06/06/2026
جمرود: فاٹا لویہ جرگہ کی سپریم کونسل کا اہم اجلاس جمرود میں ملک بسم اللہ کے حجرے میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت فاٹا لویہ جرگہ کے صدر حاجی بسم اللہ خان قبائلی نے کی۔
اجلاس میں ملک خان مرجان، نوابزادہ فضل کریم، ملک رحیم اعظم محسود، ملک وارث، ملک عبدالرزاق، ملک اسرار اللہ، ملک فضل الرحمان، پرنسپل نورزمان اور ملک حنیف سمیت دیگر عمائدین اور اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں متفقہ طور پر متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ شرکاء نے وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں فاٹا پر ٹیکسز عائد کرنے کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ فاٹا میں کسی بھی قسم کا ٹیکس قبائلی عوام کو قابل قبول نہیں ہوگا۔
اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ وادی تیراہ اور دیگر علاقوں کے تمام بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کو فوری طور پر باعزت طریقے سے اپنے آبائی علاقوں میں واپس بسایا جائے۔
اجلاس میں وزیراعظم میاں شہباز شریف کی جانب سے فاٹا انضمام کے حوالے سے قائم کردہ کمیٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمیٹی موجودہ شکل میں انہیں قابل قبول نہیں کیونکہ اس میں ایسے افراد شامل ہیں جو نہ فاٹا سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی قبائلی روایات اور زمینی حقائق سے واقف ہیں۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ کمیٹی میں فاٹا لویہ جرگہ کے نمائندوں کی شمولیت اور مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
شرکاء نے اٹھائیسویں آئینی ترمیم کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آئین کے آرٹیکل 246 اور آرٹیکل 247 کو ان کی اصل حیثیت میں بحال کیا جائے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ ان دفعات میں کسی نئی ترمیم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ انضمام کے فیصلے کو ختم کرتے ہوئے قبائلی علاقوں کی آئینی حیثیت کو بحال کیا جائے۔
اجلاس کے مقررین نے کہا کہ قبائلی عوام کو 9/11 سے پہلے والا فاٹا درکار ہے، جہاں نہ ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور نافذ تھا اور نہ ہی فوجی آپریشنوں کا سلسلہ تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قبائلی عوام سے مشاورت کی جائے اور ان کی خواہشات اور روایات کے مطابق اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔
اجلاس کے اختتام پر فاٹا میں ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف 9 جون کو بابِ خیبر سے جمرود پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا۔ مزید برآں فاٹا لویہ جرگہ کے اراکین تمام آئی ڈی پیز کیمپوں کا دورہ کرکے بے گھر خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کریں گے۔