Jaag News

Jaag News Jaag TV is a D I Khan news channel that provides live and updated coverage of current affairs

ڈیرہ اسماعیل خان: ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے معاملے پر ا...
17/08/2026

ڈیرہ اسماعیل خان: ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے معاملے پر اینٹی کرپشن کی کارروائی کے بعد بلدیاتی نظام کی نگرانی، افسران کی جواب دہی اور سابق صوبائی حکومت کے دور میں ہونے والی انتظامی کارروائیوں پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔ اینٹی کرپشن کی سامنے آنے والی دستاویز کے مطابق ایک معاملے میں سرکاری خزانے کو 9 لاکھ 43 ہزار 725 روپے کے مبینہ نقصان کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 409 اور انسدادِ بدعنوانی قانون کی متعلقہ دفعہ 5(2) کا حوالہ دیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق واقعے کی تاریخ 29 ستمبر 2021 درج ہے، جبکہ معاملے کی اطلاع محکمہ اینٹی کرپشن کو 23 فروری 2026 کو صبح 10 بج کر 30 منٹ پر موصول ہوئی۔ رپورٹ میں مختلف سابقہ رپورٹس اور سرکاری ریکارڈ کا حوالہ بھی موجود ہے، جن میں 369-73 مورخہ 18 مئی 2022 اور 1002/CO/ACE مورخہ 30 اپریل 2025 شامل ہیں۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران مبینہ طور پر سرکاری خزانے کو 943,725 روپے کا نقصان سامنے آیا، جس کے بعد معاملے کو قانونی کارروائی کے لیے آگے بڑھایا گیا۔ تاہم فراہم کردہ دستاویز کے صفحے پر نامزد ملزمان یا اہلکاروں کے نام واضح طور پر درج نہیں، اس لیے متعلقہ افسران کے نام مکمل ایف آئی آر یا کیس ریکارڈ کی تصدیق کے بعد ہی حتمی طور پر سامنے آسکیں گے۔دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں اور مختلف حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ٹی ایم اے اور دیگر سرکاری محکموں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمات اور انکوائریاں سابق وزیراعلیٰ سردار علی امین خان گنڈاپور کے دور حکومت میں بھی سامنے آچکی تھیں تو پھر ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سابق صوبائی حکومت کے دور میں سامنے آنے والی تمام اینٹی کرپشن انکوائریوں، ایف آئی آرز، محکمانہ تحقیقات اور مالی بے ضابطگیوں کا ریکارڈ منظر عام پر لایا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ جن افسران کے خلاف شکایات یا مقدمات موجود تھے، انہیں اہم عہدوں پر برقرار رکھنے یا ان کے تبادلوں میں تاخیر کی وجوہات کیا تھیں۔شہری حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض افسران کو مبینہ طور پر سیاسی سرپرستی حاصل رہی اور انتظامی معاملات میں غیرضروری مداخلت کی گئی۔ بعض شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی افسر یا اہلکار کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات چل رہی تھیں تو اسے حساس انتظامی عہدے پر برقرار رکھنے کی بجائے شفاف تحقیقات مکمل ہونے تک غیرجانبدارانہ انتظامی اقدام کیا جانا چاہیے تھا۔شہریوں کے مطابق اب اگر ایسے افسران کے تبادلے کیے جا رہے ہیں تو حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ان کے خلاف پہلے سے موجود شکایات، انکوائریوں اور مقدمات کا کیا نتیجہ نکلا اور ماضی میں کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ افسران کی تعیناتیوں، تبادلوں، اختیارات اور ان کے خلاف جاری تحقیقات کا جامع جائزہ لیا جائے۔دوسری جانب شہریوں اور سیاسی حلقوں کے ایک طبقے نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی انتظامی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا دعویٰ کرتی ہے تو سرکاری محکموں میں سامنے آنے والی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔شہری حلقوں نے علی امین گنڈاپور کے اثاثوں اور مالی معاملات سے متعلق ماضی میں سامنے آنے والے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی شخصیات ہوں یا سرکاری افسران، سب کے اثاثوں اور آمدن میں اضافے کی مکمل اور شفاف وضاحت عوام کے سامنے آنی چاہیے۔سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں 2013 کے انتخابات کے دوران مبینہ طور پر مرغیاں قرض پر لینے اور 900 روپے کی رقم سے متعلق ایک دعویٰ بھی زیر بحث لایا جاتا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ اور مستند دستاویزی تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے شہریوں کا کہنا ہے کہ اصل سوال کسی سیاسی شخصیت کے ماضی کے مالی حالات نہیں بلکہ یہ ہے کہ آمدن، اثاثوں اور جائیدادوں میں ہونے والے اضافے کی قانونی اور دستاویزی وضاحت کیا ہے۔شہریوں کے بعض حلقوں نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ سابق دور حکومت میں بعض افسران کو سیاسی سرپرستی حاصل رہی اور مبینہ طور پر مالی معاملات میں بھی مفادات وابستہ رہے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کسی افسر، اہلکار یا سیاسی شخصیت کے درمیان مالی لین دین، اختیارات کے ناجائز استعمال یا سرکاری وسائل سے فائدہ اٹھانے کے شواہد موجود ہیں تو انہیں اینٹی کرپشن، نیب یا دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے قانون کے مطابق جانچا جائے۔ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، چیف سیکرٹری، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، اینٹی کرپشن حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہونے والی تمام مالی بے ضابطگیوں، ٹھیکوں، ٹیکس وصولیوں، سرکاری ریکارڈ، تعیناتیوں اور افسران کے خلاف درج مقدمات کا جامع آڈٹ کرایا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر 9 لاکھ 43 ہزار 725 روپے کے نقصان کا معاملہ سامنے آ سکتا ہے تو اس بات کی بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے کہ دیگر معاملات میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر کتنا نقصان پہنچا اور اس کے ذمہ دار کون ہیں۔عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اگر الزامات ثابت ہوں تو کسی بھی سیاسی یا انتظامی دباؤ کے بغیر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔واضح رہے کہ اینٹی کرپشن کی ایف آئی آر یا ابتدائی رپورٹ میں درج الزامات کو عدالت کی جانب سے ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح علی امین گنڈاپور یا کسی دوسرے فرد کے خلاف اثاثوں، مالی معاملات یا سرکاری افسران سے مبینہ لین دین سے متعلق الزامات کی حتمی حیثیت متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور عدالتی فیصلے سے ہی طے ہوگی۔

*ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان میں زیرِ التوا انکوائریوں پر کارروائی تیز، سابق ٹی ایم او حنیف کے دور کی فائلیں کھل گئیں، ای...
17/08/2026

*ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان میں زیرِ التوا انکوائریوں پر کارروائی تیز، سابق ٹی ایم او حنیف کے دور کی فائلیں کھل گئیں، اینٹی کرپشن نے ریکارڈ طلب کرلیا*

ڈیرہ اسماعیل خان (خصوصی رپورٹ): تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈیرہ اسماعیل خان میں زیرِ التوا شکایات اور انکوائریوں کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آگئی، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے پاس موجود شکایات کے ریکارڈ اور متعلقہ فائلوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا عمل شروع کردیا گیا ہے، جبکہ ٹی ایم اے حکام نے متعلقہ افسران کو تمام فائلیں کھول کر ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے، متعلقہ شعبوں سے مؤقف حاصل کرنے اور جامع رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے۔اس سلسلے میں تحصیل میونسپل آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان کی جانب سے 17 اگست 2026 کو مراسلہ نمبر 1083/TMA/DIK جاری کیا گیا، جس میں اسسٹنٹ ٹیکس سپرنٹنڈنٹ محمد طارق کو ہدایت کی گئی ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ اسماعیل خان کے پاس زیرِ التوا شکایات اور انکوائریوں سے متعلق تمام متعلقہ فائلوں کا جائزہ لیا جائے، متعلقہ شعبوں کا مؤقف حاصل کیا جائے اور تمام پہلوؤں کا ریکارڈ کی روشنی میں جائزہ لے کر جامع رپورٹ تیار کرکے تحصیل میونسپل آفیسر کو فوری طور پر پیش کی جائے تاکہ اسے متعلقہ فورم کو بھجوایا جاسکے۔مراسلے میں معاملے کو حساس نوعیت کا قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ اسے ترجیحی بنیادوں پر لیا جائے اور کسی مزید تاخیر کے بغیر کام مکمل کیا جائے۔ مراسلے کی نقول اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ڈیرہ اسماعیل خان، سرکل آفیسر اینٹی کرپشن، تحصیل آفیسر فنانس، تحصیل آفیسر ریگولیشن، پلاننگ کنٹرول آفیسر، پلاننگ کنٹرول انسپکٹر اور متعلقہ پٹواری سمیت دیگر افسران کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کے بعد سابق تحصیل میونسپل آفیسر حنیف کے دور سے متعلق بعض زیرِ التوا معاملات اور فائلیں بھی دوبارہ زیرِ بحث آگئی ہیں۔ مختلف حلقوں کی جانب سے سابقہ دور میں مبینہ قانونی و انتظامی بے ضابطگیوں، بھرتیوں اور پروموشنز، تحصیل میونسپل کی زمینوں اور دیگر املاک سے متعلق معاملات، دکانوں کی منتقلی اور مختلف ٹھیکوں میں مبینہ بے قاعدگیوں سمیت دیگر شکایات کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم ان تمام الزامات کی حتمی تصدیق تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی ہوسکے گی۔تین بنگلوں کے چکر، سیاسی رابطوں کی بھی بازگشت ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کے بعد سابق تحصیل میونسپل آفیسر حنیف کی جانب سے بعض سیاسی شخصیات سے رابطوں اور سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سابق ٹی ایم او نے مختلف سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کرکے اپنے معاملات میں مدد اور سیاسی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض حلقوں کے مطابق وہ ان سیاسی شخصیات کے ساتھ چلنے اور آئندہ سیاسی تعاون کے لیے بھی رابطے کرتے رہے۔ذرائع کے مطابق سابق ٹی ایم او حنیف کے حوالے سے تین مختلف مقامات پر موجود بنگلوں کے چکر لگانے اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کی باتیں بھی گردش میں ہیں، جن میں پولیس لائن روڈ پر واقع ایک بنگلہ، کنڈی ماڈل فارم اور شورکوٹ میں موجود بنگلے کا ذکر کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان رابطوں کا مقصد موجودہ حالات میں سیاسی مدد اور معاملات کو سنبھالنے کے لیے حمایت حاصل کرنا تھا، تاہم مبینہ طور پر بعض سیاسی شخصیات نے اس معاملے سے فاصلہ اختیار کرلیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ٹی ایم او کی جانب سے مختلف سیاسی دروازوں پر دستک دینے کے باوجود بعض سیاسی حلقوں نے مبینہ طور پر اپنا دامن الگ کرلیا ہے۔ تاہم ان ملاقاتوں اور سیاسی رابطوں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ متعلقہ سیاسی شخصیات کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔فائلیں کھلنے سے مزید معاملات سامنے آنے کا امکان ٹی ایم اے کے اندرونی ذرائع کے مطابق زیرِ التوا شکایات کی فائلیں دوبارہ کھلنے اور متعلقہ شعبوں سے ریکارڈ طلب کیے جانے کے بعد سابقہ دور کے متعدد انتظامی فیصلے تحقیقاتی عمل کی زد میں آسکتے ہیں۔ بھرتیوں، پروموشنز، سرکاری و میونسپل اراضی، دکانوں کی منتقلی، ٹھیکوں اور دیگر مالی و انتظامی معاملات سے متعلق ریکارڈ کی جانچ کے بعد اصل صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔ذرائع کے مطابق بعض معاملات میں اگر سرکاری ریکارڈ سے خلافِ ضابطہ کارروائی، مالی بے قاعدگی یا اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے شواہد سامنے آتے ہیں تو متعلقہ تحقیقاتی ادارہ قانون کے مطابق مزید کارروائی کی سفارش کرسکتا ہے۔ تاہم فی الوقت کسی مخصوص فرد کے خلاف جرم ثابت ہونے یا کسی ایف آئی آر کے اندراج کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔اینٹی کرپشن کا کردار اہم، شہریوں کی نظریں تحقیقات پرٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان کے معاملات میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ اسماعیل خان کا کردار اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ سرکاری مراسلے میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ٹی ایم اے کے خلاف شکایات اور انکوائریاں اینٹی کرپشن کے پاس زیرِ التوا ہیں اور ان معاملات سے متعلق ریکارڈ، متعلقہ شعبوں کا مؤقف اور دیگر ضروری معلومات مرتب کرکے فراہم کی جارہی ہیں۔شہری اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان سے متعلق تمام زیرِ التوا شکایات کو میرٹ، شفافیت اور دستیاب سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اگر کسی معاملے میں بے ضابطگی یا قانون شکنی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، جبکہ اگر الزامات درست ثابت نہ ہوں تو متعلقہ افراد کو بھی واضح طور پر بری الذمہ قرار دیا جائے۔سابق ٹی ایم او کا مؤقف بھی سامنے آگیادوسری جانب سابق تحصیل میونسپل آفیسر حنیف سے مذکورہ معاملات پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا: "اللہ ہی سب کا مالک ہے۔ اللہ ہی سب کا رزق ہے اور اللہ ہی سب کا سہارا ہے۔"سابق ٹی ایم او کی جانب سے اس کے علاوہ مبینہ بے ضابطگیوں، سیاسی رابطوں، بھرتیوں، پروموشنز، زمینوں، دکانوں کی منتقلی یا ٹھیکوں سے متعلق الزامات پر کوئی تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔اب تمام نظریں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحقیقات، ٹی ایم اے کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ریکارڈ اور متعلقہ افسران کی رپورٹس پر مرکوز ہیں۔ اگر تحقیقات کے دوران قابلِ دست اندازیِ قانون شواہد سامنے آتے ہیں تو مزید قانونی کارروائی کا امکان موجود ہے، جبکہ آئندہ تحقیقات ہی یہ طے کریں گی کہ زیرِ بحث شکایات اور الزامات میں کتنی حقیقت ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹی ایم اے کی زیرِ التوا فائلوں کے کھلنے سے کئی اہم معاملات منظرِ عام پر آسکتے ہیں اور تحقیقات شفاف انداز میں آگے بڑھیں تو اصل حقائق عوام کے سامنے آنے کی توقع ہے۔

16/08/2026

بنوں: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو پولیس کی طرف سے سیکورٹی مہیا نہیں کی جائے گی۔پولیس کمیٹی صدر حضرت عمر

بنوں: کوئی بھی پولیس اہلکار پائلٹ ڈیوٹی یا کس اور ڈیپلائمنٹ کا حصہ نہیں بنے گا۔ حضرت عمر

بنوں : وزیر اعلیٰ کے دو ایم پی ایز میں سے کوئی بھی آج تک کسی شہید کے جنازے میں نہیں آیا اور نہ ہی تعزیت کی ہے۔

بنوں: ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے لیکن وزیر اعلیٰ ہمیں وسائل نہیں دے رہے۔حضرت عمر

بنوں: ہم پر روزانہ ڈرون حملے ہوتے ہیں لیکن سدباب کیلئے ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں

بنوں: وزیر اعلیٰ کو ان علاقوں میں جانے کا کوئی حق نہیں جہاں وہ وسائل فراہم نہیں کر سکتے۔

بنوں: پہلے ہمیں وسائل دیں پھر بنوں کا دورہ کریں تو ہم سیکورٹی دیں گے۔ حضرت عمر صدر پولیس کمیٹی کا تمام پولیس اہلکاروں کو آڈیو پیغام

05/08/2026

پانچ اگست — یومِ شہدائے پولیس 🇵🇰🕊️

آج ہم پاکستان پولیس کے اُن بہادر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطن کے امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی لازوال قربانیاں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
سلام شہدائے پولیس، سلام پاکستان۔ ❤️🇵🇰

#پاکستان 🇵🇰

*ڈیرہ اسماعیل خان: ڈیجیٹل میڈیا کلب کا شہدائے پولیس کو خراجِ عقیدت، پانچ اگست یومِ شہدائے پولیس کے حوالے سے خصوصی اجلاس*...
05/08/2026

*ڈیرہ اسماعیل خان: ڈیجیٹل میڈیا کلب کا شہدائے پولیس کو خراجِ عقیدت، پانچ اگست یومِ شہدائے پولیس کے حوالے سے خصوصی اجلاس*

ڈیرہ اسماعیل خان: ڈیجیٹل میڈیا کلب ڈیرہ اسماعیل خان کا ایک اہم اجلاس کلب کے صدر سید ساجد حسین کی صدارت اور جنرل سیکرٹری ملک عمران کی زیرِ نگرانی منعقد ہوا، جس میں کابینہ کے اراکین اور کثیر تعداد میں ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں 5 اگست یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر شہدائے پولیس کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس کے شہداء کی عظیم قربانیاں اور غازیوں کی خدمات ہمیشہ قوم اور بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان کا فخر رہیں گی، اور ہر سال یومِ شہدائے پولیس بھرپور انداز میں منایا جاتا رہے گا تاکہ آنے والی نسلوں کو بھی ان لازوال قربانیوں سے آگاہ رکھا جا سکےاجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس نے دہشت گردی، جرائم اور امن و امان کے قیام کے لیے ہمیشہ بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے آر پی او ڈیرہ ریجن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ اسماعیل خان، ایس پی سٹی، ایس پی پہاڑپور، دیگر ایس پیز، ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز اور پولیس جوانوں کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسران اور اہلکار جانفشانی کے ساتھ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے شب و روز اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جو قابلِ ستائش اور لائقِ تحسین ہیں۔شرکاء نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ہمارے شہر، ہماری قوم اور ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ شہداء اور غازی ہمارے سروں کا تاج ہیں، جن کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ڈیجیٹل میڈیا کلب ڈیرہ اسماعیل خان ہمیشہ شہدائے پولیس، غازیوں، پولیس افسران اور جوانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا اور موجودہ دور کی ففتھ جنریشن وار میں ذمہ دار صحافت کے ذریعے ریاستی اداروں کا مثبت مؤقف اجاگر کرتے ہوئے اپنا قومی کردار ادا کرتا رہے گا۔

04/08/2026

ڈیرہ اسماعیل خان: مرکزی کوارڈینیٹر ڈیجیٹل میڈیا سیل جمعیت علماء اسلام برادر قائد جمعیت انجینیئر مولانا ضیاء الرحمان نے بانی تحریک انصاف کی ہمشیرہ علیمہ خان کے حالیہ دورہ ڈیرہ اسماعیل خان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ شہر میں موجود ہوتے تو علیمہ خان کو اپنے گھر میں قیام اور کھانے کی دعوت دیتے، کیونکہ ڈیرہ اسماعیل خان کی روایات میں مہمان نوازی اور خواتین کا احترام بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علیمہ خان ڈیرہ اسماعیل خان کی عوام کی مہمان تھیں، مگر انہیں ہوٹل یا کلب میں ٹھہرنا پڑا، جو مقامی روایات کے برعکس ہے۔ ان کے بقول خاتون کے سر پر چادر ڈال کر عزت کے ساتھ اپنے گھر میں ٹھہرانا اس خطے کی روایت ہے، لیکن افسوس کہ مقامی قیادت نے نہ اپنی جماعت کا خیال رکھا، نہ روایات کا اور نہ ہی ایک خاتون کے احترام کا۔ مولانا ضیاء الرحمن نے تحریک انصاف کے کارکنوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے علیمہ خان کی ڈیرہ اسماعیل خان آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مقامی پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کو پروگراموں میں شرکت سے روکنا اور بانی تحریک انصاف کی ہمشیرہ کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا ڈیرہ اسماعیل خان کی روایات کے منافی ہے۔
انہوں نے جنوبی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت اور بنوں میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے علیمہ خان کو بھی اندازہ ہوا ہوگا کہ ان علاقوں کے عوام کس قدر مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں دن دہاڑے موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں معمول بنتی جا رہی ہیں، جبکہ شیخ یوسف اڈہ کا حالیہ واقعہ اس کی واضح مثال ہے۔ مولانا ضیاء الرحمن نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی مختلف تفریحی گاہوں کی بندش بھی عوام کے لیے باعث تشویش ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کی سہولت اور تفریح کو مدنظر رکھتے ہوئے بند تفریحی مقامات کو جاتے روڈز کو دوبارہ کھولا جائے تاکہ شہریوں، خصوصاً بچوں اور خاندانوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کا قیام صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگرچہ موجودہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانا صرف صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں اور اس کے لیے تمام ریاستی اداروں کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے، تاہم عوام کو درپیش مسائل انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔
PTI Khyber Pakhtunkhwa Asmat Shah Garwaki Jui Tiger Dera Ismail Khan Deputy Commissioner DIKhan

31/07/2026

ڈیرہ اسماعیل خان۔ اینٹی کرپشن کا ٹی ایم اے پر بڑا چھاپہ۔

ڈی آئی خان۔ اینٹی کرپشن نے ٹی ایم اے کا اہم ریکارڈ قبضے میں لینا شروع کر دیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان۔ ٹی ایم اے میں اینٹی کرپشن کی اچانک کارروائی جاری۔

ڈی آئی خان۔ اینٹی کرپشن ٹیم نے ٹی ایم اے کا اہم سرکاری ریکارڈ تحویل میں لے لیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان۔ زیرو کرپشن مہم کے تحت ٹی ایم اے میں بڑا کریک ڈاؤن۔

ڈی آئی خان۔ اینٹی کرپشن کے چھاپے سے ٹی ایم اے افسران میں کھلبلی مچ گئی۔

ڈیرہ اسماعیل خان۔ اینٹی کرپشن کی کارروائی، ٹی ایم اے کا ریکارڈ قبضے میں لیا جا رہا ہے۔

ڈی آئی خان۔ اینٹی کرپشن کی بڑی کارروائی، ٹی ایم اے کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع۔

30/07/2026

ڈی آئی خان: پولیس لائن مال خانے میں رکھا بارودی مواد دھماکے سے پھٹ گیا، پولیس

ڈی آئی خان: دھماکے میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج عنایت اللہ ٹائیگر زخمی، پولیس

ڈی آئی خان: دھماکے کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں، پولیس

ڈی آئی خان: بم ڈسپوزل اسکواڈ کی اضافی ٹیمیں موقع پر طلب کر لی گئیں، پولیس

ڈی آئی خان: متاثرہ مقام کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، پولیس

ڈی آئی خان: زخمی اہلکار کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، پولیس

ڈی آئی خان: دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری، مزید تفصیلات کا انتظار، پولیس















فوڈ اسٹریٹ کے ٹھیکوں پر سوالات، مکمل ریکارڈ طلب کر لیاڈیرہ اسماعیل خان (نمائندہ خصوصی):تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) ڈ...
29/07/2026

فوڈ اسٹریٹ کے ٹھیکوں پر سوالات، مکمل ریکارڈ طلب کر لیا

ڈیرہ اسماعیل خان (نمائندہ خصوصی):
تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) ڈیرہ اسماعیل خان کی فوڈ اسٹریٹ سے متعلق ٹینڈرنگ کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے ایک شہری نے خیبر پختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فوڈ اسٹریٹ کے ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیاں ہوئیں، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کا خدشہ پیدا ہوا۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینڈر نمبر INF(P)1017/2024 سے متعلق تمام سرکاری ریکارڈ فراہم کیا جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔درخواست کے مطابق ٹکٹ بلاک (1 تا 11)، دو عدد اے بلاک، ٹکٹ بلاک (12 تا 22)، دو عدد بی بلاک، ٹکٹ بلاک (23 تا 33) اور دو عدد سی بلاک سمیت تمام ٹھیکوں کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔مزید برآں درخواست میں ٹینڈر دستاویزات، ٹیکنیکل و فنانشل بڈز، بڈ اوپننگ منٹس، کمپیریٹو اسٹیٹمنٹ، ایویلیوایشن رپورٹس، نوٹ شیٹس، منظوریوں، ورک آرڈرز، معاہدوں، کامیاب بولی دہندگان کی تفصیلات، سیکیورٹی و ارنسٹ منی اور دیگر متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ شہریوں کو سرکاری ریکارڈ تک رسائی کا حق دیتا ہے، اس لیے فوڈ اسٹریٹ کے ٹھیکوں سے متعلق تمام معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی حقیقت واضح ہو سکے، جبکہ اگر تمام کارروائی قانون کے مطابق ہوئی ہے تو اس کی بھی تصدیق ہو جائے۔


26/07/2026

گورنر خیبر پختون خواہ فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہے

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jaag News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share