Aman page

Aman page please read my passage and like it

10/01/2026
https://www.facebook.com/share/p/1FTTcVQu2i/
06/12/2025

https://www.facebook.com/share/p/1FTTcVQu2i/

یہ تصویر 1930 میں قبائلی علاقے خیبر کے قریب ایک افریدی جرگہ کی ہے جس میں افریدی مشران سفید جھنڈے اور “خونی سرخ ہاتھ” کے نشان کے ساتھ ایک برطانوی سیاسی افسر کے سامنے صلح اور اطاعت کی پیش کش کر رہے ہیں۔ اس موقع پر برطانوی افسر کے برابر کھڑا شخص قُلی خان خٹک تھا جو اُس وقت برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ کی خدمت میں تھا اور بعد میں برطانوی بادشاہ کی طرف سے نائٹ بیچلر کے اعزاز سے نوازا گیا۔

تاریخی پس منظر

انیسویں صدی کے اواخر سے تیسری دہائیِ بیسویں صدی تک خیبر پاس اور فاٹا کے قبائلی علاقے برطانوی راج اور پشتون قبائل کے درمیان مستقل کشمکش کا میدان رہے۔ 1930 کا سال خصوصاً اس لیے اہم تھا کہ اسی زمانے میں صوبہ سرحد میں خدائی خدمتگار تحریک، قصہ خوانی بازار کا قتلِ عام اور برطانوی حکومت کے خلاف سیاسی و عسکری مزاحمت نئی شدت سے ابھری۔ ان حالات میں برطانوی حکومت نے ایک طرف فوجی آپریشن جاری رکھے اور دوسری طرف قبائلی مشران کے ساتھ جرگوں کے ذریعے سمجھوتے اور جنگ بندی کی کوششیں بھی کیں۔

افریدی قبائل اور جرگہ

افریدی قبائل خیبر پاس اور اس کے گردونواح کے سب سے طاقتور قبائل میں شمار ہوتے تھے جنہیں برطانوی سرکاری تحریروں میں “گیٹ کیپرز آف خیبر” کہا گیا۔ برطانوی حکومت نے 1878 کے بعد متعدد معاہدوں کے ذریعے انہیں راستہ کھلا رکھنے، قافلوں کی حفاظت اور سرکاری قلعوں کی سلامتی کے بدلے سالانہ وظیفہ دیا، لیکن وقفے وقفے سے بغاوتیں اور جھڑپیں جاری رہیں۔ جب صورتِ حال حد سے زیادہ خراب ہو جاتی تو فریقین جرگہ بلاتے؛ اس جرگہ میں ہر شاخ کے معتبرین، ملک اور مشران قبائلی روایت کے مطابق اجتماعی فیصلے کرتے اور امن یا جنگ کا اعلان کرتے۔

سفید جھنڈا اور خونی سرخ ہاتھ

اس تصویر میں دکھائی دینے والا سفید جھنڈا، جس پر سرخ ہاتھ بنا ہوا ہے، افریدی قبیلے کا مخصوص “جھنڈۂ صلح” تھا جسے مغربی ذرائع “Afridi Flag of Truce” کے نام سے ذکر کرتے ہیں۔ معاصر اخبارات مثلاً برطانوی رسالہ “The Graphic” نے اسی تصویر کے بارے میں لکھا کہ یہ افریدی جرگہ ایک برطانوی سیاسی افسر سے امن کی بات چیت کے لیے ملا اور قبیلے کا پرچم ایک سرخ ہاتھ سے مزین تھا۔سرخ ہاتھ کی علامت مختلف پشتون جنگی جھنڈوں پر بھی ملتی ہے، جہاں اسے پیغمبر اسلام کے ہاتھ، شہادت اور قبائلی غیرت و بہادری کی علامت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، اگرچہ اس کی تعبیرات میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔

فوٹوگرافر اور تصویر کی ساخت

یہ تاریخی تصویر برطانوی فوٹوگرافر رینڈولف بیزنٹ ہومز نے کھینچی، جو تیسری افغان جنگ اور سرحدی مہمات کے دوران پشتون سرحدی علاقوں کی سینکڑوں تصاویر کے لیے مشہور ہوا۔ دوسری جنگی تصاویر کی طرح یہاں بھی ہومز نے اونچی جگہ سے ایک وسیع اینگل شاٹ لیا ہے جس میں پس منظر میں ویران مگر وسیع میدان اور دور کہیں خیمے و عمارتیں اور پیش منظر میں جرگہ اور برطانوی افسر نمایاں ہیں؛ اس ترتیب سے ایک طرف قبائلی اجتماع کی اجتماعی طاقت جبکہ دوسری طرف نوآبادیاتی اختیار اور نظم کو بصری طور پر ابھارا گیا ہے۔

قُلی خان خٹک کا تعارف

ہجوم کے سامنے دو مغربی لباس میں ملبوس اشخاص کھڑے ہیں جن میں سے ایک برطانوی افسر اور دوسرا مقامی سیاسی و قبائلی رابطہ کار قُلی خان خٹک ہے۔ قُلی خان ایک ممتاز خٹک خاندان سے تعلق رکھتے تھے، برطانوی دور میں سیاسی خدمات اور وفاداری کے صلے میں انہیں “نائٹ بیچلر” کا اعزاز دیا گیا اور یوں وہ سر قُلی خان کہلائے۔ ان کی حیثیت ایک ایسے مقامی ایجنٹ کی تھی جو ایک جانب برطانوی انتظامیہ کے لیے قابلِ اعتماد گماشتہ اور دوسری جانب پشتون قبائل کے لیے زبان جاننے والا، رسم و رواج سے واقف مزاکرات کار تھا، جس کے ذریعے راج کو جرگوں میں نرم روی اور قبائلیوں کو اپنے مفادات کے تحفظ کی امید بندھی رہتی تھی
نوآبادیاتی ریاست اور مقامی اشرافیہ

برطانوی سرحدی پالیسی کی ایک اہم حکمتِ عملی یہ تھی کہ براہِ راست فوجی قبضے کے بجائے قبائلی مشران، نوابوں اور خانوں کو مراعات، خطاب اور جاگیریں دے کر اپنے ساتھ جوڑا جائے۔ قُلی خان خٹک جیسے اہلِ کار اسی نظام کی علامت تھے؛ انہیں اعزازات، سرکاری عہدے اور تجارت میں سہولتیں دی گئیں، اور بدلے میں وہ مقامی سطح پر برطانوی اقتدار کو جائز ثابت کرنے اور قبائل کو بغاوت سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔اس نظام نے ایک نئی “نوآبادیاتی اشرافیہ” کو جنم دیا جو بعد ازاں پاکستان بننے کے بعد بھی ریاستی ڈھانچے میں غالب رہی، خصوصاً فوجی اور سول بیوروکریسی میں۔

خاندانی تسلسل اور پاکستانی فوج

قُلی خان کے بیٹے جنرل حبیب اللہ خان خٹک نے برطانوی ہندوستانی فوج میں کمیشن حاصل کیا اور بعد میں پاکستان آرمی میں میجر جنرل کے عہدے تک پہنچے، یوں فوجی روایت گھرانے میں مضبوط ہوئی اگلی نسل میں لیفٹیننٹ جنرل علی قُلی خان خٹک نے پاک فوج میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں؛ وہ چیف آف جنرل اسٹاف، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس اور ایک وقت میں سربراہِ فوج کے ممکنہ امیدواروں میں شمار ہوتے رہے، جب کہ انہیں ہلالِ امتیاز (ملٹری) سمیت کئی فوجی اعزازات بھی ملے۔ اس طرح ایک جرگے کی تصویر میں نظر آنے والا مقامی معاون نہ صرف برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کا نمائندہ تھا بلکہ اُس خاندانی تسلسل کا نقطۂ آغاز بھی تھا جس نے بیسویں صدی اور بعد ازاں پاکستانی ریاست کے عسکری ڈھانچے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

افریدی جرگہ: طاقت، مزاحمت اور مفاہمت

تصویر میں افریدی قبائلی عماموں، چادروں اور روایتی اسلحے کے ساتھ نسبتاً منظم انداز میں کھڑے ہیں، جب کہ پیشِ رو مشران اور جرگہ کے نمائندے چند بکریوں اور دیگر جانوروں کی صورت میں نذرانہ یا “نغہ” پیش کرنے کے لیے آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ اس عمل میں بیک وقت مزاحمت اور مفاہمت کی جھلک نظر آتی ہے: ایک طرف قبائل اپنی اجتماعی عزت کے ساتھ بطور فریقِ جنگ سامنے آئے، دوسری طرف زمینی حقیقتوں اور طاقت کے عدم توازن کو مانتے ہوئے وہ صلح اور عبوری امن کے لیے تیار بھی ہوئے۔ یہی دوہرا رویہ—یعنی وقتاً فوقتاً بغاوت اور پھر جرگہ کے ذریعے مفاہمت—پشتون سرحدی سیاست اور برطانوی نوآبادیاتی حکمتِ عملی دونوں کا بنیادی وصف رہا، جس کی علامتی جھلک اس ایک تصویر میں سمٹ آئی ہے۔

عجیب و غریب تاریخ

03/12/2025

آج کراچی گلشن اقبال میں تین سالہ بچے کیساتھ دل خراش واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنی ماں سے چند قدم آگے جارہا تھا اور ایک کھلے مین ھول میں برکت جان سے ہاتھ دھو بیٹھا

10/11/2025

Nawab ktk president PPDA presenting a check to the CEO of Maaksons development Company on behalf of Nova City Peshawar at the head office Abdara road

Address

Peshawar

Telephone

+923459033096

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aman page posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category