Doctors Research Council

Doctors Research Council INN Channel : News & Views

18/03/2024

اگر :
آپ کے ذہن میں تکلیف دہ خیالات بار بار آتے ہیں، حالانکہ آپ کوشش کرتے ہیں کہ یہ خیالات آپ کے دماغ میں نہ آئیں،
یا
آپ کے دل میں بار بار تقاضہ ہوتا ہے کہ آپ کسی چیز کو بار بار چھوئیں، چیزوں کو بار بار گنتے رہیں، یا کسی کام کو بار بار کریں مثلاً ہاتھ بہت بار دھوئیں ،

تو آپ کو آبسیسو کمپلسیو ڈس آرڈر (او سی ڈی)ہو سکتا ہے۔
او سی ڈی کی بیماری کیوں ہو جاتی ہے؟
جینز(Genes)۔
او سی ڈی کی بیماری بعض لوگوں میں موروثی ہوتی ہے اس لیے کبھی کبھی ایک خاندان میں ایک سے زیادہ لوگوں کو ہوتی ہے۔

ذہنی دباؤ (اسٹریس)۔
جن لوگوں کو او سی ڈی کی بیماری ہوتی ہے ان میں سے تقریباً ایک تہائی لوگوں میں یہ ذہنی دباؤ والے حالات اور واقعات کے بعد نمودار ہوتی ہے۔

زندگی میں تبدیلی۔
ایسے وقت جب کسی پہ اچانک سے اور زیادہ ذمہ داریاں آ جا ئیں، مثلاً بالغ ہو جانا، بچے کی پیدا ئش یا نئ نوکری ملنا، اسوقت او سی ڈی کی علامات سامنے آنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

دماغی تبدیلی۔
ہمیں وثوق سے تو نہیں معلوم لیکن ریسرچرز کے مطابق اگر کسی میں او سی ڈی کی بیماری تھوڑے عر صے سے زیادہ سے موجود ہو تو ان لوگوں کے دماغ میں ایک کیمیکل سیروٹونن کے عمل میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔

شخصیت۔
جو لوگ بہت زیادہ صفائی پسند، با سلیقہ اورہر کام ایک خاص اصول اوراعلی معیار کے مطابق کرنے والے ہوتےہیں میں ان میں او سی ڈی پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عام زندگی میں یہ خصوصیات فائدہ مند ہوتی ہیں لیکن اگر یہ حد سے بڑھ جائیں تو او سی ڈی کی طرف جا سکتی ہیں۔

ڈھنگ۔/سوچنے کا انداز
تقریباً ہم سب کے ذہنوں میں بعض دفعہ عجیب و غریب خیالات آتے ہیں، "کیا ہو گا اگر میں اس گاڑی کے سامنے آ جاؤں، کہیں میں اپنے بچے کو نقصان نہ پہنچادوں۔ ہم میں سے اکثر لوگ ان خیالات کو جھٹک دیتے ہیں اور ان کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ لیکن بعض لوگ اپنے خیالات میں بھی اخلاقیات کے اس قدر پابند ہوتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے خیالات بھی نہیں آنے چاہیئیں۔ اس طرح کے لوگ یہ فکر کرتے رہتے ہیں کہ کہیں اس طرح کے خیالات دوبارہ نہ آ جائیں اور جو لوگ یہ فکر کرتے ہیں ان میں یہ خیالات اور بڑھ جاتے ہیں۔

The Oldest Remains/ Relics
26/03/2023

The Oldest Remains/ Relics

Ancient Relics of the Buhdism.Takht Bhai Relics in Pakistan.

26/02/2023

رقیب سے

آکہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے
جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا
جس کی الفت میں بھُلا رکھی تھی دنیا ہم نے
دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا

آشنا ہے ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر
اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے
کارواں گزرے ہیں جن سے اُسی رعنائی کے
جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے

تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں
اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
تجھ پہ بھی برسا ہے اُس بام سے مہتاب کا نور
جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے

تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی، وہ رخسار، وہ ہونٹ
زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اُٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے

ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غمِ الفت کے
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

عاجزی سیکھی ، غریبوں کی حمایت سیکھی
یاس و حرمان کے، دکھ درد کے معنی سیکھے
زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا
سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے

جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے
اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں
ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب
بازو تولے ہوئے منڈ لاتے ہوئے آتے ہیں

جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

فیض احمد فیض

01/02/2023
22/12/2022

ملک لیث محمد صاحب کا انڈونیشیا کی ایک یونیورسٹی کو انٹرویو

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctors Research Council posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Doctors Research Council:

Share