08/01/2022
مری میں ہونے والی رواں سال کی برف باری نے تہلکہ مچا دیا ہے۔
لاکھوں کی تعداد میں سیاح پھنس چکے ہیں ۔ کوئی پرسان حال نہیں ۔ لوگ جو خوشیاں منانے گئے تھے وہ موت سے نبردآزما ہیں ۔
یہی کچھ صورت حال چھ سات ماہ قبل ناران کاغان اور سوات کالام کی طرف دیکھنے کو ملی تھی۔ ان حالات کا ذمہ دار کسی عام شہری کو ٹہرانا _جو کہ سالہاسال کی مشقتوں سے دور بھاگنے کے لیے پورے سال ان دنوں کا انتظار کرتا ہے_ سراسر ظلم ہے۔
ان حالات کا ذمہ دار حکمران طبقہ ہے۔
ٹریفک پولیس ہے۔
موٹروے کے رکھوالے ہیں ۔
تفریحی مقامات کے انٹر چینج ہیں ۔
ان لوگوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کتنی تعداد ایک تفریحی مقام کے لیے کافی ہے۔
کسی بھی ہنگامی صورت حال میں کتنے لوگوں کو انتظامیہ سیکیور کرسکتی ہے.
اس جگہ پر طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
آخر میں عوام سے بھی گزارش ہے کہ خدارا اپنی زندگی پر رحم کریں! ہر ٹرینڈ کو فالوو کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
نوٹ: اس ویڈیو کے حوالے سے خبر یہ ہے کہ شدید ٹھنڈ کی وجہ سے اس فیملی کا دم گھٹ گیا اور کسی قسم کی کوئی امداد ان کو نہ مل سکی۔ واللہ اعلم