10/06/2026
19 گریڈ کا پروفیسر جس کی جوانی علم کی روشنی پھیلتے ہوئے گزری اور اسکی موت بھی علم کی روشنی پھیلاتے ہوئے ہوئی۔۔۔وہ کباڑ سے خریدی 70 موٹر سائیکل پر ڈمپر کے نیچے آجاتا ہے جبکہ چار انگریزی کے لفظ پاس کرکے 17 گریڈ کا "بابو" سرکاری افسر دو کروڑ کی لینڈ کروزر میں چھ پولیس کمانڈوز کی حفاظت میں پیاز ٹماٹر کی ریڑھیاں الٹی کرتا ہے۔
19 گریڈ کا پروفیسر استاد چھ لاکھ کی پرانی مہران نہیں خرید سکتا، 14 گریڈ کا ایس ایچ او اسلام اباد ڈی ایچ اے اور کراچی کے بحریہ ٹاؤن میں دس کروڑ کا بنگلہ خرید لیتا ہے۔
بارہ گریڈ کا پچاس ہزار روپے تنخواہ لینے والے پٹواری کا بینک بیلنس تیس تیس کروڑ روپے ہوتا ہے اور وہ سو سو ایکڑ زرعی زمینوں کا مالک بن جاتا ہے جبکہ 19 گریڈ کا پروفیسر پوری زندگی کرائے کے مکان میں گزار دیتا ہے، ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر کے پاس بیٹی کی شادی کے لئے پیسے نہیں ہوتے جبکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ کانسٹیبل بیٹی یا بیٹے کی شادی میں پچاس لاکھ روپے اڑا دیتا ہے
تلخ حقیقت یہ ہے کہ فرق تعلیم اور محنت کا نہیں بلکہ حلال اور حرام کمائی کا ہے جو رزق حلال سے کماتا ہے وہ ساری زندگی عزت اور دیانت داری سے گزارتا ہے جبکہ ناجائز اختیارات اور حرام کمائی چند لوگوں کو وقتی دولت تو دے سکتی ہے مگر حقیقی عزت نہیں
ثابت ہوا پیسہ تعلیم میں نہیں ناجائز پاور اختیارات میں ہے۔تلخ حقیقت.