Engineer Syed Noor Official

Engineer Syed Noor Official Software Engineer

19/04/2026

ایف آئی اے میں مشتہر ہر آسامی کے لیے 2000 روپے اپلائی فیس مقرر کرنا بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ موجودہ بے روزگاری کے حالات میں امیدواروں کے لیے اتنی زیادہ فیس ادا کرنا مشکل ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہر آسامی کے لیے فیس 500 روپے مقرر کرے۔

Duaien.. ゚
08/04/2026

Duaien..

بالغ ویب سائٹس پر پاکستانی مواد کی بھرمار کیوں ۔۔؟؟؟نوٹ: یہ پوسٹ صرف بالغوں کے لئے ہے۔ خواتین اپنے رسک پر پڑھ سکتی ہیں۔ ...
01/04/2026

بالغ ویب سائٹس پر
پاکستانی مواد کی بھرمار کیوں ۔۔؟؟؟
نوٹ: یہ پوسٹ صرف بالغوں کے لئے ہے۔
خواتین اپنے رسک پر پڑھ سکتی ہیں۔ شرمیلے
اور کٹر لوگ اس پوسٹ سے صرفِ نظر کر دیں۔
نوجوان بچوں کے والدین لازمی پڑھیں۔
____
ہمارے ایک کولیگ بتا رہے تھے کہ میرے ایک دوست کی نئے اور پرانے موبائل کی خرید وفروخت کی دکان ہے۔ ایک دن اس دوست کے پاس اس کی دکان میں بیٹھا تھا کہ ایک ماڈرن سی خوش شکل لڑکی اپنی ماں کے ساتھ موبائل لینے آئی۔ ایک پرائس رینج بتا کر پوچھا کہ اس میں اچھا موبائل کونسا ہے جس کا کیمرہ ، میموری اور سپیڈ اچھی ہو۔ میرے دوست نے پوچھا کہ پہلے آپ کونسا موبائل استعمال کر رہی تھیں اور تبدیل کرنے کی وجہ؟ مزید یہ کہ آپ کا استعمال کیا ہے تاکہ اس لحاظ سے آپ کو بہتر موبائل بتا سکوں۔ اس نے پرانا موبائل دکھایا ہوئے کہا کہ پہلے سیمسنگ کا یہ موبائل ہے اور ہیلڈ ہوجاتا ہے اس لیے کوئی نیا لینا ہے۔ مزید کہا کہ آنلائن ایگزام ہو رہے یونیورسٹی کہ تو اچھی سپیڈ والا چاہیے۔
میرے دوست نے سیمسنگ اور چائنیز کمپنی کے دو تین موبائل دکھائے جس میں اسے سیمسنگ کا ہی ایک موبائل پسند آگیا۔ پیسے دینے لگی تو دوست نے پوچھا کہ پرانا بیچنا ہے؟
اس نے کہا کہ نہیں ابھی تو نہیں بیچنا۔
میرے دوست نے کہا کہ اگر بیچنا ہے تو میں اٹھارہ ہزار دیتا ہوں اس کا۔
اٹھارہ ہزار کا سن کر وہ لڑکی، اس کی ماں اور میں بھی حیران ہو گیا کیونکہ وہ موبائل دس ہزار کا بھی نہیں تھا۔
سب کو حیران ہوتے دیکھ کر دوست کہنے لگا کہ میں نے آٹھ کہنا تھا لیکن غلطی سے اٹھارہ کہہ دیا ہے۔ لیکن میں اپنی زبان پر قائم ہوں۔ ابھی بیچنا ہے تو اٹھارہ مائنس کر کے باقی پیسے دے دیں۔
لڑکی کی اماں فوراً سے راضی ہو کر کہنے لگی کہ دے دو کیونکہ اتنے تو کسی نے نہیں دینے۔
وہ لڑکی کہنے لگی، نہیں اس میں میرا سارا ڈیٹا ہے۔ ابھی پہلے نیو موبائل میں کرونگی پھر بیچوں گی۔
میرے دوست نے کہا کہ ابھی دو منٹ لگنے ، دونوں سیمسنگ کے ہیں، ابھی بیک اپ کر کے اس نئے میں کر دیتا ہوں۔ اس کے بعد آپ اس پرانے کو ری سیٹ فیکٹری سیٹنگ کر دینا تو سب کچھ اڑ جائے گا۔ ابھی اٹھارہ دے رہا ہوں۔ بعد میں آٹھ ہی دونگا۔
تھوڑے سے پس و پیش کے بعد ماں کی طرف سے اصرار کی وجہ سے لڑکی مان گئی۔
دوست نے اسی وقت بیک اپ کر کے نئے موبائل میں کر دیا۔ ان کے جانے کے بعد میں نے دوست سے پوچھا کہ یہ کیا کیا تو نے؟ اتنا مہنگا لے لیا۔ اتنا گھاٹے کا سودا کیوں کیا تو نے؟
وہ شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگا، تو ابھی بچہ ہے۔ تجھے کچھ بھی نہیں پتہ۔ اس میں اتنے پیسے ملتے ہیں کہ سوچ ہے تیری۔ تو چائے پی ابھی ایک جھلک دکھاتا ہوں۔
تب تک دوست اس موبائل کو ڈیٹا ریکوری پر لگا چکا تھا۔
کہنے لگا کہ ہم تو دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں۔ پھر اچھے کیمرے اور اچھی سپیڈ والے موبائل کی ڈیمانڈ، پرانا موبائل بیچنے پر اس کا اتنا ہچکچانا۔ پھر ہمیں پتہ ہے کہ یہ موبائل غلط چیزیں کھولنے پر ہی ہیلڈ ہو سکتا ہے۔ ان ساری چیزوں کی وجہ سے میں نے ایک جوا کھیلا ہے۔ لگ گیا تو لاکھوں آئیں گے، نہ لگا تو پانچ دس ہزار کا نقصان بس۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تو چائے پینے لگا۔ اس سے گپ شپ کے دوران وہ مسلسل اس کے ڈیٹا ریکوری میں لگا رہا۔ جب میں نے جانے کے لیے اجازت چاہی تو کہتا چلے جانا بس دیکھتے جاؤ کہ میں نے اتنے پیسے کس لیے بھرے ہیں۔ پھر اس نے اس لڑکی کی ایسی ایسی ویڈیوز اور تصاویر دکھائیں کہ میں حیران ہو گیا۔ اسے کہا کہ یار اس کی عزت نہ اچھالو۔ وہ کہتا جس نے اپنی عزت کا خود خیال نہ کیا ہو اس کی عزت کا پاس میں کیوں کروں۔

ایک اور دوست سے بات ہوئی جو استعمال شدہ موبائل فون کی خرید وفروخت کا کام کرتا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اس کام میں اتنی بچت کیسے ہے جبکہ ایک دن میں دو چار موبائل سے زیادہ کی تو خرید وفروخت نہیں ہو پاتی ہے۔ تھوڑی بہت رد وکد کے بعد اس نے بتایا کہ جب بھی کوئی موبائل ہمارے پاس بکنے یا ٹھیک ہونے کے لیے آتا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ موبائل کس کے زیر استعمال رہا ہے۔ اس پر خاص نظر یہ رکھی جاتی ہے کہ اگر موبائل کالج یا یونیورسٹی کے کسی شاطر اور ہینڈسم لڑکے یا خوبصورت لڑکی کے زیر استعمال رہا ہو تو کسی بھی صورت میں اسے خرید لیا جاتا ہے (اس کے الفاظ کو مہذب الفاظ میں لکھا ہے) یا ٹھیک ہونے کے لیے آیا ہو تو کل کا وقت دیا جاتا ہے۔ پھر ایسے موبائل کو سب سے پہلے ڈیٹا ریکوری پر لگایا جاتا ہے۔ اب کوئی بھی موبائل ایسا نہیں ہوتا جس میں قابل اعتراض تصاویر نہ ہوں۔ دوسری تصاویر کے تقابل سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز اس کی اپنی ہیں یا انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں۔ اپنی ہوں تو ویڈیوز اور تصاویر کی تعداد، کوالٹی وغیرہ کے لحاظ سے بیچا جاتا ہے۔ جہاں سے یہ مختلف بالغ ویب سائٹس کو فروخت ہوتی ہیں۔

مزید اس نے بتایا کہ جب بھی آپ موبائل ٹھیک کروانے جائیں تو چاہے چھوٹا سا بھی مسئلہ ہو یہی کہا جاتا کہ کل ٹھیک ہو گا۔ وجہ یہ ہوتی کہ جب کوئی موبائل بیچنے آتا تو اکثر سب کو اڑا کر اور ریسیٹ کر کے لاتا ہے جس کی وجہ سے ڈیٹا ریکوری تھوڑی مشکل ہوتی مگر جو ٹھیک کروانے لائے تو اس کا تو فوراً سے سب کچھ سامنے آ جاتا ہے۔ پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ موبائل کس کے زیر استعمال ہے۔ وہاں سے یہ اکثر ہاتھ لگتا ہے۔
اس دوست کے بقول شاید ہی کوئی موبائل والا ہو جو یہ نہ کرتا ہو ورنہ سب نے ہی مہنگے مہنگے ڈیٹا ریکوری سافٹ وئیر خرید رکھے ہوتے ہیں۔

اس سب کا حل کیا ہے؟
پہلی بات تو یہ کہ جب بھی کوئی موبائل لیں تو اچھی طرح سوچ سمجھ کر لیں اور پھر اسے لمبے عرصے تک استعمال کریں اور کبھی نہ بیچیں۔ بیچنا ناگزیر ہو تو پھر کم سے کم چار پانچ مرتبہ اس کو مختلف غیرضروری فائلز سے بھریں اور ری سیٹ کرکے سب کچھ اڑائیں۔ پانچ دفعہ ایسے کرنے سے بہت کم ایسا چانس ہوگا کہ کچھ ملے اور اگر کچھ ریکور ہو بھی گیا تو دوسری فائلز اتنی زیادہ ہونگی کہ ان میں سے اصل کو ڈھونڈنا ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہوگا۔
کبھی موبائل ٹھیک کروانا پڑے تو پاس کھڑے ہو کر کروائیں اور جو کہے کہ کل لے جانا اسے ہرگز نہ دیں۔ کہے کہ کوئی پرزہ منگوانا پڑے گا تو اسے کچھ ایڈوانس رقم دے کر کہیں کہ منگوا لے میں کل آ جاؤں گا۔
لیکن اس سے بھی زیادہ اچھا یہ ہے کہ ایسا کچھ بنائیں ہی نہ اور موبائل کو پاک صاف رکھیں (اگرچہ یہ آج کل کے دور میں بہت ہی مشکل ہے کہ کوئی اس پر عمل پیرا ہو)۔
اور آخری اور سب سے اہم گزارش نوجوانوں کے والدین سے ہے۔ آپ کی اولاد چودہ پندرہ سال کی عمر میں ہی جوان ہوجاتی ہے۔ اور ہر انسان جوان ہوتے ہی جنسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میرا بیٹا یا میری بیٹی تو بہت شریف ہے تو یہ غلط استدلال ہے۔ کیونکہ جب ایک ضرورت ہے تو اسے جائز طریقے سے پورا کرنے کا انتظام نہیں کریں گے تو وہ غلط طریقے سے ہی پورا ہو گا۔ گرل فرینڈ بوائے فرینڈ کا تعلق بہت عام ہے اب اور اس تعلق میں موبائل کے ذریعے ویڈیوز اور تصاویر کا تبادلہ بھی کوئی بعید از قیاس بات نہیں ہے۔
اپنے بچوں کی بالغ ہوتے ہی شادی کر دیں اور وہاں جہاں وہ چاہیں۔ ذات برادری کے بکھیڑوں سے اب نکل آئیں۔ ورنہ آپ کی یہ فضول ضد آپ کی اولاد کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ کر دیتی ہے۔ اگر کسی بھی وجہ سے رخصتی ممکن نہیں ہے تو پھر بھی نکاح لازمی کر دیں اور وہ بھی خود ان کی پسند سے۔

پوسٹ کو شیئر ضرور کریں تاکہ بہت سارے لوگوں کا بھلا ہو جائے۔

22/03/2026

تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن سچے ہیں۔

1--پہلا قانون فطرت:

اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے.
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔
یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔

2--دوسرا قانون فطرت:

جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔
خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
عالم "علم" بانٹتا ہے۔
پرامن انسان "امن و سکون" بانٹتا ہے۔
دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
مثبت اور تعمیری انسان موٹیویشن دیتا ہے
اسی طرح سیاہ دل و متعصب انسان "تعصب و نفرت" بانٹتا ہے

3--تیسرا قانون فطرت:

آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لئے کہ

کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ہے۔
غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں معاشرے میں" ظلم و بےراہروی" میں اضافہ ہوتا ہے۔

اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں

۔۔اللہ پاک ہم سب کواچھی زندگی گزارنےکی توفیق عطا فرمائیں

17/02/2026

اَللّٰهُمَّ اَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْاُمُوْرِكُلِّهَا وَاَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْاٰخِرَةِ

اے اللہ ! سب کاموں میں ہمارا انجام اچھا کر اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا

خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (KPITB)حکومتِ خیبر پختونخواکے پی ڈیجیٹل انٹرن شپ پروگرام 2025–26مراعات و فوائدماہ...
09/02/2026

خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (KPITB)
حکومتِ خیبر پختونخوا

کے پی ڈیجیٹل انٹرن شپ پروگرام 2025–26
مراعات و فوائد
ماہانہ وظیفہ: 30,000 روپے

صلاحیتوں میں اضافہ (Capacity Building)

انٹرن شپ کی مدت: 6 ماہ

اہلیت (Qualification)
آئی ٹی، کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ یا کسی بھی دیگر آئی سی ٹی سے متعلقہ شعبے میں کم از کم 16 سالہ تعلیم (ماسٹرز ڈگری)۔

درخواست گزار کا ڈومیسائل خیبر پختونخوا یا ضم شدہ اضلاع کا ہونا لازمی ہے۔

گزشتہ 3 سال کے دوران گریجویٹ ہونے والے امیدوار درخواست دے سکتے ہیں۔

تازہ گریجویٹس بھی کورس کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے ساتھ درخواست دے سکتے ہیں۔

وہ امیدوار جن کے پاس ڈگری کے بعد ملازمت کا تجربہ ہو، اہل نہیں ہوں گے۔

وہ امیدوار جو پہلے KPITB کی ڈیجیٹل انٹرن شپ سے فائدہ اٹھا چکے ہوں، اہل نہیں ہوں گے۔

ابھی درخواست دیں
ویب سائٹ: https://joinit.kp.gov.pk

درخواست دینے کی آخری تاریخ: 27 فروری 2026

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:“إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ”“اللہ کسی قوم کی ح...
05/02/2026

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ”
“اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔”
(الرعد: 11)

📜 حدیثِ رسول ﷺ:
نبی ﷺ نے فرمایا:
“قائد قوم کا خادم ہوتا ہے، آقا نہیں۔”
(مسند احمد)

لیکن آج کے حکمران خادم نہیں—
تخت کے بھوکے مالک بن بیٹھے ہیں۔

آج کی تلخ حقیقت
پاکستان کیوں ڈوب رہا ہے؟

ہمارے حکمرانوں نے عوام سے کہا:
“شعور سے پیٹ نہیں بھرتا”
کیونکہ وہ جانتے ہیں:

**جس دن عوام کا شعور جگ گیا…

اُس دن ان کی لوٹ مار، ان کے محل، ان کے راز، ان کے گناہ…
سب بے نقاب ہو جائیں گے۔**

یہی وجہ ہے کہ:

• تعلیم تباہ
• شعور دبایا
• میڈیا خریدا گیا
• سوال کرنے والے غدار بنا دیے گئے
• اور سچ کہنے والوں کو راستے سے ہٹا دیا گیا

کیوں؟

کیونکہ یہ حکمران غریب قوم کے حکمران نہیں—
بلکہ اندھی بھیڑوں کے چرواہے بننا چاہتے ہیں۔

انہیں قوم نہیں چاہیے…
انہیں ایسی بھیڑ چاہیے جو ڈنڈا دیکھ کر سیدھی ہوجائے۔

آج پاکستان کی بربادی کا سب سے بڑا سبب:

**“حکمران جن کے دماغ میں بوسا بھرا ہوا ہے،

اور سینے میں انسانیت کے بجائے لالچ، غرور، اور بے حسی۔”**

یہ لوگ ملک کو نہیں سنبھالتے—
ملک کو نچوڑتے ہیں۔

• یہ عوام کے ٹیکس سے محل بناتے ہیں
• قرض قوم لیتی ہے، مگر عیاشی یہ کرتے ہیں
• عوام بھوک سے مرے، مگر یہ بیرون ملک علاج اور چھٹیاں کرتے ہیں
• عوام کو کہتے ہیں “قربانی دو”،
اور خود قوم کے جگر پر خنجر چلاتے ہیں

یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا:
“جب نااہل لوگ قوم کے فیصلے کرنے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو۔”
(بخاری)

حقیقت کھل کر سامنے آئے:

ہمارے حکمران شعور سے ڈرتے ہیں
کیونکہ شعور سچ دکھاتا ہے:

کہ حکمران نہیں—
یہ صرف شکل کے لیڈر ہیں،
اصل میں قوم کے دشمن ہیں۔

شعور بتاتا ہے کہ یہ ملک کے باپ نہیں—
ملک کے خون چوسنے والے سود خور ہیں۔

شعور بتاتا ہے کہ یہ رہنما نہیں—
غلام بنانے والے آقا ہیں۔

اسی لیے
یہ تعلیم روکتے ہیں،
روزگار روکتے ہیں،
سوال روکتے ہیں،
اور عوام کے ذہنوں کو اندھیرے میں رکھتے ہیں۔

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ:
• عوام دو وقت کی روٹی میں پھنس جائے
• نوجوان نوکری کی قطار میں خوار ہو
• میڈیا صرف ان کی تعریف کرے
• عدالتیں ان کے جرائم کو دھو دیتی رہیں
• اور قوم سوال نہ کر سکے

کیونکہ سوال کرنے والا انسان بنتا ہے،
اور یہ چاہتے ہیں کہ قوم انسان نہیں—بھیڑ ہو۔

آج کا سچ:

“ہمارے حکمران شعور اس لیے نہیں دیتے،
کیونکہ شعور سب سے پہلے انہی کے چہرے سے نقاب اٹھاتا ہے۔”

اگر عوام میں شعور آ گیا
تو پہلی چیخ انہی کے محلات سے نکلے گی۔

میں یہ اس لیے لکھ رہا ہوں
کہ آنے والی نسلوں کو پتہ چلے
کہ ہم نے سچ چھپایا نہیں—
بلکہ اس اندھیرے میں بھی
حق کی شمع جلائی تھی۔

Ready to turn your skills into real-world impact?The Skills & Digital Economy Section at KPITB is inviting applications ...
04/02/2026

Ready to turn your skills into real-world impact?
The Skills & Digital Economy Section at KPITB is inviting applications for paid internship opportunities under its ongoing digital transformation initiatives.
Internship Areas
• AI Integration
• Project Coordination
• LMS Management
• Documentation
• Data & M&E
• Outreach & Engagement
What You’ll Get
• Monthly stipend of PKR 45,000
• Structured capacity building & on-the-job learning
• 6-month internship with a government digital program
Work at the intersection of technology, policy, and youth empowerment—and contribute to building a digitally skilled Khyber Pakhtunkhwa.
Apply Now:
🔗 https://joinit.kp.gov.pk/list/jobs

Everyone can apply.. Hurry up
04/02/2026

Everyone can apply.. Hurry up

Today struggle is success of Tomorrow..
04/02/2026

Today struggle is success of Tomorrow..

Address

Hayat Abad
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Engineer Syed Noor Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Engineer Syed Noor Official:

Share