YA ALLAH YA RAB

YA ALLAH YA RAB میں صرف اللہ کے لیے کام کرتا ہوں.الحمداللہ☝
اللہ میرا حقیقی دوست اور حضرت محمد ﷺ حقیقی رہبر ہے.💞الله أكبر۔۔مُحَمَّد رسول الله ﷺ 💞 ۔۔

Islamic hadais Quran and on Pakistan politices of ji of na45 .

مرحبا اے رمضان۔۔
16/02/2026

مرحبا اے رمضان۔۔

ہم بچپن سے آسمان پر جہاز دیکھتے آئے ہیں…مگر کیا کبھی رک کر سوچا کہ اُن کے پیچھے بننے والی سفید لکیر آخر ہوتی کیا ہے؟ 🤔✈️...
16/02/2026

ہم بچپن سے آسمان پر جہاز دیکھتے آئے ہیں…
مگر کیا کبھی رک کر سوچا کہ اُن کے پیچھے بننے والی سفید لکیر آخر ہوتی کیا ہے؟ 🤔✈️
نہ ہم نے کبھی استاد سے پوچھا، نہ استاد نے خود بتانے کی زحمت کی… اور ہم اسے بس “دھواں” سمجھتے رہے۔
اور جو سفید لکیر ہمیں نظر آتی ہے — وہ دھواں نہیں ہوتی ❌
جب جہاز تقریباً 30 سے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتا ہے تو وہاں شدید سردی ہوتی ہے۔ انجن سے نکلنے والے پانی کے بخارات جم کر باریک برف کے ذرات میں بدل جاتے ہیں، اور یوں آسمان پر سفید لکیر بن جاتی ہے۔ ☁️
اسی کو کنٹریلز (Contrails) کہا جاتا ہے۔
☁️ فضا خشک ہو تو یہ لکیر جلد غائب ہو جاتی ہے۔
☁️ نمی زیادہ ہو تو کچھ دیر باقی رہتی ہے یا پھیل جاتی ہے۔
سادہ سی بات ہے — یہ قدرت کا ایک خوبصورت سائنسی مظہر ہے، کوئی پراسرار کہانی نہیں 🙂✨
کیا آپ کو پہلے یہ معلوم تھا؟ 👇😊

الیکٹرانک سگریٹ: میٹھا دھواں اور کڑوا انجام17 سالہ نوجوان کے ڈیمیج پھیپھڑے، والدین اور نوجوانوں کے لیے وارننگ۔ الیکٹرانک...
21/01/2026

الیکٹرانک سگریٹ: میٹھا دھواں اور کڑوا انجام
17 سالہ نوجوان کے ڈیمیج پھیپھڑے، والدین اور نوجوانوں کے لیے وارننگ۔ الیکٹرانک سگریٹ یا ویپنگ کو عام طور پر عام سگریٹ سے کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، لیکن کینیڈا کے 17 سالہ نوجوان کی کہانی نے اس غلط فہمی کو خطرناک حد تک بے نقاب کر دیا ہے۔
لی رائے کنگ نامی یہ نوجوان صرف 14 برس کی عمر میں خفیہ طور پر الیکٹرانک سگریٹ پینے لگا۔ ابتدا محض تجسس اور شوق کی تھی، پھر آہستہ آہستہ یہ عادت بن گئی اور آخرکار شدید نشے میں تبدیل۔ وہ یہ سمجھتا رہا کہ ویپنگ عام سگریٹ کے مقابلے میں محفوظ ہے، اس لیے اس نے کبھی خطرے کا اندازہ ہی نہیں لگایا۔
کچھ ہی عرصے میں اس کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ ہر ہفتے چار مکمل الیکٹرانک سگریٹ استعمال کرنے لگا اور تقریباً پورا دن دھواں پیتا رہتا تھا۔
ایک رات اچانک اس کے سینے کے بائیں حصے میں شدید درد اٹھا، سانس لینے میں شدید دشواری ہوئی اور حالت بگڑنے لگی۔ والدہ فوراً اسے اسپتال لے گئی، جہاں ڈاکٹروں نے تشویشناک انکشاف کیا کہ اس کا بایاں پھیپھڑا ڈیمیج ہو چکا ہے۔
آخرکار ڈاکٹروں کو ہنگامی آپریشن کرنا پڑا اور پھیپھڑوں کے خراب حصے نکالنے پڑے۔ ڈاکٹروں نے واضح طور پر بتایا کہ اس خطرناک بیماری کی بنیادی وجہ الیکٹرانک سگریٹ کا مسلسل استعمال ہے۔
اس نوجوان کے لیے سب سے ہولناک لمحہ وہ تھا جب اسے ایک پلاسٹک کے تھیلے میں اپنے ہی پھیپھڑوں کے نکالے گئے حصے دکھائے گئے۔ وہ حصے سیاہ ہو چکے تھے، جیسے جل کر راکھ بن گئے ہوں۔
یہ تمام نوجوانوں اور والدین کے لیے سخت تنبیہ ہے۔ الیکٹرانک سگریٹ چاہے ذائقے دار ہوں یا خوشبو دار، یہ پھیپھڑوں کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہیں، خاص طور پر کم عمر بچوں میں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویپنگ نہ صرف نکوٹین کی شدید لت پیدا کرتی ہے بلکہ سانس کے خطرناک امراض، پھیپھڑوں کے بیٹھ جانے اور وقت سے پہلے موت تک کا سبب بن سکتی ہے۔
والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور نوجوان اس غلط فہمی سے باہر آئیں کہ الیکٹرانک سگریٹ محفوظ ہے۔ میٹھا دھواں، حقیقت میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

انسان کے جسم میں کچھ ایسی ہڈیاں بھی ہیں جو اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ اگر انگلی پر رکھو تو ریت کے ذرے جیسی محسوس ہوں…مگر الل...
12/01/2026

انسان کے جسم میں کچھ ایسی ہڈیاں بھی ہیں جو اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ اگر انگلی پر رکھو تو ریت کے ذرے جیسی محسوس ہوں…
مگر اللہ کی قدرت میں ان کا کام پہاڑوں سے بھی زیادہ بھاری ہے۔
کان کے اندر موجود یہ ننھی سی ہڈیاں وہ کرشمہ انجام دیتی ہیں جسے آج تک دنیا کی کوئی مشین اُس نفاست، اُس درستگی اور اُس حکمت کے ساتھ انجام نہیں دے سکی۔
اگر ان میں سے صرف ایک ہڈی بھی اپنی جگہ سے ہل جائے یا خراب ہو جائے تو آواز کا سفر وہیں رک جاتا ہے…
انسان سماعت کی نعمت سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کا توازن بھی بگڑنے لگتا ہے۔
سوچیے…
اتنی چھوٹی، اتنی باریک، اتنی نازک کہ ننگی آنکھ سے بمشکل نظر آئے—
مگر وہی ہڈی آپ کو سننے کی صلاحیت بھی دیتی ہے اور آپ کے جسم کا توازن بھی قائم رکھتی ہے۔
یہ محض ایک عضو نہیں…
یہ اللہ کی صنعت ہے۔
یہ اللہ کی تدبیر ہے۔
یہ اللہ کی وہ عظیم نعمت ہے کہ اگر اس پر غور کیا جائے تو انسان بے اختیار سجدے میں گر جائے۔
“پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ
گے؟”۔۔۔

گرین لینڈ شارک: 400 سال کی عمر!!گرین لینڈ شارک دنیا کی سب سے طویل عمر پانے والی فقاری مخلوق سمجھی جاتی ہے، جس کی عمر بعض...
12/01/2026

گرین لینڈ شارک: 400 سال کی عمر!!
گرین لینڈ شارک دنیا کی سب سے طویل عمر پانے والی فقاری مخلوق سمجھی جاتی ہے، جس کی عمر بعض اندازوں کے مطابق 400 سال تک پہنچ جاتی ہے۔ طویل عرصے تک سائنس دانوں کا خیال تھا کہ اتنی زیادہ عمر اور آنکھوں پر طفیلی جانداروں کی موجودگی کے باعث یہ شارک تقریباً اندھی ہو جاتی ہے، خاص طور پر اس لیے بھی کہ یہ گرین لینڈ کے گہرے، تاریک سمندری پانیوں میں رہتی ہے جہاں روشنی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔
تاہم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، اَروائن (UC Irvine) کی نئی تحقیق نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ محققین کے مطابق گرین لینڈ شارک کی آنکھیں کمزور نہیں بلکہ خاص طور پر اندھیرے کے لیے ڈھلی ہوئی ہیں اور حیرت انگیز طور پر یہ بصری نظام سینکڑوں سال بعد بھی اپنی کارکردگی برقرار رکھتا ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس شارک کی آنکھ کی اہم تہہ، یعنی ریٹینا، عمر رسیدہ ہونے کے باوجود محفوظ رہتی ہے اور اس میں وہ بگاڑ نظر نہیں آتا جو عام طور پر عمر کے ساتھ انسانوں اور دیگر جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ شارک زیادہ تر خلیاتِ عصویہ (rods) پر انحصار کرتی ہے جو کم روشنی میں دیکھنے کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ رنگ اور باریک تفصیل دکھانے والے خلیات (cones) کم استعمال ہوتے ہیں۔
سادہ الفاظ میں، چونکہ اس مچھلی کو رنگوں اور باریک مناظر کی ضرورت نہیں، اس لیے اس کا بصری نظام سادہ مگر مضبوط ہے اور یہی سادگی اسے طویل عرصے تک کام کرنے کے قابل بناتی ہے۔
مزید یہ کہ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ شارک کے جسم میں ڈی این اے کی مرمت کا نظام بھی غیر معمولی طور پر مؤثر ہے، جو خلیوں کو وقت کے ساتھ خراب ہونے سے بچاتا ہے۔ اس کے علاوہ آنکھ کی جھلیوں میں موجود خاص قسم کی چکنائیاں بصری پروٹینز کو سخت حالات میں بھی فعال رکھتی ہیں۔
یہ تحقیق نہ صرف اس نادر شارک کے بارے میں انسانی سوچ کو بدلتی ہے بلکہ بڑھاپے، بینائی اور طویل عمر کے راز سمجھنے میں بھی انسان کے لیے نئے سائنسی دروازے کھولتی ہے۔
ویسے بھی یہ مچھلی عجائبات قدرت میں سے ہے۔ یہ انڈے نہیں دیتی، بلکہ حمل سے بچے جنم دیتی ہے۔ حاملہ ہونے کے بعد تقریباً 12 سال بعد اس کے چھ سے دس بچے جنم لیتے ہیں۔ یہ دنیا میں کسی بھی جانور میں سب سے طویل مدت حمل کا ریکارڈ رکھتی ہے۔ یہ بچے پھر 150 سال بعد بالغ ہوکر تولیدی صلاحیت کے حامل ہوجاتے ہیں۔
فتبارک اللہ احسن الخالقین۔

وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال جینے کی تیاری کر چکا تھا…صرف تیس منٹ میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔"مائیکل جیکسن: فطرت سے جنگ کی کہانیما...
12/01/2026

وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال جینے کی تیاری کر چکا تھا…
صرف تیس منٹ میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔"

مائیکل جیکسن: فطرت سے جنگ کی کہانی

مائیکل جیکسن ایک ایسا انسان تھا جو نظامِ فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا۔ اسے چار چیزوں سے شدید نفرت تھی: اپنے سیاہ رنگ سے، گمنامی سے، اپنے ماضی سے، اور عام انسانوں کی طرح محدود عمر سے۔ وہ گوروں کی طرح دکھائی دینا چاہتا تھا، دنیا کا سب سے مشہور انسان بننا چاہتا تھا، اپنے ماضی کو مٹا دینا چاہتا تھا، اور ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنے کا خواب دیکھتا تھا۔

اس کی آنے والی پوری زندگی انہی خواہشوں کی تکمیل میں گزری۔ 1982ء میں اس نے اپنا مشہور البم Thriller لانچ کیا، جو دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا البم بن گیا۔ ایک ہی ماہ میں کروڑوں کاپیاں فروخت ہوئیں اور مائیکل جیکسن دنیا کا مشہور ترین گلوکار بن گیا۔ یوں اس نے گمنامی کو شکست دے دی۔

اس کے بعد اس نے اپنی رنگت کو شکست دینے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ اور یورپ کے درجنوں چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی مدد سے اس نے مسلسل سرجریز کروائیں۔ 1987ء تک اس کی جلد، چہرہ، حرکات اور انداز مکمل طور پر بدل چکے تھے۔ سیاہ فام مائیکل کی جگہ ایک گورا، نازک اور نسوانی نقوش والا مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ چکا تھا۔

پھر ماضی کی باری آئی۔ اس نے اپنے خاندان سے تعلق توڑ لیا، پتے بدلے، پرانے دوست چھوڑ دیے اور مصنوعی زندگی اختیار کر لی۔ اس نے خود کو مزید مشہور کرنے کے لیے لیزا میری پریسلے سے شادی کی، یورپ میں اپنے مجسمے نصب کروائے اور مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے اولاد حاصل کی۔ یوں وہ بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی بھاگ نکلا، مگر تنہائی اور مصنوعی پن میں مزید دھنس گیا۔

اب آخری خواہش باقی تھی: طویل عمر۔ مائیکل جیکسن نے ڈیڑھ سو سال زندہ رہنے کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ وہ آکسیجن ٹینٹ میں سوتا، ماسک اور دستانے استعمال کرتا، مخصوص خوراک لیتا اور بارہ ڈاکٹر مستقل ملازم رکھتا تھا۔ اس نے یہاں تک کہ اپنے لیے اضافی اعضاء کے ڈونرز بھی تیار کر رکھے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر اعضا تبدیل کروائے جا سکیں۔

مگر پھر 25 جون کی رات آئی۔ اچانک سانس لینے میں دشواری ہوئی۔ بہترین ڈاکٹرز جمع ہوئے، کوششیں کی گئیں، مگر وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر چکا تھا، صرف پچاس برس کی عمر میں چند منٹوں میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کی موت کی خبر نے گوگل کا سسٹم تک جام کر دیا۔

پوسٹ مارٹم نے ایک اور حقیقت آشکار کی۔ حد سے زیادہ احتیاط نے اس کے جسم کو کمزور ڈھانچے میں بدل دیا تھا۔ پلاسٹک سرجریز، درد کش ادویات اور انجیکشنز نے اسے بچایا نہیں۔ یوں مائیکل جیکسن کی زندگی ایک اعلان بن گئی کہ انسان دنیا فتح کر سکتا ہے، مگر تقدیر، موت اور اس کے لکھنے والے کو شکست نہیں دے سکتا۔

یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ چاہے کوئی راک اسٹار ہو یا فرعون،
وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔

مدینة النبى ﷺ کے آخری عثمانی پہریدار عمر فخر الدین پاشا رحمہ اللہ تعالیٰ کی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک نایاب تصویر 1916ء م...
09/01/2026

مدینة النبى ﷺ کے آخری عثمانی پہریدار عمر فخر الدین پاشا رحمہ اللہ تعالیٰ کی اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک نایاب تصویر

1916ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران مدینہ منورہ کا محاصرہ شروع ہوا ، سیدنا عمر فخر الدین پاشا اپنے دیگر سپاہیوں( رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین) کے ساتھ تین سال تک ڈٹے رہے ، ہر تکلیف برداشت کی ، معاملات یہاں تک پہنچے کہ ٹڈیاں کھا کر گزارا کرتے رہے لیکن مدینة النبى ﷺ کی حفاظت میں کوئی کوتاہی نہ برتی ۔ 1918ء میں ترکی جنگ عظیم ہار گیا ، معاہدے کے مطابق مدینہ منورہ باغیوں کے حوالے کرنا تھا لیکن لیفٹینینٹ جنرل فخرالدین پاشا رحمہ اللہ تعالیٰ نے عثمانی سلطان کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ، اس پر استنبول سے ان کیلئے پھانسی کا حکم بھی جاری ہوا جس پر بعد میں عمل نہ ہوا الحمدلله ، فرمایا کرتے تھے : یا رسول الله ﷺ ! میں آپ سے بےوفائی نہیں کرونگا ۔ حالات مزید سخت ہوتے گئے ، استنبول کا دباؤ بڑھتا گیا اور بالآخر فوج کے چند افسران نے انہیں زبردستی گرفتار کر کے باغیوں کے حوالے کر دیا ۔ یوں حجازِ مقدس میں جنوری 1919ء کے ایک دن عثمانی پرچم سرنگوں ہو گیا ۔ جنرل فخر الدین پاشا رحمہ اللہ تعالیٰ اس کے بعد ایک مدت دشمن کی قید میں رہے ، جلا وطنی کی زندگی بھی گزاری ، اس عرصے میں انہوں نے اپنا لباس کبھی نہیں اتارا ، فرمایا کرتے تھے : میں آج بھی اپنے آقا ﷺ کے مقدس شہر کا سپاہی ہوں!
سلام ہو تجھ پر اے عمر فخر الدین پاشا

*کیا آپ جانتے ہیں یہ کون ہے جو ابو عبیدہ کے ساتھ ہے* ؟ *یہ فادی اسلیم ابو سامی ہے، شجاعية کے رہنے والے، ابوعبیدہ کے نائب...
09/01/2026

*کیا آپ جانتے ہیں یہ کون ہے جو ابو عبیدہ کے ساتھ ہے* ؟
*یہ فادی اسلیم ابو سامی ہے، شجاعية کے رہنے والے، ابوعبیدہ کے نائب یہ بھی جنگ کے ساتویں مہینے شہید ہو گئے*
ان کے کارنامے بہت ہیں، وہ ابوعبیدہ کے دائیں بازو تھے
دنیا میں دوست تھے، اب اللہ کے پاس خوش ہیں بیشک

مؤذنِ رسول ﷺ حضرت بلال حبشیؓ کی ابدی آرام گاہ!یہ تصویر اس عظیم صحابی حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کی ہے۔ ...
09/01/2026

مؤذنِ رسول ﷺ حضرت بلال حبشیؓ کی ابدی آرام گاہ!
یہ تصویر اس عظیم صحابی حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کی ہے۔ وہی جنہیں رسولِ اکرم ﷺ نے اسلام کا پہلا مؤذن مقرر فرمایا۔ ان کی وہ آواز، جو پہلی بار مکہ کی فضاؤں میں گونجی، آج بھی تاریخ کے اوراق میں ایمان کی صدائے بازگشت ہے۔
حضرت بلالؓ کا تعلق حبشہ (موجودہ ایتھوپیا) سے تھا۔ مکہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو توحید کے جرم میں سخت ترین مظالم کا سامنا کرنا پڑا، مگر آپؓ کے لبوں پر صرف ایک ہی صدا رہی:
“احد… احد!”
یعنی اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔
سن 13 ہجری / بمطابق 634ء میں رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد حضرت بلالؓ مدینہ منورہ چھوڑ کر جہاد کے لیے شام چلے گئے، کیونکہ حضور ﷺ کے بعد مدینہ کی گلیوں میں اذان دینا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو گیا تھا۔ بعد ازاں وہ دمشق میں مقیم ہو گئے۔
آپ رضی اللہ عنہ کا وصال تقریباً 20 ہجری / بمطابق 641ء میں ہوا، اور آپ کو دمشق کے مشہور تاریخی قبرستان باب الصغیر میں سپردِ خاک کیا گیا۔ جہاں آج بھی آپ کی قبر اہلِ ایمان کے لیے عقیدت اور سبق کا مرکز ہے۔
تحریر:محمد سہیل

ساری زندگی میں یہ سمجھتا رہا کہ حذیفہ (أبو عبیدۃ) کے ہاتھ میں پہلے سے لکھا ہوا خطاب تھمایا جاتا ہوگا،وہ بس چند لفظ سنوار...
08/01/2026

ساری زندگی میں یہ سمجھتا رہا کہ حذیفہ (أبو عبیدۃ) کے ہاتھ میں پہلے سے لکھا ہوا خطاب تھمایا جاتا ہوگا،
وہ بس چند لفظ سنوارتا ہوگا
اور پھر اپنی پُرہیبت، دلوں میں اتر جانے والی آواز میں اسے پڑھ دیتا ہوگا…
مگر جب وہ رخصت ہوا،
تو ایک ایک کر کے ایسے راز کھلنے لگے
جنہوں نے عقل کو حیران اور دل کو خاموش کر دیا۔
حذیفہ صرف ترجمان نہیں تھا۔
وہ پورے بیانیے کا معمار تھا۔
اگر درست کہا جائے تو
وہ مزاااحمت کا وزیرِ اطلاعات تھا—
وہی منصوبہ بناتا،
وہی سمت متعین کرتا،
اور اس کے بعد ایک پوری ٹیم
اسی کے نقشِ قدم پر چلتی۔
یہاں تک کہ معرکوں کے نام بھی
اسی کے ذہن کی پیداوار تھے:
حجارة داوود
عصا موسیٰ
یہ کوئی معمولی بات نہیں ہوتی—
نام تاریخ بن جاتے ہیں،
اور تاریخ صرف بڑے لوگ لکھتے ہیں۔
اسی لیے وہ قیادت کی اولین صف میں تھا،
اور اسی لیے
وہ ایک مکمل میڈیا اسکول تھا—
ایسا اسکول جس نے
مغربی، امریکی اور صہیونی میڈیا کی
طاقتور ترین مشینری کو ہلا کر رکھ دیا۔
اربوں ڈالر،
برسوں کی منصوبہ بندی،
اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کا پورا نظام—
سب اس کے ایک مضبوط بیانیے کے سامنے بکھر گیا۔
اور یہ سب کس نے کیا؟
کوئی شہزادہ نہیں،
کوئی بین الاقوامی تعلیم یافتہ اشرافیہ نہیں،
کوئی سیاسی خانوادے کا وارث نہیں—
بلکہ
جبالیا کے ایک مہاجر کیمپ میں پیدا ہونے والا
ایک سادہ، خاموش، گمنام سا انسان۔
ذرا دیکھو آج
اسرائیلی فوج کے ترجمان کو—
جو خود دنیا میں ایک مذاق بن چکا ہے،
اور بالآخر اپنے عہدے سے ہٹنا پڑا۔
اور پھر ذرا دیکھو
حذیفہ کی شـ..ـہااادت کے دن
دنیا کا ردعمل—
خاموشی، خوف، الجھن…
یہ سب اتفاق نہیں ہوتا۔
نہیں!
یہ محض اتفاق نہیں تھا۔
یہ سب ایک راز کا نتیجہ تھا—
ایک ایسا راز
جو اس کے معمولات میں چھپا تھا۔
اس کے بیٹے ابراہیم کا ایک جملہ
اس راز کو بے نقاب کر دیتا ہے:
“ابو ہر دو یا تین دن میں پورا قرآن مکمل کرتے تھے…”
سوچو!
وہ شخص جسے دنیا کی خفیہ ایجنسیاں ڈھونڈ رہی ہوں،
جو پوری جنگ کے میڈیا کی ذمہ داری اٹھائے ہو،
اور پھر بھی
ہر چند دن میں قرآن ختم کرتا ہو—
یہ عام انسان نہیں ہو سکتا۔
یہی وجہ ہے کہ
اس کے خطابات سن کر
ایسا لگتا تھا
کہ ہم اسلام کو پہلی بار سن رہے ہیں۔
نبی ﷺ پر درود کا وہ اسلوب
جو نہ نعرہ تھا،
نہ خطابت—
بلکہ علم، ادب اور سلف کی خوشبو لیے ہوئے تھا۔
اور پھر
اس کی آخری للکار…
انگلی اٹھا کر
حکومتوں، جماعتوں، علما، طاقتوں—
سب کو ایک ہی صف میں کھڑا کر کے کہنا:
“تم سب قیامت کے دن
اللہ کے سامنے ہمارے فریقِ مخالف ہو گے!”
اور پھر…
کوئی جواب نہ دے سکا۔
کیونکہ
جب سچ پورے یقین کے ساتھ بولا جائے
تو باطل کے پاس
خاموشی کے سوا کچھ نہیں رہتا۔

عربی تحریر سے مترجم

#رفح
#فلسطيني
#غزة
#أبوعبيدة
#ابوعبيدة



YA ALLAH YA RAB

Address

Peshawar
AJ

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when YA ALLAH YA RAB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to YA ALLAH YA RAB:

Share

Category