29/01/2026
اب لگے رہو صاحب ہدایہ کے پیچھے 🙈
حافظ حمداللہ صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں سولہ سال کی لڑکی سے شادی کرکے قانون توڑوں گا۔
کئی لوگ اس بیان پر بہت سیخ پا ہیں۔
ہم اس پر یہ عرض کرتے ہیں کہ ہدایہ میں مسئلہ لکھا ہے کہ اگر ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں اور بڑی بیوی چھوٹی کو دودھ پلا دے تو ان دونوں کے درمیان حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائے گی۔
اس کی وضاحت یوں ہے کہ یہ مسئلہ اس وقت پیش آئے گا جب چھوٹی بیوی دو سال سے کم عمر کی ہو۔
اس مسئلے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دو سال سے کم عمر والی لڑکی سے بھی شادی ہو سکتی ہے۔
حافظ صاحب علمی، کتابی آدمی ہیں۔ انہوں نے ایمان کے کمزوروں کا خیال رکھ کر سولہ سال والی بات کر دی، جو لطیفہ بن گئی۔
اگر وہ دو سال سے کم عمر کی لڑکی سے شادی کی بات کرتے تو شریعت کی نظر میں وہ بھی ناجائز نہیں۔
آپ نے ایک شرعی مسئلہ واضح کیا ہے۔
جزاک اللہ حافظ جی۔