09/08/2025
منظور پشتون یا محسن داوڑ؟ اصل مقصد یاد رکھو!
ہمارے ہاں اکثر یہ بحث چلتی ہے کہ کون سی سیاست بہتر ہے
کچھ لوگ منظور پشتون جیسے غیر پارلیمانی سیاست کرنے والوں کو سپورٹ کرتے ہیں، جو جلسوں، دھرنوں اور عوامی اجتماعات میں سیدھی اور کھری بات کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ عوامی طاقت کو سڑکوں پر لا کر حکمرانوں کو احساس دلایا جائے کہ ہم جاگ رہے ہیں۔
دوسری طرف محسن داوڑ جیسے رہنما ہیں، جو پارلیمان کے اندر بیٹھ کر قانون، قرارداد اور پالیسی کے ذریعے اپنے لوگوں کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ سسٹم کے اندر رہ کر تبدیلی لائی جائے، تاکہ آواز صرف سڑک پر نہیں بلکہ حکومت کے ایوانوں میں بھی سنی جائے۔
دونوں کا مقصد تقریباً ایک ہی ہے — قوم کی خدمت اور حقوق کا حصول — مگر راستے الگ ہیں۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم یہ بحث چھوڑ کر ایک دوسرے پر الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں۔کچھ لوگ منظور پشتون کے مخالف ہو کر محسن داوڑ کو برا بھلا کہتے ہیں، اور کچھ محسن داوڑ کے مخالف ہو کر منظور پشتون پر تنقید کرتے ہیں۔
یہ رویہ ہمیں تقسیم کرتا ہے اور ہمارے دشمن کو مضبوط کرتا ہے۔
یاد رکھو!
قوم کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے طریقے کو سمجھیں، احترام دیں اور مل کر چلیں۔
غیر پارلیمانی سیاست عوامی دباؤ بناتی ہے،
پارلیمانی سیاست اس دباؤ کو قانون اور پالیسی میں بدلتی ہے۔
دونوں ایک دوسرے کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔
🤝 نتیجہ: اختلاف رائے رکھو، لیکن عزت کے ساتھ
منظور پشتون سڑک پر لڑتا ہے،
محسن داوڑ ایوان میں لڑتا ہے۔
راستے الگ، منزل ایک — قوم کا حق!
گالی دو گے تو دشمن خوش ہوگا،
دلیل دو گے تو قوم جیتے گی۔
🤝 اختلاف رکھو، دشمنی نہیں!
Copy