21/11/2025
دو دوست ، دو افسر، دو متلاشیانِ حقـــــــــشلوار قمیص میں ملبوس ڈاکٹر فصیح الدین (پولیس سروس آف پاکستان) نے ممتاز ماہر معیشت جناب جمیل ناصر(چیف کلکٹر کسٹم پختونخوا) کو اپنی اُردو کتاب سفرنامہ ذوقِ پرواز پیش کی۔ جو اب آں غزل کے طور پر انگریزی لباس زیب تن کیے ہوئے جمیل ناصر صاحب نے اپنی انگریزی کتابیں عنایت کیں۔ ڈاکٹر فصیح الدین نے ملک سے جرائم کا خاتمہ چاہا اور جرائم پر تحقیق کے لیے پاکستان سوسائٹی آف کریمنالوجی بنائی۔ جمیل ناصر نے غربت کے خاتمے کے لیے ورلڈ بینک تک کا سفر کیا۔ احمد بشیر نے ممتاز مفتی کو لکھا: ّمفتی! تم نے مجھے تصوف سکھانا چاہا اور میں نے تمہیں ادب۔ دونوں ناکام رہے"۔ پاکستان میں فصیح الدین اور جمیل ناصر کا انجام بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کیا حسنِ اتفاق ہے کہ پولیس کے مال خانے سے بھی کتابیں نکلیں اور کسٹم کے وئیر ھاؤس سے بھی کتابیں برآمد ہوئیں۔ علمی حلقوں میں فصیح الدین ایک معتبر ادیب اور نقاد اور جمیل ناصر ایک محقق ماہر معاشیات کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ بین الاقوامی شہرت دونوں کو حاصل رہی۔ قومی مایوسی کو ئی خاص بات نہیں ۔ آعندلیب مل کے کریں آہ وزاریاں۔ ایک محقق جرائم اور دوسرا محقق مال وزر۔ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ۔ دونوں کے لیے ڈھیر ساری دعائیں۔ (تبصرہ : نازش بتول)