23/07/2022
موبائل کی آمد نے اخلاقی لحاظ سے سماج کے سٹرکچر میں خاص تبدیلیاں شروع کر دی ہیں ۔ اور یہ تبدیلیاں ایسی ہیں کہ ان کو کوئی مثبت رخ دینے کےلیے کسی کے پاس کوئی تیاری ہی نہیں ۔ بات اخلاقی پہلو سے نکلتے نکلتے بے راہ روی، بے اصولی، بد تہذیبی اور وحشیانہ آزادی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ بہ ظاہر لوگ حرمت رسول ﷺ پر جان دینے والے ، اسلامی نظام نافذ کرنے والے اور اسلام کے محافظ بنے بیٹھے ہیں لیکن سماجی اخلاقیات جسے عمل صالح کہا گیا وہ معاشرے سے غائب ہو گئے ۔ ظاہری چند عبادات، علامتی اعمال اور دکھاوے کی رسوم سے تو معاشرہ لبریز نظر آرہا ہے لیکن اندر سے سب کچھ کھوکھلا ہے ۔ حق تلفی ، ناحق کو حق کہنا، ظلم و زیادتی ، زنا ، شرک اور خدا پر جھوٹ باندھنا جنہیں قرآن نے کھانے پینے کے علاؤہ حرام کی فہرست میں شمار کیا ہے یہ آج کے معاشرے کے افراد کےلیے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتیں ۔۔ ان کے بارے میں جمعہ و عیدین کے ممبر پر کبھی سنجیدگی سے کما حقہ بات کی جاتی ہےاور نہ ہی کبھی سکولوں میں ان کی تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے۔۔۔ منابر پر تو بس گویا بقا کی جنگ لڑی جارہی ہے۔۔ اور سکولوں میں والدین کی جھوٹی خوشنودی اور امتحانات کے لئے وقتی ٹیویشن پر اکتفا کیا جارہاہے۔۔ اس سوسائٹی کا اگلا سٹیج کیا ہو گا۔۔؟ اگلا منظر کیا ہوگا؟ اس سے سارے خوف زدہ تو ضرور ہیں لیکن اس مشکل کے حل کےلیے نہ کسی کے پاس تیاری ہے اور نہ ہی یہ مشکل کام کوئی کرنا چاہتا ہے..کیونکہ اس میں محنت، مشقت، صبر آزمائی، قربانی، بھرپور تیاری اور وحدت فکر کی ضرورت ہے اور وہ ہمارے ہاں جنس نایاب ہیں۔۔۔ کہ خود کی اخلاقی تربیت کرنے پھر اپنی اگلی نسل کو اس کے لیے تیار کرنے وغیرہ کیلئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔۔ یہ ایک صبر آزما کام ہے لیکن اس کے سوا کوئی حل بھی نہیں۔۔۔۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
شاکر بھائی کے شکریے کے ساتھ