06/06/2026
ایک گم شدہ قبر کی تلاش۔ ( #افسانہ)💔📚📖
#پشین کی بعض #یادیں ایسی ہیں جو وقت کے ساتھ دھندلی نہیں ہوتیں، بلکہ عمر بڑھنے کے ساتھ اور زیادہ واضح ہوتی جاتی ہیں۔ یہ بھی ایسی ہی ایک یاد ہے، جو آج کئی دہائیوں بعد بھی میرے اندر کہیں زندہ ہے۔
یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہم بابو محلہ کے شوخ شرارتی لڑکے ہوا کرتے تھے۔ نہ دنیا کی زیادہ سمجھ تھی، نہ دین کی گہرائی کا شعور۔ جذبات زیادہ تھے، علم کم تھا۔ زندگی ایک کھیل تھی، اور ہم اس کھیل کے اصولوں سے بھی ناواقف تھے، ان دنوں غلیل ہمارے ہاتھوں کی زینت ہوتی، سپیر گونڈی چڑیوں کا مستانہ نادانہ شکار ہمارا شوق اور گھریلو ایندھن کے لیے غونڈی سے ترخی لانا ہماری ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔
ایک دن میں، میرا دوست، تاوانی، اور چند دوسرے لڑکے بازار سے نکل کر کلی لمڑان کے آگے #تکتو پہاڑ کے دامن میں واقع چھوٹی چھوٹی مٹی کی پہاڑیوں، جنہیں مقامی زبان میں غونڈیاں کہا جاتا ہے، کی طرف پکنک منانے نکل گئے۔ پیاز، مرچ، ٹیکی اور شلومبی۔۔۔ موسم خوشگوار تھا۔ ہم کبھی دوڑتے، کبھی پتھر اچھالتے اور کبھی پہاڑیوں پر چڑھتے، جیسے وقت ہمارے قدموں میں پڑا ہو۔
اسی دوران ہماری نظر ایک قبر پر پڑی۔ وہ قبر عجیب تھی، بس مٹی کا ایک ڈھیر۔۔۔ نہ کتبہ، نہ نشان، نہ کوئی پہچان۔ دور دور تک کوئی اور قبر نہیں تھی۔ صرف خاموش پہاڑ، سنسان فضا اور ان کے درمیان ایک تنہا ابھار۔
ہم سب تجسس میں اس کے قریب گئے۔
ہمارے ساتھ سرتیب نامی ایک نسبتا بڑی عمر کا لڑکا بھی تھا۔ اس نے قبر کو دیکھتے ہی کہا۔
میں اس قبر کو جانتا ہوں۔ یہ ایک #عیسائی کی قبر ہے، جو مرتے وقت مسلمان ہو گیا تھا۔
یہ جملہ ہمارے اندر حیرت کا ایک طوفان چھوڑ گیا۔
سرتیب نے جو کہانی سنائی وہ اس قبر سے بھی زیادہ پراسرار تھی۔ اس کے مطابق مرنے والے کے خاندان کا دعوی تھا کہ اس نے آخری وقت میں کلمہ پڑھ لیا تھا، اس لیے اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ مگر شہادت نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ دوسری طرف پشین کے مقامی #عیسائیوں نے بھی اسے کوئٹہ کے گورا قبرستان میں دفنانے سے انکار کر دیا، کیونکہ ان کے نزدیک وہ اپنے مذہب پر باقی نہیں رہا تھا۔
یوں ایک مردہ جسم دو شناختوں کے درمیان معلق ہو گیا۔ اور آخرکار اسے ان ویران غونڈیوں کے درمیان دفن کر دیا گیا، جہاں نہ قبرستان تھا، نہ رسم، نہ پہچان۔۔۔ صرف زمین تھی اور خاموشی۔
تقسیم ہند کے بعد پشین سے ہندو برادری تقریبا ختم ہو گئی تھی، مگر عیسائی برادری یہیں رہی۔ آج بھی وہ #کرسچن کالونی، ریسٹ ہاؤس کے علاقے، لیویز لائن اور ہمارے بابو محلہ سمیت مختلف علاقوں میں آباد ہیں۔ ہم بچپن سے ان کے ساتھ پلے بڑھے، ان کے بچوں کے ساتھ کھیلے، ان کے دکھ سکھ میں شریک رہے۔ ہمارے درمیان فاصلے نہیں تھے، صرف انسانیت تھی۔
مگر اس دن نہ جانے کیوں ہم سب کے اندر ایک عجیب سی سختی پیدا ہو گئی تھی۔
اچانک ہمارے ایک ساتھی نے، جو بعد میں زندگی کے بہت تلخ راستوں پر چلا گیا، قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔
یہ تو #ڈریکولا #کافر ہے۔۔۔
ہم نے اسے سمجھایا، روکا، منع کیا، مگر اس نے ناڑا کھول کر قبر کی بے حرمتی کر دی۔
آج جب میں اس منظر کو یاد کرتا ہوں تو مجھے قبر سے زیادہ اپنے چہروں پر حیرت نظر آتی ہے۔ ہم اپنی کم علمی کو ایمان سمجھ رہے تھے، اور اپنی شدت کو ہدایت۔
اس رات مجھے نیند نہیں آئی۔ دل میں ایک انجانی کشمکش تھی—کیا تاوانی صحیح تھا یا غلط؟
اگلے دن شدید گرمی تھی۔ میں بابو محلہ میں خاکسار مسجد کی دیوار کے سائے تلے بیٹھا تھا کہ اچانک میری نظر اس عیسائی شخص کے پوتے چاچے پر پڑی۔ وہ مجھے ایک آسان شکار نظر آیا۔ نہ جانے میرے اندر کیا اشتعال پیدا ہوا۔
میں اٹھا، غلیل لیے اس کا راستہ روکا اور کہا۔۔
کلمہ پڑھو، کرسچن کے بچے۔۔
اس نے انکار کر دیا۔
میں دوبارہ چلایا۔
چاچے، کلمہ پڑھو۔۔۔
وہ پھر نہ مانا۔
بات تلخ ہو گئی۔ میں نے اسے دھکا دیا، گرایا، جھنجھوڑا۔۔۔ مگر اس نے اپنا عقیدے نہیں چھوڑا۔۔
اسی دوران مسجد کے محراب کے ساتھ کھڑا ایک بوڑھا خادم، #ملنگ #طوطی، ڈنڈا لے کر آیا اور اس پوشیدہ ص،لیبی جنگ کو روک دیا۔ چاچے روتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا۔۔۔ اور میں یہ سمجھ کر خوش ہوا کہ شاید میں نے کوئی دینی خدمت انجام دی ہے۔
مگر وقت۔۔۔ وقت بہت بڑا استاد ہوتا ہے۔
وہ انسان کے غرور کو آہستہ آہستہ توڑتا ہے۔
سال گزرتے گئے، سردی ، گرمی کا فطری چکر اپنے وقت پر چلتا رہا، ایک امیر باپ کا اکلوتا بیٹا، جس نے کبھی قبر کی بے حرمتی کی تھی، وقت کے ساتھ منشیات کی ایسی دلدل میں جا گرا کہ آج تک اس سے نکل نہیں سکا۔ اور میں۔۔۔ میں اپنی یادوں کے ساتھ بوڑھا ہوتا گیا۔
پھر ایک دن خبر ملی کہ چاچے مرگی کے مرض کا شکار ھوکر دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔
مجھ پر سکتے جیسی حالت طاری ھوگی ، دل بھاری تھا، مگر زبان اور آنکھیں خاموش۔
کئی دہائیوں بعد، پچھلی سردیوں میں، میں دوبارہ تکتو پہاڑ کے دامن میں گیا۔ میں نے غونڈیوں کو چھانا، پتھروں کے درمیان گھوما، صفا و مروہ کی طرح سعی کی۔۔۔ مگر وہ قبر مجھے کہیں نظر نہ آئی، وہ جیسے زمین میں نہیں، میرے ضمیر میں دفن ہو چکی تھی۔
میں تکتو پہاڑ سے کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر مجھے خود معلوم نہ تھا کہ آخر کہنا کیا ہے۔ تکتو پہاڑ ہمارے مقدس گناہ کا گواہ بن کر سامنے کھڑا تھا، ہمیشہ کی طرح مضبوط اور مستحکم۔۔
پھر ایک دن میرے دل میں ایک سوال بجلی بن کر گرا۔۔
اگر اس قبر میں لیٹا ہوا شخص واقعی مسلمان نہ بھی تھا، تو کیا خدا نے ہمیں اس کی قبر کا نگہبان بنایا تھا۔۔۔ یا اپنے نفس کا؟
میں دیر تک نالی غاڑہ کے کنارے، #سرخاب ندی سے نکلنے والے ایک باریک نالے کے پاس، قدرتی پتھر پر بیٹھا خاموش سوچوں میں گم رہا۔
مجھے یوں لگا جیسے تکتو کے سنسان پہاڑ، غونڈیوں کی خاموش مٹی، اور وہ گمشدہ قبر مجھ سے ایک ہی سوال پوچھ رہے ہوں۔۔
تم دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرتے رہے۔۔۔ کبھی اپنے دل کا بھی کیا؟
اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ ہماری اصل جنگ نہ عیسائی سے تھی، نہ ہندو سے، نہ مسلمان سے۔
ہماری اصل جنگ اپنے اندر بیٹھے #فرعون اور اپنے #نفس سے تھی۔
آج بھی نہیں جانتا کہ اس #قبر میں کون دفن تھا۔۔۔ ایک عیسائی؟ ایک نومسلم؟ یا ایک ایسا انسان جس کا فیصلہ صرف خدا کے پاس محفوظ ہے؟
مگر ایک بات یقینی ہے۔۔
اس دن قبر میں لیٹا ہوا شخص نہیں، قبر کے گرد کھڑے ہم سب #جہالت میں دفن تھے۔
اور شاید اسی لیے وہ قبر آج تک مجھے نہیں ملی۔۔۔ کیونکہ میں پہاڑوں میں قبر نہیں ڈھونڈ رہا تھا،
میں اپنی گمشدہ #انسانیت تلاش کر رہا تھا۔
بعض قبریں مٹی میں نہیں ہوتیں۔۔۔ وہ انسان کے #ضمیر میں دفن ہو جاتی ہیں، اور پھر ساری زندگی اندر سے آواز دیتی رہتی ہیں۔
۔۔ ✍️