21/05/2026
پشاور کی 11 سالہ معصوم بچی کئی دنوں سے کچے کے خطرناک ڈاکوؤں کے قبضے میں ہے۔
بچی کے والدین نے اپنی بیٹی کی رہائی کے لیے 15 لاکھ روپے تک قرض لے کر ادا کیے، مگر پھر بھی ظلم ختم نہ ہوا اور معصوم بچی آج تک بازیاب نہ ہو سکی۔
اس بے بس ماں پر بھی انسانیت سوز تشدد کیا گیا، لیکن ریاستی ادارے اب تک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ہم حکومتِ پاکستان، وفاقی وزارتِ داخلہ، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب کی حکومتوں، آئی جی پولیس، رینجرز، فوج اور تمام سیکورٹی اداروں سے پوچھتے ہیں:
آخر کب تک پاکستان کی مائیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کے لیے یوں تڑپتی رہیں گی؟
کب تک ڈاکو معصوم بچیوں کی زندگیاں برباد کرتے رہیں گے؟
اگر ریاست اتنی مضبوط ہے تو پھر ایک 11 سالہ بچی آج تک بازیاب کیوں نہیں ہو سکی؟
یہ صرف ایک خاندان کا نہیں، پورے پاکستان کی عزت اور غیرت کا مسئلہ ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آخری اور فیصلہ کن آپریشن کیا جائے۔
اس معصوم بچی کو فوری بازیاب کروایا جائے، متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ دیا جائے، اور ظالم مجرموں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے۔
خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔
ہر انسان، ہر ماں، ہر باپ اور ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ اس مظلوم خاندان کی آواز بنے۔