24/08/2026
یہ وہ ’’دبنگ آفیسر‘‘ ہے😂 جس نے اپنی جان پر کھیل کر ایک لڑکے کو گرفتار کیا، جس کی جیب سے مبینہ طور پر 150 روپے اور نیفے سے چھالیہ برآمد ہوئی۔😂
اس کے بعد اگر چاہتے تو شاید معاملہ رفع دفع بھی کر سکتے تھے، لیکن ان کی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا۔😂 انہوں نے اتنے ’’بڑے ملزم‘‘ کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا اور برآمد ہونے والی چھالیہ بھی باقاعدہ میز پر سجا دی گئی۔
ذرا سوچیے! اگر ان کا ضمیر بھی دوسروں کی طرح مردہ ہو جاتا تو شاید برآمد ہونے والے 150 روپے سے سکون سے تین کپ چائے ہی پی لیتے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اصل جرائم اور سنگین مقدمات کے بجائے کبھی کبھی معمولی نوعیت کی چیزوں کو بھی ایسی بڑی کارروائی بنا کر پیش کیا جاتا ہے جیسے کوئی بہت بڑا مجرم پکڑا گیا ہو۔
اور دوسری طرف عیزل کی والدہ انصاف کے لیے روتی رہیں، کئی دن احتجاج کرتی رہیں، لیکن بالآخر سندھ پولیس نے انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا۔
سوال یہ ہے کہ پولیس کی اصل ترجیح کیا ہونی چاہیے؟
کیا عوام کو معمولی چیزوں کی ’’بڑی برآمدگی‘‘ دکھا کر اپنی کارکردگی ثابت کرنا، یا ان لوگوں کو انصاف فراہم کرنا جو حقیقی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں؟
ہمیں پولیس سے دشمنی نہیں، ہمیں صرف یہ سوال کرنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر کب ہوگا؟
آپ خود بتائیں، ایسے ’’کارنامے‘‘ پر کیا کہنا چاہیے؟ 🤔
DISCLAIMER:
This content is shared for news reporting, public awareness, and discussion purposes only. The statements and comparisons presented above are based on the information provided and may require independent verification. This post does not intend to defame, harass, or target any individual or institution. Any allegation or criticism should be addressed through proper investigation and due process of law.