Usman vibe

Usman vibe like follow

دنیا کی سستی ترین ٹرانسپورٹ ۔۔پاکستان میں ۔۔۔!
23/11/2025

دنیا کی سستی ترین ٹرانسپورٹ ۔۔پاکستان میں ۔۔۔!

22/11/2025
19/11/2025
19/11/2025

Help me friend funny moments

10 ہزار روپے انعام کے لیے افغانی شہری پکڑوانے والے شہری کو پولیس نے انعام دینے کے بجائے افغانی سے ہی 6 لاکھ روپے لے کر چ...
17/11/2025

10 ہزار روپے انعام کے لیے افغانی شہری پکڑوانے والے شہری کو پولیس نے انعام دینے کے بجائے افغانی سے ہی 6 لاکھ روپے لے کر چھوڑ دیا پاکستانی شہری کو دس ہزار کی ضرورت تھی اس نے افغانی شہری کی اطلاع پولیس کو دی اور کہا صاحب میرا انعام دیں میں نے اپکو افغانی شہری دیا ہے اب صاحب نے افغانی کو پکڑا اور اس 6 لاکھ روپے لے کر چھوڑ دیا اور شہری کو کہا بھاگ جاؤ
شہری نے موٹر سئیکل نکالا اور سیدھا سی پی او گجرانوالہ کے پاس گیا، ثبوت دکھائے، اور سی پی او صاحب نے فوراً ایس ایچ او سمیت پانچ اہلکاروں طلب کر کے گرفتار کر لیا 😆 🤣

پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنی انٹرلوپ مصر کے سویز کینال اکنامک زون میں ہوزری مینوفیکچرنگ پلانٹ کے قیام کے لیے 35 ملین ڈالر کی ...
13/11/2025

پاکستانی ٹیکسٹائل کمپنی انٹرلوپ مصر کے سویز کینال اکنامک زون میں ہوزری مینوفیکچرنگ پلانٹ کے قیام کے لیے 35 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے، جس کا مقصد شپنگ کے وقت میں 20 دن اور پیداواری لاگت میں 10 فیصد کمی لانا ہے۔

یہ سہولت پاکستانی یارن کا استعمال کرے گی اور تین سال کے اندر امریکہ، یورپ، افریقہ اور جی سی سی کو 40 ملین ڈالر کی برآمدات کا ہدف بنائے گی۔

انٹرلوپ، جو Nike، Adidas، اور H&M جیسے بڑے برانڈز کو سپلائی کرتا ہے، پاکستان میں بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے اور عالمی سطح پر توسیع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

چین کا نیا اے آئی ماڈل (Kimi K2) جس نے GPT-5 کو پیچھے چھوڑ دیا۔چین کی کمپنی مون شاٹ نے اپنا نیا ماڈل کِمی K2 Thinking مت...
12/11/2025

چین کا نیا اے آئی ماڈل (Kimi K2) جس نے GPT-5 کو پیچھے چھوڑ دیا۔

چین کی کمپنی مون شاٹ نے اپنا نیا ماڈل کِمی K2 Thinking متعارف کرایا ہے، جس نے کارکردگی کے میدان میں اوپن اے آئی کے GPT-5 اور اینتھراپک کے Claude Sonnet 4.5 دونوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ کامیابی ماہرین کے مطابق وہی لمحہ ہے جسے اب “نیا DeepSeek لمحہ” کہا جا رہا ہے۔

مون شاٹ Moonshot AI، جو علی بابا اور ٹینسینٹ کی پشت پناہی والی کمپنی ہے، نے K2 Thinking کو 6 نومبر 2025 کو اوپن سورس کے طور پر جاری کیا ہے۔ یہ ایک تھنکنگ ایجنٹ ماڈل ہے جس کی خصوصیات اور کارکردگی نے ماہرین کو سرپرائز دیا ہے۔

یہ ماڈل نہ صرف اپنی طاقت بلکہ اپنی سستی لاگت کی وجہ سے بھی حیران کن ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اس کی تربیت پر صرف چار اعشاریہ چھ ملین ڈالر لاگت آئی، جو امریکی ماڈلز کے مقابلے میں دس گنا کم ہے۔ ماڈل کی ساخت Mixture-of-Experts پر مبنی ہے، یعنی ایک ٹریلین پیرامیٹرز میں سے صرف بتیس ارب ایک وقت میں فعال رہتے ہیں۔ اس سے رفتار میں دوگنا اضافہ اور کارکردگی میں زبردست بہتری آتی ہے۔

کارکردگی کے لحاظ سے یہ ماڈل حیرت انگیز نتائج دے رہا ہے۔ Humanity’s Last Exam جیسے مشکل ترین ٹیسٹ میں کِمی K2 نے چوالیس اعشاریہ نو فیصد اسکور حاصل کیا، جب کہ GPT-5 چالیس فیصد سے کچھ ہی اوپر رہا۔ اسی طرح BrowseComp بینچ مارک میں ساٹھ فیصد سے زائد کامیابی ملی، جو ویب سرچ اور معلوماتی تجزیے کی صلاحیت کا امتحان ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ماڈل مکمل طور پر اوپن سورس ہے۔ یعنی کوئی بھی تحقیقاتی ادارہ یا ڈویلپر اسے اپنے سسٹم میں شامل کر سکتا ہے۔ البتہ ایک شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی کمپنی اس ماڈل کو سو ملین سے زیادہ صارفین یا بیس ملین ڈالر ماہانہ آمدنی والے پلیٹ فارم پر استعمال کرے تو اسے “Kimi K2” کو کریڈٹ لازمی دینا ہو گا۔

تکنیکی لحاظ سے یہ ماڈل مسلسل سوچنے اور مربوط نتائج نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دو سو سے تین سو مراحل تک خودکار فیصلے لے سکتا ہے، بغیر کسی انسانی مداخلت کے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ چینی اے آئی ماڈلز اب محض نقل نہیں بلکہ تخلیقی سطح پر عالمی معیار کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

بعض محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کارکردگی کے لحاظ سے ابھی چند ماہ کا فاصلہ باقی ہے، لیکن چین کے کھلے ماڈلز اتنی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں کہ امریکی برتری کو برقرار رکھنا آسان نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا بھر کے ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا مستقبل کی سب سے ذہین مشین بیجنگ سے جنم لے گی یا سیلیکون ویلی سے۔

یہ تحریر اے آئی دینا کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ہے۔

کراچی کا ایک عام سا ہسپتال…لیکن اندر ایک عظیم شخص، سفید کوٹ میں چھپا ہوا ہیرو — ڈاکٹر ادیب رضوی۔انہوں نے 1970 کی دہائی م...
04/11/2025

کراچی کا ایک عام سا ہسپتال…
لیکن اندر ایک عظیم شخص، سفید کوٹ میں چھپا ہوا ہیرو — ڈاکٹر ادیب رضوی۔

انہوں نے 1970 کی دہائی میں گردوں کے مریضوں کے لیے ایک چھوٹا سا وارڈ شروع کیا۔
آج وہی جگہ SIUT ہے — پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری گردہ اور ٹرانسپلانٹ سینٹر، جہاں سب کچھ مفت ہے۔

کوئی فارمولا نہیں، کوئی شہرت نہیں، کوئی سیاست نہیں…
بس ایک جملہ:

> “جو لوگ علاج کے پیسے نہیں دے سکتے، انہیں مرنے نہیں دیں گے۔”

انہوں نے زندگی کا ہر لمحہ مریضوں کے ساتھ گزارا۔
دن رات ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ تک چلتے رہتے۔
کبھی ہاتھ تھام کر تسلی دیتے، کبھی بچوں کو کھیلنے کے لیے کھلونے دلاتے۔

کتنے لوگ آئے، صحت مند ہوئے، اور واپس گھروں کو گئے…
مگر ڈاکٹر صاحب وہیں رہ گئے…
اپنی کرسی، اپنے مریضوں اور اپنی خدمت کے ساتھ۔

جب ایک دفعہ پوچھا گیا:
“آپ اتنی عمر میں بھی روز کام کیوں کرتے ہیں؟”
وہ مسکرا کر بولے:

> “جب تک سانس ہے، خدمت ہے۔”

ان کی آخری خواہش بھی بس یہی تھی —

اور کوئی شخص پیسے نہ ہونے کی وجہ سے نہ مرے۔

یہ انسانیت کی معراج ہے…
یہ پاکستانی ہیرو ہے…
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دنیا بھول بھی جائے…
اللہ کبھی نہیں بھولتا۔

اصل شہزادے تخت پر نہیں ہوتے،
وہ ہسپتال کے وارڈ میں بیٹھے لوگوں کے زخم دھو رہے ہوتے ہیں 🤍
اللہ ڈاکٹر ادیب رضوی جیسے لوگوں کو سلامت رکھے۔

یہ عام بیگ نہیں ہے، یہ زندگی کا سہارا ہےیہ جو تصویر میں آپ کو بیگ نظر آ رہے ہیں، یہ سٹوما بیگ ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں یہ کی...
01/11/2025

یہ عام بیگ نہیں ہے، یہ زندگی کا سہارا ہے
یہ جو تصویر میں آپ کو بیگ نظر آ رہے ہیں، یہ سٹوما بیگ ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں یہ کیوں استعمال کیے جاتے ہیں؟
یہ بیگ اس وقت لگایا جاتا ہے جب کسی انسان کو پیٹ کی بیماری، بڑی یا چھوٹی آنتوں کا مسئلہ، یا پھر ریکٹم کینسر ہوتا ہے۔
کچھ لوگوں کو یہ بیگ عارضی طور پر لگایا جاتا ہے، اور کچھ کو ہمیشہ کے لیے۔

یہ بیگ دیکھنے میں عام لگتا ہے،
لیکن حقیقت میں یہ زندگی اور موت کے بیچ کی لکیر ہے۔
یہ بیگ کسی عام انسان کی چیز نہیں،
یہ اُس شخص کا سہارا ہے جس نے کینسر یا کسی بڑی بیماری سے لڑ کر زندگی کی جنگ جیتی ہو۔

بہت سے لوگ اس تکلیف کو نہیں سمجھ پاتے۔
باہر سے دیکھنے والا سوچتا ہے، “چلو ٹھیک ہے، بیگ لگا ہے، اس میں کیا بڑی بات؟”
مگر جس کے جسم پر یہ بیگ لگا ہوتا ہے،
وہ جانتا ہے کہ ہر لمحہ کیسا ہوتا ہے،
کیسا خوف، کیسی بے بسی، اور کیسی تھکن ہوتی ہے۔

جب یہ بیگ لگتا ہے تو انسان کے ساتھ صرف جسمانی تبدیلی نہیں آتی
زندگی کا ہر پہلو بدل جاتا ہے۔
کھانا، سونا، چلنا، سونا — سب الگ انداز میں جینا پڑتا ہے۔
ہر وقت اس بات کا دھیان رکھنا کہ بیگ لیک نہ ہو جائے،
کہیں باہر جاتے ہوئے لوگ کچھ محسوس نہ کر لیں،
کہیں کوئی بُو نہ آئے،
یہ خوف ہر وقت ساتھ رہتا ہے۔

لیکن سب سے بڑا خوف یہ نہیں ہے
سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ یہ بیگ خریدوں کہاں سے؟

پاکستان میں سٹوما بیگز کی قیمت عام انسان کی پہنچ سے باہر ہے۔
جو لوگ پہلے ہی بیماری، دوائیوں، ٹیسٹوں، اور علاج کے خرچ سے تھک چکے ہوتے ہیں،
ان کے لیے ہر مہینے بیگز خریدنا ایک نئی اذیت بن جاتا ہے۔

ہمیں اس بارے میں آواز اٹھانی چاہیے۔
پاکستان میں سٹوما پیشنٹس کے لیے حکومتی سہولتیں ہونی چاہئیں۔
جیسے دوسرے ممالک میں حکومتیں اپنے شہریوں کو بیگز، گاز، پٹیاں، گلوز، ڈسپوزیبل شاپر، حتیٰ کہ سیزر تک مفت فراہم کرتی ہیں،
ویسے ہی یہاں بھی یہ سہولتیں ہونا چاہئیں۔

میں نے باہر کے ملکوں کے بہت سے مریضوں کو دیکھا،
ان کے لیے حکومت، اسپتال اور سوشل ادارے سب مل کر سہولتیں دیتے ہیں۔
وہ مریض کو عزت سے جینے کا حق دیتے ہیں۔
مگر یہاں…
یہاں مریض کو علاج کے بعد بھی چین نہیں ملتا۔
جب بیماری ختم ہو جاتی ہے تو ایک نئی جنگ شروع ہو جاتی ہے
بیگز خریدنے، پٹیاں کرنے، اور بار بار ٹیسٹ کروانے کی جنگ۔

کیا ہم انسان نہیں؟
کیا ہم ٹیکس نہیں دیتے؟
کیا ہمارا درد کم دردناک ہے؟

اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مریض بیماری سے نہیں، پریشانی سے مر جاتا ہے۔
جب ہر طرف سے مایوسی ہو، پیسے ختم ہو جائیں،
تو انسان کے حوصلے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
اور جب وہ مدد مانگنے کے لیے کسی کے پاس جاتا ہے،
تو لوگ ایسے رویے اختیار کرتے ہیں جیسے وہ خدا بن گئے ہوں۔
یہ رویہ بہت تکلیف دہ ہے۔


میں ان سب لوگوں کی آواز ہوں جن کی زندگی سٹوما بیگ کے ساتھ گزر رہی ہے۔
ہم کسی سے ترس نہیں چاہتے،
ہم صرف زندگی جینے کے برابر موقع چاہتے ہیں۔
ہم اپنے بچوں کو کھلانا چاہتے ہیں،
اپنے گھروں کا کرایہ دینا چاہتے ہیں،
اور ساتھ ساتھ اپنی زندگی عزت سے گزارنا چاہتے ہیں۔

ہم جینا چاہتے ہیں،
مگر ہر وقت یہ فکر ہمیں گھیرے رکھتی ہے
اگلا بیگ کہاں سے لاؤں؟
اگلی پٹیاں کیسے کروں؟
اگلے ٹیسٹ کے پیسے کہاں سے آئیں گے؟
اور سب سے بڑا ڈر — کہیں کینسر واپس نہ آ جائے۔

خدارا، اس پوسٹ کو آگے شیئر کریں۔
یہ صرف میری نہیں، بلکہ ہزاروں سٹوما پیشنٹس کی آواز ہے۔
کیا پتا آپ کی ایک شیئر کسی کے لیے آسانی، مدد یا زندگی کا نیا راستہ بن جائے۔

ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں — عزت، سکون اور سہولت کے ساتھ۔
ہمیں صرف تھوڑا سا احساس چاہیے، تھوڑا سا ساتھ چاہیے۔

Allah rehm kre sb pr🤲

"کولمبیا میں 1973ء میں ڈاکٹروں نے 52 دنوں کی ہڑتال کی، جس کے نتیجے میں اموات کی شرح میں 35% کمی واقع ہوئی۔فلسطین میں 197...
31/10/2025

"کولمبیا میں 1973ء میں ڈاکٹروں نے 52 دنوں کی ہڑتال کی، جس کے نتیجے میں اموات کی شرح میں 35% کمی واقع ہوئی۔

فلسطین میں 1973ء میں ڈاکٹروں کے ایک ماہ کی ہڑتال کے بعد اموات کی شرح میں 55% کی کمی دیکھی گئی۔

1976ء میں لاس اینجلس میں ڈاکٹروں کی جزوی ہڑتال سے اموات کی شرح میں 18% کی کمی ہوئی۔

اس کا مطلب ہے کہ ڈاکٹروں کی سرگرمی جتنی زیادہ ہوتی ہے، اموات کی تعداد اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ پروفیسر ریمنڈ فرانسس کے ذکر کردہ مطالعوں کا خلاصہ ہے، جو جدید طب کی زیاد تر مداخلتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ ان کا خیال ہے کہ جدید طب صرف علامات کا علاج کرتا ہے اور اس کی گہرائی میں نہیں جاتا جہاں بیماری کا آغاز ایک خلیے کی سطح پر ہوتا ہے۔ کسی بھی بیماری کا علاج صرف دو طریقوں سے ممکن ہے:

1. خلیے کو وہ ضروری غذائی اجزاء فراہم کرنا جن کی کمی نے بیماری کو جنم دیا ہے۔
2. جسم میں جمع زہریلے مادوں کو خارج کرنا۔

ان مطالعوں کے مطابق، ڈاکٹروں کی سرگرمی اور اموات کی شرح کے درمیان براہِ راست تعلق کی وجوہات درج ذیل ہیں:

· غیر ضروری سرجریاں
· ضرورت سے زیادہ ادویات کا استعمال، جنہیں پروفیسر ریمنڈ حقیقی المیہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان میں زیادہ تر ایک یا زیادہ زہریلے کیمیائی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں، مختلف ادویات کے باہمی مضر اثرات بھی ہوتے ہیں۔

ماخذ: ("اب آپ کبھی بیمار نہیں پڑیں گے") از ریمنڈ فرانسس"

لیپرڈ کورئیر — چیتے کے نام پر گدھا دوڑا رہا ہے اگر کسی کمپنی کو "سلو موشن میں پارسل پہنچانے" کا ایوارڈ دیا جائے تو یقینا...
31/10/2025

لیپرڈ کورئیر — چیتے کے نام پر گدھا دوڑا رہا ہے

اگر کسی کمپنی کو "سلو موشن میں پارسل پہنچانے" کا ایوارڈ دیا جائے تو یقیناً لیپرڈ کورئیر پہلی پوزیشن لے جائے گا۔
یہ وہ کمپنی ہے جو پیسے تو وی آئی پی کمپنیوں سے بھی زیادہ لیتی ہے، لیکن سروس ایسی دیتی ہے کہ بندہ سوچتا رہ جائے —
“شاید میرا پارسل اب تک کسی گاؤں کے رستے میں چائے پیتا رُکا ہوا ہے!” ☕😂

ان کی سپیڈ ایسی ہے کہ کچھوا بھی ان کے آگے “فاسٹ اینڈ فیوریس” لگتا ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ لیپرڈ نے اپنے پارسل سسٹم میں چیتے کے بجائے گدھا بھرتی کر لیا ہو؟

سچ کہا جائے تو لیپرڈ کو چاہیے کہ اپنے لوگو سے “چیتا” ہٹا کر “گدھا” لگا لے —
لیکن پھر ڈر یہ ہے کہ یہ تو گدھے کی بھی توہین ہوگی، کیونکہ وہ کم از کم وقت پر اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے! 🙈

یہ کمپنی وہ نایاب جگہ ہے جہاں پیسے زیادہ دو، سروس زیرو لو۔
اور اگر کبھی ان کے آفس چلے جاؤ تو وہاں انٹرنیٹ بند، سٹاف غائب، اور جواب “جلد پہنچ جائے گا سر…” —
بس وہ “جلد” کبھی نہیں آتا! ⏳

لہٰذا میرا مشورہ:
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا پارسل اپنی منزل تک اسی دَور میں پہنچے، تو لیپرڈ سے دور رہیں۔
ورنہ اگلی نسل کو کہنا پڑے گا — “بیٹا، دادا کا پارسل شاید آج پہنچ گیا!” 📮😅

مہاتیرمحمد انگلینڈ کے دورے پر گئے۔ صبح ایک مقامی اخبار میں ان کا مزاحیہ کارٹون چھپ گیا۔جب ان کی سرکاری طور پر وزیراعظم ب...
31/10/2025

مہاتیرمحمد انگلینڈ کے دورے پر گئے۔ صبح ایک مقامی اخبار میں ان کا مزاحیہ کارٹون چھپ گیا۔
جب ان کی سرکاری طور پر وزیراعظم برطانیہ سے ملاقات ہوئی تو سب سے پہلے مہاتیرمحمد نے کارٹون ٹیبل پر رکھ کر پوچھا:
"کیا برطانیہ میں مہمان کے استقبال کا یہ طریقہ ہے؟"
انگلینڈ کے وزیراعظم نے کہا:
"یہاں میڈیا آزاد ہے۔"
مہاتیر محمد نے جواب دیا:
"ٹھیک ہے جب تم میڈیا کی آزادی اور دوسروں کی دل آزاری میں تمیز سیکھ لو تو پھر ہماری ملاقات ہو گی۔"
ملاقات ختم کر دی گئی۔
وہاں سے ملیشیا اپنے آفس فون کیا کہ ان کے پہنچنے سے پہلے انگلینڈ کے باشندوں کے ملیشیا میں موجود کاروبار فورا" بند کر دیے جائیں اور اکاؤنٹ سیل کر دئے جائیں اور انگریزوں کو 24 گھنٹے کے اندر اندر ملیشیا سے بدر کر دیا جائے۔
حکم پر فوری عمل ہوا۔
جب مہاتیر محمد ملیشیا پہنچا تو ان کے دفتر میں انگلینڈ کے وزیراعظم کا معافی نامہ ان سے پہلے پہنچ گیا تھا ساتھ ہی کارٹونسٹ کو پابند جیل کر دیا گیا۔
غیرت مند حکمران ایسے ہوتے ہیں

Address

Pir Mahal

Telephone

+923120657791

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Usman vibe posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share