پاکستان

پاکستان Pakistan پاکستان : Uncovering Pakistan's Politics. News, Analysis & Discussions."
(1)

29/01/2026

وزیر اعلی ‏سہیل آفریدی کی پارلیمینٹ میں اسٹیبلشمنٹ پر ڈرون حملے ۔

"آج کے بعد کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کسی جرگے میں نہیں بیٹھیں گے، اب سے وفاقی حکومت کے ساتھ جو بھی بات چیت کا سلسلہ ہو گا وہ تحریری ہو گا

میں چیختا رہا میں چلاتا رہا کہ اس برفباری میں جہاں آپ آپریشن کرنے جا رہے ہیں وہاں انسان تو کیا پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا لیکن یہ باز نہیں آئے ان کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں انکا مقصد صوبائی حکومت یا مجھے نیچا دیکھانا ہے۔

انہوں نے اپنے نمائندے کورکمانڈرپشاور اور آئی جی ایف سی پر عدم اعتماد کا اظہار کیاہے۔ لوگوں کا جو تھوڑا بہت اعتماد بحال ہورہا تھا، وہ بھی انہوں نے اس پریس ریلیز سے زائل کردیا کیونکہ جتنی بھی میٹنگز اور جرگے ہوئے ہیں،کورکمانڈر اور آئی جی ایف سی انکا حصہ تھے،

کیوں یہ سوچ ترک نہیں کرتے کہ صرف آپ ہی سمجھدار ہیں، باقی کوئی سمجھدار نہیں؟ اگر آپ سمجھدار ہوتے تو آپ کل کی پریس ریلیز نکالتے؟
آپ کی پالیسی بھی ناکام ہے اور آپ کے ایڈوئزر بھی بے وقوف ہیں
ایک طرف یہ ہمارے اوپر دہشتگردی لا رہے ہیں اور آپریشن کر رہے ہیں دوسری طرف ہمارے 4758 ارب روپے نہیں دے رہے وفاق پاکستان ہمارا مقروض ہے ایک طرف 4758 ارب روپے ادا نہیں کر رہے دوسری طرف 5300 ارب کی کرپشن کر رہے ہیں ۔ ۔
وہ مائنڈ سیٹ جو یہ نہیں چاہتا کہ ایک قبائلی نوجوان وزیر اعلیٰ بن سکے قبائلی مین سٹریم میں آئے قبائلی پڑھے لکھے یہ اس مائنڈ سیٹ کے منہ پر طمانچہ ہے اور یہ طمانچہ میں مارتا رہوں گا۔

24 رکنی کمیٹی شدید دھمکیاں دی جا رہی ہیں ڈرایا جا رہا ہے اور ان کے ویڈیو پیغامات لیے جا رہے ہیں ان کو کہا جا رہا ہے کہ صوبائی حکومت اور میرے خلاف بیان دیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں میں 24 رکنی کمیٹی کے لوگوں کو کہتا ہوں اگر ہمارے خلاف ویڈیو بیان دینے سے جان چھوٹتی ہے تو چھڑوا لیں ممکن ہے اب انکی ویڈیوز جاری ہوں
انہوں نے پریس ریلیز جاری کر کے 24 رکنی کمیٹی کے death warrant جاری کر دیے ہیں کیونکہ لوگ ان 24 لوگوں کو دشمن سمجھیں گے انہوں نے پریس ریلیز جاری کر کے خیبرپختونخوا حکومت اور اداروں اور وفاق میں تصادم کا پروانا جاری کر دیا ہے ان سے بند کمروں کے فیصلے میں غلطی ہو گئی ان سے شدید برفباری میں غلطی ہو گئی

جب دونوں بیانیوں میں منہ کی کھانی پڑی تو تیراہ میں آپریشن شروع کر دیا تیراہ آپریشن مجھے گندہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ اللہ الحق ہے میں تیراہ گیا اپنے لوگوں کو حقائق بتائے کہ 4 ارب جو میں نے جاری کیا ہے یہ آپ کی فلاح پر بھی لگ سکتا تھا لیکن نہیں بند کمروں کے فیصلے کچھ اور چاہتے ہیں

میں واضح کر دوں یہ بند کمروں کے فیصلے مسلط کر رہے ہیں اس دفع عمران خان کے سپاہی حکومت میں ہیں کسی کو بند کمروں کے فیصلے مسلط نہیں کرنے دیں گے راستے کی رکاوٹ بنیں گے

وزیر اعلی سہیل آفریدی

29/01/2026

ہمارے ہاں عمارت مکمل
جل جانے کو آگ پر قابو پانا
کہتے ہیں، لاشیں نکالنے کو ریسکیو
سوال کرنے کو سیاست احتجاج کو غداری

29/01/2026

ایک ٹرک ڈرائیور اپنے شاگرد کے ساتھ ایک ہوٹل پر رکا کھانا کھایا اور دو چرس کے سگریٹ پئے اور شاگرد کو بولا کہ چل
تو بھی کیا یاد کرے گا آج ٹرک تم چلاؤ۔ لیکن ٹرک چلانے سے پہلے ٹائر پانی چیک کر لو۔

شاگرد بہت خوش ہوا کہ آج ٹرک چلاؤں گا ۔ اس نے جلدی
سے ریڈی ایٹر کا پانی چیک کیا۔ ٹائر کی طرف آیا تو دیکھا
ٹائر پنکچر تھا۔ اس نے استاد کو ٹائر کے بارے میں بتایا ۔
استاد نے کہا جلدی سے بڑا جیک لگاؤ اور ٹائر بدل دو اتنی
دیر میں استاد نے دو اور چرس کے سگریٹ پئے ۔ جب ٹائر بدل دیا تو استاد نے شاگرد کو کہا کہ میں اب تھوڑی دیر سونے لگا ہوں تم ٹرک چلانا شروع کر دو۔

کنڈیکٹر کچھ جوش میں اور کچھ چرس کے نشے میں سپیڈ دئیے جا رہا تھا ، کافی دیر بعد جب استاد کی آنکھ کھلی تو اس نے کنڈیکٹر سے پوچھا ۔

ہاں بھائی کنڈیکٹر کہاں پہنچے ۔

کنڈیکٹر بولا۔ استاد جی جگہ کا تو نہیں پتا لیکن میں کافی
سپیڈ و سپیڈ جا رہا ہوں ۔

استاد بولا۔ اچھا تم گاڑی سائیڈ پر روکو میں خود چلاتا
ہوں

شاگرد نے ایکسیلٹر سے پاؤں ہٹایا اور گاڑی روک دی ، استاد نیچے اترا تو دیکھا سامنے ایک ہوٹل ہے۔

استاد نے ہوٹل والے سے پوچھا کہ بھائی یہ کونسی جگہ ہے؟

ہوٹل والا حیران و پریشان ان دونوں کو دیکھنے لگا اور بولا
جناب آپ تو اسی جگہ پر ہیں جہاں سے آپ نے کھانا کھایا ۔
ہم تو سمجھے شاید ٹرک میں کوئی خرابی ہے اس لیئے ٹرک
جیک پر لگا کر آپ ایکسیلٹر دیئے جا رہے ہیں ۔

یہی حال 75 سالوں سے ہمارے ملک کا ہے ، اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر یہ ہوس کے پجاری حکمران پاکستان کو ایسے ہی چلا رہے ہیں ، نہ پاکستان آگے جاتا ہے اور نہ ہی ان جیسے حکمرانوں سے چھٹکارا ملتا ہے ۔۔۔۔۔

29/01/2026
29/01/2026

کپتان عمران خان کے بیٹے قاسم خان کا ایکس پر پیغام

میرے والد، عمران خان، اب موت کی کوٹھڑی (ڈیتھ سیل) میں 900 سے زائد دن گزار چکے ہیں جہاں نہ خاندان سے ملاقات کی اجازت ہے اور نہ ہی ان کے ذاتی معالجین تک رسائی ہے۔ معتبر رپورٹیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ان کی آنکھ میں (central retinal vein occlusion) کی تشخیص ہوئی ہے، جو کہ ایک خطرناک رکاوٹ ہے اور اگر کسی مناسب ہسپتال میں فوری طبی امداد کے ذریعے اس کا علاج نہ کیا گیا تو یہ مستقل بینائی جانے کا سبب بن سکتی ہے
اس کے باوجود حکام ان کے علاج میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور انہیں ان ڈاکٹروں سے محروم کر رہے ہیں جن پر وہ بھروسہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ مجھے ان سے بات کرنے کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ یہ گورننس (نظامِ حکومت) نہیں ہے، یہ آمرانہ ظلم ہے
میں انسانی حقوق کے ہر محافظ سے اپیل کرتا ہوں کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اپنا کردار ادا کریں، دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ آج کے پاکستان میں جمہوریت کھوکھلی ہے اور بنیادی انسانی حقوق کو کچلا جا رہا ہے

29/01/2026

شاہ دولہ کے چوہے: پاکستان کی توہم پرستی، استحصال اور سماجی بے حسی کا زندہ آئینہ

پاکستان کے شہر گجرات میں واقع شاہ دولہ کا مزار صدیوں سے ایک عجیب و غریب سماجی المیے کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں مائیکروسیفلی نامی پیدائشی بیماری کے شکار معذور بچوں کو "دولہ شاہ کے چوہے" کہا جاتا ہے۔ یہ بچے چھوٹے سروں اور محدود ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے بھیک مانگنے کا ذریعہ بنتے رہے ہیں، جو روایات، توہم پرستی اور انسانی استحصال کا ننگا امتحان پیش کرتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف مذہبی عقائد کی غلط فہمیوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ریاست کی ناکامی کو بھی عیاں کرتی ہے، جہاں غربت اور جہالت نے انسانی حقوق کو روندا ہے

سید کبیر الدین شاہ دولہ بغدادی، جو سہروردی صوفی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے، سولہویں صدی عیسوی میں (بعہد مغل بادشاہ اکبر یا اورنگزیب کے دور میں) سیالکوٹ سے گجرات منتقل ہوئے اور وہیں مقیم ہو گئے۔ روایات کے مطابق وہ جانوروں اور پرندوں سے گہری محبت کرتے تھے؛ حکایات بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے پسندیدہ جانوروں کے سروں پر مٹی کی ٹوپیاں رکھ دیتے، جو ایک علامتی عمل تھا۔ ان کا آستانہ ہر وقت عوام کے لیے کھلا رہتا، اور دور دراز سے بانجھ عورتیں اولاد کی دعا کے لیے آتیں۔ دعا قبول ہونے پر والدین پہلا بچہ مزار کو "وقف" کر دیتے، جو صوفی خانقاہوں کی ایک پرانی روایت تھی۔ یہ مزار آج بھی گجرات شہر کے قلب میں واقع ہے اور لاکھوں زائرین کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

مقامی لہجے میں ان بچوں کو "چوہے کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے چھوٹے سروں اور نوک دار چہروں کی وجہ سے وہ چوہے جیسی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ روایات کا سب سے مشہور قصہ یہ ہے کہ اگر والدین پہلے بچے کو مزار پر نہ چھوڑیں تو باقی اولاد بھی چھوٹے سروں والی پیدا ہوگی، یا بچہ خود بخود مزار کی طرف چلا آئے گا۔ یہ توہم برطانوی دور (1839 سے) کی دستاویزات میں بھی ملتا ہے، جہاں برطانوی افسران نے ان بچوں کو دیکھا اور نوٹ کیا کہ وہ مختلف علاقوں میں بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر یہ عقیدہ خوف اور امید کا ملغوبہ ہے، جو غریب اور جاہل والدین کو اپنے صحت مند بچوں کو بھی مزار پر چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے۔ 19ویں صدی کے برطانوی محققین جیسے ایف. ای. جونسٹن (1866) نے ان کی تفصیلی جائزہ لیا اور ثابت کیا کہ یہ بچے قدرتی پیدائش کے ہوتے ہیں، نہ کہ مزار کی "حُکم عدولی" کا نتیجہ

یہ معذوری "مائیکروسیفلی" (Microcephaly) ہے، جو جینیاتی عوامل، حمل کے دوران وائرل انفیکشنز (جیسے زیکا وائرس) یا غذائی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس میں سر کی ہڈیاں قبل از وقت بند ہو جاتی ہیں، دماغ کی نشوونما رک جاتی ہے، اور IQ 20-40 تک محدود رہ جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں یہ بیماری قدرتی طور پر عام ہے، اور دنیا بھر میں ہر 10,000 میں 2-12 کیسز ملتے ہیں۔ برطانوی ڈاکٹر ای. ایچ. ایونز (1903) نے مزار پر 14 چوہوں کا معائنہ کیا اور سر کی مصنوعی تبدیلی (جیسے لوہے کے خ*ل چڑھانا) کو رد کیا، کیونکہ یہ دماغ کو فوری نقصان پہنچا سکتا تھا۔ مقامی افواہوں میں "لوہے کے خ*ل" یا "مٹی کی ٹوپیاں" کا ذکر ہے، جو دراصل بچوں کے سروں کو خوبصورت بنانے کی دیسی رسم تھی، لیکن یہ معذوری پیدا نہیں کرتی تھی۔ جدید تحقیق (1996 کی جرنل آف انٹیلیکچوئل ڈس ایبلٹی ریسرچ) بھی اس کی تصدیق کرتی ہے

یہ بچے پیشہ ور گداگروں یا "فقیروں" کے گینگوں کے قبضے میں ہوتے، جو انہیں کرائے پر لے جاتے اور کئی سو میل دور بھیک مانگنے بھیجتے۔ صحت مند بچوں کو بیچنے یا ان کے سروں پر دباؤ ڈال کر معذور بنانے کی کہانیاں مشہور ہیں، مگر 170 سالہ برطانوی اور پاکستانی دستاویزات میں ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ 20ویں صدی کے آغاز میں چوہے جزوی طور پر "آزاد" ہو گئے، جو خود "فقیر" بن کر گزارہ کرتے۔ یہ کاروبار لاکھوں روپے کا ہے، جہاں ایک چوہے سے روزانہ 500-1000 روپے کما لیے جاتے ہیں۔ زائرین کی ہمدردی اور مذہبی عقیدت اسے ہوا دیتی ہے۔

1960 کی دہائی میں پاکستان حکومت نے مزار کو ضبط کر لیا اور بچوں کو چھوڑنے پر پابندی عائد کی، جو 1969 میں اوقاف ڈیپارٹمنٹ کے حوالے ہو گیا۔ 2016 میں یتیم بچوں کے تحفظ کا قانون بنا، مگر عمل درآمد ناکام رہا۔ آج (2026 تک) مزار پر صرف 1-2 چوہے بچے ملتے ہیں، اور نئے قبول نہیں کیے جاتے، لیکن گینگ اب بھی کام کرتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں عارضی ہوتی ہیں، اور کوئی مستقل ری ہیبلیٹیشن مرکز نہیں بنا۔ برطانوی دور میں بھی کئی کوششیں ناکام ہوئیں۔

یہ المیہ پاکستان کی جہالت، غربت اور توہم پرستی کا آئینہ ہے، جہاں معذور بچوں کو "چوہے" بنا کر انسانی تجارت چلتی ہے۔ ریاست نے نسلوں کو تعلیم نہ دے کر ذہنی طور پر مفلوج کیا، اور اب قرضوں کی بھیک مانگتی ہے۔ حل تعلیم، طبی سہولیات، ری ہیبلیٹیشن سینٹرز اور سخت قوانین کا ہے، جیسا کہ محققین زمرمان اور مائلز نے تجویز کیا۔ معاشرے کو چاہیے کہ عقیدت کو سائنس سے جوڑے، تاکہ یہ چوہے انسان بن سکیں۔
عجیب و غریب تاریخ

29/01/2026

🔴 بیان 1
کچھ لوگ ڈیل کے لیے میری تشریف چوم رہے ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ
🔴 بیان 2
مشرق وسطی اور اسلامی ممالک کی فوج مل کر غ زہ سے ح ماس کا خاتمہ کرے گی ، نیتن یاہو
🔴 بیان 3
پاکستان نے ہمیں خود اس پراسس کا حصہ بننے کی پیشکش کی ، مائیک روبیو
🔴 بیان 4
ہم نے بورڈ آف پیس بنانے کا اعلان کیا ہے شمولیت کی فیس ایک ارب ڈالرز ہوگی ، ڈونلڈ ٹرمپ
🔴 بیان 5
پاکستان نے بورڈ آف پیس پر دستخط کردیے ہیں ، کٹھ پتلی وزیر اعظم شہباز شریف
🔴 تردید
ہمیں کچھ نہیں پتہ ، سب جھوٹ ہے ، یہ افواج پاکستان کے خلاف سازش ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر

29/01/2026

نکاح کے نام پر انسانیت کی نیلامی
-------------------------

جب کسی ریاست کی پارلیمان کے در و دیوار اس آواز سے لرزنے لگیں کہ "دس سالہ بچوں کی شادیاں ہمارا حق ہے"، تو سمجھ لیجیے کہ وہ معاشرہ اخلاقی خودکشی کی آخری حد کو چھو رہا ہے۔ مذہب، سیاست اور روایت کا سہارا لے کر ایک کچے وجود کو ازدواجی بستر کی ہولناکیوں میں جھونکنا کوئی مذہبی عقیدت نہیں، بلکہ ایک ایسی منظم بربریت ہے جو روح، جسم اور معاشرے کے پرخچے اڑا دیتی ہے۔

آج عالمی ضمیر اور انسانی حقوق کا فلسفہ ایک ہی بنیاد پر کھڑا ہے: انفرادی آزادی اور شعور۔ اقوامِ متحدہ کا "حقوقِ اطفال کا کنونشن" (CRC) واشگاف الفاظ میں کہتا ہے کہ بچہ ریاست کی امانت ہے، کسی کی نجی یا مذہبی ملکیت نہیں۔ جس عمر میں بچہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ اس کے لیے کون سا کھلونا بہتر ہے، اسے ایک تاحیات نکاحی معاہدے میں جکڑ دینا اسکے بچپن کی فطرت کے ساتھ ایک گھناؤنا ترین مذاق ہے۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق، کم عمری کی شادی "جدید غلامی" کی ایک بدترین شکل ہے، جہاں ایک انسان کی مرضی کو اس کے سرپرستوں کے پیروں تلے روند دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ طبی سائنس محض مشاہدہ نہیں، بلکہ حقیقت کی گواہی ہے۔ جس کی رو سے ایک دس سالہ بچی کا جسم حیاتیاتی طور پر تولید کے بوجھ کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوتا۔ اسلئے اس عمر میں حمل کا مطلب ہے کہ ایک کچی ہڈیوں والے ڈھانچے کو موت کے جبڑے میں دے دینا۔ "فیسٹولا" جیسی بیماریاں، جو عمر بھر کی معذوری اور سماجی بائیکاٹ کا سبب بنتی ہیں، اسی وحشت کا نتیجہ ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کم عمری کی زچگی میں شرحِ اموات عام خواتین سے کئی گنا زیادہ ہے۔ ایسا نام نہاد "مقدس فریضہ" درحقیقت انتہائی قابل مذمت اور "سفاکانہ قتل" ہے . کیوں کہ شادی صرف جسموں کا ملاپ نہیں، بلکہ دو شعوروں کا ارتقاء ہے۔ جب ایک بچی سے اس کا بچپن چھین کر اسے "گھر" نامی جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، تو اس کی نفسیات میں جو گرہیں پڑتی ہیں، وہ کبھی نہیں کھلتیں۔ وہ بچی جو کبھی کل کی سائنسدان یا مفکر بن سکتی تھی، وہ اس جبری نکاح کے ذریعہ محض خوف اور جبر کے سائے میں ایک "سہمی ہوئی بے زبان مخلوق" بن جاتی ہے۔

اور پھر ایک ایسی ماں جس کی خود اپنی ہی تربیت ادھوری ہو اور جو خود نفسیاتی صدمے سے گزر رہی ہو، وہ ایک آزاد منش اور باشعور نسل کیسے پیدا کر سکتی ہے؟ یقینا ایسی بے زبان گودوں سے صرف وہی نسلیں نکلیں گی جو فکری طور پر مفلوج اور ذہنی طور پر غلام ہوں گی۔ جسکا جیتا جاگتا ثبوت آج ہمارا پورا معاشرہ ہے . مگر پھر بھی وہ لوگ جو آج بھی قرونِ وسطیٰ کی مثالیں دے کر معصوم بچوں کے نکاح کی وکالت کرتے ہیں، وہ دراصل انسانیت کے ارتقاء سے انکاری ہیں۔یہ کیسا جلاد اللہ اور وحشتناک مذہبی تعلیمات اور بربریت بھری سنت ہے جس کی تکمیل ایک معصوم بچی کی آنکھوں سے اس کے خواب ہی نوچ لے اور اسے ایک ایسی مردانہ ہوس کا نشانہ بنائے جس کے معنی سے وہ ابھی کلی طور پر ناآشنا ہے، ایسا کوئی الٰہی ہے ہی نہیں بلکہ یہ سراسر "مردانہ انا اور ہوس ہے اور کچھ بھی نہیں .

یاد رکھو کہ ایک دس سالہ بچی کا نکاح پڑھانے والا ہاتھ دراصل اس کے مستقبل کا گلا گھونٹ رہا ہوتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم خاموشی توڑیں اور عقیدت چیر پھاڑ کر رکھ دیں ، کیونکہ یہ صرف ایک سیاسی بحث نہیں، بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے بقا کی جنگ ہے۔ جو لوگ اس بربریت کے حق میں دلیل لاتے ہیں، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں اسی جگہ ملیں گے جہاں انسانیت کے دشمنوں کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔ جس ملک کا ایک بکاؤ ملاء اسمبلی میں کھڑے ہو کر عائلی قانون توڑنے کی دھمکی دے، تو وہ دراصل اس مردانہ جنگل کے قانون کی دعوت دے رہا ہے جہاں طاقتور ہوس ہی حق بجانب ہے۔اور یہ ان تمام والدین بطور خاص ماؤں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے جو اپنی بیٹیوں کو بااختیار بنانا چاہتی ہیں۔

عفاف

Address

Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پاکستان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share