PTM Updates

PTM Updates زۀ د دښمن د هر یو چال نه خبر
خو خدایه څۀ وکړم؟ ما ورور وژني

سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد کے آئینی بینچ نے دادو جیل میں قید سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر پر "جیل میں بیٹھ کر لوگوں کو اشت...
08/09/2026

سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد کے آئینی بینچ نے دادو جیل میں قید سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر پر "جیل میں بیٹھ کر لوگوں کو اشتعال دلانے" کے الزامات پر سخت حیرت کا اظہار کیا۔

عدالت نے سرکاری و پولیس حکام کے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے 10 ستمبر 2026 تک علی وزیر کے خلاف درج تمام مقدمات کا مکمل ریکارڈ اور تفصیلی جواب طلب کر لیا۔

علی وزیر کے وکیل امداد حیدر سولنگی نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل میں قید علی وزیر کے خلاف مسلسل نئے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور ان میں عائد الزامات بے بنیاد ہیں۔

الحمدللہ، مبارک ہونجیب اورکزی آج بہت سے سختیوں، تکالیف اور مشکلات برداشت کرنے کے بعد بالآخر قید سے رہا ہو گئے۔نجیب اورکز...
08/09/2026

الحمدللہ، مبارک ہو

نجیب اورکزی آج بہت سے سختیوں، تکالیف اور مشکلات برداشت کرنے کے بعد بالآخر قید سے رہا ہو گئے۔
نجیب اورکزی کی رہائی پر تمام دوستوں اور عزیز و اقارب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

مجبور پختون نے ساری زندگی پختون قوم کی خدمت کی اور اس پر جاری ظلم کے خلاف مزاحمت کی۔ وہ اس وقت ہنگو جیل میں سخت حالات می...
07/09/2026

مجبور پختون نے ساری زندگی پختون قوم کی خدمت کی اور اس پر جاری ظلم کے خلاف مزاحمت کی۔ وہ اس وقت ہنگو جیل میں سخت حالات میں قید ہے۔ پولیس نے اس پر بہت تشدد کیا ہے۔ لہٰذا تمام نوجوانوں سے اپیل ہے کہ اس کے لیے آواز اٹھائیں اور اس کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔

مریم نواز کے حالیہ بیان پر پشتون تحفظ موومنٹ ساؤتھ وزیرستان کے کوآرڈینیٹر شہزاد وزیر کا دوٹوک جواب۔مریم کا یہ بیان ہمارے...
07/09/2026

مریم نواز کے حالیہ بیان پر پشتون تحفظ موومنٹ ساؤتھ وزیرستان کے کوآرڈینیٹر شہزاد وزیر کا دوٹوک جواب۔
مریم کا یہ بیان ہمارے لیے ہرگز کوئی نئی بات نہیں۔
ریاست کے قیام سے لے کر آج تک پنجابی اسٹیبلشمنٹ نے اسی نوعیت کا سیاسی فریم قائم رکھا ہے، جس میں ریاست کے تقریباً ہر اہم فیصلے کی بنیاد پنجاب کے مفادات پر رکھی جاتی ہے۔
پاکستانی پارلیمانی سٹرکچر پنجاب کی بالادستی کو برقرار رکھنے کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔ اسی پارلیمانی سیٹ اپ میں قوموں کو برابر سیاسی نمائندگی دینے کے بجائے، آبادی میں اکثریت رکھنے والا پنجاب ہر دور میں اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے باقی قوموں کے چند لوگوں کو اقتدار میں حصہ دیتا ہے اور پھر اسی پنجابی سیٹ اپ کو ’’جمہوریت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر دور میں اس پنجابی تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے ہمارے کچھ پختونوں کو بھی ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر ٹھیکوں میں نمک کے برابر حصہ دیا جاتا ہے۔ پھر یہی لوگ ہر پانچ سال بعد پنجاب مخالف بیانیہ اختیار کرکے اپنے لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسی پنجابی پارلیمانی فریم کے ذریعے قوم کے لوگوں کو ایک پرامن، خوشحال اور بااختیار مستقبل کے جھوٹے خواب بھی دکھائے جاتے ہیں، جبکہ فیصلہ سازی کا بنیادی اختیار اسی پرانے نظام کے پاس برقرار رہتا ہے۔

07/09/2026

ان بے غیرت گلخانو سے گل چاہت لاکھ درجے بہتر ہے جو پنجابی جنرلوں کی ڈر سے مریم نواز کے بیان پر خاموش ہے

نور اللہ ترین اور حنیف پشتین امن کی بات کرنے گئے تھے لیکن ابھی تک لاپتہ ہیں 299 دن گزر گئے آج تک کوئی جواب نہیں ہیں۔ نور...
07/09/2026

نور اللہ ترین اور حنیف پشتین امن کی بات کرنے گئے تھے لیکن ابھی تک لاپتہ ہیں 299 دن گزر گئے آج تک کوئی جواب نہیں ہیں۔
نوراللہ ترین اور حنیف پشتین کے ساتھ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے حکومت میں پُرامن جرگہ کے بعد کیا ہوا؟




دس ماہ گزر چکے ہیں، لیکن اب تک پشتون قوم کے سپوت اور باہمت ساتھی نور اللہ ترین اور خنیف پشتین ایم آئی کی ٹارچر سیل میں ق...
02/09/2026

دس ماہ گزر چکے ہیں، لیکن اب تک پشتون قوم کے سپوت اور باہمت ساتھی نور اللہ ترین اور خنیف پشتین ایم آئی کی ٹارچر سیل میں قید ہیں۔
اگرچہ پشاور ہائی کورٹ نے ان کے کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی تھی، لیکن تاحال اس جے آئی ٹی کی جانب سے کوئی واضح اور قابلِ اطمینان معلومات سامنے نہیں لائی گئیں۔ ہم نے بارہا شواہد اور گواہیاں بھی پیش کیں، لیکن اس کے باوجود معاملہ آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ پشاور جیسے بڑے شہر میں بھی پشتون سیاسی کارکنوں کو اس قسم کی اذیت، تشدد اور جبری گمشدگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صرف دو افراد کا معاملہ نہیں، بلکہ پشتونوں کی سیاسی آواز کو دبانے کی ایک واضح مثال ہے۔
اگر پی ٹی آئی کی حکومت ہر بار یہ کہتی ہے کہ ’’یہ ہمارے اختیار میں نہیں‘‘ تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت آخر کس لیے ہے، اگر وہ اپنے ہی عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی؟
ہم اسی لیے کہتے ہیں کہ یہاں حکومتی معاملات بھی ایک کرنل کے ہاتھ میں چل رہے ہیں۔
زاکیم خان وزیر:
مرکزی کمیٹی ممبر : پشتون تحفظ موومنٹ

نن د پښتون ژغورنې غورځنګ ضلع خيبر باړه تحصيل، تيراه ميدان تحصيل تنظيم ذمه دارو غونډه د نقيب الله افريدي په حجره وشوه. غو...
30/08/2026

نن د پښتون ژغورنې غورځنګ ضلع خيبر باړه تحصيل، تيراه ميدان تحصيل تنظيم ذمه دارو غونډه د نقيب الله افريدي په حجره وشوه. غونډه د پي ټي ايم خيبر باړه کواډينټر مقيب افريدي په صدارت کې ترسره شوه.!!

د غونډې پیل د تلاوت کلام پاک څخه صابر شاهين صيب اوکړو!!

په غونډه کې د تيراه ميدان کواډينټر عبدالکريم افريدي، باړه ډيسپلن کميټۍ کواډينټر هارون افريدي، خيبر کور کميټۍ غړی شعور افريدي، خيبر ليګل کميټۍ کواډينټر نقيب الله، باړه فائنس کواډينټر سهيل افريدي، سوشل ميډيا کواډينټر شاه زيب افريدي، پښتون طلبا تنظيم صدر واجد افريدي او نورو ګڼو ذمه دارو ګډون درلوده!!

ياده دې وي چې نن د تنظيمي غونډې نه مخکې د هارون افريدي بابا جان وفات شوی وو، د هغه لپاره د قرآن کريم ختم اوکړو!!

نننۍ غونډه د تنظيم په نظم و ضبط، ډيسپلن، او د تنظيم دننه د کميټو په غير فعاليت او په خپلو ذمه وارو چارې سر ته نه رسولو باندې په هغوي تفصيلي خبرې وشوې. د تنظيم کوم کواډينټر کوم ذمه دار چې په دريو ميټنګونو کې ګډون او نه کړي، هغوي ته شوکاز نوټس او د هغې ځواب نه جمع کول، د هغوي روکنيت به ختم کيږي!!

په هره قبيله کې به کواډينټر خپلې غونډې پروګرامونه روان کړي او خپل تنظيم به متحرک ساتي او د کارکنانو ګيلې شکوي به ختموي او يوه مشترکه تنظيمي غونډه به کيږي. ځوانانو ته د تنظيم په هدفونو، نظرياتو او را روانو حالاتو به کيږي.!!

پي ټي ايم خيبر باړه کواډينټر
مقيب افريدي
PTM Updates

شہیدِ وطن نواب اکبر خان بگٹی شجاعت، روایت اور لازوال تاریخ کا عنوان 26 اگست کا دن بلوچستان کی تاریخ کا وہ سیاہ اور ناقاب...
26/08/2026

شہیدِ وطن نواب اکبر خان بگٹی
شجاعت، روایت اور لازوال تاریخ کا عنوان 26 اگست کا دن بلوچستان کی تاریخ کا وہ سیاہ اور ناقابلِ فراموش دن ہے جب کوہلو کے پہاڑوں نے اپنے وقت کے سب سے جری، نڈر اور اصول پرست رہنما کو ہمیشہ کے لیے گود میں سمیٹ لیا۔
آج شہیدِ ملت نواب اکبر خان بگٹی کی 20 ویں برسی پر پوری قوم انہیں عقیدت کے پھول اور سرخ سلام پیش کرتی ہے۔
نواب اکبر خان بگٹی صرف ایک سیاستدان یا روایتی قبیلے کے سربراہ نہیں تھے، بلکہ وہ بلوچستان کی سیاست، مزاحمت اور غیرت کی تاریخ کا ایک روشن باب تھے۔ ان کی زندگی جرات، دلیری اور اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے کی ایک زندہ مثال تھی۔
انہوں نے اقتدار کے ایوانوں میں گورنر اور وزیراعلیٰ کے اعلیٰ عہدوں پر رہ کر بھی عوام کی خدمت کی، لیکن جب بات بلوچستان کے حقوق، وسائل کی مالکی اور قومی وقار کی آئی، تو انہوں نے آرام دہ ایوانوں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی صعوبتوں کو گلے لگانا زیادہ پسند کیا۔
ایک ایسی عمر میں جہاں لوگ آرام اور آسودگی تلاش کرتے ہیں، انہوں نے سفید ریش کے ساتھ اپنی دھرتی اور حقوق کی خاطر ہتھیار اٹھا کر اس مٹی کی لاج رکھی۔
انہوں نے ثابت کیا کہ ایک سچا لیڈر کبھی جھکتا نہیں، بلکہ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔
ان کی پیش گوئیاں اور ان کے کہے گئے الفاظ آج بلوچستان کی تلخ حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔
وقت گزر گیا، سال بیت گئے، دو دہائیاں مکمل ہو گئیں، لیکن نواب اکبر خان بگٹی کی یاد آج بھی لوگوں کے دلوں میں اسی طرح زندہ ہے جیسے وہ کل کی بات ہو۔ طاقت کے زعم میں ان پر ظلم کرنے والے تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو گئے، لیکن نواب صاحب کا نام عزت، وقار اور بہادری کی علامت بن کر آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ بن چکا ہے۔
آج ہم ان کی عظیم قربانی، بے باک قیادت اور دھرتی سے لازوال محبت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
شہید کی موت ہی قوم کی حیات ہے۔
شہید نواب اکبر خان بگٹی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

روح ته یی د عقیدت سره ګلونه وړاندی کوم ارواح یی ارامه ښاد په ګور مبارک یی نور یاد یې تلپاتې ،آفسوس عمر جانه
26/08/2026

روح ته یی د عقیدت سره ګلونه وړاندی کوم ارواح یی ارامه ښاد په ګور مبارک یی نور یاد یې تلپاتې ،
آفسوس عمر جانه

Address

Bara Khyber
Peshawar
24800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTM Updates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share