30/10/2025
میں اس وقت نشترآباد پشاور کے گھورمنٹ اسپتال کی ایمرجنسی میں بیٹھا ہوں، اور دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ یہاں کا ایمرجنسی سسٹم بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ مریض تڑپ رہے ہیں، بچے، بزرگ اور عورتیں بے بسی کے عالم میں انتظار کر رہے ہیں، مگر کوئی سننے والا نہیں۔
سسٹم کام نہیں کر رہا، کمپیوٹر بند ہیں، اور دور کیپر ہر آنے والے مریض سے صرف یہی جملہ کہتا ہے:
“ادھر بیٹھ جاؤ، سسٹم میں تھوڑا مسئلہ ہے۔”
یہ جملہ اب اسپتال کی پہچان بن چکا ہے۔ لوگ درد سے کراہ رہے ہیں، مگر علاج کی امید ایک خواب بن چکی ہے۔ ڈاکٹر ایک مریض پر دس سے پندرہ منٹ لگا رہے ہیں، اور باقی مریض بے بسی سے اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔
یہ وہ مناظر ہیں جو کسی بھی انسان کے دل کو ہلا دیں۔ اسپتال، جو زندگی دینے کی جگہ ہوتا ہے، یہاں موت کا انتظارگاہ بن چکا ہے۔
حکومتِ وقت اور محکمہ صحت سے اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورتِ حال کا نوٹس لیں۔
خدارا، عوام کی تکلیفوں کو محسوس کیجیے، اس ایمرجنسی وارڈ کو واقعی “ایمرجنسی” بنائیے، تاکہ کوئی بھی مریض یہاں اپنی آخری سانس انتظار میں نہ لے۔