26/06/2026
صلاح الدین ایوبی کی قبر جب 600 سال بعد کھولی گئی، کفن میں لپٹی لاش نے سب کو سجدے میں ڈال دیا
قبر کا راز
یہ ۱۹۵۰ء کی بات ہے۔ شام کا ملک تہذیب و تمدن کی نئی منزلیں طے کر رہا تھا مگر دمشق کی پرانی بستیوں میں اب بھی وہی کہانیاں گونجا کرتی تھیں جو صلاح الدین ایوبی کی قبر کے گرد گھومتی تھیں۔
قلعہ دمشق کے قریب اموی مسجد کے صحن میں ایک چھوٹا سا مقبرہ تھا۔ پیلے پتھروں سے بنا ہوا، جس پر وقت کی گرد جمی ہوئی تھی۔ اس مقبرے کے اندر کوئی تعمیراتی شاہکار نہیں تھا، نہ سنہری دروازے نہ قیمتی پتھروں کی جڑاؤ کاری بس ایک سادہ سی قبر جس پر ہمیشہ تازہ پھول رکھے جاتے۔ اور قبر کے اوپر لکڑی کا ایک پرانا تختہ جس پر نوشتہ تھا
ہذا قبر السلطان الملك الناصر صلاح الدين
یہاں تک کہ اس قبر کے متولی بھی نہیں جانتے تھے کہ اس مٹی کے نیچے کون سی حقیقت چھپی ہے۔ مگر ء کا وہ دن تھا جب تاریخ کے اوراق پلٹنے والے تھے ۔ ۱۹۵۰
شام کی حکومت نے قلعہ دمشق کی مرمت کا فیصلہ کیا۔ ماہرین آثار قدیمہ کی ایک ٹیم دمشق پہنچی جس میں
فرانس، برطانیہ اور مصر کے نامور ماہرین شامل تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ موجوده مقبره صلاح الدین ایوبی کا نہیں بلکہ کسی اور شخص کا ہے۔ اصل قبر کہیں اور ہے۔
یہ محض ایک علامتی مقبرہ ہے، فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے نے کہا۔ صلاح الدین جیسی عظیم شخصیت کی تدفین اتنی سادگی سے ممکن نہیں۔
دمشق کی گلیاں اس بحث سے گرم تھیں۔ بوڑھے کہانی سنانے والے قہوہ خانوں میں بیٹھ کر کہتے کہ یہ فرنگی پھر مسلمانوں کی تاریخ مٹانے آئے ہیں۔" مگر سائنسی شہادتوں کے سامنے عقیدت بھی خاموش تھی۔
آخر کار فیصلہ ہوا کہ مقبرہ کھولا جائے گا۔
نومبر ۱۹۵۰ء ۲۵
صبح کا وقت تھا۔ اموی مسجد کے صحن میں غیر معمولی رونق تھی۔ حکومتی اہلکار ماہرین آثار چند نامور صحافی اور وہاں موجود ہر شخص کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ مگر مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں جمع نہیں ہو سکی تھی۔ ان کے دلوں میں دھڑکنے والی عقیدت اس منظر کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ کوئی ان کے سلطان کی قبر کو ہاتھ لگائے۔
چنانچہ صرف چند افراد اس کارروائی کے گواہ بنے۔
مقبرے کا دروازہ کھلا۔ اندرونی حصہ بالکل ویسا ہی تھا جيسا صدیوں سے تھا سادہ بے تکلف دنیا کی کسی بھی شان و شوکت سے عاری فرش پر پرانے قالین بچھے تھے، دیواروں پر قرآنی آیات لکھی تھیں۔ اور بیچوں بیچ وہ قبر جس کے نیچے ایک عظیم سپائے کی ہڈیاں ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔
ماہرین نے کام شروع کیا۔ پتھر ہٹائے گئے، مٹی ہٹائی گئی۔ قبر کی گہرائی میں ایک لکڑی کا صندوق ملا جو مکمل طور پر گل سڑ چکا تھا۔ اس کے نیچے کفن میں لپٹی ہوئی ایک لاش تھی۔
مگر جیسے ہی کفن کا ایک کونا ہٹایا گیا، وہاں موجود ہر شخص کی سانسیں رک گئیں۔
کفن میں لپٹی لاش بالکل تازہ تھی۔
فرانسیسی ماہر ڈیوڈ لی کومٹے کے ہاتھ کانپنے لگے۔ انہوں نے اپنی عینکیں صاف کیں، پھر دوبارہ دیکھا۔ لاش پر گلنے سڑنے کا کوئی اثر نہیں تھا۔ جلد ابھی تک برقرار تھی چہرے کے نقوش واضح تھے، داڑھی کے بال موجود تھے۔
یہ ناممکن ہے! ان کی آواز قبرستان کی خاموشی میں گونجی
ایک مصری ماہر نے آگے بڑھ کر آہستہ سے کفن کو مزید ہٹایا۔ لاش کے سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے وہی طریقہ جس سے مسلمان میت کو دفناتے ہیں۔ انگلیوں کی پوروں پر مہندی کے نشان تھے، گویا ابھی کل ہی لگائی گئی ہو۔
کمرے میں سناٹا تھا۔ کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
پھر دمشق کے ایک بزرگ عالم جو وہاں موجود تھے، آگے بڑھے۔ ان کی عمر تقریباً اسی برس تھی، داڑھی سفید چہرے پر نور تھا۔ انہوں نے کفن کو مکمل طور پر ہٹانے سے منع کر دیا۔
بس کرو ان کی آواز میں عجیب سا وقار تھا۔ اب تم" دیکھ چکے۔ جو دیکھنا تھا۔
فرانسیسی ماہر نے احتجاج کیا۔ لیکن ہمیں تحقیق کرنی "... ہے، کاربن ڈیٹنگ کرنی ہے، یہ ثابت کرنا ہے کہ
کیا ثابت کرنا ہے ؟ بزرگ عالم نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔ "تم اس شخص کے بارے میں کیا ثابت کرو گے جس نے خود کہا تھا کہ میری تجہیز و تکفین کے لیے بھی رقم نہیں ہو گی؟