24/05/2026
چین: پاکستان اور چین کی دوستی کی 75 سالہ جشن کے سلسلے میں بیجنگ میں منعقدہ تقریب سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان ارسلان خان ناظم کا خطاب
🔴 آج کی دنیا میں حقیقی مقابلہ تعلیم، معیشت اور ٹیکنالوجی کا ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ وہ علاقائی اور عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کرسکیں
🔴 پختونخوا اور بلوچستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ انہیں ٹیکنیکل ایجوکیشن، ڈیجیٹل ٹریننگ، پروفیشنل اسکلز، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، انجینئرنگ، مائننگ ٹیکنالوجی اور جدید زرعی علوم میں مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے
🔴 چین کا ترقیاتی ماڈل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قوموں کی ترقی کے لیے نظم و ضبط، تعلیم، انفراسٹرکچر، طویل المدتی منصوبہ بندی اور اجتماعی فلاح کے جذبے کی ضرورت ہوتی ہے
🔴 سی پیک اور دیگر علاقائی منصوبے اس خطے کے نوجوانوں کے لیے ترقی اور روزگار کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔ اگر ان منصوبوں میں مقامی آبادی کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی خوشحالی کا سبب بنیں گے
🔴 پاکستان اور چین کی دوستی صرف حکومتوں کے درمیان تعلق نہیں بلکہ یہ عوامی سطح پر بھی مضبوط رشتہ ہے۔ اس دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اسکالرشپس، اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرامز، ووکیشنل ٹریننگ اور ٹیکنالوجی پارٹنرشپس کو فروغ دینا ضروری ہے
🔴 پشاور، سوات، دیر، چترال، کوہاٹ اور مردان جیسے اضلاع علاقائی ترقی اور مستقبل کی معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان علاقوں کو جدید تعلیم، انفراسٹرکچر اور صنعتی مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے
🔴 ہم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ مستقبل، اقتصادی ترقی اور علاقائی امن کے لیے تعاون کو فروغ دیں
🔴 ہم چینی حکومت اور تعلیمی اداروں سے خصوصی طور پر درخواست کرتے ہیں کہ پختونخوا اور بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے مزید تعلیمی، فنی اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ترقی کے سفر میں بھرپور کردار ادا کرسکیں
| |