YZ Writes ツ

YZ Writes ツ Promoting Islamic Content

اس صفحے پر اللہ تعالیٰ، دینِ اسلام، قرآنِ کریم اور حضورِ اکرم ﷺ سے متعلق حقائق و تعلیمات بیان کی جائیں گی۔ مقرر خواہ کوئی بھی ہو، اگر وہ حق بات کہے یا کلمۂ خیر پیش کرے تو وہ ضرور یہاں شریک کیا جائے گا، تاکہ نفع بخش بات ہر دل تک پہنچ سکے۔

04/09/2026

Shaitan k Mukhtalif chaaly

یاد ہے وہ دن… جب پہلی بار دل کو ہدایت کی روشنی نصیب ہوئی تھی؟وہ دن، جب ہر نماز میں عجیب سا سکون اترتا تھا،ہر دعا میں امی...
29/08/2026

یاد ہے وہ دن… جب پہلی بار دل کو ہدایت کی روشنی نصیب ہوئی تھی؟

وہ دن، جب ہر نماز میں عجیب سا سکون اترتا تھا،
ہر دعا میں امید کی خوشبو ہوتی تھی،
اور قرآن کھولتے ہی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے
اللہ تعالیٰ ہم سے ہی مخاطب ہیں۔

دل زندہ تھا…
آنکھیں جلد نم ہو جاتی تھیں،
سجدے لمبے ہو جاتے تھے،
اور اللہ بہت قریب محسوس ہوتے تھے۔

پھر وقت گزرتا گیا…
زندگی اپنی رفتار سے چلتی رہی۔
ہم سے گناہ ہوئے،
ہم نے ٹھوکریں کھائیں،
کبھی خود کو سنبھالا، کبھی پھر گر گئے،
دعائیں مانگیں مگر جواب آنے میں دیر ہوئی،
اور آہستہ آہستہ دل پر ایک ایسی خاموشی اترنے لگی
جسے ہم خود بھی سمجھ نہ سکے۔

پھر ایک دن تنہائی میں تم نے خود سے پوچھا:

"آخر میرے ساتھ یہ کیا ہو گیا ہے؟"

نماز آج بھی پڑھتے ہو…
اللہ کو آج بھی یاد کرتے ہو…
دعائیں آج بھی مانگتے ہو…
مگر وہ پہلے جیسا سکون نہیں ملتا۔

اور یہی چیز تمہیں اندر سے ڈرانے لگتی ہے۔

تم سوچتے ہو،
"شاید میرا ایمان کمزور ہو گیا ہے…
شاید میں اللہ سے بہت دور ہو گیا ہوں…"

مگر ذرا ٹھہرو…
اپنے دل کی اس کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرو۔

جو دل اللہ سے دوری پر بے چین ہو،
وہ اللہ سے بالکل دور نہیں ہوتا۔

جو انسان رات کی خاموشی میں اپنے رب کو یاد کرکے رو پڑے،
جو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہو،
جو بار بار ٹوٹنے کے باوجود اللہ کی طرف پلٹتا رہے،
اس کے دل میں ابھی بھی ایمان کی روشنی باقی ہے۔

مردہ دل کو اپنی موت کا احساس نہیں ہوتا۔
مگر زندہ دل کو ذرا سی دوری بھی تڑپا دیتی ہے۔

یہ درد…
یہ بے چینی…
یہ خالی پن…
یہ اللہ کو دوبارہ محسوس کرنے کی تڑپ…

شاید یہی تمہارے ایمان کی سب سے خوبصورت گواہی ہے۔

ہو سکتا ہے تمہارا ایمان پہلے جیسا نہ رہا ہو،
مگر شاید اللہ تمہیں ایک نئے مقامِ ایمان کی طرف لے جا رہے ہوں۔

پہلے تم عبادت سکون ملنے کی وجہ سے کرتے تھے،
اور آج تم سکون نہ ملنے کے باوجود عبادت کر رہے ہو۔

پہلے سجدہ دل کو اچھا لگتا تھا،
آج دل بوجھل ہے پھر بھی تم سجدے میں جا رہے ہو۔

پہلے دعا میں آنکھیں خود بھیگ جاتی تھیں،
آج آنکھیں خشک ہیں، مگر زبان پھر بھی کہہ رہی ہے:

"یا اللہ… مجھے چھوڑنا مت۔"

یقین کرو،
یہ راستہ شاید پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہے،
مگر شاید یہی وہ راستہ ہے جہاں عبادت
احساس کی محتاج نہیں رہتی،
بلکہ محبت، وفاداری اور یقین کا نام بن جاتی ہے۔

اور یاد رکھو…

اللہ اُن لوگوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا
جو بار بار گرنے کے باوجود اُس کے دروازے سے اُٹھ کر نہیں جاتے۔

اگر آج تم خود کو خالی محسوس کرتے ہو،
اگر دل ٹوٹ چکا ہے،
اگر دعائیں بے اثر محسوس ہوتی ہیں،
اگر قرآن پڑھتے ہوئے وہ کیفیت نہیں آتی،
اگر تمہیں لگتا ہے کہ اللہ بہت دور ہو گئے ہیں…

تو بس ایک بات دل میں بسا لو:

اللہ تم سے دور نہیں ہوئے۔
تمہیں صرف اُن کی قربت کو نئے انداز میں پہچاننا سکھایا جا رہا ہے۔

یاد رکھو،
بچہ جب چلنا سیکھتا ہے تو ماں کبھی کبھی
اس کا ہاتھ چند لمحوں کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔

محبت کم نہیں ہوتی…
بلکہ بچہ اپنے قدموں پر چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے۔

شاید تمہارے رب کی طرف سے بھی
تمہاری روح کو یہی سبق دیا جا رہا ہو۔

اس لیے رکنا مت۔

گناہ ہو جائے تو واپس آؤ۔
گر جاؤ تو پھر اٹھو۔
دل نہ مانے تو بھی نماز پڑھو۔
آنکھ نہ روئے تو بھی دعا کرو۔
سکون نہ ملے تو بھی قرآن کھولو۔
اور اگر ہزار بار ٹوٹو،
تو ہزار ویں بار بھی اللہ کے دروازے پر دستک دو۔

کیونکہ ایمان ہمیشہ ایک جیسا محسوس نہیں ہوتا۔

کبھی ایمان روشنی بن کر دل میں اترتا ہے،
اور کبھی وہ اندھیرے میں ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے۔

شاید تم ایمان نہیں کھو رہے…
شاید تم ایمان کے ایک گہرے امتحان سے گزر رہے ہو۔

اور یاد رکھو—

جس رب نے تمہیں پہلی بار ہدایت کی طرف بلایا تھا،
وہ تمہیں تمہاری اس ویرانی میں بھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

بس اُس کا دروازہ مت چھوڑنا۔

کیونکہ کبھی کبھی سکون ہم سے دور نہیں ہوتا،
ہمیں اُس تک پہنچنے کے لیے تھوڑا اور جھکنا پڑتا ہے۔

اور کبھی کبھی…
اللہ ہمیں سکون دینے سے پہلے
ہمیں اپنے اور قریب کر رہے ہوتے ہیں۔ 🤍

28/08/2026

28/08/2026

💕💕💕

28/08/2026
25/08/2026

قربان جاؤں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
#محمدﷺ

دنیا کی فانی حقیقت اور اعمالِ صالحہ کا ابدی سرمایہدنیا کی ہر چیز عارضی اور ختم ہونے والی ہے—چاہے وہ مال و دولت ہو، عزت و...
22/08/2026

دنیا کی فانی حقیقت اور اعمالِ صالحہ کا ابدی سرمایہ
دنیا کی ہر چیز عارضی اور ختم ہونے والی ہے—چاہے وہ مال و دولت ہو، عزت و شہرت ہو یا ظاہری حسن۔ انسان جس دنیا کو سنوارنے میں اپنی پوری زندگی لگا دیتا ہے، ایک دن وہ سب کچھ چھوٹ جاتا ہے۔ اگر کچھ باقی رہتا ہے تو وہ انسان کے نیک اعمال اور سچی نیت ہے۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں:
* اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اعمال کا دارومدار صرف نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔"
(صحیح البخاری: 1 | صحیح مسلم: 1907)
* دنیا میں مسافر کی طرح رہو:
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم کوئی اجنبی ہو یا راستے سے گزرنے والے مسافر۔"
(صحیح البخاری: 6416)
* آدمی کے ساتھ جانے والی چیزیں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میّت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کے اعمال۔ دو چیزیں (گھر والے اور مال) واپس لوٹ آتی ہیں اور صرف اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے۔"
(صحیح البخاری: 6514 | صحیح مسلم: 2960)

جب دنیا کا ہر نقش مٹنے والا ہے تو دانشمندی یہی ہے کہ فانی چیزوں پر غرور کرنے کے بجائے ان اعمال پر توجہ دی جائے جو آخرت میں کام آئیں۔ سچی نیت کے ساتھ کیا گیا چھوٹا سا نیک عمل بھی اللہ کے ہاں ابدی کامیابی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
Follow Us:
Facebook: YZ writes | Instagram:

Address

Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when YZ Writes ツ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to YZ Writes ツ:

Shortcuts

Share