29/12/2025
افغان مہاجرین کیمپ سے پشاور میں خفیہ منتقلی کی اطلاعات پر زمینی حقائق میں سرکاری دعوؤں کی وضاحت سامنے آ گئی
افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل پر سوالات کے جواب میں ٹرانسپورٹ فراہمی ٹھیکیدار کا مؤقف، حکومت صرف طورخم تک ذمہ دار
فی خاندان 25 ہزار روپے نقد، کوسٹر، وین اور ٹرک کے ذریعے منظم واپسی کا طریقہ کار پر تفصیلی وضاحت اور دستاویزی ثبوت فراہم کیے۔
پشاور (فری لانس رپورٹر) افغان مہاجرین کے انخلاء اور پشاور میں مبینہ خفیہ منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی حقیقت جانچنے کے لیے فری لانس صحافی نے خود خزانہ افغان مہاجرین کیمپ کا دورہ کیا، جہاں زمینی حقائق اس تاثر سے خاصے مختلف نکلے۔ کیمپ میں موجود افغام مہاجرین کو ٹرانسپورٹ اور ٹرک کی فراہمی کے ذمہ دار ٹھیکیدار نے صحافی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اب تک ایسا کوئی مصدقہ واقعہ سامنے نہیں آیا جس میں کیمپ سے افغانستان روانہ ہونے والے کسی خاندان نے پشاور کے شہری یا مضافاتی علاقوں میں قیام کیا ہو۔ٹھیکیدار کے مطابق اس قسم کی خبروں کے بعد ڈپٹی کمشنر پشاور اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریلیف نے باقاعدہ طور پر تفصیلات طلب کیں، جس پر انہیں واضح طور پر آگاہ کیا گیا کہ کیمپ سے سرکاری طریقۂ کار کے تحت روانہ ہونے والے خاندانوں کے بارے میں پشاور میں رکنے یا منتقل ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی خاندان اپنی ذاتی مرضی اور خرچے پر کیمپ چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہوا ہو تو اس بارے میں ان کے پاس کوئی معلومات موجود نہیں۔ٹھیکیدار نے بتایا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے سرکاری سطح پر فی خاندان 25 ہزار روپے نقد ادا کیے جاتے ہیں، جو باہمی مشاورت سے طے شدہ رقم ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی حکومت کی ذمہ داری صرف طورخم بارڈر تک محدود ہے، جبکہ افغانستان کے اندر کسی مقام تک رسائی حکومت کی ذمہ داری میں شامل نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہر خاندان کے تمام افراد کو مشترکہ طور پر ایک کوسٹر اور ایک وین میں بٹھا کر طورخم روانہ کیا جاتا ہے، اورافغان مہاجرین کیمپ میں روانگی کے وقت تصاویر لی جاتی ہیں۔ جب یہ خاندان طورخم بارڈر پہنچتے ہیں تو وہاں سے تصاویر واٹس ایپ کے ذریعے ٹھیکیدار کو موصول ہوتی ہیں، جو بعد ازاں ضلعی انتظامیہ کو ارسال کر دی جاتی ہیں تاکہ واپسی کا ریکارڈ مکمل کیا جا سکے۔
سامان کی ترسیل کے حوالے سے ٹھیکیدار نے بتایا کہ عموماً ایک برا ٹرک بک کیا جاتا ہے جس میں مہاجرین کا سامان طورخم تک پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم ایسے ڈرائیور جن کے پاس ویزا ہوتا ہے، ان کی گاڑیوں کو اضافی رقم کے عوض افغانستان کے اندر مطلوبہ مقام تک بک کر لیا جاتا ہے، جس کی ادائیگی افغان مہاجرین باہمی طور پر خود کرتے ہیں۔ ایک ہی بڑے ٹرک میں تین سے چار خاندانوں کا سامان بھی لادا جاتا ہے تاکہ اخراجات کم کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ بارڈر پر سامان سے لدی گاڑیوں کی سکیننگ پاکستان کی جانب موجود سکینرز کے ذریعے کی جاتی ہے، جبکہ خاندان کے افراد گاڑیوں سے اتر کر پیدل بارڈر پار کرتے ہیں۔ سکیننگ کے بعد گاڑیاں لدی ہوئی حالت میں افغانستان منتقل ہو جاتی ہیں۔ اب تک کسی بھی ٹرک یا خاندان کے حوالے سے اسلحہ یا دیگر ممنوعہ اشیاء کی ضبطگی کی کوئی مصدقہ رپورٹ سامنے نہیں آئی، اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سرکاری تفصیل موصول ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین کی واپسی کا یہ عمل مکمل طور پر دستاویزی ریکارڈ اور تصویری شواہد کے ساتھ جاری ہے، تاہم افواہوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے باعث شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں، جن کی وضاحت فیلڈ انکوائری کے بغیر ممکن نہیں۔
Directorate General Information & PRs, KP
Associated Press of Pakistan
Geo News Urdu
WhatsApp