Islamic World

Islamic World قطب شاہی اعوان

ایک ہفتے تک روزانہ ساگو دانہ دودھ میں ملا کر کھائیں تو جسم میں ایسی حیرت انگیز تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ جان کر اس کا معمول...
05/11/2025

ایک ہفتے تک روزانہ ساگو دانہ دودھ میں ملا کر کھائیں تو جسم میں ایسی حیرت انگیز تبدیلی واقع ہوتی ہے کہ جان کر اس کا معمول بنا لیں گے
ساگو دانہ سفید موتی جیسے دانے ہوتے ہیں۔ عام طور پر لوگ اسے بیماری میں کھاتے ہیں۔ لیکن اگر سابو دانے کو دودھ اور چینی ملا کر کھیر کی طرح پکایا جائے تو یہ بہت لذیذ بنتا ہے۔ البتہ آج ہم ایسی ترکیب بتائیں گے جس سے آپ کو اس کا لذیذ ذائقہ بھی ملے گا اور اگر آپ نے ہماری بتائی ترکیب سے ساگو دانہ روزانہ استعمال کرنا شروع کردیا تو آپ کی صحت میں بھی زبردست تبدیلی واقع ہوگی۔
ساگو دانہ کی غذائی اہمیت
ساگو دانہ کو انگریزی میں tapioca pearl کہتے ہیں۔ یہ tapioca کی جڑوں سے نکالا جاتا ہے اور پھر پروسیس کے ذریعے اسے موتی جیسے دانوں کی شکل دی جاتی ہے۔ اس کا اپنا کوئی ذائقہ نہیں ہوتا اس لئے اسے کسی بھی کھانے میں باآسانی ملا کر فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
ساگو دانے میں گڈ کاربوہائیڈریٹس کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اس کے علاوہ اس میں فائبر۔ پروٹین، کیلشیئم، میگنیشیئم اور پوٹاشیئم بھی پایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس میں چکنائی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے لیکن کاربوہائیڈریٹس اور کیلوریز کی زیادہ مقدار کی وجہ سے ان لوگوں کے لئے مفید نہیں جو وزن کم کرنے کی کوشش کرہے ہیں۔
دودھ میں ساگو دانہ
ڈاکٹر بلقیس نے اپنے وی لاگ میں بتایا کہ ساگو دانے کو پس کر اس کا پاؤڈر بنا لیں اور روزانہ صبح ابلے ہوئے دودھ کے ایک گلاس میں ایک چمچ اس پاؤڈر کو اچھی طرح ملا کر یہ دودھ پی جائیں۔ تقریباً ایک ہفتے کے مسلسل استعمال سے آپ کے جوڑوں کا درد ختم ہوجائے گا۔ وہ افراد جنھیں نماز پڑھتے ہوئے مشکل درپیش ہوتی ہے یا پھر ایسے لوگ جن کی ہڈیاں اٹھتے بیٹھتے ٹک ٹک آواز کرتی ہیں ان کی ہڈیوں میں گودا بننے لگے گا اور ہڈیوں سے آواز آنی بند ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ یہ ایسے لوگوں کے لئے بھی فائدہ مند ہے جو جسمانی اور ذہنی کمزوری کا شکار ہیں۔
کاپیڈ

04/11/2025
04/11/2025
04/11/2025

ادرک لگانے کا طریقہ (گھر یا گملے میں)⚙️ 1. اچھا ادرک منتخب کریں • تازہ، موٹا اور صحت مند ادرک لیں جس پر ہلکے سے ابھار (آ...
27/10/2025

ادرک لگانے کا طریقہ (گھر یا گملے میں)

⚙️ 1. اچھا ادرک منتخب کریں
• تازہ، موٹا اور صحت مند ادرک لیں جس پر ہلکے سے ابھار (آنکھیں/گرہیں) موجود ہوں۔
• سوکھا یا سڑا ہوا ادرک استعمال نہ کریں۔

🪓 2. ٹکڑے کریں
• اگر ادرک بڑا ہو تو اسے 2 سے 3 انچ کے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔
• ہر ٹکڑے پر کم از کم 1 سے 2 آنکھیں (چھوٹے ابھار) لازمی ہوں۔
• کٹ لگانے کے بعد 1 دن ہوا میں رکھیں تاکہ سوکھ جائے۔

🪴 3. مٹی کی تیاری
• زرخیز، نرم اور ڈھیلی مٹی استعمال کریں۔
• ریت + گوبر کی کھاد + باغ کی مٹی برابر مقدار میں مکس کریں۔
• پانی کا نکاس (Drainage) اچھا ہونا چاہیے۔

🌿 4. لگانے کا طریقہ

گملے یا زمین میں:
• ادرک کے ٹکڑے کو آنکھ اوپر کی طرف رکھیں۔
• 2 انچ گہرائی میں دبائیں اور ہلکی مٹی ڈال دیں۔
• ایک گملے میں 2 سے 3 ٹکڑے کافی ہیں۔

💧 5. پانی
• فوراً زیادہ پانی نہ ڈالیں۔
• مٹی ہلکی نم رکھیں، گیلی یا دلدلی نہ ہو۔

☀️ 6. جگہ
• ہلکی دھوپ یا نیم سایہ بہتر ہے۔
• تیز دھوپ اور کڑی سردی دونوں سے بچائیں۔

🌱 7. بڑھنے کا وقت
• 10 سے 20 دن میں کونپلیں نکلنا شروع ہو جائیں گی۔
• پودا آہستہ بڑھتا ہے، مکمل تیاری میں 7 سے 9 ماہ لگتے ہیں۔

🔄 8. کھاد
• مہینے میں ایک بار گوبر کی کھاد یا نامیاتی کھاد دیں۔

🧺 9. کھدائی اور برداشت
• 7 سے 9 ماہ بعد جب پتے پیلے پڑنے لگیں تب جڑ نکال لیں۔
• احتیاط سے مٹی کھود کر ادرک نکالیں۔

مکئی کے بال مخلوق خدا کا بھولا ہوا خزانہکبھی آپ نے سوچا کہ مکئی کے بھٹے کے سنہرے بال جو ہم عام طور پر پھینک دیتے ہیںوہ د...
27/10/2025

مکئی کے بال مخلوق خدا کا بھولا ہوا خزانہ
کبھی آپ نے سوچا کہ مکئی کے بھٹے کے سنہرے بال جو ہم عام طور پر پھینک دیتے ہیں
وہ دراصل فطرت کا ایک نایاب تحفہ ہیں
یہی وہ نرم ریشے ہیں جو گردوں مثانے اور جلد تینوں کے لیے بیک وقت نعمت بن سکتے ہیں
پیشاب کی جلن اور سوزش کا قدرتی علاج مکئی کے بال قدرتی طور پر جسم کے اندر جمع فاضل نمکیات کو صاف کرتے ہیں
پیشاب کی جلن، بار بار پیشاب آنا، یا سوزش سب میں حیرت انگیز سکون دیتے ہیں
ان میں موجود قدرتی ڈیوریٹک اجزاء مثانے کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں اور بیکٹیریا کو جسم سے نکالتے ہیں

گردوں کی پتھری گھلانے میں مددگار پتھری کے درد سے تڑپنے والے جانتے ہیں کہ وہ تکلیف کتنی اذیت ناک ہوتی ہے
مکئی کے بال پیشاب کے بہاؤ کو بڑھا کر پتھری کے ذرات کو آہستہ آہستہ نرم کر دیتے ہیں
پوٹاشیم اور فلیوونائڈز کی موجودگی گردوں کی صفائی میں نرمی سے کام کرتی ہے
یوں پتھری کے دوبارہ بننے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں

جسم ٹانگوں اور پاؤں کی سوجن میں کمی
اگر دن کے آخر میں پاؤں بھاری یا ٹخنے سوج جاتے ہیں تو یہ چائے ایک قدرتی ریلیف ہے
یہ جسم میں جمع اضافی پانی کو باہر نکال کر سوجن کم کرتی ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ضروری منرلز ضائع نہیں ہونے دیتی
یوں آپ کا جسم ہلکا متحرک اور چہرہ نکھرا محسوس ہوتا ہے

بلڈ پریشر کو متوازن بنائے
مکئی کے بالوں میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس خون کی نالیوں کو پُرسکون کرتے ہیں
یہ دل پر دباؤ کم کرتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے قدرتی سپورٹ فراہم کرتے ہیں
کئی افراد نے صرف دو ہفتے میں 10–15 پوائنٹس تک بہتری دیکھی
بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ کے

ہاضمہ مضبوط اور پیٹ ہلکا بنائے
اگر کھانے کے بعد پیٹ بھاری گیس یا بدہضمی کا احساس ہو
تو مکئی کے بالوں کی چائے ایک بہترین فطری ہاضم ہے
اس میں موجود فائبر اور خام انزائمز معدے کو چست کرتے ہیں کھانا جلد ہضم ہوتا ہے اور جسم میں ہلکاپن محسوس ہوتا ہے

شوگر لیول کو قابو میں رکھے
یہ چائے خون میں شوگر کے جذب ہونے کی رفتار کم کرتی ہے جس سے شوگر لیول اچانک نہیں بڑھتا قدرتی پولی سیکرائیڈز انسولین کے اثر کو مضبوط کرتے ہیں
یوں پری ڈایبیٹیز یا ٹائپ 2 شوگر والے افراد کے لیے یہ ایک نرمی بھرا علاج ہے

جلد کو چمکدار اور تروتازہ بنائے مکئی کے بال صرف اندرونی صحت نہیں سنوارتے بلکہ جلد کے رنگ اور ساخت میں نکھار لاتے ہیں
اس میں موجود سلکا کولیجن کی پیداوار کو بڑھا کر چہرے کو قدرتی چمک دیتا ہے
چند دن کے استعمال سے ہی چہرے پر نرمی اور تازگی نمایاں ہو جاتی ہے

گردوں کی کارکردگی مضبوط کرے گردے روزانہ سینکڑوں لیٹر خون فلٹر کرتے ہیں
اگر ان پر بوجھ بڑھ جائے تو تھکن، سوجن اور جسمانی درد پیدا ہوتے ہیں
مکئی کے بالوں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس گردوں کے خلیات کو تحفظ دیتے ہیں
اور فلٹریشن کی صلاحیت میں قدرتی بہتری لاتے ہیں

چائے بنانے کا آسان طریقہ
مکئی کے خشک یا تازہ بال: 2 کھانے کے چمچ
پانی 2 کپ
10 منٹ تک دم دیں چھان کر نیم گرم پیئیں
ذائقے کے لیے شہد شامل کیا جا سکتا ہے 🍯
دن میں 1–2 کپ کافی ہیں

قدرت کا پیغام
اگر آپ روزانہ صرف ایک کپ مکئی کے بالوں کی چائے پینے کی عادت ڈال لیں
تو چند ہفتوں میں آپ کا جسم ہلکا دماغ تازہ اور چہرہ روشن س ✍️

27/10/2025

Plz Follow My channel قرآن مجید❤ M.R.K channel on WhatsApp

27/10/2025

Follow the قرآن مجید❤ M.R.K channel on WhatsApp:

ککروندا(Dandelion) ایک معجزاتی پودا ہے،جو پاکستان بھرمیں خودرو اگتا ہے اور جس کو ہم بیکار جڑئی بوٹی سمجھ کر کاٹ پھینکتے ...
27/10/2025

ککروندا(Dandelion) ایک معجزاتی پودا ہے،جو پاکستان بھرمیں خودرو اگتا ہے اور جس کو ہم بیکار جڑئی بوٹی سمجھ کر کاٹ پھینکتے ہیں۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک میں اسے فائیو سٹار ہوٹلوں میں سلاد کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ خوش ذائقہ پودا اپنے اندر کینسر کے مرض کے خلاف معجزاتی فوائد رکھتا ہے۔یہ قوت مدافعت بڑھاتا ہے، جگر کو مضبوط کرتا ہے۔

ککروندا میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا: طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیوں سے بھرپور ککروندا وٹامنز، منرلز اور کھانے والی فائبر کا خزانہ ہے۔اس میں وٹامن کے، وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن ای اور وٹامن بی کے علاوہ فولیٹ پائی جاتی ہے۔ اس پودے کی جڑیں حل پزیر ڈائٹری فائبر سے بھر پور ہوتی ہیں۔

ککروندا کی جڑ میں کینسر کا علاج: اس پودے کی جڑیں کینسر کے خلیوں کو ختم کر دیتی ہیں اور دوسرے خلیوں کی حفاظت کرتی ہیں۔ کینیڈا کی ونڈسر یونیورسٹی کے کیمسٹری اور بائیو کیمسٹری کے ڈیپارٹمنٹ کے محققین کے تجرباتی مطالعہ سے معلوم ہوا کہ اس پودے کی جڑیں ٹیومر کے خلیوں کو نکال دیتی ہیں اور جن خلیوں کو بچانا ہے ان کی حفاظت بھی کرتی ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق کیمو تھراپی سے زیادہ اچھی دوا ککروندا(Dandelion)کی جڑیں ہیں۔

آملہ اور اس کے فوائدپھلوں ، پھولوں اور جڑی بوٹیوں کا ہماری زندگی سے گہرا تعلق ہے اور یہ ہماری ذہنی ، جسمانی اور روحانی ت...
27/09/2025

آملہ اور اس کے فوائد
پھلوں ، پھولوں اور جڑی بوٹیوں کا ہماری زندگی سے گہرا تعلق ہے اور یہ ہماری ذہنی ، جسمانی اور روحانی تکالیف کو دورکرنے کے بھی کام آتے ہیں اور ان کی ضرورت اور اہمیت ہماری زندگی میں ہر حال میں مسلم ہے.
ایسی ہی ایک چیز آملہ یا آنولہ بھی ہے۔ یہ ایک ہندوستانی درخت کا پھل ہے یہ پاکستان میں بھی ہوتا ہے۔ یہ درخت تمام برصغیر کی آب و ہوا میں بویا جاتا ہے اور اپنے آپ بھی اگتا ہے۔
آملے کا درخت 30سے 40فٹ اونچا ہوتا ہے اس کے تنے کی گولائی تین سے چھ اور کبھی کبھی نو فٹ تک ہوجاتی ہے اس کا تنا اکثر مڑا ہوا اور شاخیں مضبوط اور پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کی چھال بھوری اورپتلی ہوتی ہے اس کے پتے املی (ثمر ہندی) کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اس کا پھل گودے دار ہوتا ہے۔ ذائقہ میں کسیلا ہوتا ہے اور پھل گول ہوتا ہے۔
آملے کی ایک قسم شلجمی ہے۔ یہ گول اور بڑا چپٹا ہوتا ہے۔ ذائقہ زیادہ کسیلا نہیں ہوتا۔ اسے عموماً شاہ آملہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ عربی میں اور طب کے حوالے سے اسے در المج الملوک کہتے ہیں۔ ہندی میں رائے آملہ کہا جاتا ہے جو آملہ بڑا بے. ریشہ ، زردی مائل اورتازہ ہو وہ عمدہ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بنارسی آملہ عمدہ ترین ہوتا ہے جو تمام برصغیر میں مشہور ہے۔
آملے میں تین خانے کی گٹھلی ہوتی ہے جس میں چھ بیج ہوتے ہیںاس کا کچا پھل ہرا ہوتا ہے جو پکنے پر پیلا یا سبزی مائل ہو جاتا ہے۔
اس کا استعمال برصغیر میں کئی طریقوں سے ہوتا ہے معالجاتی طریقوں کے علاوہ آملہ سبزی کے طور پر بھی پکا کر بھی کھایا جاتا ہے۔ اس کی چٹنی اور اچار بھی بنتا ہے بلکہ پاکستان وہندوستان میں تو کہا جاتا ہے کہ جس اچار میں آم یا آملہ نہ ہو وہ اچار ہی نہیں، کیونکہ اچار میں آملہ بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے اور آملے کا مربہ بھی سیب اور گاجر کے مربوں کی طرح اہمیت اور افادیت کا حامل ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں کئی طرح کی رائے دی جاتی ہیں۔ بعض کے خیال میں یہ پہلے درجہ میں سرد اور دوسرے میں خشک ہے جبکہ کچھ کے خیال میں یہ دوسرے درجے میں سرد اور خشک ہے جبکہ ایک اور خیال کے مطابق یہ دوسرے درجےکو خشک ہے۔ بحیثیت مجموعی ایک خیال پر اتفاق ہے کہ یہ تھوڑا سا سرد ضرور ہے لیکن اس کی سرد مزاجی سخت نہیں لطیف ہے۔ البتہ خشک ضرور ہے جو تحقیق دان اسے گرم مزاج کہتے ہیں وہ بھی اسے خشک اور شیر پروردہ یعنی دودھ پیدا کرنے والامانتے ہیں جس سے اس کی خشکی دور ہو جاتی ہے۔
آملہ کیمیائی اور غذائی اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق اس میں دس انتہائی اہم اجزا پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت اور نشوونما میں اہم کر دار ادا کرتے ہیں۔ ان اجزاءمیں حیاتین سی، حیاتین، حیاتین بی، حیاتین لیکسی فیرول، فاسفورس، کیلشیم، قبض کشا ریشہ دار اجزاء، معدنی نمکیات اور لحمیاتی اجزاءشامل ہیں۔ اس میں حیاتین سی 60فیصد، حیاتین ج 50فیصد اور حیاتین بی 55فیصد مقدار میں پائی جاتی ہیں جن کی انسانی جسم کو خاص ضرورت ہوتی ہے۔
آملہ سب سے پہلے تو مصفی خون ہے یعنی خون صاف کرتا ہے، دل کو فرحت و قوت دیتا ہے۔ جگر، دماغ، معدہ، آنتوں، آنکھوں اور پٹھوں کو تقویت دیتا ہے ، پیاس بجھاتا ہے ذہن کو تیز کرتا ہے، دل کو طاقت دینے میں اس میں خصوصی تاثیر پائی جاتی ہے۔یعنی دل کے فاسد مادوں کو صاف کرتا ہے۔ حافظہ تیز کرتا ہے۔ لکنت دور کرتا ہے، قبض کشا ہے ، منہ سے رال بہنے کے مرض میں افاقہ دیتا ہے۔ معدے اور آنتوں میں فاسد مواد کو جمنے نہیں دیتا۔ صفرا ور خون کی حرارت کو تسکین دیتا ہے، بھوک کھولتا ہے۔ اس کا پانی نکال کر آنکھوں میں ڈالا جائے تو بینائی تیز کرتا ہے۔ خشک آملہ باریک پیس کر ہم وزن کھانڈ ملا کر روغن بادام سے چکنا کر کے ڈیڑھ تولہ کے قریب نیم گرم پانی کے ساتھ نہار منہ کھانے سے نظر تیز ہوتی ہے۔ دودھ پلانے والی ماؤں کیلئے نہایت مفید ہے
آملہ بالوں کو سیاہ کرتا ہے۔ بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے۔بالچھڑ کی بیماری میں مفید ہے۔ اگر آملوں کو بھگوئے ہوئے پانی میں مہندی اور وسمہ ملا کر بالوں پر لگائیں تو خوب کالے اور مضبوط ہو جائیں گے۔.
آملے کو باریک پیس کر پانی میں گھول کر پیشانی پر گاڑھا لیپ کرنے سے نکسیر بند ہوتی ہے۔
سات ماشہ آملے موٹے موٹے کوٹ کر پانی میں بھگو دیں اور تین مرتبہ ایسا کریں اور یہ پانی جالے والی آنکھ میں ٹپکائیں تو جالا دور ہو جاتا ہے۔ آملہ پٹھوں کو طاقت دیتا ہے۔بواسیر اور پیچش کے علاج میں مفید ہے۔ بچوں کو سوتے میں پیشاب کی عادت ہوتو آملے ہم وزن ، سیاہ زیرہ کے سا تھ پیس کر اور شہد ملا کر چٹائیں تو مفید ہے۔ فالج اور لقوے کے امراض میں ہے۔
آملہ بالخورہ کو رفع کرتا ہے اس کا تیل سرد و خشک ہوتا ہے جو بالوں کو قوت دیتا ہے ۔ سیاہی قائم رکھتا ہے، بال بڑھاتا ہے اور گرنے سے روکتا ہے۔ یہ جلدی امراض مٹاتا ہے ،آشوب چشم کو دور کرتا ہے۔ خون کی خرابی کے باعث ہونے والے سر کے درد کو دورکرتا ہے۔ آملوں کو خوب اونٹا کر اور مل کر پینے سے کھجلی اور خسرا دور ہوتا ہے۔ اس کا دودھ لگانے سے دکھتے ہوئے پھوڑے مٹ جاتے ہیں۔ اس کی چھال کے جوشاندے سے کلیاں کرنے سے مسوڑھوں کا درد اور ورم دور ہوتا ہے اور جوشاندے میں شہد ملا کر کلیاں کرنے سے حلق اور گلے کا ورم ختم ہوتا ہے۔
آملوں کے رس میں شہد ملا کر چاٹنے سے جھائیاں اور مہاسے دور ہوتے ہیں۔ غرض آملہ بے شمار طریقوں سے مفید ہے۔
*آملے کے فوائد اور استعمال*
قدرت کی طرف سے انسان کے لیے قیمتی تحائف میں سے ایک ہے۔ اسے صحت اور طویل عمر کے لیے بیش بہا نعمت قرار دیا جاتا ہے۔ آیو رویدک معالجین اور حکما اپنی ادویات میں اس کا استعمال خوب تجویزکرتے ہیں اور اسے دل اور دیگر طبی مسائل کے لیے سود مند ٹھہراتے ہیں۔
اسے مسکن اور قابض اجزا کی وجہ سے بیرونی استعمال کے لیے بھی عمدہ سمجھا جاتا ہے، اس کا استعمال پیشاب کی مقدار بڑھاتا ہے۔ اس کا کچا پھل معتدل قسم کا مسہل ہے۔ اس کا تازہ رَس سرد، تازگی بخش ، پیشاب آور، ملین اور مقوی دل ہوتا ہے۔
اگر اس کے پھل پر چاقو سے شگاف لگادیے جائیں تو تھوڑی دیر میں جورَس پھوٹ کر نکلے گا، اسے کارجی طور پر آنکھ کے اوپر لگانے سے آنکھ کی سوزش رفع ہوتی ہے۔ آملہ کے پھول بھی سردمزاج، فرحت بخش اور ملین ہوتے ہیں۔
اس کی جڑ اور چھال رطوبتیں کم کرنے اور خون روکنے میں معاون ہیں ۔ تازہ آملہ کے رَس کا ایک کھانے کا چمچہ اور شہد متعدد بیماریوں کا شافی علاج ہے۔ اس کا باقاعدہ روزانہ صبح کے وقت استعمال چند دن میں جسم میں چستی اور توانائی بھر دیتا ہے۔ اگر تازہ آملہ دست یاب نہ ہو تو خشک پھل کا سفوف شہد میں ملا کر استعمال کرنا مفید رہتا ہے۔
سانس کی بیماریوں میں آملہ بہترین علاج ہے۔ پھیپھڑوں کی تپِ دق، دمہ اور برونکا ئٹس میں خاص طور پر اس کا استعمال اہم ہے۔
وٹامن سی کی بہتات رکھنے کی وجہ سے یہ ذیابیطس پر قابو پانے میں بہت موثر ہے۔ اس کارَس ایک کھانے کا چمچہ ایک کپ کڑوے پیٹھے کا تازہ رَس ملاکر دو ماہ تک روزانہ لیا جائے تو لبلبے کو تحریک ملتی ہے اور انسولین کی پیداوار بڑھ جاتی ہے، چناں چہ خون میں شوگر کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ یہ نسخہ استعمال کرتے ہوئے غذا کے پرہیز پر خصوصی توجہ دیں۔ اس کا استعمال شوگر کے مریضوں میں آنکھوں کی پیچیدگیاں بھی روکتاہے۔سفوف آملہ، جامن اور کڑوا پیٹھا( ہم وزن) ذیابیطس کا عمدہ علاج ہے۔ اس مرکب کا ایک یا دو چمچہ روزانہ استعمال ذیابیطس کے مرض کو بڑھنے سے روکتا ہے۔
*شہد* کے ساتھ اس کا رَس استعمال کرنے سے بینائی محفوظ رہتی ہے۔ یہ آشوب چشم اور سبز موتیا کے علاج کے لیے بھی مفید ہے۔ بصری تناؤ کے لیے ایک کپ آملہ کا رَس شہد کے ساتھ دن میں دوبار پینا انتہائی کار آمد رہتا ہے۔
خشک آملے کو سفوف ایک چائے کا چمچہ دو چائے کے چمچے شکرکے ساتھ ایک ماہ تک روزانہ استعمال کرنا گٹھیا اور جوڑوں کے درد میں مؤثّر علاج ثابت ہوتاہے۔
اس میں قوت و توانائی بحال کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے، کیوں کہ اس کے اجزا عمر بڑھنے کے ساتھ پیدا ہونے والی شکست و ریخت کو روکتے ہیں اور بڑی عمر میں بھی توانائی برقرار رکھتے ہیں.
جن بچوں کو قبض کی شکایت ہو ان کے لیے نہار منہ آملہ کا مربہ بہترین علاج ہے
آملہ کا مربہ وقت سے پہلے سفید ہو جانے والے بالوں کو کالا کرنے کے لیے انتہائی موثر اس کے سا تھ ساتھ نظر کی
کمزوری دور کرنے میں مددگار..
پھیپھڑوں کے امراض آملے کے استعمال سے ٹھیک ہوجاتے ہیں۔
امراض قلب‘ زور زور سے دل دھڑکنے کی حالت اور کمزور دل حضرات کیلئے آملے کا مربہ مفید ہے۔
زیادہ پیاس لگنے یا قے آنے کی صورت میں آملہ چوستے رہیے۔
آملے کا سفوف منجن کے طور پر انگلی سے دانتوں پر ملیے‘ مسوڑھوں سے خون آنا بند‘ دانتوں کا میل صاف اور ہلتے اور دکھتے دانتوں کو آرام ملے گا۔
آملے کا باریک سفوف اگر چوٹ کے مقام پر چھڑک کر باندھ دیا جائے تو خون بہنا بند ہوجائے گا اور زخم بھی جلد ٹھیک ہوگا۔
تازہ آملے کا رس ایک چمچ اور ایک چمچ شہد ملا کر جو آمیزہ بنے وہ انتہائی عمدہ اور قیمتی دوا ہے۔ یہ متعدد بیماریوں کا شافی علاج ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخشتی ہے۔ ایک ہفتے تک روزانہ صبح سویرے اس آمیزے کا استعمال جسم کو قوت و توانائی سے بھردیتا ہے۔ شدید کمزوری کی صورت میں اسے دو ہفتے استعمال کیجئے۔ اگر تازہ پھل دستیاب نہ ہو تو خشک سفوف کو بھی شہد میں ملا کر معجون بنالیجئے۔
یہ آمیزہ سانس کی بیماریوں میں بہت مفید ہے۔ خاص طور پر پھیپھڑوں کی تپ دق‘ دمے اور کھانسی میں مؤثر ہے۔
آملہ، تخم جامن اور کریلوں کا ہم وزن سفوف ذیابیطس کی عمدہ دوا ہے۔ اس سفوف کی ایک چھوٹی چمچی دن میں ایک یا دو بار لینا مرض بڑھنے سے روکتا ہے۔
دس گرام آملہ پانی میں کوٹ کر چھان لیں۔ بعدازاں اس میں مصری یا شکر ملا کر پینے سے نکسیر کا خون بند ہوجاتا ہے۔ اسی طریقے سے بواسیر کے خون کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے۔
جوڑوں کے درد اور سوزش میں بھی آملہ مفید ہے۔ خشک آملے کا سفوف ایک چمچ شکر دو چمچ ملا کرایک ماہ تک دن میں دو مرتبہ لینا اس مرض کا مؤثر علاج ہے۔
بڑھاپا:آملے میں نئی قوت اور توانائی مہیا کرنے کی تاثیر پائی جاتی ہے۔ اس میں ایک ایسا عنصر پایا جاتا ہے جو نہ صرف بڑھاپے کے آثار ختم کرتا ہے بلکہ طاقت بھی برقرار رکھتا ہے۔ یہ انسان کی جسمانی قوت مدافعت بڑھاتا اور اسے بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ دل کو قوت دیتا‘ بالوں کو مضبوط بناتا اور جسم کے مختلف غدودوں کو فعال کرتا ہے۔ ایک سنیاسی کی مثال ہے کہ اس نے ستر برس کی عمر میں آملے کے استعمال سے خود کو پھر سے جوان بنالیا تھا۔
بال: گھنے بالوں اور آملے کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بالوں کو چمکدار بنانے کیلئے دیسی نسخوں اور ٹوٹکوں میں آملے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تازہ آملہ ٹکڑوں میں کاٹ کر سائے میں خشک کرلیں۔ پھر انہیں ناریل کے تیل میں اتنا پکائیے کہ تیل کی شکل جلے ہوئے برادے جیسی ہوجائے۔ یہ سیاہی مائل تیل بالوں کو سفید ہونے سے بچانے کیلئے عمدہ دوا ہے۔.
٭ تازہ یا خشک آملے کے ٹکڑے رات کو پانی میں بھگودیں۔ اگلے دن اس پانی سے سر کے بال دھوئیں۔ یہ ان کی نشوونما کیلئے اچھی غذا ہے۔ یاد رہے کہ صرف اسی پانی سے بال دھوئیے کسی قسم کا شیمپو استعمال نہ کریں۔
آملے کا سفوف پانی میں ملا کر گاڑھا سا لیپ بنالیجئے۔ پھر اسے بالوں کی جڑوں میں لگا کر کچھ دیر بعد سر دھو لیں۔ سفوف اور پانی کا مرکب اتنا گاڑھا ہونا چاہیے کہ تمام بالوں کی جڑوں میں لیپ ہوسکے.
والسلام
اسلامک ورلڈ

قہوہ — صحت کا قدرتی خزانہ 🌿☕آج کے دور میں چائے کا استعمال حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ چائے صحت کے ...
25/09/2025

قہوہ — صحت کا قدرتی خزانہ 🌿☕

آج کے دور میں چائے کا استعمال حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ چائے صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب اس میں ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص پتی یا زیادہ چینی شامل کی جائے۔ اس کے برعکس قہوہ جات خالص جڑی بوٹیوں سے تیار ہوتے ہیں اور صحت پر بے شمار مثبت اثرات ڈالتے ہیں۔

🌿 مختلف قہوہ جات کے فوائد

☕ لونگ اور دارچینی قہوہ
اینٹی سیپٹک خصوصیات رکھتا ہے، بلغم ختم کرتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے، جگر کو طاقت دیتا ہے، اضافی چربی گھلاتا ہے اور پتھری میں مفید ہے۔

☕ ادرک قہوہ
ہاضمہ درست کرتا ہے، بھوک بڑھاتا ہے، ریاح خارج کرتا ہے اور رنگت نکھارتا ہے۔

☕ تیز پات قہوہ
دل، دماغ اور معدے کو تقویت دیتا ہے اور سردرد میں آرام پہنچاتا ہے۔

☕ اجوائن قہوہ
ریاح ختم کرتا ہے، بخار میں فائدہ دیتا ہے اور گرمی کے امراض میں مفید ہے۔

☕ گل بنفشہ قہوہ
کھانسی، نزلہ، گلے کی خراش اور سانس کی بندش میں شفاء دیتا ہے۔

☕ گورکھ پان قہوہ
خون صاف کرتا ہے، خارش دور کرتا ہے اور کولیسٹرول و بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔

☕ ادرک شہد قہوہ
سردی، کھانسی، بند ناک اور موسمی اثرات سے بچاتا ہے۔

☕ انجبار قہوہ
دست روکنے میں مؤثر ہے، آنتوں کو مضبوط کرتا ہے اور ٹانگوں کے درد میں فائدہ دیتا ہے۔

☕ ڈاڑھی بوڑھ قہوہ
فالج، لقوہ اور مردانہ و زنانہ کمزوریوں میں مفید ہے۔

☕ گل سرخ قہوہ
بلغم ختم کرتا ہے، قبض دور کرتا ہے اور جسم کو ہلکا پھلکا رکھتا ہے۔

☕ کالی پتی قہوہ
کمزوری ختم کرتا ہے، پسینہ لاتا ہے، خون کی روانی تیز کرتا ہے اور سردی میں طاقت بخشتا ہے۔

☕ لیمن گراس قہوہ
بلغم، نزلہ، اسہال اور لو بلڈ پریشر میں مفید ہے۔

☕ زیرہ سفید اور الائچی قہوہ
معدے کی تیزابیت، بواسیر، بھوک بڑھانے اور ہاضمے کے لیے بہترین ہے۔

☕ سونف قہوہ
ریاح ختم کرتا ہے، کھانسی، معدے کی جلن اور بھوک کے لیے مؤثر ہے۔

☕ بادیان خطائی + دارچینی + الائچی قہوہ
قوتِ ہاضمہ بڑھاتا ہے، بھوک تیز کرتا ہے اور چائے کی عادت چھڑاتا ہے۔

☕ بنفشہ + ملیٹھی قہوہ
سینے کی جلن، کھانسی، قبض اور گلے کی خراش کا علاج ہے۔

☕ بہی دانہ + بنفشہ قہوہ
نزلہ، دل اور گردے کے درد، پیشاب کی جلن اور قبض میں مفید ہے۔

☕ بنفشی قہوہ
دائمی کھانسی، ریشہ اور نزلہ میں شفاء دیتا ہے، ہر موسم کے لیے بہترین ہے۔

🍵 چائے کی بجائے قہوہ اپنائیں، اور صحت مند زندگی گزاریں! 🌸

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic World posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Islamic World:

Share