22/05/2017
قبول اسلام سے پہلـے ایک بارحضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت اللہ گے تو دیکھا نبی کریم ﷺ نماز کیلئـے کھڑے ہیں انھوں نـے سوچا کہ کیوں نہ اج انکـے قریب ہوکر انکا کلام سنا جاۓ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غلاف کعبہ میں چھپ کر آپکی زبان مقدس سے قرآن پاک کی تلاوت سننـے لگـے آپ ٹھہر ٹھہر کر"سورہ الحاقہ"کی تلاوت فرما رہے تھـے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قرآن کے معجزانہ کلام میں کھو سے گئے, پھر چونک کر دل میں سوچنـے لگـے واقعی قریش مکہ صیحح کہتـے ہیں کہ محمد ﷺ جو کلام سناتـے ہیں وہ ایک خوبصورت شاعری هــے جونہی انکـے دل میں یہ خیال آیا اسی لمحـے آپ ﷺ نـے یہ آیت پڑھی کہ" بےشک یہ کلام رسول کریم پر (جبرائیل) کا لایا ہوا هــے اور کسی شاعر کا کلام نہیں لیکن تم کم ہی ایمان لانـے والـے ہو, یہ سنتـے ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں فورا خیال آیا کہ (نعوذباللہ) آپ کوئی سخن طراز اورشعبدہ باز اور کاہئن ہیں جو انکـے دل کے خیال کو پڑھ رہے ہیں عین اس وقت آپ نـے اگلی آیت تلاوت فرمائی" اور یہ کسی کاہئن کا کلام نہیں مگر تم بہت کم غور کرتـے ہو,
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حیران وپریشان تھـے کہ آپ انکـے دل کے خیالات کیسـے پڑھ رہے ؟ داعی اسلام نـے تلاوت جاری رکھی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رقت طاری ہوگی اور وہ رونـے لگـے, عرب کا ایک مشہور شاعر جو جماعت کفار سے تعلق رکھتا تھا شہر کے شور و شر اور عام لوگوں کی ناخوشگوار صحبت سے بچنـے کیلئـے پہاڑ کے ایک غار میں مستقل طور پر سکونت پذیر ہوگیا اسکـے بہت سارے شاگرد تھـے جو اپنا اپنا کلام بغرض اصلاح اس غار کے اندر ڈال آتـے اور دوسرے روز وقت مقررہ پر غار کے باہر سے اٹھا لاتـے ایک روز ایک شاگرد نـے قرآن مجید کی اس سورہ کو اپنا کلام ظاہر کر کے اسکا چوتھا مصرع بنانـے کی درخواست کی "انا عطینك الكوثر¤ فصل لربك وانحر¤ ان شانك هو الابتر¤ دوسرے روز جب وہ اپنا پرچہ واپس لایا تو اس پر چوتھـے مصرع کی جگہ یہ درج تھا
" ليس هذا قول البشر"یعنی یہ کسی بشر کا کلام نہیں, میرے آقا کملی والـے ﷺ نـے فرمایا " لوگو !
اپنـے گھروں کو نماز سے اورقرآن کی تلاوت سے منور رکھنا,
میرے عزیزو ! جب سے ہم مسلمانوں کے گھروں سے نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کا رواج ختم ہوا هــے تب سے رزق سے برکت , معاشرے سے امن اور سلامتی , گھروں سے سکون اور راحت روٹھ گی هــے ساٹھ ستر سال کی مختصر ترین زندگی میں ہمیں اتنی تکلیفوں, بیماریوں, پریشانیوں, مصیبتوں, اور غموں نـے گھیر لیا هــے کہ پوری دنیا کی فضا سوگوار دیکھائی دیتی هــے