Fayaz Ali Noor PRESS Information GROUP

Fayaz Ali Noor PRESS Information GROUP Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Fayaz Ali Noor PRESS Information GROUP, News & Media Website, Peshawar.

افغان مہاجرین کیمپ سے پشاور میں خفیہ منتقلی کی اطلاعات پر زمینی حقائق  میں سرکاری دعوؤں کی وضاحت سامنے آ گئیافغان مہاجری...
29/12/2025

افغان مہاجرین کیمپ سے پشاور میں خفیہ منتقلی کی اطلاعات پر زمینی حقائق میں سرکاری دعوؤں کی وضاحت سامنے آ گئی

افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل پر سوالات کے جواب میں ٹرانسپورٹ فراہمی ٹھیکیدار کا مؤقف، حکومت صرف طورخم تک ذمہ دار

فی خاندان 25 ہزار روپے نقد، کوسٹر، وین اور ٹرک کے ذریعے منظم واپسی کا طریقہ کار پر تفصیلی وضاحت اور دستاویزی ثبوت فراہم کیے۔

پشاور (فری لانس رپورٹر) افغان مہاجرین کے انخلاء اور پشاور میں مبینہ خفیہ منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی حقیقت جانچنے کے لیے فری لانس صحافی نے خود خزانہ افغان مہاجرین کیمپ کا دورہ کیا، جہاں زمینی حقائق اس تاثر سے خاصے مختلف نکلے۔ کیمپ میں موجود افغام مہاجرین کو ٹرانسپورٹ اور ٹرک کی فراہمی کے ذمہ دار ٹھیکیدار نے صحافی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اب تک ایسا کوئی مصدقہ واقعہ سامنے نہیں آیا جس میں کیمپ سے افغانستان روانہ ہونے والے کسی خاندان نے پشاور کے شہری یا مضافاتی علاقوں میں قیام کیا ہو۔ٹھیکیدار کے مطابق اس قسم کی خبروں کے بعد ڈپٹی کمشنر پشاور اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ریلیف نے باقاعدہ طور پر تفصیلات طلب کیں، جس پر انہیں واضح طور پر آگاہ کیا گیا کہ کیمپ سے سرکاری طریقۂ کار کے تحت روانہ ہونے والے خاندانوں کے بارے میں پشاور میں رکنے یا منتقل ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی خاندان اپنی ذاتی مرضی اور خرچے پر کیمپ چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہوا ہو تو اس بارے میں ان کے پاس کوئی معلومات موجود نہیں۔ٹھیکیدار نے بتایا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے سرکاری سطح پر فی خاندان 25 ہزار روپے نقد ادا کیے جاتے ہیں، جو باہمی مشاورت سے طے شدہ رقم ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی حکومت کی ذمہ داری صرف طورخم بارڈر تک محدود ہے، جبکہ افغانستان کے اندر کسی مقام تک رسائی حکومت کی ذمہ داری میں شامل نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہر خاندان کے تمام افراد کو مشترکہ طور پر ایک کوسٹر اور ایک وین میں بٹھا کر طورخم روانہ کیا جاتا ہے، اورافغان مہاجرین کیمپ میں روانگی کے وقت تصاویر لی جاتی ہیں۔ جب یہ خاندان طورخم بارڈر پہنچتے ہیں تو وہاں سے تصاویر واٹس ایپ کے ذریعے ٹھیکیدار کو موصول ہوتی ہیں، جو بعد ازاں ضلعی انتظامیہ کو ارسال کر دی جاتی ہیں تاکہ واپسی کا ریکارڈ مکمل کیا جا سکے۔
سامان کی ترسیل کے حوالے سے ٹھیکیدار نے بتایا کہ عموماً ایک برا ٹرک بک کیا جاتا ہے جس میں مہاجرین کا سامان طورخم تک پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم ایسے ڈرائیور جن کے پاس ویزا ہوتا ہے، ان کی گاڑیوں کو اضافی رقم کے عوض افغانستان کے اندر مطلوبہ مقام تک بک کر لیا جاتا ہے، جس کی ادائیگی افغان مہاجرین باہمی طور پر خود کرتے ہیں۔ ایک ہی بڑے ٹرک میں تین سے چار خاندانوں کا سامان بھی لادا جاتا ہے تاکہ اخراجات کم کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ بارڈر پر سامان سے لدی گاڑیوں کی سکیننگ پاکستان کی جانب موجود سکینرز کے ذریعے کی جاتی ہے، جبکہ خاندان کے افراد گاڑیوں سے اتر کر پیدل بارڈر پار کرتے ہیں۔ سکیننگ کے بعد گاڑیاں لدی ہوئی حالت میں افغانستان منتقل ہو جاتی ہیں۔ اب تک کسی بھی ٹرک یا خاندان کے حوالے سے اسلحہ یا دیگر ممنوعہ اشیاء کی ضبطگی کی کوئی مصدقہ رپورٹ سامنے نہیں آئی، اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سرکاری تفصیل موصول ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین کی واپسی کا یہ عمل مکمل طور پر دستاویزی ریکارڈ اور تصویری شواہد کے ساتھ جاری ہے، تاہم افواہوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کے باعث شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں، جن کی وضاحت فیلڈ انکوائری کے بغیر ممکن نہیں۔

Directorate General Information & PRs, KP
Associated Press of Pakistan
Geo News Urdu
WhatsApp

*داؤدزئی پریس کلب  صدر کی اسسٹنٹ کمشنر شاہ عالم سے ملاقات، افغان مہاجرین کے انخلاء اور لوڈشیڈنگ پر تفصیلی گفتگو**خزانہ ...
23/12/2025

*داؤدزئی پریس کلب صدر کی اسسٹنٹ کمشنر شاہ عالم سے ملاقات، افغان مہاجرین کے انخلاء اور لوڈشیڈنگ پر تفصیلی گفتگو*

*خزانہ شوگر ملز پرائمری اسکول میں چار سال سے بند بجلی کا مسئلہ زیرِ بحث، سولر سسٹم نصب کرنے کی یقین دہانی*

*محکمہ تعلیم کا مؤقف ! افغان مہاجر کیمپ سے اتارا گیا 6 کے وی اے سولر سسٹم موسم سرما کی چھٹیوں ( یکم جنوری) کو اسکول میں نصب کیا جائے گا*

پشاور (رپورٹ: فیاض علی نور فری لانس سینئر صحافی / صدر داؤدزئی پریس کلب)سینئر صحافی اور داؤدزئی پریس کلب کے صدر نے تحصیل شاہ عالم میں اسسٹنٹ کمشنر احسن فراز گوندل اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر محمد الیاس سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، جن میں حالیہ افغان مہاجرین کے انخلاء، واپڈا کی جانب سے غیر قانونی اور طویل لوڈشیڈنگ سمیت دیگر عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران صحافی نے خاص طور پر خزانہ شوگر ملز میں قائم پرائمری اسکول کا مسئلہ اجاگر کیا، جہاں شوگر ملز انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ چار سال سے بجلی منقطع ہے، جس کے باعث اسکول کے طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ خزانہ افغان مہاجر کیمپ کے اسکول سے حاصل کیا گیا سولر سسٹم مذکورہ پرائمری اسکول میں نصب کیا جا سکتا ہے تاکہ بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولت میسر آ سکے۔معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر شاہ عالم محمد الیاس نے فوری طور پر سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر شاہ عالم بسم اللہ جان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور مسئلے کی تفصیلات دریافت کیں۔محکمہ تعلیم کے سب ڈویژنل ایجوکیشن آفیسر بسم اللہ جان نے آگاہ کیا کہ یکم جنوری سے سردیوں کی تعطیلات کے دوران افغان مہاجرین خزانہ کیمپ سے اتارا گیا 6 کے وی اے سولر سسٹم خزانہ شوگر ملز پرائمری اسکول میں نصب کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بنایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ اسکول کی بجلی گزشتہ چار سال سے بند ہے، اس لیے سولر سسٹم کی تنصیب سے بچوں کا دیرینہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔سماجی رابطوں کے ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کو علاقے کے عوام نے خوش آئند قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے باہمی تعاون سے نہ صرف تعلیمی مسائل حل ہوں گے بلکہ افغان مہاجرین کے انخلاء کے بعد پیدا ہونے والی بے یقینی کی فضا بھی ختم ہو سکے گی۔

Directorate General Information & PRs, KP
Associated Press of Pakistan
WhatsApp
Pak news
Geo News Urdu
Ahmad Faraz Mediacell

عوام مالی دباؤ میں، خودمختارخیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (KPCSW)  کی  سربراہ کے لیے تنخواہ اور گاڑی کی تجویز...
22/12/2025

عوام مالی دباؤ میں، خودمختارخیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (KPCSW) کی سربراہ کے لیے تنخواہ اور گاڑی کی تجویز زیر بحث

خواتین حقوق کی ترجیح یا انتظامی مراعات؟ مہنگائی اور آسٹریٹی کے دور میں مراعات کا سوال، خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کی سمری پر عوامی تشویش

آسٹریٹی اقدامات کے باوجود مراعات کا تقابلی جواز، خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کی درخواست پر تنقیدی نگاہ

پشاور ( فری لانس جرنلسٹ کی خصوصی تحقیقی خبر) صحافت محض اس اطلاع کا نام نہیں کہ کوئی مر گیا ہے، بلکہ اصل صحافت یہ پیشنگوئی ہے کہ کون مرنے والا ہے اور کیوں؟ اسی اصول کے تحت خیبر پختونخوا حکومت کے ایک سماجی بہبود کے محکمے سے موصول ہونے والی غیر دستخط شدہ سمری کو قبل ازوقت عوام کے سامنے لایا جا رہا ہے، تاکہ بعد میں ہونے والے فیصلوں پر سوال اٹھایا جا سکے۔باوثوق ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (KPCSW) کی چیئرپرسن نے اپنی تنخواہ، مراعات اور سرکاری پروٹوکول میں نمایاں اضافے کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو دو الگ الگ سمریاں ارسال کروانے کی کوشش کی ہے، جو تاحال منظوری کے مرحلے سے نہیں گزریں۔موصول شدہ دستاویزات کے مطابق چیئرپرسن اس وقت یکمشت دو لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہی ہیں، جو 2014 میں مقرر کی گئی تھی۔ تاہم اب مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ مہنگائی، ذمہ داریوں اور دیگر صوبوں کے کمیشنز کے تناظر میں یہ تنخواہ ناکافی ہے، اور اسے گریڈ 21 کے افسر کے برابر یا پنجاب ویمن کمیشن کی چیئرپرسن کے مساوی کیا جائے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جس صوبے میں عام سرکاری ملازمین، اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور سوشل ویلفیئر کے فیلڈ اسٹاف وسائل کی کمی کا شکار ہیں، وہیں ایک خودمختار کمیشن کی سربراہ کے لیے تنخواہ، الاؤنسز، ہاؤس سبسڈی، میڈیکل سہولیات اور کمیشن الاؤنس میں اضافے کی تجویز دی جا رہی ہے، وہ بھی اس دلیل کے ساتھ کہ صوبائی خزانے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔دوسری جانب ایک اور سمری میں چیئرپرسن کے لیے نئی سرکاری گاڑی کی منظوری مانگی گئی ہے، حالانکہ صوبے میں 2025–26 کی آسٹریٹی پالیسی کے تحت نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد ہے۔ مؤقف یہ اپنایا گیا ہے کہ چیئرپرسن کے زیر استعمال 2014 ماڈل گاڑی اب قابلِ استعمال نہیں رہی، اس لیے پابندی میں نرمی ضروری ہے۔مقتدر حلقوں کے مطابق اصل سوال گاڑی یا تنخواہ نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ کیا خواتین کے نام پر قائم کمیشن کا مقصد پالیسی سازی اور زمینی بہتری ہے یا پھر وہی روایتی سرکاری کلچر، جہاں عہدہ آتے ہی مراعات پہلی ترجیح بن جاتی ہیں؟جب اس معاملے پر کمیشن کی ایک سینئر عہدیدار سے مؤقف لیا گیا تو انہوں نے تنخواہ اور مراعات میں اضافے کے مطالبے کو جائز اور حالات کے مطابق قرار دیا۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ چیئرپرسن کی موجودہ تنخواہ 2014 میں مقرر کی گئی تھی، جو آج کے مہنگائی زدہ دور میں نہ صرف ناکافی ہے بلکہ صوبے کے دیگر آئینی و قانونی عہدوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔کمیشن عہدیدار کے مطابق صوبائی محتسب اس وقت ساڑھے چار لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کر رہے ہیں، جبکہ صوبائی محتسب برائے خواتین کو مختلف الاؤنسز سمیت نو لاکھ روپے تک ماہانہ پیکیج دیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول اگر دیگر صوبائی اداروں اور خودمختار فورمز کے سربراہان کو اس سطح کی مراعات دی جا سکتی ہیں تو خواتین کے حقوق کے لیے قائم کمیشن کی چیئرپرسن کو 2014 کی تنخواہ پر کام کرنے کا پابند رکھنا ناانصافی ہے۔عہدیدار نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ کمیشن کی عملی کارکردگی، صوبہ بھر میں فیلڈ وزٹس، ضلعی سطح پر کمیٹیوں کی نگرانی اور بین الادارہ جاتی رابطوں کے لیے نہ صرف تنخواہ میں نظرثانی بلکہ نئی سرکاری گاڑی کی فراہمی بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق یہ مطالبات ذاتی نوعیت کے نہیں بلکہ ادارے کی فعالیت اور مؤثر کارکردگی سے جڑے ہوئے ہیں۔تاہم ناقدین کے نزدیک اصل سوال اب بھی برقرار ہے کہ جب صوبہ مالی دباؤ، آسٹریٹی اقدامات اور عوامی سطح پر شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے، تو کیا خودمختار کمیشنز میں مراعات کا یہ تقابلی جواز عوامی حساسیت کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔

Directorate General Information & PRs, KP
Associated Press of Pakistan
WhatsApp

19/12/2025

اس خودکشی کا کوئی حل ہے ؟

بریکنگ نیوز !!!!افغان مہاجرین کی واپسی کے دعوے مشکوک، کیمپ چھوڑ کر پشاور کے شہری علاقوں میں منتقل ہونے کا انکشافانخلاء ک...
15/12/2025

بریکنگ نیوز !!!!

افغان مہاجرین کی واپسی کے دعوے مشکوک، کیمپ چھوڑ کر پشاور کے شہری علاقوں میں منتقل ہونے کا انکشاف

انخلاء کے بعد افغان مہاجرین افغانستان جانے کے بجائے پشاور کے مضافات میں پناہ لینے لگے۔ سرکاری ٹرانسپورٹ ٹوپی ڈرامہ ؟

پشاور میں کرایہ کے گھروں کا بحران، ایک مکان میں تین سے چار افغان خاندانوں کی رہائش

افغان مہاجرین کے خفیہ انخلاء پر سوالات، اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ! ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ کمشنر سے رابطے کی کوشش لیکن بے سود

پشاور (فری لانس رپورٹر) — افغان مہاجرین کے انخلاء کے حوالے سے ایک حیران کن اور تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق کیمپوں سے واپس بھیجے جانے والے افغان مہاجرین کے افغانستان روانگی کے دعوے جھوٹے نکلے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کیمپوں سے نکالے جانے والے بیشتر افغان مہاجرین افغانستان جانے کے بجائے پشاور کے شہری اور مضافاتی علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افغان مہاجرین نے خاموشی سے کیمپ خالی کر کے پشاور کے مختلف علاقوں میں کرایہ کے مکانات حاصل کر لیے ہیں، جس کے باعث شہر میں کرایہ کے گھروں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی علاقوں میں ایک ہی گھر میں تین سے چار افغان خاندان اکٹھے رہائش پذیر ہیں، جس سے نہ صرف مقامی آبادی متاثر ہو رہی ہے بلکہ انتظامی رٹ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جن افغان مہاجرین کے بارے میں بتایا جا رہا تھا کہ وہ وطن واپس جا رہے ہیں، وہ درحقیقت ادھر ادھر کھسک گئے اور پشاور کے مختلف مضافات میں منتقل ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے افغان مہاجرین کی واپسی کے پورے عمل پر شکوک و شبہات کو جنم دے دیا ہے۔اس خبر کی تصدیق اور سرکاری موقف جاننے کے لیے تحصیل شاہ عالم کے اسسٹنٹ کمشنر احسن گوندل، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر محمد الیاس اور ڈپٹی کمشنر پشاور ثناء اللہ خان سے رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم کسی بھی افسر نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔ تاحال اس معاملے پر سرکاری طور پر نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آ سکی ہے۔شہریوں اورسنجیدہ حلقوں نے اعلیٰ حکام اور مجاز افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، تاکہ افغان مہاجرین کے انخلاء کے عمل کو شفاف بنایا جا سکے اور قانون کی عملداری یقینی ہو۔

Directorate General Information & PRs, KP
U.S. Embassy Jerusalem

تحصیل شاہ عالم چارسدہ روڈ پر ہیلتھ کیئر کمیشن کا کریک ڈاؤن، غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور لیبارٹریاں نشانے پرسرکاری عملے ا...
30/09/2025

تحصیل شاہ عالم چارسدہ روڈ پر ہیلتھ کیئر کمیشن کا کریک ڈاؤن، غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور لیبارٹریاں نشانے پر

سرکاری عملے اور کمیشن کی موجودگی کی اطلاع پر درجنوں دکانیں بند، عوام اب بھی غیر معیاری سہولیات کے رحم و کرم پر

پشاور (فیاض علی نور فری لانس جرنلسٹ ) تحصیل شاہ عالم چارسدہ روڈ پر خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور غیر تربیت یافتہ عملے کے ذریعے چلنے والی لیبارٹریوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ تاہم عینی شاہدین کے مطابق کمیشن کی ٹیم جیسے ہی علاقے میں پہنچی تو بیشتر میڈیکل سٹورز اور لیبارٹریوں نے اطلاع ملتے ہی اپنی دکانیں بند کر کے فرار اختیار کر لیا، جس کے باعث ادارہ مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔واضح رہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن نے جنوری تا جون 2025 کے دوران صوبے بھر میں **7 ہزار 474 معائنہ جات** کیے، جن میں سے **2 ہزار 692 اداروں کو نوٹسز** جاری کیے گئے، **1 ہزار 218 اداروں کو عارضی طور پر سیل** اور **395 کو مستقل طور پر بند** کیا گیا، جبکہ **977 اداروں پر جرمانے** عائد ہوئے۔ اسی عرصے میں **1 ہزار 218 نئے اداروں کی رجسٹریشن** بھی عمل میں لائی گئی۔مقامی عوام کا کہنا ہے کہ اگرچہ کمیشن نے پہلے بھی غیر قانونی لیبارٹریوں اور میڈیکل سٹورز پر جرمانے عائد کیے تھے، لیکن ان جرمانوں کا بوجھ براہِ راست مریضوں پر منتقل کیا جا رہا ہے اور شہری دونوں ہاتھوں سے لوٹے جا رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن اور متعلقہ ادارے نمائشی چھاپوں کی بجائے پائیدار اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ انسانی جانوں کے ساتھ مزید کھلواڑ نہ ہو۔ بصورتِ دیگر شہری عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

تحصیل شاہ عالم چارسدہ روڈ پر ہیلتھ کیئر کمیشن کا کریک ڈاؤن، غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور لیبارٹریاں نشانے پرسرکاری عملے ا...
30/09/2025

تحصیل شاہ عالم چارسدہ روڈ پر ہیلتھ کیئر کمیشن کا کریک ڈاؤن، غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور لیبارٹریاں نشانے پر

سرکاری عملے اور کمیشن کی موجودگی کی اطلاع پر درجنوں دکانیں بند، عوام اب بھی غیر معیاری سہولیات کے رحم و کرم پر

پشاور (فیاض علی نور فری لانس جرنلسٹ ) تحصیل شاہ عالم چارسدہ روڈ پر خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے غیر قانونی میڈیکل سٹورز اور غیر تربیت یافتہ عملے کے ذریعے چلنے والی لیبارٹریوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ تاہم عینی شاہدین کے مطابق کمیشن کی ٹیم جیسے ہی علاقے میں پہنچی تو بیشتر میڈیکل سٹورز اور لیبارٹریوں نے اطلاع ملتے ہی اپنی دکانیں بند کر کے فرار اختیار کر لیا، جس کے باعث ادارہ مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔واضح رہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن نے جنوری تا جون 2025 کے دوران صوبے بھر میں **7 ہزار 474 معائنہ جات** کیے، جن میں سے **2 ہزار 692 اداروں کو نوٹسز** جاری کیے گئے، **1 ہزار 218 اداروں کو عارضی طور پر سیل** اور **395 کو مستقل طور پر بند** کیا گیا، جبکہ **977 اداروں پر جرمانے** عائد ہوئے۔ اسی عرصے میں **1 ہزار 218 نئے اداروں کی رجسٹریشن** بھی عمل میں لائی گئی۔مقامی عوام کا کہنا ہے کہ اگرچہ کمیشن نے پہلے بھی غیر قانونی لیبارٹریوں اور میڈیکل سٹورز پر جرمانے عائد کیے تھے، لیکن ان جرمانوں کا بوجھ براہِ راست مریضوں پر منتقل کیا جا رہا ہے اور شہری دونوں ہاتھوں سے لوٹے جا رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن اور متعلقہ ادارے نمائشی چھاپوں کی بجائے پائیدار اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ انسانی جانوں کے ساتھ مزید کھلواڑ نہ ہو۔ بصورتِ دیگر شہری عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
HHealth+HHealth Department, KP@

اہم ترین خبر !خیبرپختونخوا کے دو وزراء نے  اپنے وزارت سے استعفیٰ دے دیافیصل خان تراکئی اور عاقب اللہ خان نے وزارتوں سے ا...
30/09/2025

اہم ترین خبر !
خیبرپختونخوا کے دو وزراء نے اپنے وزارت سے استعفیٰ دے دیا

فیصل خان تراکئی اور عاقب اللہ خان نے وزارتوں سے الگ ہو کر عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا

پشاور (فیاض علی نور فری لانس جرنلسٹ ) خیبرپختونخوا کابینہ میں بڑی تبدیلی سامنے آگئی ہے، صوبائی وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم فیصل خان تراکئی اور صوبائی وزیر برائے آبپاشی عاقب اللہ خان نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دونوں وزراء نے اپنے استعفے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو جمع کرا دیے۔فیصل خان تراکئی نے اپنے استعفیٰ میں کہا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات تھی کہ پارٹی قیادت نے ان پر اعتماد کیا اور انہیں موقع دیا کہ وہ صوبے کے تعلیمی نظام کی بہتری اور ترقی میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے وژن پر قائم رہیں گے اور تحریک انصاف کے ایک کارکن کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔اسی طرح صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے بھی اپنے استعفے میں کہا کہ انہوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ عوامی خدمت کی کوشش کی اور ہمیشہ شفافیت، میرٹ اور کارکردگی کو اپنا اصول بنایا۔ انہوں نے بھی عمران خان پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کے ساتھ وابستگی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ذرائع کے مطابق دونوں وزراء کے استعفے وزیراعلیٰ کو موصول ہو گئے ہیں اور اب ان پر مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

خیبرپختونخوا میں جعلی یوتھ پارلیمنٹس کا کاروبار! نوجوانوں سے ممبر شب فیس  لے کر ایم پی اے، اسپیکر اور گورنر بنانے کا انک...
29/09/2025

خیبرپختونخوا میں جعلی یوتھ پارلیمنٹس کا کاروبار! نوجوانوں سے ممبر شب فیس لے کر ایم پی اے، اسپیکر اور گورنر بنانے کا انکشاف

ڈسٹرکٹ کونسل ہال اور نشتر ہال میں یوتھ ایم پی ایز کی حلف برداریاں ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اصل حیثیت پر الجھن کا شکار

وزٹنگ کارڈز اور گاڑیوں پر یوتھ گورنر، یوتھ اسپیکر اور یوتھ وزیر کی تختیاں! عوام کو دھوکہ دینے اور ریاستی ڈھانچے کا مذاق اڑانے کا عمل

یوتھ پارلیمنٹ کے جعلی عہدے غیر قانونی، غیر آئینی اور خطرناک قرار دیے گئے۔محکمہ سماجی بہبود اور رجسٹرار جوائنٹ اسٹاک کا موقف

اسی روش سے یوتھ سپریم کورٹ، یوتھ الیکشن کمیشن اور یوتھ جی ایچ کیو بننے کا خطرہ، ریاستی ادارے مذاق بن جائیں گے! افسر کا انکشاف

نوجوان یوتھ ایم پی اے اور ایم این اے بننے پر خوش مگر مقامی حکومت کے کونسلر کا عہدہ اپنانے اور کہلوانے کو تذلیل سمجھتے ہیں۔

پلڈاٹ کا اصل تربیتی ماڈل جمہوریت کی تعلیم کے لیے تھا؛ آج کی جعلی یوتھ اسمبلیاں نوجوانوں کے ساتھ کھلا مذاق اور فراڈ ہیں

پشاور :(فیاض علی نور فری لانس جرنلسٹ ) خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کے نام پر ’’یوتھ پارلیمنٹ‘‘ کا ڈرامہ دن بدن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ صوبے میں مختلف ملتے جلتے ناموں جہاں لفظ "یوتھ پارلیمنٹ" لازمی قرار کے درجن بھر تنظیموں جن میں بیشتر غیر رجسٹرڈ ہیں نے نوجوانوں کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مصروف عمل ہیں ۔ کبھی ڈسٹرکٹ کونسل ہال باچا خان چوک تو کبھی نشتر ہال، اور بعض اوقات صوبائی اسمبلی کی عمارت ان یوتھ پارلیمنٹس کے ’’الیکشن‘‘ اور ’’حلف برداری‘‘ کی تقریبات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ بظاہر ایک بڑی سیاسی سرگرمی دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں اس کی نہ تو کوئی آئینی حیثیت ہے اور نہ ہی قانونی جواز۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ نوجوان اپنے آپ کو ’’یوتھ ایم پی اے‘‘، ’’یوتھ گورنر‘‘ اور ’’یوتھ اسپیکر‘‘ جیسے عہدوں پر پیش کرتے ہیں تو کیا یہ عوام کو دھوکہ نہیں دے رہے؟یہ معاملہ اب اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور صوبائی انتظامیہ بھی اس کی اصل حیثیت جاننے سے قاصر ہیں۔ اس پس منظر میں جب مختلف اداروں، ماہرین اور متعلقہ افراد سے مؤقف لیا گیا تو انکشاف ہوا کہ یہ تمام سرگرمیاں غیر قانونی، غیر آئینی اور نوجوانوں سمیت عوام کو گمراہ اور دھوکہ دینے کے مترادف ہیں۔واضح ر ہے کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے 2007 میں قومی سطح پر ’’یوتھ پارلیمنٹ پاکستان‘‘ قائم کی تھی، جس کا مقصد نوجوانوں کو جمہوریت کے کلچر سے روشناس کرانا، پارلیمانی امور کی تربیت دینا اور انہیں پالیسی سازی کے عمل سے آگاہ کرنا تھا۔ بعد ازاں 2012 میں پہلی بار خیبرپختونخوا کے لیے ’’یوتھ صوبائی اسمبلی‘‘ (YPA-KP) کا قیام عمل میں لایا گیا۔یہ اسمبلی مکمل طور پر ایک ڈمی اور ماڈل کے طور پر پیش کی گئی تھی، یعنی حقیقی اسمبلی کی نقل مگر صرف تربیتی مقاصد کے لیے۔ پلڈاٹ نے واضح کیا تھا کہ اس کا کوئی آئینی یا قانونی اختیار نہیں ہوگا بلکہ یہ محض ایک مشق ہے تاکہ نوجوان جمہوریت کی اقدار کو سمجھ سکیں۔ لیکن اس کے برعکس قائم ہونے والی ’’یوتھ پارلیمنٹس‘‘ نے پلڈاٹ کے اصل ماڈل کو بگاڑ کر ایک مکروہ کاروبار کی شکل دے دی ہے۔ نوجوانوں کو رکنیت اور عہدوں کے نام پر سبز باغ دکھائے جاتے ہیں، فیسیں وصول کی جاتی ہیں اور بعد میں انہیں ایم پی اے، گورنر یا وزیر بنا کر سوشل میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے۔حالیہ دنوں میں پشاور اور دیگر اضلاع میں کئی ایسی تقریبات ہوئیں جن میں ’’یوتھ ایم پی ایز‘‘ نے حلف اٹھایا۔ نہ صرف یہ بلکہ کچھ گاڑیوں پر ’’یوتھ اسپیکر‘‘، ’’یوتھ وزیر‘‘ اور ’’یوتھ گورنر‘‘ کی تختیاں بھی لگائی گئیں۔ اس پر شہریوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ واقعی کسی سرکاری حیثیت کے حامل ہیں یا محض خود ساختہ عہدے دار؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے پر پتا چلا کہ یہ تمام تر ڈھانچہ قانون اور آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔اس حوالے سے محکمہ ضلعی آفیسر سماجی بہبود (محکمہ سوشل ویلفیئر) اور جوائنٹ اسٹاک آف فرم کے رجسٹرار سے موقف لیا گیا۔ دونوں اداروں نے واضح کیا کہ قانون میں ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں جس کے تحت کوئی شخص یا تنظیم اپنے آپ کو ایم پی اے، گورنر یا اسپیکر قرار دے۔ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا:
’’اگر یہی روش جاری رہی تو کل کو یوتھ سپریم کورٹ اور یوتھ جی ایچ کیو(GHQ) بھی قائم ہو جائے گا، جہاں نوجوان خود کو چیف جسٹس اور چیف آف آرمی اسٹاف کہلائیں گے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو ریاستی ڈھانچے کے مذاق کے مترادف ہے۔‘‘اس ضمن میں جب ایک یوتھ پارلیمنٹ کے عہدیدار سے مؤقف لیا گیا تو انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ یہ سرگرمیاں غیر قانونی ہیں۔ ان کے مطابق ’’صوبے میں بدامنی اور دہشت گردی کے ماحول میں اگر نوجوانوں کو ایسی سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے تو یہ ایک صحت مند قدم ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ گاڑیوں پر تختیاں لگانا درست نہیں، مگر مجموعی طور پر یہ پلیٹ فارم نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے بچاتا ہے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پلیٹ فارمز دراصل نوجوانوں کو قیادت کا موقع دیتے ہیں، لیکن ان پر تنقید زیادہ اور سہارا کم ملتا ہے۔ایک سینئر تجزیہ نگار نے اس صورت حال پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’یہ بڑی عجیب بات ہے کہ خیبرپختونخوا کے نوجوان یوتھ ایم پی اے یا یوتھ ایم این اے بننے پر تو فخر محسوس کرتے ہیں، مگر جب بات مقامی حکومت کے کونسلر یا تحصیل چیئرمین کی آتی ہے تو وہ اسے اپنی تذلیل سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی نوجوان اپنے آپ کو کونسلر کہنا پسند ہی نہیں کرتا سارے صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ممبران بننے کے خواب دیکھتے ہوئے اور MPAیا MNAبننااور کہلوانا پسند کرتے ہیں ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ پشاور میں بیشتر یوتھ پارلیمنٹس کے رکن وہی نوجوان ہیں جو مقامی حکومت کے منتخب نمائندے ہیں، مگر وہ اپنے اصل عہدے کی بجائے خود ساختہ ایم پی اے بننے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یہ جمہوری عمل اور نچلی سطح پر سیاست کی توہین ہے۔ان جعلی یوتھ پارلیمنٹس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ عوامی سطح پر کنفیوژن پیدا کر رہی ہیں۔ عام شہری یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ نوجوان واقعی کسی آئینی اسمبلی کے رکن ہیں۔ دوسری طرف انتظامیہ اور پولیس کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہے کہ ان تقریبات کو کس قانون کے تحت روکا جائے یا ان پر کڑی نظر رکھی جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو یہ مستقبل میں ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر نوجوان اس انداز میں ’’نقلی عہدے‘‘ تخلیق کرتے رہے تو کل کو یہ عمل سنجیدہ مزاحمت یا فراڈ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ جب پلڈاٹ نے واضح اور شفاف انداز میں ایک ’’ڈمی اسمبلی‘‘ کے ذریعے نوجوانوں کو جمہوریت کی تربیت دی، تو پھر آج کی یوتھ پارلیمنٹس نے اس ماڈل کو کیوں بگاڑا؟ کیا یہ صرف سستی شہرت اور عہدے خریدنے کا کھیل ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور مقاصد ہیں؟یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا وقت کی ضرورت ہے، لیکن ان کے نام پر دھوکہ دہی اور عوامی نمائندگی کا جھوٹا تاثر دینا کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں۔ حکومت اور اداروں کو چاہیے کہ اس ضمن میں واضح قانون سازی کریں تاکہ مستقبل میں ’’جعلی اسمبلیوں‘‘ کے ذریعے نہ تو نوجوانوں کو لوٹا جا سکے اور نہ ہی عوام کو گمراہ کیا جائے۔

CM KPK
Ahmad Faraz Mediacell
Everyone Products
Youth Ki Awaaz
Associated Press of Pakistan
BlueStacks

الیکشن کمیشن کی عدم شفافیت،  تین سال بعد ، تین جوابات – مگر معلومات ندارد!ضلعی الیکشن کمیشن کی شفافیت کا پول کھل گیا، شہ...
24/02/2025

الیکشن کمیشن کی عدم شفافیت، تین سال بعد ، تین جوابات – مگر معلومات ندارد!

ضلعی الیکشن کمیشن کی شفافیت کا پول کھل گیا، شہری کی فروری 2022 کی درخواست کا آج تک تسلی بخش جواب نہ ملا!

پشاور (فیاض علی نور) الیکشن کمیشن آف پاکستان کی شفافیت پر ایک بار پھر سوالیہ نشان، شہری کی جانب سے پاکستان سٹیزن پورٹل پر دائر درخواست کو بغیر مکمل جواب دیے بند کر دیا گیا۔ شہری نے 11 فروری 2022 کو آئین کے آرٹیکل 19-A کے تحت معلومات فراہم کرنے کی درخواست دی تھی، جس میں پشاور ڈسٹرکٹ ووٹرز ایجوکیشن کمیٹی (DVEC) کی تفصیلات مانگی گئیں تھی ۔ تاہم، ضلعی الیکشن کمشنر پشاور نے 29 اپریل 2022 کو ایک مبہم اور غیرتسلی بخش جواب دے کر درخواست کو نمٹا دیا، جبکہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر بھی شکایت "حل شدہ" قرار دے کر بند کر دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق شہری نےڈسٹرکٹ ووٹر ایجوکیشن کمیٹی پشاور کے قیام، اس کے ممبران، اجلاسوں اور فنڈز کے حوالے سے معلومات طلب کی تھیں۔ معلومات تک رسائی کے تحت درخواست میں 2015 سے 2021 تک کمیٹی کے تمام اجلاسوں، ان میں شرکت کرنے والے ممبران کی فہرست، ان کی حاضری، اجلاسوں کے اخراجات اور ان کے تصویری شواہد کی تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔تاہم، ضلعی الیکشن کمشنر پشاور سید ظہور شاہ نے 29 اپریل 2022 کو جوابی خط میں کہا کہ "DVEC ووٹر آگاہی کے لیے قائم کی گئی تھی، لیکن اس کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا، اس لیے اخراجات کو صفر تصور کیا جائے۔شہری کا بنیادی حق نظر انداز کرتے ہوئے ضلعی الیکشن کمیشن نے شہری کی درخواست کو بار بار نظر انداز کیا۔ 24 جون 2022 کو شہری کی جانب سے دوبارہ شکایت درج کرائی گئی، مگر اس بار بھی الیکشن کمیشن نے وہی پرانا جواب دہرا کر معاملہ دبا دیا۔
تاہم حیران کن طور پر، 24 فروری 2025 کو بھی جب دوبارہ شکایت کی گئی، تو ضلعی الیکشن کمشنر کے دفتر سے یہی موقف اختیار کیا گیا کہ "پہلے ہی جواب دیا جا چکا ہے" اور صرف ایک سال کی 2022 کے ممبران کی فہرست فراہم کر دی گئی، مگر پچھلے سات سالہ ریکارڈ، اخراجات اور اجلاسوں کی تفصیلات بدستور غائب رہیں۔جس سے الیکشن کمیشن کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے۔ شہری کا کہنا ہے کہ ضلعی الیکشن کمیشن پشاور کا یہ طرز عمل شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن ایک عام شہری کی درخواست پر بنیادی معلومات فراہم کرنے میں ناکام ہے تو انتخابی عمل، ووٹر لسٹوں اور بیلٹ پیپرز کی شفافیت کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے؟شہری کا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ، صدر پاکستان اور وزیراعظم اس معاملے کا نوٹس لیں اور الیکشن کمیشن کو جوابدہ بنایا جائے۔ اگر ایک سرکاری ادارہ عوام کے بنیادی معلومات کے حق کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کی غیر جانبداری اور شفافیت پر سوالات اٹھنا فطری ہیں۔

03/02/2025

بینک آف خیبر نے شہری کی درخواست پر معلومات فراہم کرنے میں تاخیر کی، شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں

پشاور: 3 فروری 2025
(فیاض علی نور) خیبر پختونخواہ کے حق معلومات کے قانون (RTI) کے تحت 19 دسمبر 2024 کو ایک سینئر صحافی اور شہری، نے بینک آف خیبر (BOK) سے معلومات طلب کی تھیں، مگر بدقسمتی سے بینک نے مقررہ وقت میں اس درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔تفصیلات کے مطابق، درخواست دہندہ نے بینک سے 2020 سے 2024 تک کے اشتہارات، ان کے اخراجات، اور استعمال شدہ میڈیا پلیٹ فارمز کی تفصیلات طلب کی تھیں۔اس ضمن میں BOK سے متعدد اہم سوالات کیے تھے، جن میں بینک کے اشتہارات کی تفصیلات، اشتہاری ایجنسیوں کی فہرست اور ہر مہم پر ہونے والی خرچوں کی تفصیل شامل تھی۔ لیکن اس درخواست کے باوجود، بینک نے مقررہ مدت کے اندر جواب نہ دے کر قانون کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔بینک آف خیبر نے اس درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی کسی وجہ کا ذکر کیا کہ اس میں اتنی تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بینک کی جانب سے اس درخواست پر جواب نہ آنا ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ سادہ تاخیر نہیں بلکہ شہری کے قانونی حق کو نظر انداز کرنا اور عوامی اداروں کی شفافیت پر سوال اٹھانا ہے۔خیبر پختونخواہ حق معلومات ایکٹ 2013 کے تحت، تمام شہریوں کو معلومات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، خاص طور پر جب وہ کسی عوامی ادارے سے منسلک ہوں۔ بینک آف خیبر نے نہ صرف شہری کے قانونی حق کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ اس کے ذریعے شفافیت کے معیار کو بھی مجروح کیا ہے۔سینئر صحافی نے خیبر پختونخواہ کی انفارمیشن کمیشن سےمطالبہ کیا ہے کہ بینک آف خیبر کے خلاف کارروائی کی جائے اور اسے معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تاخیر کے پیچھے کچھ گڑبڑ ہو سکتی ہے اور بینک کے اعلیٰ افسران کے خلاف مناسب کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی گڑبڑوں کا تدارک ہو سکے۔دیکھنا یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ انفارمیشن کمیشن اس معاملے میں کیا اقدامات اٹھاتا ہے اور کیا بینک آف خیبر کے افسران اس بار قانون کی خلاف ورزی کے خلاف جوابدہ ٹھہرتے ہیں یا نہیں۔
Directorate General Information & PRs, KPCM KPK

24-07-2024 News
25/07/2024

24-07-2024 News

Address

Peshawar
25000

Telephone

+923339153015

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fayaz Ali Noor PRESS Information GROUP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Fayaz Ali Noor PRESS Information GROUP:

Share