17/08/2026
ڈیرہ اسماعیل خان: ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے معاملے پر اینٹی کرپشن کی کارروائی کے بعد بلدیاتی نظام کی نگرانی، افسران کی جواب دہی اور سابق صوبائی حکومت کے دور میں ہونے والی انتظامی کارروائیوں پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔ اینٹی کرپشن کی سامنے آنے والی دستاویز کے مطابق ایک معاملے میں سرکاری خزانے کو 9 لاکھ 43 ہزار 725 روپے کے مبینہ نقصان کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 409 اور انسدادِ بدعنوانی قانون کی متعلقہ دفعہ 5(2) کا حوالہ دیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق واقعے کی تاریخ 29 ستمبر 2021 درج ہے، جبکہ معاملے کی اطلاع محکمہ اینٹی کرپشن کو 23 فروری 2026 کو صبح 10 بج کر 30 منٹ پر موصول ہوئی۔ رپورٹ میں مختلف سابقہ رپورٹس اور سرکاری ریکارڈ کا حوالہ بھی موجود ہے، جن میں 369-73 مورخہ 18 مئی 2022 اور 1002/CO/ACE مورخہ 30 اپریل 2025 شامل ہیں۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق متعلقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران مبینہ طور پر سرکاری خزانے کو 943,725 روپے کا نقصان سامنے آیا، جس کے بعد معاملے کو قانونی کارروائی کے لیے آگے بڑھایا گیا۔ تاہم فراہم کردہ دستاویز کے صفحے پر نامزد ملزمان یا اہلکاروں کے نام واضح طور پر درج نہیں، اس لیے متعلقہ افسران کے نام مکمل ایف آئی آر یا کیس ریکارڈ کی تصدیق کے بعد ہی حتمی طور پر سامنے آسکیں گے۔دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں اور مختلف حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ٹی ایم اے اور دیگر سرکاری محکموں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق مقدمات اور انکوائریاں سابق وزیراعلیٰ سردار علی امین خان گنڈاپور کے دور حکومت میں بھی سامنے آچکی تھیں تو پھر ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف بروقت اور مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سابق صوبائی حکومت کے دور میں سامنے آنے والی تمام اینٹی کرپشن انکوائریوں، ایف آئی آرز، محکمانہ تحقیقات اور مالی بے ضابطگیوں کا ریکارڈ منظر عام پر لایا جائے اور یہ بھی بتایا جائے کہ جن افسران کے خلاف شکایات یا مقدمات موجود تھے، انہیں اہم عہدوں پر برقرار رکھنے یا ان کے تبادلوں میں تاخیر کی وجوہات کیا تھیں۔شہری حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض افسران کو مبینہ طور پر سیاسی سرپرستی حاصل رہی اور انتظامی معاملات میں غیرضروری مداخلت کی گئی۔ بعض شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کسی افسر یا اہلکار کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات چل رہی تھیں تو اسے حساس انتظامی عہدے پر برقرار رکھنے کی بجائے شفاف تحقیقات مکمل ہونے تک غیرجانبدارانہ انتظامی اقدام کیا جانا چاہیے تھا۔شہریوں کے مطابق اب اگر ایسے افسران کے تبادلے کیے جا رہے ہیں تو حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ان کے خلاف پہلے سے موجود شکایات، انکوائریوں اور مقدمات کا کیا نتیجہ نکلا اور ماضی میں کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ افسران کی تعیناتیوں، تبادلوں، اختیارات اور ان کے خلاف جاری تحقیقات کا جامع جائزہ لیا جائے۔دوسری جانب شہریوں اور سیاسی حلقوں کے ایک طبقے نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی انتظامی پالیسیوں پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کا دعویٰ کرتی ہے تو سرکاری محکموں میں سامنے آنے والی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔شہری حلقوں نے علی امین گنڈاپور کے اثاثوں اور مالی معاملات سے متعلق ماضی میں سامنے آنے والے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی شخصیات ہوں یا سرکاری افسران، سب کے اثاثوں اور آمدن میں اضافے کی مکمل اور شفاف وضاحت عوام کے سامنے آنی چاہیے۔سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں 2013 کے انتخابات کے دوران مبینہ طور پر مرغیاں قرض پر لینے اور 900 روپے کی رقم سے متعلق ایک دعویٰ بھی زیر بحث لایا جاتا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ اور مستند دستاویزی تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے شہریوں کا کہنا ہے کہ اصل سوال کسی سیاسی شخصیت کے ماضی کے مالی حالات نہیں بلکہ یہ ہے کہ آمدن، اثاثوں اور جائیدادوں میں ہونے والے اضافے کی قانونی اور دستاویزی وضاحت کیا ہے۔شہریوں کے بعض حلقوں نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ سابق دور حکومت میں بعض افسران کو سیاسی سرپرستی حاصل رہی اور مبینہ طور پر مالی معاملات میں بھی مفادات وابستہ رہے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر کسی افسر، اہلکار یا سیاسی شخصیت کے درمیان مالی لین دین، اختیارات کے ناجائز استعمال یا سرکاری وسائل سے فائدہ اٹھانے کے شواہد موجود ہیں تو انہیں اینٹی کرپشن، نیب یا دیگر متعلقہ اداروں کے ذریعے قانون کے مطابق جانچا جائے۔ڈیرہ اسماعیل خان کے شہریوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، چیف سیکرٹری، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، اینٹی کرپشن حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہونے والی تمام مالی بے ضابطگیوں، ٹھیکوں، ٹیکس وصولیوں، سرکاری ریکارڈ، تعیناتیوں اور افسران کے خلاف درج مقدمات کا جامع آڈٹ کرایا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر 9 لاکھ 43 ہزار 725 روپے کے نقصان کا معاملہ سامنے آ سکتا ہے تو اس بات کی بھی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے کہ دیگر معاملات میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر کتنا نقصان پہنچا اور اس کے ذمہ دار کون ہیں۔عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اگر الزامات ثابت ہوں تو کسی بھی سیاسی یا انتظامی دباؤ کے بغیر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔واضح رہے کہ اینٹی کرپشن کی ایف آئی آر یا ابتدائی رپورٹ میں درج الزامات کو عدالت کی جانب سے ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح علی امین گنڈاپور یا کسی دوسرے فرد کے خلاف اثاثوں، مالی معاملات یا سرکاری افسران سے مبینہ لین دین سے متعلق الزامات کی حتمی حیثیت متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور عدالتی فیصلے سے ہی طے ہوگی۔