Press Club Timergara lower Dir

Press Club Timergara lower Dir Official page of Timergara Press Club Dir lower. This page content fully represent Timergara Press Club.

بلا عنوان......... ؟
27/05/2020

بلا عنوان......... ؟

28 مئی ۔یومِ تکبیر یوم تکبیر پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن جب بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو...
27/05/2020

28 مئی ۔یومِ تکبیر

یوم تکبیر

پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن جب بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کیے۔ اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے موسوم کیا گیا۔
یوم تکبیر

پاکستان کی طرف سے سب سے پہلے انجام دیے کئے ایٹمی دھماکے, 28 مئی 1998.

پس منظر
یوں تو بھارت اپنے قیام سے ہی جنوبی ایشیا کا تھانیدار بننے کے خواب دیکھتا رہا ہے۔ عددی اعتبار سے دنیا کی تیسری بڑی زمینی فوج، چوتھی بڑی فضائیہ اور پانچویں بڑی بحریہ رکھنے والا ملک 1974 میں ہی ایٹمی تجربہ کر کے خطّے میں ایٹمی اسلحہ کی دوڑ شروع کر چکا تھا۔ مجبوراً پاکستان کو بھی اپنے دفاع کے لیے اس دوڑ میں شامل ہونا پڑا۔ دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستان اپنے محدود وسائل کے باعث بھارت کے ساتھ روایتی ہتھیاروں کی دوڑ میں مقابلہ نہیں کر سکتا مزید یہ بھی کہ بھارت ایٹمی ‍قوت بنّے سے قبل ہی پاکستان پر جارحیت کرکے اس کو دولخت کرچکا تھا۔ ایٹمی قوت بن جانے کے بعد خطہ میں طاقت کا توازن بری طرح بگڑ گیا تھا۔ اس لیے بھارتی ایٹمی تجربات کے بعد پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالم اسلام کی ایٹمی قوت بنانے کا فیصلہ کیا۔
بھارت نے مئی 1998 میں ایک بار پھر ایٹمی دھماکے کیے اور اس کے بعد بھارت میں ہر سطح پر پاکستان کے لیے دھمکی آمیز لہجے کا استعمال شروع ہو گیا۔ اگرچہ پاکستان اس وقت تک ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا تھا، لیکن اس کا واضع طور پر اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور دیگر عسکری قیادت نے تمام تر بین الاقوامی دباؤ کے باوجود پاکستان کو ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت منوانے کا یہ سنہری موقع ضائع نہیں ہونے دیا اور 28 مئی کو چاغی میں 5 دھماکے کر کے بھارتی سیاست دانوں کا منہ بند کروا دیا۔

Tickerلوئر دیر /کورونا اپڈیٹسلوئر دیر : 23 مزید افراد میں کورونا کی تصديق ہوگئ ہیں ؛فوکل پرسن ڈاکٹر ارشادلوئر دیر : کورو...
27/05/2020

Ticker

لوئر دیر /کورونا اپڈیٹس

لوئر دیر : 23 مزید افراد میں کورونا کی تصديق ہوگئ ہیں ؛فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : کورونا سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 305 ہوگئ ہیں ؛ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : آج مزید 13 افراد کورونا سے صحتیاب ہوگئے ؛ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 144 ہوگئ ؛ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : ائسولیشن وارڈز میں 40 افراد زیر علاج ہیں؛ فوکل پرسن

24 مئی (2020)عید الفطر( کورونا وباء کے پیش نظر مضمون میں درج کئ اہم حصے اس مرتبہ وقتی طور پر ہذف خیال کرکے نظر انداز کری...
23/05/2020

24 مئی (2020)عید الفطر( کورونا وباء کے پیش نظر مضمون میں درج کئ اہم حصے اس مرتبہ وقتی طور پر ہذف خیال کرکے نظر انداز کریں.. شکریہ)

عید الفطر ایک اہم مذہبی تہوار ہے جسے پوری دنیا میں بسنے والے مسلمان رمضان المبارک کا مہینہ ختم ہونے پر مناتے ہیں۔ عید کے دن مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ مسلمان رمضان کے 29 یا 30 روزے رکھنے کے بعد یکم شوال کو عید مناتے ہیں۔ کسی بھی قمری ہجری مہینے کا آغاز مقامی مذہبی رہنماؤں کے چاند نظر آجانے کے فیصلے سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں عید مختلف دنوں میں منائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس کچھ ممالک ایسے ہیں جو سعودی عرب کی پیروی کرتے ہیں۔ عید الفطر کے دن نماز عید (دو رکعت چھ تکبیروں) کے ساتھ پڑھی جاتی ہے، جسے جامع مسجد یا کسی کھلے میدان یعنی عیدگاہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ اس میں چھ زائد تکبیریں ہوتی ہیں (جن میں سے تین پہلی رکعت کے شروع میں ہوتے ہی اور بقیہ تین دوسری رکعت کے رکوع میں جانے سے پہلے ادا کی جاتی ہیں)۔ مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اسلام میں انھیں حکم دیا گیا ہے کہ "رمضان کے آخری دن تک روزے رکھو۔ اور عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرو"۔
عید الفطر
تعارف
عید الفطر ؛ عالم اسلام کا ایک مذہبی تہوار ہے جو ماہ رمضان المبارک کے اختتام کی نشان دہی کرتا ہے اور ہر سال بڑی عقیدت و جوش و خروش سے یکم شوال کو منایا جاتا ہے جبکہ شوال اسلامی تقویم کا دسواں مہینہ ہے۔ عید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ؛ خوشی؛ جشن ؛ فرحت اور چہل پہل کے ہیں جبکہ فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں؛ یعنی روزہ توڑنا یا ختم کرنا۔ عید الفطر کے دن روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، اس روز اللہ تعالی بندوں کو روزہ اور عبادتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں، لہذا اس تہوار کو عید الفطر قرار دیا گیا ہے۔
عالم اسلام ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں؛ عید الفطر اور عید الاضحٰی۔ عیدالفطر کا یہ تہوار جو پورے ایک دن پر محیط ہے اسے ”چھوٹی عید“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جبکہ اس کی یہ نسبت عیدالاضحیٰ کی وجہ سے ہے کیونکہ عید الاضحیٰ تین روز پر مشتمل ہے اور اسے ”بڑی عید“ بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں سورۃ البقرۃ (185 آیت) میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے مطابق ؛ ہر مسلمان پر ماہ رمضان کے تمام روزے رکھنا فرض ہیں جبکہ اسی ماہ میں قرآن مجید کے اتارے جانے کا بھی تذکرہ ہے؛ لہذا اس مبارک مہینے میں قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے۔

آداب و سنت

نماز عید کے لیے جانے سے قبل غسل کرنا۔

عید الفطر کى نماز سے قبل کچھ نہ کچھ کھا کر جانا۔

عید کے روز تکبیریں کہنا۔

عید کى مبارکباد دینا۔

عید کے لیے خوبصورتى اور اچھا لباس پہننا۔

نماز عید کے لیے آنے جانے میں راستہ بدلنا۔

عید کی رسومات
عمومی طور پر عید کی رسموں میں مسلمانوں کا آپس میں "عید مبارک" کہنا اور گرم جوشی سے ایک دوسرے سے نہ صرف ملنا بلکہ مرد حضرات کا آپس میں بغل گیر ہونا، رشتہ داروں اور دوستوں کی آؤ بھگت کرنا شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بڑے بوڑھے بچے اور جوان نت نئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ایک دوسرے کی دعوت کرتے ہیں، مختلف قسم کے کھانے پکائے جاتے ہیں اور جگہ جگہ میلے ٹھیلے منعقد ہوتے ہیں؛ جن میں اکثر مقامی زبان اور علاقائی ثقافت کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔
خصوصی طور پر مسلمان صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے بیدار ہوتے ہیں اور نماز فجر ادا کرتے ہیں پھر دن چڑھے نماز عید سے پہلے کچھ میٹھا یا پھر کھجوریں کھاتے ہیں جو سنت رسول ہے۔ اور اس دن روزہ کے نہ ہونے کی علامت ہے۔ مسلمانوں کی ایسے مواقع پر اچھے یا نئے لباس زیب تن کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ نئے اور عمدہ لباس پہن کر مسلمان اجتماعی طور پر عید کی نماز ادا کرنے کے لیے مساجد؛ عید گاہوں اور کھلے میدانوں میں جاتے ہیں۔ نماز عید الفطر میں آتے اور جاتے ہوئے آہستہ آواز سے تکبیریں (اللہ اکبر ،اللہ اکبر، لا الہ اِلہ اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، واللہ الحمد) کہنا اور راستہ تبدیل کرنا سنت ہے۔ عید کے روز غسل کرنا، خوشبو استعمال کرنا اور اچھا لباس پہننا سنت ہے۔ عید الفطر کے روز روزہ رکھنا حرام ہے۔
عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ کے برابر بلند ہونے سے ضحوہ کبریٰ تک ہے۔ ضحوہ کبریٰ کا صبح صادق سے غروب آفتاب تک کے کل وقت کا نصف پورا ہونے پر آغاز ہوتا ہے۔ ہر نماز کے ادا کرنے سے پہلے اذان کا دیا جانا اور اقامت کہنا ضروری ہے مگر عید کی نماز کو اذان اور اقامت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جبکہ اس نماز کی صرف دو رکعات ہوتی ہیں؛ پہلی رکعت میں ثناء کے بعد اور دوسری رکعت میں قرآت سورت کے بعد ہاتھ اٹھا کر تین تین زائد تکبیریں مسنون ہیں۔ عیدالفطر کی نماز کے موقع پر خطبہ عید کے علاوہ بنی نوع انسانیت کی بھلائی اور عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں جس میں اللہ تعالٰی سے کوتاہیوں اور گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے۔ اللہ تعالٰی سے اس کی مدد اور رحمت مانگی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں خطبہ عید میں عید الفطر سے متعلق مذہبی ذمہ داریوں کی تلقین کی جاتی ہے جیسے فطرانہ کی ادائیگی وغیرہ۔ اس کے بعد دعا کے اختتام پر اکثر لوگ اپنے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے مسلمان بھائیوں کو عید مبارک کہتا ہوا بغل گیر ہو جاتا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگ اپنے رشتہ داروں ؛ دوستوں اور جان پہچان کے تمام لوگوں کی طرف ملاقات کی غرض سے جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ زیارت القبور کی خاطر قبرستان کی طرف جاتے ہیں۔
شوال یعنی عید کا چاند نظر آتے ہی رمضان المبارک کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے جبکہ ہر ایک مسلمان کی زبان سے بے اختیار اللہ کی عظمت اور شان کے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں ؛ یعنی آہستہ آواز سے تکبیریں کہی جاتی ہے: یعنی اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الہ اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، واللہ الحمد ؛ تکبیر کہنے کا یہ سلسلہ نماز عید ادا کرنے تک چلتا ہے۔ عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے ہر صاحب استطاعت مسلمان مرد و عورت پر صدقہ فطر یا فطرانہ ادا کرنا واجب ہے جو ماہ رمضان سے متعلق ہے۔ مندرجہ ذیل چند باتیں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے
صدقہ فطر

صدقہ فطر واجب ہے۔ صدقہ فطر نمازِ عید سے پہلے ادا کرنا چاہیے ورنہ عام صدقہ شمار ہو گا۔

صدقہ فطر ہر صاحب نصاب مسلمان مرد، عورت، آزاد، عاقل، بالغ پر واجب ہے۔

صدقہ فطر دو 2 کلوگرام گندم، ساڑھے تین (500۔3) کلو گرام جو، کھجور یا کشمش میں سے جو چیز زیر استعمال ہو، وہی دینی چاہیے یا ان کی جو قیمت بنتی ہے

صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت آخری روزہ افطار کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے‘ لیکن نماز عید سے پہلے تک ادا کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ اس کی مقدار مندرجہ بالا اجناس کی نسبت سے ہے البتہ ان کے علاوہ اس کے برابر قیمت نقدی کی شکل میں بھی ادا کی جا سکتی ہے جس کا تعین مقامی طور کیا جاتا ہے اور زیادہ تر مدارس میں ادا کر دیا جاتا ہے یا پھر مقامی ضرورت مندوں ؛ غربا اور مساکین۔ بیوگان میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
اسلامی روایات میں عید الفطر ماہ رمضان المبارک کے اختتام کی ایک علامت ہے جبکہ مسلم برادری میں روزہ بنیادی اقدار کا حامل ہے۔ علما کے نزدیک بنیادی طور پر روزہ کا امتیاز یہ ہے کہ اسے انسان کی نفسی محکومی پر روحانیت کی مہر ثبت کرنا تصور کیا جاتا ہے۔ اقوام عالم میں مسلم امہ عید کا تہوار بڑے شاندار انداز میں مناتے ہیں۔

ہجرت مدینہ سے پہلے یثرب کی عیدیں

ہجرت مدینہ سے پہلے یثرب کے لوگ دو عیدیں مناتے تھے، جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول ہوتے اور بے راہ روی کے مرتکب ہوتے۔ خالص اسلامی فکر اور دینی مزاج کے مطابق اسلامی تمدن، معاشرت اور اِجتماعی زندگی کا آغاز ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوا، چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں عیدین کا مبارک سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس کا تذکرہ سنن ابی داؤد کی حدیث میں ملتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ دو دن بہ طور تہوار منایا کرتے تھے جن میں وہ کھیل تماشے کیا کرتے تھے، رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے دریافت کیا فرمایا : یہ دو دن جو تم مناتے ہو، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے؟ ( یعنی اب تہواروں کی اصلیت اور تاریخی پس منظر کیا ہے؟)انہوں نے عرض کیا کہ ہم عہد جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے۔ یہ سن کر رسول مکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالٰی نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں تمہارے لیے ان سے بہتر دو دن مقرر فرما دیے ہیں ،یوم (عید ) الاضحٰی اور یوم (عید) الفطر۔ غالباً وہ تہوار جو اہل مدینہ اسلام سے پہلے عہد جاہلیت میں عید کے طور پر منایا کرتے تھے وہ نوروز اور مہرجان کے ایام تھے، مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ تہوار منانے سے منع فرما دیا اور فرمایا اللہ تعالٰی نے ان کے بدلے میں اپنے خصوصی انعام و اکرام کے طور پر عید الفطر اور عید الاضحٰی کے مبارک ایام مسلمانوں کو عطا فرمائے ہیں۔
رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم کے ارشاد کے مطابق ؛جب مسلمانوں کی عید یعنی عید الفطر کا دن آتا ہے تو اللہ تعالٰیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے، اے میرے فرشتو ! اس مزدور کی کیا جزاء ہے جو اپنا کام مکمل کر دے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اس کی جزاء یہ ہے کہ اس کو پورا اجر و ثواب عطا کیا جائے۔ اللہ تعالٰیٰ فرماتے ہیں: اے فرشتو ! میرے بندوں اور باندیوں نے اپنا فرض ادا کیا پھر وہ (نماز عید کی صورت میں) دعا کے لیے چلاتے ہوئے نکل آئے ہیں، مجھے میری عزت و جلال، میرے کرم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم! میں اِن کی دعاؤں کو ضرو ر قبول کروں گا۔ پھر فرماتا ہے: بندو! تم گھروں کو لوٹ جاﺅ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بد ل دیا۔ نبی پاک صلی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: پھر وہ بندے (عید کی نماز سے ) لوٹتے ہیں حالانکہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں
قرآن مجید میں سورہ ء المائدہ کی آیت 114 میں حضرت عیسی علیہ السلام کی ایک دعا کے حوالے سے عید کا ذکر موجود ہے :ارشاد باری تعالٰی ہے : عیسی ابن مریم نے عرض کیا کہ اے اللہ ! ہمارے پروردگار ! ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار دے (اور اس طرح اس کے اترنے کا دن ) ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے (بہ طور) عید (یادگار) قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔ (5:114) اس سے اگلی آیت میں ارشاد ہے : اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ میں یہ (خوان) تم پر اتار تو دیتا ہوں، مگر اس کے بعد جو کفر کرے تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو سارے جہانوں میں اور کسی کہ نہ دیا ہو۔ کسی قوم کی خوشی اور مسرت کے دن کا قرآن نے عید کے عنوان سے ذکر کیا ہے اور جو دن کسی قوم کے لیے اللہ تعالٰی کی کسی خصوصی نعمت کے نزول کا دن ہو وہ اس دن کو اپنا یوم عید کہہ سکتی ہے۔
آج پوری دنیا میں مسلمان بڑی دھوم دھام سے عید الفطر کا تہوار مناتے ہیں جہاں خوشی منانے کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاقی اقدار کی پاسداری بھی کی جاتی ہے۔ جبکہ اقوام عالم امت مسلمہ کے اس تہوار کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں جو ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے ؛ عید بڑے شاندار طریقے سے منائی جاتی ہے۔ سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ بچہ ہو یا بڑا ؛ عید کی تیاری میں جوش و خروش کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ خواتین اور بچوں کی تیاری تو قابل دید ہے۔ عید کی تیاری میں نت نئے لباس و دیگر لوازمات کی شاپنگ دیکھنے کو آتی ہے جو ایک زندہ قوم کی روح رواں کے طور پر سامنے آتی ہے۔

عید الفطر کل 24 مئی کو ہوگا
23/05/2020

عید الفطر کل 24 مئی کو ہوگا

ابھی ابھی دفعہ 144 Cr.PC کا نفاذ ============================= ڈپٹی کمشنر دیر لوئر / ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ دیر لوئر  سعادت حسن ...
23/05/2020

ابھی ابھی
دفعہ 144 Cr.PC کا نفاذ
=============================
ڈپٹی کمشنر دیر لوئر / ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ دیر لوئر سعادت حسن نے آج 23/5/2020 کو عوام کی قیمتی جانوں کے تحفظ کے لئے دریائے پنجکوڑہ کے کنارے سوئمنگ / غسل / غیر ضروری واک ، فوٹو گرافی اور ویڈیو بنانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور انچارج ریسکیو 1122 دیر لوئر کو ضروری ہدایات جاری کیں۔

شاہی ثمرباغ  میں پبلک پارک سیل کردیا گیا  ======================== صوبائی حکومت کی ہدایت کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نے عید ...
23/05/2020

شاہی ثمرباغ میں پبلک پارک سیل کردیا گیا
========================
صوبائی حکومت کی ہدایت کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر نے عید ملن پارٹیز ، عید فیسٹیول / عید میلوں ، زیارتوں پر ہجوم اور عید کی تعطیلات کے موقع پر عوامی پارکوں پر جمع ہونے پر پابندی عائد کردی ہے۔ اس سلسلے میں آج 25/5/2020 کو ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ثمرباغ یونس خان نے عوامی اجتماع سے بچنے اور انسانوں کو COVID-19 وائرس پھیلانے سے روکنے کے لئے شاہی میں عوامی پارک سیل کردی۔ ڈپٹی کمشنر دیر لوئر نے دیر لوئر میں خوبصورت مقامات پر سیاحوں کے داخلے پر عید کی تعطیلات کے دوران پہلے ہی پابندی عائد کردی تھی۔

#ایک۔ہوجائیں
23/05/2020

#ایک۔ہوجائیں

Tickerلوئر دیر /کورونا اپڈیٹسلوئر دیر : فوکل پرسن برائے کورونا ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر ارشاد کورونا سے صحتیاب ہوگئےلوئر دیر...
23/05/2020

Ticker

لوئر دیر /کورونا اپڈیٹس

لوئر دیر : فوکل پرسن برائے کورونا ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر ارشاد کورونا سے صحتیاب ہوگئے

لوئر دیر : میرا ٹسٹ رزلٹ نیگیٹو ایا ہے ؛فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 128 ہوگئ ہیں ؛ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : مشتبہ مریضوں کی کل تعداد 1401 ہیں؛ ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : کورونا سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 245 ہیں؛ ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : قرنطینہ مرکز میں 1 فرد قیام پزیر ہے؛ ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : ائسولیشن وارڈز میں 30 زیر علاج ہیں؛ فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد

ڈپٹی ڈی ایچ او اور کورونا کے فوکل فرسن ڈاکٹر ارشاد علی روغانی کورونا سے صحتیاب ہوگئے.. اس کا ٹسٹ رزلٹ نیگیٹو آنے کے بعد ...
23/05/2020

ڈپٹی ڈی ایچ او اور کورونا کے فوکل فرسن ڈاکٹر ارشاد علی روغانی کورونا سے صحتیاب ہوگئے.. اس کا ٹسٹ رزلٹ نیگیٹو آنے کے بعد انھوں نے اپنے ایک بیان میں اپنے دوستوں اور خیر خواہوں کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے ان کے لئے دعاؤں اور نیک خواہشات کا مسلسل اظہار کیا ہے

Tickerلوئر دیر /کورونا اپڈیٹسلوئر دیر : 10 مزید افراد میں کورونا کی تصديق ہوگئ ؛فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد لوئر دیر : متاثرہ ...
22/05/2020

Ticker

لوئر دیر /کورونا اپڈیٹس

لوئر دیر : 10 مزید افراد میں کورونا کی تصديق ہوگئ ؛فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 245 ہوگئ ہیں ؛ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 125 ہوگئ ہیں؛ ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : قرنطینہ مراکز میں 11 افراد مقیم ہیں؛ ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : ائسولیشن وارڈز میں 25 زیر علاج ہیں؛ فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد

22 مئی ۔عالمی یوم تجارت تجارتتجارت دراصل اجناس (goods) اور خدمات (services) کے رضاکارانہ تبادلے کو کہا جاتا ہے۔تجارت کی ...
22/05/2020

22 مئی ۔عالمی یوم تجارت

تجارت

تجارت دراصل اجناس (goods) اور خدمات (services) کے رضاکارانہ تبادلے کو کہا جاتا ہے۔

تجارت کی اصل شکل تبادلۂ اجناس تھی، جس میں اجناس اور خدمات کا براہِ راست یا بلاواسطہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ جدید تاجر عموماً تبادلۂ اجناس کی بجائے تجارت کا ایک وسیلہ اِستعمال کرتے ہیں، مثلاً پیسہ. نتیجتاً، خریداری کو فروخت یا منافع سے تفریق کیا جاسکتا ہے۔ پیسے کی ایجاد نے تجارت کو سادہ اور غیر پیچیدہ بنادیا ہے اور اِس کو اور ترقی سے نوازا ہے۔
دو تاجروں کے درمیان تجارت کو دو طرفی تجارت جبکہ دو سے زیادہ تاجروں کے درمیان تجارت کو کثیر فرقی تجارت کہتے ہیں۔
تجارت، اُس عمل کو بھی کہا جاتا ہے جو تاجرین اور مالیاتی منڈیوں کے کماش یا کارندے انجام دیتے ہیں۔

بین الاقوامی یا عالمی تجارت

ملکی و قومی سرحدات کے آر پار تجارت کو بین الاقوامی یا عالمی تجارت کہاجاتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں یہ کل قومی پیداوار (GDP) کا ایک اہم حصہ ظاہر کرتا ہے۔ گوکہ، بین الاقوامی تجارت کی تاریخ بہت پُرانی ہے، تاہم، اِس کی اِقتصادی، معاشرتی و سماجی اور سیاسی اہمیت حالیہ صدیوں میں بڑھی ہے، خصوصاً صنعت کاری و کارخانہ داری، اعلی نقل و حمل و باربرداری، عالمگیریت، کثیر ملکی ادارے اور بیرونی ماخذیت کی بدولت حقیقتاً یہ شاید عالمی تجارت کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ ہے جسے عموماً عالمگیریت کہاجاتا ہے۔

عالمی تجارتی ادارہ
وہ تنظیم جو بین الاقوامی تجارت کی نگرانی اور آزاد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے
عالمی تجارتی ادارہ (World Trade Organization) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا پرانا نام گیٹس (GATTS) تھا۔ یہ ادارہ آزاد عالمگیر تجارت اور گلوبلائزیشن کا داعی ہے اور اس کی راہ میں ہر قسم کی معاشی پاپندیوں (ڈیوٹی، کوٹا، سبسڈی، ٹیریف وغیرہ) کا مخالف ہے۔ نیز یہ ادارہ بین الاقوامی تجارت میں ممکنہ تنازع کی صورت میں عالمی ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس وقت ڈبلیو ٹی او کے 149 باقاعدہ ارکان ہیں۔

23 مئی ۔ کچھوؤں کا عالمی دندنیا بھر میں کچھوے کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے کچھوے کا عالمی ...
22/05/2020

23 مئی ۔ کچھوؤں کا عالمی دن

دنیا بھر میں کچھوے کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے کچھوے کا عالمی دن 23 مئی کو منایا جاتا ہے۔
کچھوا زمین پر پائے جانے والے سب سے قدیم ترین رینگنے والے جانداروں میں سے ایک ہے۔ یہ اس زمین پر آج سے لگ بھگ 21 کروڑ سال قبل وجود میں آیا تھا۔

اس کی اوسط عمر بھی بہت طویل ہوتی ہے۔ عام طور پر ایک کچھوے کی عمر 30 سے 50 سال تک ہوسکتی ہے۔ بعض کچھوے 100 سال کی عمر بھی پاتے ہیں۔ سمندری کچھوؤں میں سب سے طویل العمری کا ریکارڈ 152 سال کا ہے۔
کچھوا دنیا کے تمام براعظموں پر پایا جاتا ہے سوائے براعظم انٹار کٹیکا کے۔ اس کی وجہ یہاں کا سرد ترین اور منجمد کردینے والا موسم ہے جو کچھوؤں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

بدقسمتی سے اس وقت کچھوؤں کی زیادہ تر اقسام معدومی کے خطرے سے دو چار ہیں۔

عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت آئی یو سی این کے مطابق دنیا بھر میں کچھوؤں کی 300 میں سے 129 اقسام اپنی بقا کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ یہ اقسام معمولی یا شدید قسم کے خطرات سے دو چار ہیں۔
کچھوؤں کی ممکنہ معدومی اور ان کی آبادی میں کمی کی وجوہات ان کا بے دریغ شکار، غیر قانونی تجارت، اور ان پناہ گاہوں میں کمی واقع ہونا ہے۔

Tickerلوئر دیر /کورونا اپڈیٹسلوئر دیر : 30 مزید افراد کورونا میں مبتلا ؛فوکل پرسن ڈاکٹر ارشادلوئر دیر : محکمہ پولیس کے 7...
21/05/2020

Ticker

لوئر دیر /کورونا اپڈیٹس

لوئر دیر : 30 مزید افراد کورونا میں مبتلا ؛فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : محکمہ پولیس کے 7 اہلکاروں بشمول ایک ڈی ایس پی شامل ہیں؛ ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 240 ہوگئ ہیں ؛ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 116 ہوگئ ہیں؛ ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : قرنطینہ مراکز میں 11 افراد مقیم ہیں؛ ڈاکٹر ارشاد

لوئر دیر : ائسولیشن وارڈز میں 30 زیر علاج ہیں؛ فوکل پرسن ڈاکٹر ارشاد

Address

Press Club Timergara Dir Lower Kpk
Peshawar
18300

Telephone

03009048646

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Press Club Timergara lower Dir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Press Club Timergara lower Dir:

Videos

Nearby media companies


Other Media/News Companies in Peshawar

Show All

Comments

فوری ضرورت
چی دا دروغ دی کہ رشتیا؟
تلاش شمشی خان کے مقام پر بد ترین ٹریفک جام۔ انتظامیہ روڈ کھولنے کے لئے اقدام کریں
We bring exciting news !! Frontier Travel & Tour Pak bring you a 3 days adventure trip to Shandur Polo Festival Chitral Pakistan from 7th of July to 9th July. You can contact us for more details and registrations ASAP . contact : 03468009288,03045228351 Website : https://frontiertourpak.com #ShandurPoloFestival #2k19
لوئیر دیر کرایوں میں خودساختہ اضافہ ٹرانسپورٹرز عوام کو دونوں ہاتهوں سے لوٹنے لگے. کوئی پوچهنے والا نہیں. -------------------------------------------- اطلاعات کے مطابق تیمر گرہ اور دیگر شہروں کے درمیان چلنے والے ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں خودساختہ اضافہ کرکے عوام کو لوٹنا شروع کررکها ہے. ہم ڈی سی لوئیر دیر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے اپیل کرتے ہیں کہ اس صورتحال کاسختی سے نوٹس لے اور مقرر کردہ شرح سے زیادہ کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف قانونی کارروائئ کرے.
تحصیل خال کے یونین کونسل سلطانخیل میی ناروا لوڈشیڈنگ نےلوگوں کی جینا حرام کردیا.حکومتی نمایندے خاموش تماشایئ.
Professional degree holders protest in front of peshawar press club
اسلام آباد میں آئی ٹی ٹیچرز خیبر پختونخواہ کا احتجاجی دهرنا چوتهے روز میں داخل .......................................... مستقل ہونے تک دهرنا جاری رکهنے کا اعلان ........................................... یاد رہے کہ مذکورہ 248 مردوخواتین اساتذہ کو خیبر پختونخواہ حکومت نے 2014 میں NTS کے ذریعے میرٹ پر بهرتی کئے تهے. بعدازاں دسمبر 2017 میں دیگر چالیس ہزار کنٹریکٹ اساتذہ سمیت ان کی مستقلی کا بل اسمبلی سے پاس کیا گیا. محکمہ تعلیم خیبر پختونخواه نے دیگر کیڈرز کے اساتذہ کی مسقلی کا اعلامیہ تو جاری کردیا لیکن مذکورہ آئی ٹی اساتذہ کو مستقلی سے محروم رکها. اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ان کی تنخواہیں گزشتہ پندرہ ماہ سے بند ہونے کے باوجود وہ باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں. اس وجہ سے وہ گزشتہ کئ روز سے سخت گرمی میں اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دهرنا دینے پر مجبور ہیں. احتجاجی دهرنے میں کثیر تعداد میں خواتین اور بچے بهی شامل ہیں. انہوں نے وزیراعظم عمران خان، وزیراعلی' خیبر پختونخواہ محمود جان اور وزیرتعلیم ضیااللہ بنگش سے مطالبہ کیاہے کہ ان کی مستقلی کا اعلامیہ جلداز جلد جاری کیا جائے. انہوں نے اپنی مسقلی تک احتجاجی دهرنا جاری رکهنے کااعلان کیا ہے.
It teachers protest at national press club islamabad entered 2nd day