارے اور مختلف ڈیپارٹمنٹس تشکیل میں آئیں گے، تو اس سے ہمارے یوتھ کو روزگار ملے گا۔ طالب علم

صوبے زیادہ ہونے چاہئیں کیونکہ، کے پی میں جو زیادہ تر فوکس پشاور اور مین سیٹیز پر ہو رہا ہے۔ جسکی وجہ سے ان شہروں میں بہت زیادہ مشکلات ہو رہی ہیں۔ طالبہ

میں کہتی ہوں کہ اگر نئے صوبے بنیں گے اس سے فائدہ ہوگا۔ پاکستان کی اکانومی کو، قبائلی علاقوں کو فائدہ ہو گا، کیونکہ ابھی اگر ہمارے ایک پشاور میں کام ہوتا ہے، تو ایسا شو کیا جاتا ہے کہ پورے کے پی کے میں کام کیا جا رہا ہے، لیکن ایسا نہیں ہوتا، جو ہمارے پاس باقی علاقے ہیں، ان کو زیادہ تر توجہ نہیں دی جاتی، طالبہ

ایشیا میں یا یورپ میں دیکھیں، تو ہمارے جتنے بڑے بڑے صوبے ہیں، ان کے اتنے اتنے ایک ایک ملک ہیں اور وہ بھی دس اور بارہ صوبوں پر تقسیم کیے ہوئے ہیں۔ اگر ہم بھی یہ چار صوبوں کو چھوٹے چھوٹے صوبوں میں تقسیم کریں، تو اس سے ایک تو فائدہ یہ ہو گا کہ ہمیں حکومت تک رسائی آسان ہوجائے گی
اور ہر علاقے کے پیسے وہاں کے لوگوں پر ہی لگیں گے۔ طالب علم

میرے خیال میں صوبوں کی تقسیم اچھی چیز ہے، کیونکہ اس سے گورنمنٹ میں اور عوام میں فاصل کم ہو جائے گا، طالبہ

ہر صوبے کے لوگوں کو موقع ملے گا کہ وہ گورنمنٹ میں پارٹیسیپیٹ کریں، پالیسی میکرز کے ساتھ انٹریکٹ کر سکیں، جو کہ صرف چار صوبہ کے ہونے کی وجہ سے لوگ بہت کم طور پر کر سکتے ہیں۔ طالبہ

08/09/2026

6 ستمبر 2026
فتنہ الخوارج آڈیو لیک

‼️فتنہ الخوارج کا افغان طالبان کے ساتھ گٹھ جوڑ اور وانا و اعظم ورسک میں دہشت گردی کی گھناؤنی سازش- دو خوارج کی کال لیک

منظر عام پر آنے والی آڈیو لیک میں خارجی شیرین اور خارجی فاتح کو افغان طالبان کی ہدایت پر اعظم ورسک، وانا اور ملحقہ علاقوں میں خودکش گاڑی کے ذریعے حملے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

آڈیو میں فتنۃ الخوارج اور افغان حکومت کا گٹھ جوڑ واضح ہے، جہاں افغان قیادت سے اجازت نہ ملنے کے باوجود خوارج اس کاروائی کو عملی جامہ پہنانے پر مشاورت کر رہے ہیں۔

حال ہی میں 2 ستمبر کو بھی فتنۃ الخوارج نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جسے سیکیورٹی اداروں نے عوام کے تعاون سے ناکام بنا دیا۔

خارجی دہشت گرد اس سے قبل بھی اعظم ورسک، کیڈٹ کالج وانا، کڑی کوٹ اور شین ورسک میں دہشت گردی کے متعدد واقعات انجام دے چکے ہیں جن میں کئی معصوم شہری شہید اور زخمی ہوئے۔

خوارج کی ان بزدلانہ کاروائیوں کے پیش نظر وانا، اعظم ورسک، سپین، ثمر باغ، توئی خلہ اور تنائی کے رہائشیوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشکوک شخص یا سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

باجوڑ ، تحصیل ماموند خوارج کے سہولت کاروں کے گڑھ، باجوڑ  کی تحصیل ماموند میں خوارج نے بوڑھے باپ کے نوجوان ڈاکٹر بیٹے کو ...
08/09/2026

باجوڑ ، تحصیل ماموند

خوارج کے سہولت کاروں کے گڑھ، باجوڑ کی تحصیل ماموند میں خوارج نے بوڑھے باپ کے نوجوان ڈاکٹر بیٹے کو شہید کر دیا

بوڑھے باپ کی بیٹے کی قبر کے ساتھ اُس کی یاد میں روتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا پے وائرل ہیں-

28 اگست 2026 کو باجوڑ کے ماموند شاگو چوک میں فتنہ الخوارج کی فائرنگ سے معروف ڈاکٹر غلام فاروق کے اکلوتے بیٹے برہان کو شہید کردیا

پختون معاشرے پر خوارج نے کیسے ظلم ڈھایا ہوا ہے ؟ آخر کب تک باپ اپنے جوان بیٹوں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟

خوارج کے ہاتھوں سب سے زیادہ نقصان اسی پختون معاشرے کو پہنچ رہا ہے جس کے نام پر وہ اپنی دہشت گردی کو جواز دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہاں پر سب سے بڑا سوال ان خوارج کے حمایتی لوگوں سے بھی ہے جو ہر بار سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خوارج کے خلاف فیصلہ کن کاروائی اور علاقوں کو کلیئر کرنے کی بات پر سامنے آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپریشن نہیں ہونا چاہیے۔

اگر ان کے ٹھکانے ختم نہیں کیے جائیں گے تو پھر برہان جیسے بے گناہ نوجوانوں کو کون بچائے گا؟

کیا پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب ہے جو آج ڈاکٹر غلام فاروق جیسے باپ کے سامنے کھڑے ہیں؟

برہان کا خون اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خوارج کے خلاف فیصلہ کن اور مؤثر کارروائی کی جائے، ان کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کا خاتمہ کیا جائے اور پختون عوام کو مستقل امن فراہم کیا جائے۔

08/09/2026

6 ستمبر 2026
پشاور
یومِ دفاع و شہداء

یومِ دفاع و شہداء کی مناسبت سے پشاور گیریژن کرنل شیر خان شہید سٹیڈیم میں پاک فوج کے زیرِ اہتمام خصوصی نمائش کا انعقاد

نمائش میں پاک فوج کے مختلف شعبوں کے جدید ساز و سامان اور آلات پر مشتمل خصوصی اسٹالز لگائے گئے ۔

سگنلز، انفنٹری اور انجینئرنگ سمیت پاک فوج کے مختلف شعبوں کے اسٹالز نمائش کا حصہ تھے ۔

خیبر پختونخوا پولیس اور ریسکیو 1122 کی جانب سے بھی خصوصی اسٹالز قائم کیے گئے ۔

نمائش میں پاک فوج کے زیرِ استعمال مختلف آلات، گاڑیوں اور دیگر ساز و سامان کو عوام کی آگاہی کے لیے پیش کیا گیا ۔

نمائش دیکھنے کے لیے پشاور کے شہریوں کی بڑی تعداد کرنل شیر خان شہید سٹیڈیم پہنچی، عوام کا جمِ غفیر

شہریوں، نوجوانوں اور بچوں نے پاک فوج کے مختلف شعبوں کے اسٹالز میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ۔

عوام نے پاک فوج کی جانب سے نمائش کے انعقاد کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور پاک فوج سے محبت و عقیدت کے جذبات کا اظہار کیا ۔

08/09/2026

6 ستمبر 2026
چترال کو الگ صوبہ بنایا جائے

انتطامی بنیادوں پر نئے صوبوں / یونٹس کے حوالے سے چترال کے عوام کی رائے

چترال دیگر علاقوں سے سے بہت بڑا ضلع ہے ۔ اگر سوات، دیر کو ملا کر چترال کو الگ صوبہ بنایا گیا تو اچھا ہوگا ۔عوام

ہمارے لوگ ابھی وزیرِاعلیٰ نہیں بن سکتے، اور نہ ہی ہماری ان تک رسائی ہے۔عوام

نئے صوبے کے وزیرِاعلیٰ اور کابینہ کو چاہیے کہ وہ کرپشن سے پاک ہوں۔عوام

چترال کے لوگوں کی ابھی وزیرِاعلیٰ سے ملنا تو دور کی بات، اپنے منتخب نمائندوں سے بھی نہیں مل پاتے۔عوام

الگ انتظامی یونٹ یا صوبہ بنایا گیا تو یہ نہ صرف چترال بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثبت قدم ہوگا۔عوام

انتظامی یونٹس اور چھوٹے صوبوں کے حوالے سے جو پیشرفت ہوری ہے. یہ بحیثیتِ چترالی اور بحیثیتِ پاکستانی ہمارے مفاد میں ہے۔عوام

انتظامی یونٹس یا چھوٹے صوبے بننے سے عام شہری کی سرکاری حکام تک رسائی ممکن ہوگی۔عوام

نئے صوبے کا وزیر اعلیٰ کو جذباتی نہیں بلکہ عوامی فائدے کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ عوام

اگر چترال اپر و لوئر ، دیر اپر ، دیر لوئر کو ملا کر صوبہ بنایا جائے تو بہتر ہوگا۔ عوام


پشاور میں ملٹری انٹیلیجنس کے دفتر پر کوئی خوارجی حملہ نہیں ہوافتنہ الخوارج سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے سوشل میڈیا پر دعو...
08/09/2026

پشاور میں ملٹری انٹیلیجنس کے دفتر پر کوئی خوارجی حملہ نہیں ہوا

فتنہ الخوارج سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پشاور میں ملٹری انٹیلیجنس کے دفتر پر خوارجی حملہ کیا گیا ہے۔

یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد اور جھوٹا ہے۔ پشاور میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

عوام سے اپیل ہے کہ فیک خبروں اور گمراہ کن پراپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور صرف مستند و قابلِ اعتماد ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر بھروسہ کریں۔

افغانستان میں گلبدین حکمتیار کا طاقتور دھڑا بھی افغان طالبان کے خلاف کھل کر سامنے آگیا، صوبہ لوگر کے انتظامی معاملات، طا...
07/09/2026

افغانستان میں گلبدین حکمتیار کا طاقتور دھڑا بھی افغان طالبان کے خلاف کھل کر سامنے آگیا، صوبہ لوگر کے انتظامی معاملات، طالبان اہلکاروں کے رویے اور مختلف پارٹیوں کے فنڈز میں کرپشن کرنے پر طالبان قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔۔!!

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KP Forum posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share