29/08/2026
یاد ہے وہ دن… جب پہلی بار دل کو ہدایت کی روشنی نصیب ہوئی تھی؟
وہ دن، جب ہر نماز میں عجیب سا سکون اترتا تھا،
ہر دعا میں امید کی خوشبو ہوتی تھی،
اور قرآن کھولتے ہی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے
اللہ تعالیٰ ہم سے ہی مخاطب ہیں۔
دل زندہ تھا…
آنکھیں جلد نم ہو جاتی تھیں،
سجدے لمبے ہو جاتے تھے،
اور اللہ بہت قریب محسوس ہوتے تھے۔
پھر وقت گزرتا گیا…
زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی۔
ہم سے گناہ ہوئے،
ہم نے ٹھوکریں کھائیں،
کبھی خود کو سنبھالا، کبھی پھر گر گئے،
دعائیں مانگیں مگر جواب آنے میں دیر ہوئی،
اور آہستہ آہستہ دل پر ایک ایسی خاموشی اترنے لگی
جسے ہم خود بھی سمجھ نہ سکے۔
پھر ایک دن تنہائی میں تم نے خود سے پوچھا:
"آخر میرے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے؟"
نماز آج بھی پڑھتے ہو…
اللہ کو آج بھی یاد کرتے ہو…
دعائیں آج بھی مانگتے ہو…
مگر وہ پہلے جیسا سکون نہیں ملتا۔
اور یہی چیز تمہیں اندر سے ڈرانے لگتی ہے۔
تم سوچتے ہو،
"شاید میرا ایمان کمزور ہو گیا ہے…
شاید میں اللہ سے بہت دور ہو گیا ہوں…"
مگر ذرا ٹھہرو…
اپنے دل کی اس کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرو۔
جو دل اللہ سے دوری پر بے چین ہو،
وہ اللہ سے بالکل دور نہیں ہوتا۔
جو انسان رات کی خاموشی میں اپنے رب کو یاد کرکے رو پڑے،
جو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو،
جو بار بار ٹوٹنے کے باوجود اللہ کی طرف پلٹتا رہے،
اس کے دل میں ابھی بھی ایمان کی روشنی باقی ہے۔
مردہ دل کو اپنی موت کا احساس نہیں ہوتا۔
مگر زندہ دل کو ذرا سی دوری بھی تڑپا دیتی ہے۔
یہ درد…
یہ بے چینی…
یہ خالی پن…
یہ اللہ کو دوبارہ محسوس کرنے کی تڑپ…
شاید یہی تمہارے ایمان کی سب سے خوبصورت گواہی ہے۔
ہو سکتا ہے تمہارا ایمان پہلے جیسا نہ رہا ہو،
مگر شاید اللہ تمہیں ایک نئے مقامِ ایمان کی طرف لے جا رہے ہوں۔
پہلے تم عبادت سکون ملنے کی وجہ سے کرتے تھے،
اور آج تم سکون نہ ملنے کے باوجود عبادت کر رہے ہو۔
پہلے سجدہ دل کو اچھا لگتا تھا،
آج دل بوجھل ہے پھر بھی تم سجدے میں جا رہے ہو۔
پہلے دعا میں آنکھیں خود بھیگ جاتی تھیں،
آج آنکھیں خشک ہیں، مگر زبان پھر بھی کہہ رہی ہے:
"یا اللہ… مجھے چھوڑنا مت۔"
یقین کرو،
یہ راستہ شاید پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہے،
مگر شاید یہی وہ راستہ ہے جہاں عبادت
احساس کی محتاج نہیں رہتی،
بلکہ محبت، وفاداری اور یقین کا نام بن جاتی ہے۔
اور یاد رکھو…
اللہ اُن لوگوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا
جو بار بار گرنے کے باوجود اُس کے دروازے سے اُٹھ کر نہیں جاتے۔
اگر آج تم خود کو خالی محسوس کرتے ہو،
اگر دل ٹوٹ چکا ہے،
اگر دعائیں بے اثر محسوس ہوتی ہیں،
اگر قرآن پڑھتے ہوئے وہ کیفیت نہیں آتی،
اگر تمہیں لگتا ہے کہ اللہ بہت دور ہو گئے ہیں…
تو بس ایک بات دل میں بسا لو:
اللہ تم سے دور نہیں ہوئے۔
تمہیں صرف اُن کی قربت کو نئے انداز میں پہچاننا سکھایا جا رہا ہے۔
یاد رکھو،
بچہ جب چلنا سیکھتا ہے تو ماں کبھی کبھی
اس کا ہاتھ چند لمحوں کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔
محبت کم نہیں ہوتی…
بلکہ بچہ اپنے قدموں پر چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے۔
شاید تمہارے رب کی طرف سے بھی
تمہاری روح کو یہی سبق دیا جا رہا ہو۔
اس لیے رکنا مت۔
گناہ ہو جائے تو واپس آؤ۔
گر جاؤ تو پھر اٹھو۔
دل نہ مانے تو بھی نماز پڑھو۔
آنکھ نہ روئے تو بھی دعا کرو۔
سکون نہ ملے تو بھی قرآن کھولو۔
اور اگر ہزار بار ٹوٹو،
تو ہزار ویں بار بھی اللہ کے دروازے پر دستک دو۔
کیونکہ ایمان ہمیشہ ایک جیسا محسوس نہیں ہوتا۔
کبھی ایمان روشنی بن کر دل میں اترتا ہے،
اور کبھی وہ اندھیرے میں ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے۔
شاید تم ایمان نہیں کھو رہے…
شاید تم ایمان کے ایک گہرے امتحان سے گزر رہے ہو۔
اور یاد رکھو—
جس رب نے تمہیں پہلی بار ہدایت کی طرف بلایا تھا،
وہ تمہیں تمہاری اس ویرانی میں بھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔
بس اُس کا دروازہ مت چھوڑنا۔
کیونکہ کبھی کبھی سکون ہم سے دور نہیں ہوتا،
ہمیں اُس تک پہنچنے کے لیے تھوڑا اور جھکنا پڑتا ہے۔
اور کبھی کبھی…
اللہ ہمیں سکون دینے سے پہلے
ہمیں اپنے اور قریب کر رہے ہوتے ہیں۔ 🤍