Amjad Aziz Afridi

Amjad Aziz Afridi Member of Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan | Media Head JUI Khyber | Hosting Action Reaction

ان لوگوں نے پاکستان کو بیچا تھا 🥺
30/05/2026

ان لوگوں نے پاکستان کو بیچا تھا 🥺

اختر چے تیر شو چاچو تہ اوس مونگہ یاد شو 😪بہر حال پٹرول کی قیمتیں کم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا 😁
30/05/2026

اختر چے تیر شو چاچو تہ اوس مونگہ یاد شو 😪
بہر حال پٹرول کی قیمتیں کم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا 😁

مسلم دنیا کے سب سے بڑے ملک نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے 😌قازقستان کا ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا اعلان 😠
29/05/2026

مسلم دنیا کے سب سے بڑے ملک نے امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے 😌
قازقستان کا ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا اعلان 😠

قائد جمیعت سے ملاقات ، خوش کن احساس  مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم العالیہ جو مذہبی سیاست کے علمبردار اور پاکستانی سیاس...
29/05/2026

قائد جمیعت سے ملاقات ، خوش کن احساس

مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم العالیہ جو مذہبی سیاست کے علمبردار اور پاکستانی سیاست میں اُجلے کردار کے مالک ہیں،مجھے یہ سن کر حیرانگی ہوئی کہ اتنی مصروفیات اور جھمیلوں کے باوجود مولانا تہجد کی نماز نہیں چھوڑتے، وہ نہ صرف منجھے ہوئے سیاستدان ہیں بلکہ ایک اچھے خطیب، ادیب، قاری ، مدرس اور واعظ بھی ہیں۔
مولانا سے ملنے والا کوئی بھی شخص ان کے اخلاق ، سیاسی ، رکھ رکھاؤ کا اعتراف کیے بنا نہیں رہ پاتا، حضرت کے پاس جب بھی کوئی مسئلہ لے کر حاضر ہوا، ہماری ہر موقعے پر بھرپور رہنمائی کی اور دستِ شفقت رکھا اور تعاون کیا ہے، جو میں سمجھتا ہوں کہ ان کا بڑا پن اور مذہبی طبقے کے لئے ان کے اندر موجود محبت کے جذبے کا اظہارہے-
آج بھی جب ملاقات کےلئے جاتا ہوں خندہ پیشانی اور پوری توجہ سے ملتے ہیں یہ بھی ان کا بڑا پن ہے،مولانا کی طبیعت کے اندر جو مزاح ہے اس کا اندازہ آپ اس تصویر سے لگا سکتے ہیں۔
حضرت حالات کے اعتبار سے ہمیشہ مفید نصائح سے نوازتے ہیں، اللہ تعالیٰ حضرت کی عمر میں برکت عطاء فرمائے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔
یقینا مولانا فضل الرحمن ملک و ملت کا سرمایہ اور پاکستان کی نامور سیاسی شخصیت اور اہل مدارس اور علماء کرام کے پشتبان ہیں جن کے کروڑوں چاہنے والے ہیں،اسی طرح دیگر سیاستدان ہیں ان کے بھی کروڑوں چاہنے والے ہیں، ایسی شخصیات، سماجی یا مذہبی ہوں ان کا نام لیتے ہوئے اخلاقیات کا خیال رکھنا چاہے، افسوس ہے کہ طعنے کسنا اور غلط ناموں سے پکارنا یا الزامات لگانا ہماری سیاست کا حصہ بنتا جارہاہے جس کی مثال کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ملتی۔
الحمدللہ !ہم مسلم معاشرے کے باسی ہیں اور ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے کے بارے میں اچھا گمان رکھے اور ہر کسی کی اچھائیوں کا اعتراف اور برائیوں کو نظر انداز کرے، تنقید کے بجائے رہنمائی کرے، ہر انسان کی اچھی بات کا ذکر کرنا بھی اچھائی کو عام کرنے کے مترادف ہے، یہی درس ہمیں کتاب وسنت ملتا ہے۔
’’اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم سے ٹھٹھا نہ کرے عجب نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے ٹھٹھا کریں کچھ بعید نہیں کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور ایک دوسرے کو طعنے نہ دو اور نہ ایک دوسرے کے نام دھرو، فسق کے نام لینے ایمان لانے کے بعد بہت برے ہیں، اور جو باز نہ آئیں سو وہی ظالم ہیں‘‘۔(سورت ہجرات آیت نمبر 11)
اسی طرح سورۃ الھمزہ کی پہلی آیت ہے ’’ہر طعنہ زن اور عیب جوئی کرنے والے کےلئے ہلاکت ہے۔
حدیث میں ہے کہ آدمی کے بد ہونے کو یہ بہت ہے کہ اپنے بھائی مسلمان کی تحقیر کرے مسلمان کی ہر چیز( خون آبرو مال ) مسلمان پر حرام ہے(مسلم )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب میری امت دنیا کوبڑی چیز سمجھنے لگے گی، تو اسلام کی ہیبت و وقعت اس کے قلوب سے نکل جائے گی اور جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے گی، تو وحی کی برکات سے محروم ہو جائے گی اورجب آپس میں گالی گلوج اختیار کرے گی، تواللہ کی نگاہ سے گرجائے گی۔(الجامع الصغیر760)
آج ہم ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالتے ہیں،طعنے دیتے ہیں نام بگاڑتے ہیں، بے بنیاد الزامات لگانے کو دوسرے کو جھکانے کےلئے لازم سمجھتے ہیں یا سیاست سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ظلم اور ہلاکت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی ہمارا معاشرہ ایسے ترقی کرسکتا ہے، ہمیں سوچنا چاہیےکہ اس طرح کرنے سے ہماری آیندہ نسلوں پر کیا اثر پڑھے گااور کیا یہی شریعت کا اور انسانیت کا تقاضہ ہے۔؟
والسلام
مولانا نعمان نعیم
(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)
24-03-22

سلطان العلماء مولانا فضل الرحمن اللہ زندگی لمبی کرے عافیت کے ساتھ مولانا کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے؟مولانا فضل الرحمٰن ...
29/05/2026

سلطان العلماء مولانا فضل الرحمن اللہ زندگی لمبی کرے عافیت کے ساتھ
مولانا کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن پاکستان کی پاور پالیٹکس کی سب سے معتبر کتاب ہیں۔ میرے بس میں ہو تو اس کتاب کو سیاسیات کے نصاب کا حصہ بنا دوں۔
مولانا اقتدار کی سیاست کرتے ہیں، مگر یہ تو سب ہی کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف سبھی۔ پھر فرق کیا ہے؟ وہ کیا چیز ہے جو مولانا کو اپنے معاصر میں ممتاز اور منفرد بناتی ہے؟
مولانا سب سے زیادہ قادر الکلام ہیں۔ بات کہنا کوئی ان سے سیکھے۔ شدت جذبات کی انتہا پر بھی مولانا وہی کہتے ہیں جو وہ کہنے آئے ہوتے ہیں۔ وہ کسی کمزور لمحے کی گرفت میں نہیں آتے۔
مناظرے کی روایتی طاقت اور علم الکلام کے فن کو سیاست میں کسی نے کمال تک پہنچایا ہے تو مولانا ہیں۔ دھمکی دیتے اور للکارتے بھی ہیں تو 73 کے آئین کے تحت۔ کوئی گرفت نہیں کر پاتا۔ کوئی مقدمہ نہیں بن پاتا۔
مولانا کے تناظرات سب سے زیادہ ہیں۔ چاہیں تو اسلام کے تناظر میں مقدمہ کھڑا کر دیں، چاہیں تو 73 کے آئین کے تناظر میں دلیل لے آئیں۔ جی میں آئے تو جہاد پر مضمون باندھ لیں اور چاہیں تو جمہوریت کا درس شروع کر دیں۔ تناظرات کا اتنا وسیع دائرہ ان کے کسی حریف کے پاس نہیں۔
مذہب کارڈ مولانا کی سب سے بڑی قوت ہے۔ عمران خان پوری کوشش کے باوجود اس سے محروم ہیں اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو یہاں مولانا کی عمل داری کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کر چکی ہیں۔
مبارک ثانی کیس میں مولانا کی تشریف آوری زبان حال سے بتا رہی تھی کہ نہ ان کے آگے کسی کا چراغ جل سکتا ہے نہ ان کے پیچھے۔
مولانا کے کارکنان جیسے قدرتی کارکنان بھی کسی کے پاس نہیں۔ سب کو اپنے کارکنان کا حلقہ تخلیق کرنا پڑتا ہے۔ مولانا اس تکلف سے بے نیاز ہیں۔ ایک مکتب فکر کے مدارس کی افرادی قوت فطری اور قدرتی انداز میں مولانا کا دست و بازو ہے۔ یہ سہولت ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔
مولانا کی سٹریٹ پاور غیر معمولی ہے۔ ان کے کارکنان جیسے یکسو کارکنان بھی کسی اور کے پاس نہیں۔ عمران دورِ حکومت میں، جب سب کچھ ایک پیج پر تھا اور پی ڈی ایم سہمی بیٹھی تھی، یہ صرف مولانا تھے جو اپنے کارکنان کے ساتھ اسلام آباد میں رجز پڑھ رہے تھے۔
خدا کا یہ انمول تحفہ صرف مولانا کو ملا ہے کہ ان کا کارکن پوری یکسوئی کے ساتھ ان کے پیچھے کھڑا ہے اور مولانا جو مرضی فیصلہ کر لیں، وہ سوال نہیں اٹھاتا۔ وہ بغداد کے درویش کی طرح مطمئن ہے۔
فہم سیاست کے باب میں بھی مولانا کا کوئی مقابل نہیں۔ نہ مذہبی سیاست میں، نہ عصری سیاست میں۔ زرداری صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سیاست کے امام ہیں لیکن مولانا سیاست کے امام اعظم ہیں۔ جب مولانا تشریف لاتے ہیں، سب کے وضو ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔
مولانا سیاست کی کھلی وادیوں کے مسافر ہیں۔ وہ کسی بند گلی میں داخل ہونے کے قائل نہیں۔ وہ تمام آپشن کھلے رکھتے ہیں۔ وہ کسی بھی وقت کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد فرما سکتے ہیں اور اس سے ان کی اصولی سیاست پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اصولی صولی سیاست ان کے ہاں کشتہ مرجان بن جاتی ہیں۔
مولانا کی بارگیننگ پاور غیر معمولی ہے۔ تقسیم اقتدار میں جب معاملہ مولانا سے پڑتا ہے تو حصہ بقدر جثہ والی بات غلط ثابت ہوتی ہے۔ ان کا حصہ ان کے جثے سے زیادہ ہوتا ہے۔ جلد باز نہیں ہیں، ٹھنڈا کر کے کھانے کے قائل ہیں اور کافی خوش خوراک ہیں۔
مولانا سیاست کا نمک ہیں۔ وہ اقتدار میں نہ ہوں تو حزب اقتدار ادھوری ہوتی ہے۔ ادھر حزب اختلاف اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک مولانا اس کا حصہ نہ ہوں۔ سب کی رونقیں ان ہی کے دم سے ہیں۔ ہر گونگے کی گویائی مولانا ہیں۔
یہ امریکہ کی طرح ایک چلتی پھرتی ویٹو پاور ہیں۔ 73 کے آئین کے تناظر میں یہ جس پلڑے میں وزن ڈال دیں، وہی بھاری ہو جاتا ہے۔
چنانچہ آج آپ دیکھ لیجیے وزیراعظم بھی مولانا کے در پر کھڑے ہیں، صدر محترم کا کوچہ یاراں بھی یہی ہے اور تحریک انصاف بھی بڑے پیار سے مولانا کو دیکھتی ہے اور لجاتی ہے کہ ’یہ مولانا میرا بھی تو ہے۔‘
یہ وقت اہلِ مذہب کے لیے سازگار نہیں، نظریاتی تقسیم بھی گہری ہو چکی ہے، لیکن مولانا نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ ایک مذہبی رہنما سیکولر سیاست کے تقاضے بھی بخوبی نبھا سکتا ہے اور اس آہنگ سے کہ ساری سیکولر سیاست اس کے پیچھے آن کھڑی ہوتی ہے۔ وہ بیک وقت سب کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے۔
طرزِ حکمرانی اور پاور پالیٹکس کے باب میں میکیاولی اور چانکیہ دنیا بھر کے نصاب کا حصہ ہیں۔ ہمیں کم از کم پاکستان کی حد تک انہیں نصاب سے خارج کر دینا چاہیے کیونکہ نظام الملک طوسی سے مولانا فضل الرحمٰن تک ہمارے پاس اب اپنی ایسی شخصیات موجود ہیں جو مسلم روایات کے اندر رہتے ہوئے زیادہ بہتر رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔
اقبال کے الفاظ مستعار لوں تو مولانا کا معاملہ بھی وہی ہے ؎
میرے طوفاں یم بہ یم
دریا بہ دریا، جو بہ جو
آصف محمود

29/05/2026

بھروسہ تو نے تھوڑا تھا 💔😪

باجوڑ کے علاقے عنایت کلی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک غریب اور معمر شخص اپنا مویشی فروخت کرنے کے لیے مال مویشی منڈی لے ...
28/05/2026

باجوڑ کے علاقے عنایت کلی میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک غریب اور معمر شخص اپنا مویشی فروخت کرنے کے لیے مال مویشی منڈی لے گیا۔ وہاں ایک شخص کے ساتھ جانور کا سودا طے ہوگیا، لیکن کچھ دیر بعد خریدار نے یہ کہہ کر جانور واپس کر دیا کہ یہ بیمار ہے۔ بعد میں ایک دوسرے شخص نے بھی جانور خریدا، مگر اس نے بھی یہی عذر پیش کرتے ہوئے جانور واپس کر دیا کہ بیمار جانور کی قربانی نہیں ہو سکتی۔

لیکن اللہ تعالیٰ کو جو منظور ہو، وہی ہوتا ہے۔ انسان لاکھ کوشش کرے، اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور اس کی حکمت میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا۔

آخرکار اس غریب بزرگ نے اپنے چند پڑوسیوں کو ساتھ ملا کر اسی جانور کی قربانی کرنے کا فیصلہ کیا۔ قربانی کے بعد ایک حیران کن واقعہ پیش آیا۔ کچھ عرصہ پہلے ان کے گھر سے سونے کی زیوارت یعنی ( غوگونو مندرئئ ) گم ہوگئی تھیں، جن کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ جب قربانی کے بعد جانور کا پیٹ کھولا گیا تو سب حیران رہ گئے، کیونکہ وہی گم شدہ سونے کی بالیاں جانور کے پیٹ سے برآمد ہو گئیں۔

یوں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کی قربانی کا انتظام فرمایا بلکہ ان کی گم شدہ امانت بھی انہیں واپس لوٹا دی۔ بے شک اللہ تعالیٰ جب چاہے، اپنے بندے کو ایسے طریقے سے نوازتا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔

یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حلال مال کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ اگر انسان صبر اور یقین کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے تو وہ اپنی رحمت سے ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتے ہیں
عمران ماہر کے وال سے

صحافی عرفان خان کا چیلنج 👊
28/05/2026

صحافی عرفان خان کا چیلنج 👊

عید الضحٰی مبارک ♥️
27/05/2026

عید الضحٰی مبارک ♥️

یہ ایک بہت خوبصورت لمحہ ہے۔ مولانا اسعد محمود، قائد جمعیت جیسی عبقری شخصیت کے فرزند ارجمند ہیں، وفاقی وزیر رہے ہیں، صدر،...
26/05/2026

یہ ایک بہت خوبصورت لمحہ ہے۔ مولانا اسعد محمود، قائد جمعیت جیسی عبقری شخصیت کے فرزند ارجمند ہیں، وفاقی وزیر رہے ہیں، صدر، وزیر اعظم سمیت بڑے بڑے وزیروں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رہتا ہے، ایسے ماحول میں رہنے والے عموماً اپنے جامہ سے باہر نکل جاتے ہیں اور انہیں ارد گرد کے لوگ کیڑے مکوڑے نظر آتے ہیں لیکن اسے مولانا فضل الرحمان کے ’مکتب کی کرامت‘ ہی سمجھیں کہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث مولانا امداد اللہ حفظہ اللہ کے سامنے اسعد محمود کتنی عاجزی، انکساری اور تواضع کے ساتھ بیٹھے ہیں جس طرح کسی مرشد کے سامنے کوئی عقیدت مند بیٹھا ہو۔ صاحبزادگی جہاں ایک بہت بڑی نعمت ہے وہیں یہ ایک آزمائش بھی بن جاتی ہے لیکن مولانا اسعد محمود کا رویہ بتاتا ہے کہ مفتی محمود کے خاندان میں علمائے کرام کی احترام و عقیدت کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ ویسے بھی اگر علمائے کرام کی قدر جمعیت علمائے اسلام نہ کرے گی تو پھر کسی اور سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔ ❤

(شیخ نوید)

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amjad Aziz Afridi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share