29/05/2026
قائد جمیعت سے ملاقات ، خوش کن احساس
مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم العالیہ جو مذہبی سیاست کے علمبردار اور پاکستانی سیاست میں اُجلے کردار کے مالک ہیں،مجھے یہ سن کر حیرانگی ہوئی کہ اتنی مصروفیات اور جھمیلوں کے باوجود مولانا تہجد کی نماز نہیں چھوڑتے، وہ نہ صرف منجھے ہوئے سیاستدان ہیں بلکہ ایک اچھے خطیب، ادیب، قاری ، مدرس اور واعظ بھی ہیں۔
مولانا سے ملنے والا کوئی بھی شخص ان کے اخلاق ، سیاسی ، رکھ رکھاؤ کا اعتراف کیے بنا نہیں رہ پاتا، حضرت کے پاس جب بھی کوئی مسئلہ لے کر حاضر ہوا، ہماری ہر موقعے پر بھرپور رہنمائی کی اور دستِ شفقت رکھا اور تعاون کیا ہے، جو میں سمجھتا ہوں کہ ان کا بڑا پن اور مذہبی طبقے کے لئے ان کے اندر موجود محبت کے جذبے کا اظہارہے-
آج بھی جب ملاقات کےلئے جاتا ہوں خندہ پیشانی اور پوری توجہ سے ملتے ہیں یہ بھی ان کا بڑا پن ہے،مولانا کی طبیعت کے اندر جو مزاح ہے اس کا اندازہ آپ اس تصویر سے لگا سکتے ہیں۔
حضرت حالات کے اعتبار سے ہمیشہ مفید نصائح سے نوازتے ہیں، اللہ تعالیٰ حضرت کی عمر میں برکت عطاء فرمائے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔
یقینا مولانا فضل الرحمن ملک و ملت کا سرمایہ اور پاکستان کی نامور سیاسی شخصیت اور اہل مدارس اور علماء کرام کے پشتبان ہیں جن کے کروڑوں چاہنے والے ہیں،اسی طرح دیگر سیاستدان ہیں ان کے بھی کروڑوں چاہنے والے ہیں، ایسی شخصیات، سماجی یا مذہبی ہوں ان کا نام لیتے ہوئے اخلاقیات کا خیال رکھنا چاہے، افسوس ہے کہ طعنے کسنا اور غلط ناموں سے پکارنا یا الزامات لگانا ہماری سیاست کا حصہ بنتا جارہاہے جس کی مثال کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔
الحمدللہ !ہم مسلم معاشرے کے باسی ہیں اور ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھے اور ہر کسی کی اچھائیوں کا اعتراف اور برائیوں کو نظر انداز کرے، تنقید کے بجائے رہنمائی کرے، ہر انسان کی اچھی بات کا ذکر کرنا بھی اچھائی کو عام کرنے کے مترادف ہے، یہی درس ہمیں کتاب وسنت ملتا ہے۔
’’اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے عجب نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے ٹھٹھا کریں کچھ بعید نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور ایک دوسرے کو طعنے نہ دو اور نہ ایک دوسرے کے نام دھرو، فسق کے نام لینے ایمان لانے کے بعد بہت برے ہیں، اور جو باز نہ آئیں سو وہی ظالم ہیں‘‘۔(سورت ہجرات آیت نمبر 11)
اسی طرح سورۃ الھمزہ کی پہلی آیت ہے ’’ہر طعنہ زن اور عیب جوئی کرنے والے کےلئے ہلاکت ہے۔
حدیث میں ہے کہ آدمی کے بد ہونے کو یہ بہت ہے کہ اپنے بھائی مسلمان کی تحقیر کرے مسلمان کی ہر چیز( خون آبرو مال ) مسلمان پر حرام ہے(مسلم )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب میری امت دنیا کوبڑی چیز سمجھنے لگے گی، تو اسلام کی ہیبت و وقعت اس کے قلوب سے نکل جائے گی اور جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے گی، تو وحی کی برکات سے محروم ہو جائے گی اورجب آپس میں گالی گلوج اختیار کرے گی، تواللہ کی نگاہ سے گرجائے گی۔(الجامع الصغیر760)
آج ہم ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالتے ہیں،طعنے دیتے ہیں نام بگاڑتے ہیں، بے بنیاد الزامات لگانے کو دوسرے کو جھکانے کےلئے لازم سمجھتے ہیں یا سیاست سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ظلم اور ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی ہمارا معاشرہ ایسے ترقی کرسکتا ہے، ہمیں سوچنا چاہیےکہ اس طرح کرنے سے ہماری آیندہ نسلوں پر کیا اثر پڑھے گااور کیا یہی شریعت کا اور انسانیت کا تقاضہ ہے۔؟
والسلام
مولانا نعمان نعیم
(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)
24-03-22