AGHAZ Online

AGHAZ Online AGHAZ ONLINE is updated round the clock to keep the readers abreast of the developments on different issues in Pakistan as well as internationally.

Aghaz Online is an Informative online website which is based on news stories, Articles, national and international news, fashion, entertainment and much more. It will encourage new writers and will welcome to all new thoughts and fresh ideas. It aims to provide reality oriented news with responsibility.it will present news in an authentic and comprehensive way in order to show the real picture of the story.

21/02/2017

Pakistan is experiencing a fresh resurgence in terror attacks.

In the last 10 days, over 100 people have killed in terror attacks in Sindh, Balochistan, KP, Fata and Punjab.

On Feb 13, a su***de blast on Lahore's Mall road saw 13 people dead and 85 injured. The banned Tehreek-i-Taliban Pakistan (TTP) claimed responsibility.

In another incident on Feb 13, two Bomb Disposal Squad personnel were killed in Quetta while trying to defuse a roadside bomb at Sariab road.

On Feb 15, five people lost their lives in a su***de blast outside a government office in Mohmand Agency. JuA had claimed the responsibility for the attack.

In a separate su***de attack on Feb 15, one person died as a su***de attacker targeted a judges' vehicle in Peshawar. TTP claimed the attack.

On Feb 16, in what is said to be the worst attack in the recent surge of terrorism, a su***de attack on the Lal Shahbaz Qalandar Shrine in Sehwan saw over 85 people dead while more than 200 were injured. The responsibility for the attack was claimed by the militant Islamic State (IS) group.

The same day, on Feb 16, an IED blast in Awaran, Balochistan left three security officials dead.

14/02/2017

LAHORE: The Lahore High Court on Tuesday ordered holding of Central Superior Services (CSS) exam in Urdu language from 2018.

On a petition filed by Advocate Saif Ur Rehman, the court ruled that the exams should be conducted in Urdu language in line with the decision given by the Supreme Court of Pakistan.

The court remarked that due to paucity of time, it was not able to implement the order for CSS exam in 2017, however the examination should be conducted in Urdu from next year.

It may be noted here that the Supreme Court of Pakistan in 2015 ordered federal government to take steps to implement Urdu language as the official language in government offices.

The order was issued by a three-member bench led by Chief Justice Jawad S Khawaja in petitions seeking to make Urdu as the official language of country as per the constitution.

18/12/2016

کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے
نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا نہ تمہاری زلف سیاہ تھی

12/12/2016

زندگیاں ختم ھوئیں قلم ٹُوٹ گئے ،
تیرے وصف کا ایک باب بھی ختم نہ ھوا
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ||

11/12/2016

پی کے 661 کی کہانی
!!!!!!!!!!!!!!
یہ چترال ایئر پورٹ کا منظر ہے ۔ طیارے میں 42 مسافر سوار ہیں۔ کچھ لوگ ونڈوز سے باہر رن وے اور ملحقہ پہاڑیوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ بچے خوشی سے چہچہا رہے ہیں
کچھ لوگ چھٹیاں گذار کر واپس جا رہے ہیں کچھ لوگ سیروتفریح سے واپس جا رہے ہیں
طیارہ فضا میں بلند ہوا، بلندی پر گیا اور لیول فلایئٹ اڑنے لگا۔
کچھ لوگ کھڑکی سے نیچے زمین کا منظر دیکھ رہے ہیں، پہلے نیچے برف پوش چوٹیاں آئیں اسکے بعد سرسبز پہاڑی چوٹیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا
جہاز کے اندر کا منظر انتہائ خوش گوار ہے، ایئر ہوسٹس مسکراہٹں بکھیرتی ہوئ تمام مسافروں سے باری باری پوچھ رہی تھی کہ وہ کیا کھانا پینا پسند کریں گے، کچھ لوگ چائے، کچھ کافی سے دل بہلا رہے تھے
کہ اچانک جہاز نے ایک زوردار جھٹکا کھایا اور تھوڑا سا ایک سائیڈ کو جھک گیا، کچھ لوگوں کے ہاتھوں سے چائے اور کافی چھلک گئ، خواتین اور بچوں کی چیخیں نکل گئیں
فلایئٹ ایٹنڈنٹ نے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی اور لوگوں کو پرسکون رہنے کی گزارش کی۔ اتنے میں کاک پٹ سے پائلٹ کی آواز سنائ دی، خواتین حضرات جہاز میں ہلکی سی خرابی پیدا ہوگئ ہے جسکی وجہ آپکو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن ہم یقین دلاتے ہیں آپکو حفاظت سے اسلام آباد پہنچائیں گے، سب لوگ کچھ دیر کے لیئے اپنے سیٹ بیلٹ باندھ لیں
یہ جہاز کے فرسٹ آفیسر (Co-Pilot) احمد جنجوعہ ہیں ، ان کی بائیں طرف انکے بڑے بھائ اور جہاز کے کیپٹن صالح جنجوعہ ہیں جن کی پیشانی پسینے سے شرابورہے اور وہ مختلف نابز کو گھما رہے ہیں۔ پھر انہوں نے ریڈیو سے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔ یہ فلائیٹ پی کے 661 ہے اور میں کیپٹن صالح ہوں، ہمارا بلندی اور لوکیشن۔۔۔۔ فیٹ ہے اور ہمارے جہاز کا نمبر1 انجن فیل ہوگیا ہے، ہمیں اسلام آباد ایئرپورٹ کا رن وے خالی چاہئے۔ ٹریفک کنٹرولر نے ذرا توقف سے کہا کہ آپ کے لیئے دونوں رن وے خالی کرائے جا رہے ہیں آپ جس End سے چاہیں لینڈ کر سکتے ہیں
جہاز کے پسنجر ایریا میں ابھی پریشانی برقرار ہے،
کہ اچانک ایک 5 سالہ بچے کی چیختی ہوئ آواز آئ مما وہ دیکھیں آگ لگ گئ ہے،، سب لوگوں نے چونک اپنی بائیں طرف والی کھڑکی سے دیکھنے کی کوشش کی ، اسکے بعد چیخ و پکار کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس دوران سب کی جانی پہچانی شخصیت جنید جمشید اپنی سیٹ سے کھڑے ہوئے اور نہایت رقت آمیز آواز میں مسافروں سے مخاطب ہوئے، میرے بھایئو اور بہنو،، یہ وقت چیخ و پکار کا نہیں بلکہ اللہ سے مدد مانگنے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا ہے،، انہوں نے بمشکل ایک منٹ ہی بات کی ہوگی کہ جہاز کی بائیں طرف ایک زوردار دھماکہ ہوا اور انجن سے لوہا اور دیگر پرزے نیچے گرنے لگے۔
جہاز زبردست ہچکولے کھانے لگا، لوگوں کی چیخوں میں ایک عجیب و غریب درد اور خوف شامل ہوگیا، کچھ لوگ زور زور سے کلمہ پڑھنے لگے، کچھ لوگ اپنی سیٹ بیلٹ کھول کر آگے کی طرف بھاگنے لگے۔ انکو کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں
کس سے مدد مانگیں، انکے منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکل رہی ہیں، وہ زاروقطار رو رہے ہیں۔ دو تین لوگ ہارٹ اٹیک سے پہلے ہی دم توڑ چکے ہیں ، کچھ بے ہوش اور باقی نیم بے ہوشی کی حالت میں ہیں۔ جہاز میں کان پڑی آوازسنائ نہیں دے رہی ۔ وہ سب جان گئے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہونے والا ، اب انکی زندگی کے آخری لمحات شروع ہوچکے ہیں۔ اب وہ اس دنیا کو کبھی نہیں دیکھ سکیں گے، اب یہ سفر یہیں تمام ہوا چاہتا ہے۔ اب وہ اپنے پیاروں کو کبھی نہیں دیکھ سکیں گے
اتنے میں کیپٹن کی چیختی ہوئ آواز سنائ دی خواتین و حضرات ہمارا جہاز کچھ دیر میں زمین سے ٹکرا جائے گا، اب کوئ امید نہیں بچی۔ آپ لوگ کلمہ پڑھ لیں
اس announcement کے بعد مسافروں کی چیخیں آسمان کا بھی سینہ چیرنے لگیں، یہ سوچ سوچ کر انکے کلیجے پھٹ رہے تھے کہ اب کیا ہوگا۔۔۔۔ اب کیسے موت آئے گی۔۔۔۔ موت کتنی دردناک ہوگی۔۔۔۔۔۔ انکی جان کتنی مشکل سے نکلے گی۔۔۔۔ یہ بھڑکتی ہوئ آگ انکو کیسے جلائے گی۔۔۔۔۔۔ نیچے گر کر انکے نازک جسموں کی کتنی ہڈیاں ٹوٹیں گی۔۔۔۔۔ کیسے جان نکلے گی۔۔۔۔۔ کتنی اذیت ناک ہوگی یہ موت۔۔۔۔۔۔۔
جہاز کے کوپائلٹ نے امید بھری نظروں سے اپنے بڑے بھائ کی طرف دیکھا،، بھائ جان خدا کے لیئے کچھ کیجئے،،، کسی طرح اس حادثے کو روک دیجئے، صالح جنجوعہ نے اپنا دایاں ہاتھ چھوٹے بھائ کے ہاتھ پر رکھا اور کہا بیٹا اب کچھ نہیں ہوسکتا،،،، میں تم سے شرمندہ ہوں۔۔
اس نے اپنے بھائ کی طرف دیکھا اور سوچا کہ کاش وہ اسکو اپنے ساتھ نہ لاتا،،، کاش یہ بچ جاتا،،، پھر اس نے آخری بار چیختے ہوئے دو دفعہ مے ڈے مے ڈے کی کال دی پھرزور سے کلمہ پڑھا
اسکے بعد آخری دھماکہ ہوا،،،، سب کچھ بکھر گیا،،، آخری لمحات کی چیخیں انتہا کی اذیت ناک اور خوفناک تھیں،،، آگ جہاز کے کیبن تک پہنچ گئ،،، زندہ بچ جانے والے آگ کے شعلوں کو نزدیک پاکر اٹھنے کی کوشش کرنے لگے،،، لیکن وہ ہل بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ انکے ہاتھ پاوں ٹوٹ چکے تھے،،، انکی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہوچکیں تھیں
آگ سے جلنے کی بو اور آوازیں بہت وحشت ناک تھیں۔۔۔۔ سر بال،،، چہرہ،، گردن،، پورا جسم،،،، ہڈیاں،،، روح،،،،، ہر چیز جل رہی تھی،،،،، اب چیخنے والے گلے بھی جل چکے تھے،،، اب کوئ آواز نہیں بچی تھی،،،،، اب صرف جلی ہوئ لاشیں تھیں،،،، ان سے اٹھتا ہوا دھواں تھا،،،،، ناتمام حسرتیں تھیں،،،،،

11/12/2016

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ وَمَنْ يَّتَّبِــعْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ فَاِنَّهٝ يَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ ۚ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْـمَتُهٝ مَا زَكـٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰكِنَّ اللّـٰهَ يُزَكِّىْ مَنْ يَّشَآءُ ۗ وَاللّـٰهُ سَـمِيْـعٌ عَلِيْـمٌ (21)
اے ایمان والو! شیطان کے قدموں پر نہ چلو، اور جو کوئی شیطان کے قدموں پر چلے گا سو وہ تو اسے بے حیائی اور بری باتیں ہی بتائے گا، اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا لیکن اللہ جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے(سورہ نور)

10/12/2016

ایک انشورنس کمپنی نے کسی بہت بڑی فیکٹری کا کئی ملین ڈالر کا بیمہ کیا۔
شومئی قسمت ، اسی دن فیکٹری کو آگ لگ گئی اور وہ جل کرخاکستر ہوگئی۔ بیمہ کی رقم کا کلیم ادا کرنے سے پہلے کمپنی نے ماہرین کی خدمات حاصل کیں تاکہ حادثہ کی وجوہات کا پتہ لگایا جائے۔ تحقیقاتی ٹیم کو شک ہو گیا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ معاملہ سیدھا نہیں۔ تاہم بہت کوشش کے باوجود انہیں کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہ ملا جس کی بدولت فیکٹری انتظامیہ کی بے ایمانی ثابت کی جا سکے۔ آخر کار تنگ آ کر انہوں نے بس یہ "اعتراض" فیکٹری کو بھیجا ۔۔۔۔ پیر 3 جولائی صبح 10 بجے انشورنس کی دستاویزات مکمل ہوئیں اور پالیسی جاری کی گئی۔ جبکہ آگ اسی دن 11 بجے لگی۔ کیا آپ وضاحت کرنا پسند کریں گے کے یہ ایک گھنٹے کی تاخیر کیوں ہوئی ؟؟؟؟
ہم بھی اور تو کچھ نہیں کہہ سکتے ۔۔۔ بس یہ دست بستہ عرض ہے کہ محترم جج حضرات کو صرف 22 دن پہلے یہ بتانا کہ وہ ریٹائر ہو رہے ہیں بہت زیادتی کی بات ہے۔ اور نہیں، اگر دو ڈھائی ماہ پہلے ہی یہ بات انہیں بتا دی جائے تو کم از کم وہ مقدمات نمٹانے کے لئے کوئی بہتر انتظام ہی کر لیا کریں ۔۔۔ !!!

07/12/2016

تم ہم سے کہنا
مہکتی میٹھی خوشی کے لمحے
اُداسیوں کی سلگتی گھڑیاں
طویل راتوں کی بے قراری
اُداس شاموں کی ہر کہانی
ہمارے آنکھوں کو بھیج دینا
تم ہم کو لکھنا، تم ہم سے کہنا
وہ سارے منظر وہ سارے موسم
جو تیری پلکوں پہ مسکرائے
وہ سارے بھیگی ہوئی گٹان
جو تیرے آنکھوں میں جل ملائے
ہر اک خواہش ہر اک سپنہ ہر اک تمنا
تم ہم سے کہنا ، تم ہم سے کہنا
تم اپنے دل کے گلاب گھر میں
نہ ہار کوئی بھی رہنے دینا
ہمارے سینے سے سر لگا کر
ہمارے دل میں اتار دینا
تم ہم سے کہنا، تم ہم سے کہنا

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AGHAZ Online posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share