07/12/2025
پنجاب حکومت کی 20 نکاتی ترمیم مسترد — 8 دسمبر کو صوبہ بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان
آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد (پنجاب) نے حکومتِ پنجاب کی جانب سے پیش کی گئی 20 نکاتی ترمیم کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔ اتحاد کی مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی ترمیم جو ٹرانسپورٹ سیکٹر اور لوڈر گاڑی مالکان کو براہِ راست متاثر کرے، ٹرانسپورٹر کمیٹی کی مشاورت کے بغیر نافذ نہیں کی جا سکتی۔
قیادت نے واضح اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت ان ترامیم میں نرمی یا نظرثانی نہ کرے تو 8 دسمبر کو پنجاب بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی، جس کی مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔
ٹرانسپورٹ اتحاد کا 5 نکاتی مطالباتی ایجنڈا
1۔ ایک لوڈر گاڑی پر ایک دن میں ایک سے زیادہ چالان نہ کیا جائے۔
مسلسل چالانات اور ٹریفک اہلکاروں کی من مانی معاشی تباہی کا باعث بن رہی ہے۔
2۔ موجودہ بھاری جرمانے ٹرانسپورٹرز کی استطاعت سے باہر ہیں۔ جرمانوں میں نمایاں کمی کی فوری ضرورت ہے۔
3۔ وارڈننز اور پٹرولنگ پولیس کی جانب سے بلاوجہ ایف آئی آرز، رشوت طلبی، اور اختیارات کے غلط استعمال جیسے سنگین مسائل پر فوری کارروائی اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔
4۔ ڈرائیورز اور لوڈر گاڑی مالکان کے لیے ٹریفک و ٹرانسپورٹ محکموں میں واضح، یکساں اور تحریری SOPs جاری کیے جائیں تاکہ ہر محکمہ ایک ہی اصول پر عمل کرے۔
5۔ حکومت اور ٹرانسپورٹ برادری پر مشتمل مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے، جو آئندہ تمام پالیسی سازی اور ترامیم میں ٹرانسپورٹرز کی نمائندگی کو یقینی بنائے۔
قیادت کا مؤقف
چئیرمین بابا سید فدا حسین شاہ
"20 نکاتی ترمیم ٹرانسپورٹ سیکٹر کو شدید نقصان پہنچائے گی۔ مشاورت کے بغیر قوانین بنانا سراسر زیادتی ہے۔"
نائب چئیرمین چوہدری تنویر احمد
"ہم پرامن لوگ ہیں، لیکن معاشی قتل قبول نہیں۔ اگر مسائل حل نہ ہوئے تو 8 دسمبر کو پہیہ جام ہڑتال ہو گی۔"
صدر لیاقت علی پاشا
"لوڈر گاڑی ڈرائیورز اور مزدور طبقہ پہلے ہی شدید پریشانی کا شکار ہے۔ حکومت نے سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو احتجاج ناگزیر ہو گا۔"
آل پاکستان ٹرانسپورٹ اتحاد (پنجاب) نے حکومت کو ایک بار پھر باضابطہ اپیل کی ہے کہ مسائل کے حل کے لیے فوری مذاکرات کیے جائیں، ورنہ 8 دسمبر کو پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹ نظام مکمل طور پر بند ہو جائے گا.